Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 420

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنۡ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ فَاَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَّتِسْعِينَ وَاَنْزَلَ فِى الْاَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذٰلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتّٰى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ اَنْ تُصِيْبَهُ. ( ) وَ فِیْ رَوَایَۃٍ : اِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ اَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَّاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالْبَهَائِـمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُوْنَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَاَخَّرَ اللهُ تِسْعًا وَّتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ( ) وَرَوَاہُ مُسۡلِمٌ اَیۡضًا مِنۡ رِوَایَۃِ سَلۡمَانَ الۡفَارسِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَال رَسُولُ اللہِ : اِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ. ( ) وَ فِیْ رَوَایَۃٍ : اِنَّ اللهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْاَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ فَاِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ اَكْمَلَهَا بِهٰذِهِ الرَّحْمَةِ. ( )

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : جعل الله الرحمة مائة جزء فامسك عنده تسعة وتسعين وانزل فى الارض جزءا واحدا فمن ذلك الجزء يتراحم الخلائق حتى ترفع الدابة حافرها عن ولدها خشية ان تصيبه. ( ) و فی روایۃ : ان لله مائة رحمة انزل منها رحمة واحدة بين الجن والانس والبهائـم والهوام فبها يتعاطفون وبها يتراحمون وبها تعطف الوحش على ولدها واخر الله تسعا وتسعين رحمة يرحم بها عباده يوم القيامة. ( ) ورواہ مسلم ایضا من روایۃ سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ : ان لله مائة رحمة فمنها رحمة بها يتراحم الخلق بينهم وتسع وتسعون ليوم القيامة. ( ) و فی روایۃ : ان الله خلق يوم خلق السماوات والارض مائة رحمة كل رحمة طباق ما بين السماء والارض فجعل منها في الارض رحمة فبها تعطف الوالدة على ولدها والوحش والطير بعضها على بعض فاذا كان يوم القيامة اكملها بهذه الرحمة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے رحمت کے سو ( 100 ) حصے کیے ، اُن میں سے ننانوے ( 99 ) حصے اپنے پاس رکھ لیے اور صرف ایک حصہ زمین پر اُتارا ، پس اُس ایک حصے سے لوگ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنے بچے سے اپنا کُھر ہٹا لیتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے ۔ ‘‘

٭ایک روایت میں یوں ہے کہ’’
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی سو ( 100 ) رحمتیں ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّنے اُن میں سے ایک رحمت جنوں ، انسانوں ، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اُتاردی ہے ، اسی رحمت کے سبب وہ ایک دوسرے سے محبت اور رحم کرتے ہیں اور اسی رحمت کے سبب وحشی جانور اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں ۔ ننانوے ( 99 ) رحمتوں کواللہ عَزَّوَجَلَّنے روک رکھا ہے قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر اس کے ذریعے رحم فرمائے گا ۔ ‘‘ ٭اسی طرح امام مسلم نے حضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّکی سو ( 100 ) رحمتیں ہیں ، ایک رحمت کے ساتھ مخلوق ایک دوسرے سے شفقت سے پیش آتی ہے اور ننانوے ( 99 ) رحمتیں قیامت کے لیے ہیں ۔ “٭ایک روایت میں ہے کہ جس دناللہ عَزَّوَجَلَّنے آسمان اورزمین کو پیدافرمایا اُس دن سو ( 100 ) رحمتیں پیدا فرمائیں ، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کے درمیان کی وُسعت کے برابر ہے ، پساللہ عَزَّوَجَلَّنے ایک رحمت کو زمین میں رکھ دیا ، اُسی سے ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے ، وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، قیامت کے دناللہ عَزَّ وَجَلَّاُس رحمت کو ملا کر رحمت کو مکمل کردے گا ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث کی باب سے مناسبت :حدیث پاک کی باب سے مناسبت واضح ہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیاکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کا صرف ایک حصہ اس دنیا میں اُتارا گیا ہے ، باقی ننانوے ( 99 ) حصےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے روک لیے ہیں ، جب ایک رحمت کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں اس رحمت کے سبب لوگ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، جانور جو کہ دوسرے جانوروں کے جانی دشمن ہوتے ہیں اپنے کھانے کے لیے دوسرے جانوروں کو یہاں تک کہ اُن کے بچوں کو چیر پھاڑ دیتے ہیں ، وہ بھی اپنے بچوں پر بڑے مہربان ہوتے ہیں ، اپنے بچوں پر آنچ نہیں آنے دیتے ، انہیں ہر نقصان سے بچاتے ہیں تو جب قیامت کے دناللہ عَزَّ وَجَلَّاِس ایک حصے کو ننانوے ( 99 ) حصوں میں ملا کر اپنی رحمت کو کامل کردے گا اس دناللہ عَزَّوَجَلَّکے رحم کا کیا عالَم ہوگا؟ اُس دن تو بڑے بڑے گناہ گار بھی رحمتِ الٰہی کے سبب بخشے جائیں گے ۔ اس حدیث میں ہم جیسے گناہ گاروں کے لیے بخشش کی بڑی امید ہے ۔ اسی لیےعَلَّامَہنَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّنے اس حدیث کواس باب میں ذکر فرمایا ۔

