- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 413
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ اَمْثَالِهَا وَاَزِيْدُ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا اَوْ اَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ
ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ اَتَانِي يَمْشِيْ اَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْاَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً. ( ) مَعْنَى الْحَدِيْث : ” مَنْ تَقَرَّبَ“ اِلَيَّ بِطَاعَتِيْ ” تَقَرَّبْتُ“ اِلَيْهِ بِرَحْمَتِيْ وَاِنْ زَادَ زِدْتُ ” فَاِنْ اَتَانِي يَمْشِيْ“ وَاَسْرَعُ فِیْ طَاعَتِيْ ” اَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً“ : اَيْ صَبَبْتُ عَلَيْهِ الرَّحْمَةَ وَسَبَقْتُهُ بِهَا وَلَمْ اُحْوِجْهُ اِلَی الْمَشْيِ الْكَثِيْرِ فِی الْوُصُوْلِ اِلَى الْمَقْصُوْدِ وَ ” قُرَابُ الْاَرْضِ“بِضَمِّ الْقَافِ وَيُقَالُ بِكَسْرِهَا وَالضَّمُّ اَصَحُّ وَاَشْهَرُ وَمَعْنَاهُ : مَا يُقَارِبُ مِلْاَهَا. وَاللهُ اَعْلَمُ
عن ابي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يقول الله عز وجل : من جاء بالحسنة فله عشر امثالها وازيد ومن جاء بالسيئة فجزاؤه سيئة مثلها او اغفر ومن تقرب مني شبرا تقربت منه
ذراعا ومن تقرب مني ذراعا تقربت منه باعا ومن اتاني يمشي اتيته هرولة ومن لقيني بقراب الارض خطيئة لا يشرك بي شيئا لقيته بمثلها مغفرة. ( ) معنى الحديث : ” من تقرب“ الي بطاعتي ” تقربت“ اليه برحمتي وان زاد زدت ” فان اتاني يمشي“ واسرع فی طاعتي ” اتيته هرولة“ : اي صببت عليه الرحمة وسبقته بها ولم احوجه الی المشي الكثير فی الوصول الى المقصود و ” قراب الارض“بضم القاف ويقال بكسرها والضم اصح واشهر ومعناه : ما يقارب ملاها. والله اعلم
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ذَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے : جس نے ایک نیکی کی ، اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ہے اور میں مزید اضافہ کرتا ہوں اور جس نے گناہ کیا تو اس کے لیے اسی گناہ کا عذاب ہے یا میں معاف کردوں اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے ، میری رحمت اُس سے ایک ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے ، میری رحمت اس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتی ہے ، جو میری طرف چل کر آتا ہے ، میری رحمت اس کی طرف دوڑتی ہوئی آتی ہے اور جو میرے پاس روئے زمین کے برابر گناہ لے کر آئے اور اس نے میرے ساتھ کسی کوشریک نہ کیا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر مغفرت کے ساتھ اس سے ملوں گا ۔ “عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جو عبادت کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے میں رحمت کے ساتھ اس کے قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ زیادہ قریب ہو تو میری رحمت بھی زیادہ قریب ہوتی ہے ۔ چل کر آنے کا مطلب یہ ہے کہ میری عبادت میں جلدی کرتا ہے تو میں اس پر اپنی رحمت انڈیل دیتا ہوں اور میری رحمت اس سے پہلے اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور بندے کے حصولِ مقصد کے لیے میں اسے زیادہ چلنے کی تکلیف نہیں دیتا ۔قُرَابُ الْاَرْضِکا معنی ہے وہ چیزیں جو زمین کو بھر دیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّزیادہ جانتا ہے ۔
شرح حدیث