¥
رحمت کے حصوں کا مطلب :حدیث پاک میں فرمایا گیا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کے سو ( 100 ) حصے ہیں حالانکہ رحمتِ الٰہی تو غیر متناہی ہے اس کے سو ( 100 ) حصے یا اجزاء کیسے ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’رحمت وہ قدرت ہے جس کا تعلق ایصالِ خیر سے ہے یعنی خیر پہنچانے کی قدرت رحمت ہے ، قدرت ایک صفت ہے لیکن اس کے متعلقات غیر متناہی ہیں ۔ حدیث میں سمجھانے کے لیے بطورِ مثال سو ( 100 ) حصوں میں منحصر کیا ہے تاکہ یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ جو رحمت ہمارے پاس ہے وہ کم ہے اور جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ہے وہ بہت زیادہ ہے ۔ ‘‘ ( ) ” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سو ( 100 ) قسم کی ہے یا سینکڑوں قسم کی جن میں سے ہر قسم کے ماتحت ہزارہا انواع ہیں ، ہر نوع کے نیچے ہزاروں صنفیں ہیں اور ہر صنف کے تحت ہزارہا افرادغرضکہ یہ حدیث حد بندی ( تحدید ) کے لیے نہیں بلکہ تکثیر و زیادت ( یعنی کثرت بیان کرنے ) کے لیے ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
آخرت میں رحمتِ الٰہی عذاب سے زیادہ ہوگی :اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ سَو ( 100 ) کا عددمعین کرنے میں کیا حکمت ہے حالانکہ عربوں کی عادت تو یہ ہے کہ وہ کثرت کے لیے ستر ( 70 ) کا عدد استعمال کرتے ہیں؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ اس خاص سو ( 100 ) کے عدد کو کثرت اور مبالغہ کے لیے لایا گیا ہے اور ستر ( 70 ) بھی تو سَو ( 100 ) کے اجزاء میں سے ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ بات طے ہے کہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر ( 69 ) گنا زیادہ ہے پس اگر آگ کے ہر جز کا رحمت کے ہر جزسے مقابلہ کیا جائے تو رحمت کے تیس ( 30 ) اَجزاء زیادہ ہوں گے ۔ اس سے پتہ چلا کہ آخرت میں رحمتِ الٰہی عذاب سے زیادہ ہوگی اور اس کی تائید حضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے : ’’ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ ‘‘ ( )