حدیث کی باب سے مناسبت :اس حدیث پاک میں بھی ہم جیسے گناہ گاروں کی بخشش کی بڑی امید ہے ایک تو یہ کہ وہ رحمٰنعَزَّوَجَلَّ
ہمیں ہماری نیکیوں کا ثواب بے حساب عطا فرماتا ہے جبکہ گناہ کا عذاب گناہ کے برابر ہی دیتا ہے دوسرا یہ کہ اگر کوئی بندۂ مؤمن اس کی عبادت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کر کے اس کی طرف ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو اس کی رحمت دو ہاتھ بندے کے قریب آجاتی ہے تیسرا یہ کہاللہ عَزَّوَجَلَّنے وعدہ فرمایا ہے کہ شرک کے سوا ہر گناہ کو معاف فرمادے گا ۔
¥اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل :مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی نیکی کرنے والے مسلمان کو ایک کا دس تو قانونًا وعدلًا دیا جائے گا اور اس کے علاوہ فضل و کرم سے بطور انعام عطا ہوگا جو ہمارے گمان و وہم سے وراء ہے ۔ خیال رہے کہ ایک کا دس گنا عام حالات میں ہے ربّ تعالیٰ فرماتا ہے : (مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ-) (پ۸ ،الانعام:۱۶۰ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں ۔ ‘‘ ) اور کبھی زمانہ جگہ کی خصوصیت سے ایک نیکی کا عوض سات سو یا پچاس ہزار بلکہ ایک لاکھ تک ہے ، ربّ تعالیٰ فرماتاہے : (α كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-) (پ۳ ،البقرۃ:۲۶۱ ) ’’ترجمۂ کنزالایمان: اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہربال میں سو دانے اوراللہاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے ۔ ‘‘ یہ صرف نیکی کا عوض نہیں بلکہ اس وقت یا جگہ کی خصوصیت بھی ہے لہٰذا نہ تو گذشتہ مذکورہ آیتیں آپس میں متعارض ہیں اور نہ یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف جن میں فرمایا گیا کہ مدینہ پاک کی ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار ہے یا مکہ مکرمہ کی ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ۔ ‘‘ ( )
¥کم سے کم اضافے کی حد :حدیث پاک میں فرمایا کہ جو ایک نیکی کرتا ہے اسے دس کا ثواب ملتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ فقط دس نیکیوں کا ہی ثواب ملے گا اس سے زیادہ کا نہیں بلکہ یہ عدد اضافے کی سب سے کم حد ہے اس سے زیادہ ہی ملے گا اس سے کم نہیں ۔ ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’علامہ بیضاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہاللہ عَزَّوَجَلَّنے
نیکیوں میں اضافے کا جو وعدہ فرمایا ہے اس میں دس کا عدد سب سے کم اضافہ ہے اور کہیں سات سو گنا تک اضافہ اور کہیں تو بے حساب اضافے کا وعدہ بھی فرمایا ہے ۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ دس سے تعداد نہیں بلکہ کثرت مراد ہے ۔ ایک نیکی کے بدلے دس ، سات سو یا بے حساب اجر عطا فرمانااللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل ہے جبکہ ایک گناہ کے بدلے ایک ہی گناہ کی سزا دینا اس کا عدل ہے اور اگر چاہے تو اپنے فضل سے وہ بھی معاف فرمادے ۔ ‘‘ ( )
¥عمل سے زیادہ ثواب :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حدیث کا مطلب یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : جوتھوڑی عبادت سے میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اُسے تھوڑی عبادت کے بدلے کثیر ثواب عطا فرماتا ہوں اور جب وہ عبادت میں اضافہ کرتا ہے تو میں ثواب میں اس سے زیادہ اضافہ کر دیتا ہوں اور اگر وہ اپنی سہولیات کو پیش نظر رکھ کر اطاعت بجا لائے تو میں اس کو اس عبادت کا ثواب جلد عطاکرتا ہوں ۔ اس حدیث کامقصود یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو ثواب ملتا ہے وہ تعداد اورکیفیت کے اِعتبار سے بندے کے عمل سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥جتنی عبادت زیادہ اتنی نظر رحمت زیادہ :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث کامطلب یہ ہے کہ جوشخص عبادت کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا ہے تو میں اپنی توفیق ، رحمت اور اِعانت اُس کے قریب کردیتا ہوں ۔ بندہ جتنی زیادہ عبادت کرتا ہے میں اتنا ہی زیادہ اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اوراُس پراپنی رحمت برساتا ہوں ۔ وہ جس قدر میراقُرب حاصل کرتا ہے میں اُس سے کہیں زیادہ اَجر عطا فرماتا ہوں ۔ ‘‘ ( )ہاتھ کا فاصلہ سمجھانے کے لیے ہے :حدیث پاک میں جو فرمایا کہ بندہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو رحمتِ الٰہی دو ہاتھ اس کی طرف بڑھتی ہے ۔ یہ
ہمیں سمجھانے کے لیے ہے یعنی اگر ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکا قرب پانے کے لیے چھوٹی سی بھی نیکی کرتے ہیں تو رحمتِ الٰہی ہمارے بہت زیادہ قریب ہوجاتی ہے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ کلام تمثیلی ( مثال کے ) طور پر ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ تھوڑے عمل کے ذریعے قُربِ الٰہی حاصل کروتو رَبّ تعالیٰ اپنے کرم سے بہت زیادہ رحمت کے ساتھ تم سے قریب ہوگا ۔ لہٰذا عمل کیے جاؤ ، تھوڑا بہت نہ دیکھو ۔ یہ کلام بطور ِمثال سمجھانے کے لیے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری طلب سے ہماری رحمت سبقت لے گئی ، اگر ایسے معمولی اعمال کروجن سے بدیر ہم تک پہنچ سکو تو ہم تم کو اپنے کرم سے بہت جلد اپنے دامن رحمت میں لے لیں گے ۔ اگرربّ تعالیٰ سے قرب ہماری کوشش سے ہوتا تو قیامت تک ہم اس تک نہ پہنچ سکتے اس تک رسائی اس کی رحمت سے ہے ۔ ‘‘ ( )
¥رحمت الٰہی سے ناامید نہ ہو :” مرقاۃ المفاتیح“میں ہے : ” علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصدگناہوں کی کثرت کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہونے والوں کی مایوسی کو دور کرنا ہے لہٰذا کوئی بھی شخص گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے دھوکہ نہ کھائے ۔ ‘‘ حضرت ابنِ ملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں : ’’بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّجسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے عذاب دے ( لہٰذا کوئی رحمت کی امید پر گناہ بھی نہ کرے کیونکہ ) کوئی نہیں جانتا کہ وہ کن میں سے ہے ؟ ( معاف کیے جانے والوں یا عذاب دیے جانے والوں میں سے ۔ )اللہ عَزَّوَجَلَّجسے چاہے کبیرہ گناہ کرنے پر بخش دے اور جسے چاہے صغیرہ گناہ پر عذاب دے یا وہ جسے چاہے کثیر گناہوں کے باوجود معاف فرمادے اور جسے چاہے ایک چھوٹے گناہ پر پکڑ لے ۔ اس حدیث کے آخری مضمون کا یہی مقصد ہے اور شروع کی حدیث میں سُستی اور کاہلی کو دور کرتے ہوئےاللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت اور اس کی اطاعت میں کوشش کرنے پر اُبھارا گیا ہے چنانچہ یہ حدیث راہِ سلوک کی منازل طے کرنے والوں کے لیے دل کی بیماریوں کا ایک مفیدمعجونِ مرکب ہے ، طالبین کے شوق کی محرک ہے اور گناہ گاروں کے دلوں کے لیے تقویت کا باعث ہے ۔ “ ( )