¥
وحشی جانوروں پر رحمت کا اثر :حدیث پاک میں وحشی جانوروں کا ذکر فرمایا کہ وحشی جانور بھی اسی رحمت کے سبب اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف وحشی جانوروں کا ذکر کیوں کیا؟ اس کا جواب دیتے ہوئےمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’وحشی جانوروں کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ اِن میں اُلفت و محبت کم ہے ، نفرت و غضب زیادہ ۔ یعنی وحشی درندے بھی اس رحمت کے حصے سے اپنے بچوں پر مہربان ہیں ۔ اگر ربّ تعالیٰ ماں کے دل میں محبت پیدا نہ کرے تو وہ اپنے بچوں پر ہرگز مہربان نہ ہو جیسے ناگن اور مچھلی کہ ناگن تو اپنے بچوں کو کھا جاتی ہے ، مچھلی اپنے بچوں کو پہچانتی بھی نہیں اور اگر ربّ محبت پیدا فرمادے تو پتھر اور درخت محبت کرنے لگیں ، دیکھو اُحد پہاڑ حضورسے محبت کرتا ہے ، درخت گھاس پھوس حضور پر نثار ہیں (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ۔ ‘‘ ( )
¥
سَو ( 100 ) رحمتوں کا عالم کیا ہوگا؟” دلیل الفالحین“میں ہے : ” مذکورہ احادیث میں مسلمانوں کے لیے اُمید اور بشارت ہے ۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ دنیا جو کہ رنج اور تکلیفوں کا گھر ہے اس دنیا میں ایک رحمت کے سبب اِسلام ، قرآن ، نماز ، دل میں رحم اور اِن جیسی دیگر نعمتیں ملیں تو پھر آخرت جوکہ دارُ القرار و دارُ الجزاء ہے اُس میں سَو ( 100 ) رحمتوں کا کیا عالَم ہوگا ۔ ‘‘ ( )
¥
اُمِّید کے ساتھ عمل کرنا اعلیٰ ہے :حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’امید کے ساتھ عمل کرنا خوف کے ساتھ عمل کرنے سے اعلیٰ ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا سب سے زیادہ مقرب بندہ وہ ہے جو اس سے زیادہ محبت کرتا ہو اور محبت کا غلبہ امید کے ذریعے ہوتا ہے ۔ اسے یوں سمجھیے کہ دو بادشاہوں میں سے ایک کی خدمت اس کی سزا کے خوف سے کی جاتی ہو اور دوسرے کی انعام کی امید پر تو انعام کی امید رکھنے والا خوف

رکھنے والے شخص کے مقابلے میں زیادہ محبت کرنے والا ہوگا ۔ اسی لیے
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے امید اور اچھا گمان رکھنے کے متعلق ترغیب دلائی گئی ہے بالخصوص موت کے وقت ۔ ‘‘ ( )
¥
حسن ظن اور اُمید کے باعث بخشش :ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتاتھا اور وہ اپنے غلام کو کہتا کہ جب تمہارے پاس کوئی تنگدست آئے تو اس سے درگزر سے کام لینا ہوسکتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّہم سے درگزر فرمائے ۔ جب اُس کا انتقال ہوا تو وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے اِس حال میں ملا کہ اُس کے نامہ اعمال میں اس کے علاوہ کوئی بھی نیک عمل نہیں تھا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس سے ارشاد فرمایا : ’’ہم سے زیادہ معاف کرنے کا کون حق دار ہے ؟ ‘‘ یوںاللہ عَزَّوَجَلَّنے اسے عبادت کے معاملے میں مفلس ہونے کے باوجود حُسنِ ظَنّ اور اُمید رکھنے کے باعث بخش دیا ۔ ( )
گناہگار ہوں میں لائق جہنم ہوں ……… کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’رحم کر ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
رحمتِ الٰہی غیر متناہی ہے ، حدیث میں فقط سمجھانے کے لیے سو ( 100 ) حصے بیان کیے گئے ہیں ۔
(2)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت اس کے عذاب سے بہت زیادہ ہے ۔
(3) دنیا میں جو رحمت ہے وہ آخرت کی رحمت سے بہت کم ہے ۔
(4) وحشی جانور بھی اس ایک رحمت کی وجہ سے اپنے بچوں پر مہربان ہوتے ہیں ۔
(5) دنیا میں ایک رحمت کا عالَم یہ ہے کہ انسان ، جنات ، حیوان ، چرند پرند سب آپس میں رحم کرتے ہیں تو پھر پوری سو ( 100 ) رحمتوں کا عالَم کیا ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ کل بروز ِقیامت ہمیں اپنی رحمت سے بلا حساب وکتاب بخش دے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 420