¥رحمت کی امیدپر گناہ کرنا کفر ہے :” اگر بندے کے گناہ پوری زمین کے برابر بھی ہوں تب بھی میں اس کو بخش دوں گا بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو ۔ “اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان سے رحمتِ الٰہی کی وسعت کا پتہ چلتا ہے کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت بہت بڑی ہے وہ معاف فرمانے والا ہے ، مگر رحمت کی امید پر گناہ کرنا کفر ہے ۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہاں شرک سے مراد کفر ہے اور بخشش سے مراد مطلقًا بخشش ہے جلد ہو یا دیر سے ۔ یعنی مسلمان کتنا ہی گنہگار ہو اس کی بخشش ضرور ہوگی خواہ پہلے ہی سے ہوجائے یا کچھ سزا دے کر اور ظاہر ہے کہ بخشش بقدر گناہ ہوگی ، ایک گناہ کی بخشش بھی ایک اور لاکھوں گناہوں کی بخشش بھی لاکھوں ۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا گنہگار بھی رحمت الٰہی سے ناامید نہ ہو بلکہ بخشش کی امید پر توبہ کرلے ، یہ مقصد نہیں کہ بخشش حاصل کرنے کے لیے خوب گناہ کرے کہ یہ تو خدا پر اَمن ( یعنی نڈر ہونا ) ہے اور اَمن کفر ہے ۔ لہٰذا یہ حدیث گناہوں کی آزادی دینے کے لیے نہیں بلکہ توبہ کی دعوت دینے کے لیے ہے ربّ فرماتا ہے : (لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-) خیال رکھو کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے اور اس کا عذاب بھی سخت ہے ، نہ معلوم رحمت کسے پہنچے ؟عذاب کسے پکڑے ؟ لہٰذا اُمید و خوف دونوں رکھو ، اِس مَعْجُونِ مُرکَّب کا نام اِیمان ہے ۔ ‘‘ ( )
¥حقیقی امید نیک عمل پر اُکساتی ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت سے حقیقی امید وہی ہے جو بندے کو نیک اَعمال پر ابھارے نہ کہ اَعمال سے دور کرے ، شرعاً بھی وہی امید قابل تعریف ہے جو نیک اعمال پر ابھارے ۔ چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’جو شخص اس بات کو جانتا ہے کہ زمین نمکین ہے اور پانی بھی کم ہے ، بیج بھی کھیتی اگانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ لازمی طور پر زمین کی نگرانی چھوڑ دیتا ہے اور اس کی دیکھ بھال میں خود کو تھکاتا نہیں ہے ۔ امید اس لیے محمود ( یعنی قابل تعریف ) ہے کہ وہ ( نیک ) عمل پر اُکساتی ہے اور مایوسی جو کہ امید کی ضد ہے اس لیے مذموم ہے کہ وہ عمل سے روک دیتی ہے اور
خوف امید کی ضد نہیں بلکہ اس کا رفیق ہے بلکہ جس طرح امیدرغبت کی راہ سے عمل پر ابھارتی ہے اسی طرح خوف بھی ڈر دلا کر عمل کا محرک بنتا ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’اولیاء ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)جو ایک نیکی کرتا ہےاللہ عَزَّوَجَلَّایک نیکی کے بدلے کم از کم دس نیکیوں کا ثواب عطا فرماتا ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ۔
(2) ایک نیکی کا ثواب دس ، سات سو یا بے حساب عطا فرمانااللہ عَزَّوَجَلَّکا فضل اور ایک گناہ کے بدلے ایک ہی گناہ کی سزا دینا اُس کا عدل ہے ۔
(3) جو چھوٹی نیکی کے ذریعےاللہ عَزَّوَجَلَّکا قُرب حاصل کرتا ہے تو اس کی رحمت اس سے بھی زیادہ اس کے قریب آتی ہے ۔
(4) بڑے سے بڑے گناہ گار کو بھی رحمتِ الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
(5) چاہے کوئی کتنا ہی بڑا گناہ گار ہو اس کی بخشش ضرور ہوگی بشرطیکہ اس نے شرک نہ کیا ہو ۔
(6) رحمت کی امید پر گناہ کرنا کفر ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہم پر اپنی رحمت نازل فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 413