Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 427

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : اَلْمُسْلِمُ اِذَا سُئِلَ فِى الْقَبْرِ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ فَذٰلِكَ قَوْلُهُ تَعَالٰى : ( یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-). ( )

عن البراء بن عازب عن النبي صلی اللہ علیہ والہ وسلم قال : المسلم اذا سئل فى القبر يشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله فذلك قوله تعالى : ( یثبت الله الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوة الدنیا و فی الاخرة-). ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا براء بن عازِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’مسلمان سے جب قبر میں پوچھا جاتا ہے تو وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں ۔اللہعَزَّوَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان سے یہی مراد ہے :یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-(پ۱۳ ،ابراھیم:۲۷ )ترجمۂ کنزالایمان:اللہثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ۔

شرح حدیث

مُنکَرو نکیراور قولِ ثابت :مذکورہ حدیث پاک میں فرمایاگیا : ’’مسلمان سے قبر میں پوچھا جاتا ہے ۔ “ کون پوچھتا ہے ؟ کیا پوچھتا ہے ؟ یہ نہیں بتایا ۔ چنانچہ ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’دو فرشتے ہیں جو اس کام پر مامور ہیں ، اُن کا نام منکَر اور نکیر ہے جو مؤمن سے اس کے ربّ اور نبی کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ‘‘ ( ) ” عمدۃ القاری “میں ہے : مسلمان کا قبر میں یہ جواب دینا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یہاللہ عَزَّوَجَلَّکے اس فرمان عالیشان کا مصداق ہے :یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ(پ۱۳ ،ابراھیم:۲۷ )ترجمۂ کنزالایمان:اللہثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر ۔
قولِ ثابت سے مرادکلمہ توحید ہے کیونکہ یہ کلمہ بندۂ مؤمن کے دل میں راسخ ہوتا ہے ۔ حضرت سَیِّدُنَاقتادہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی سے مراد یہ ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّدنیا میں مؤمنوں کو بھلائی اور نیکی کے کام پر ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں ثابت قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کے جواب میں ثابت قدم رکھتا ہے ۔ حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : جب بندۂ مؤمن سے قبر میں پوچھا جائے گا کہ تیرا ربّ کون ہے ؟ تیرا دِین کیا ہے ؟ اور تیرے نبی کون ہیں؟ تو وہ کہے گا میرا رباللہ عَزَّوَجَلَّہے ، میرا دِین اسلام ہے اور میرے نبی حضرت محمد مصطفےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں جو کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں سے روشن دلائل کے ساتھ آئے تو میں اُن پر ایمان لایا اور اُن کی تصدیق کی ۔ تو اس سے کہا جائے گا : تو نے سچ کہا اور تو اِسی دین پر رہا ، اِسی پر مرا اور اِسی پر اٹھایا جائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥
قبر میںاللہکی رحمت سے کامیابی ملے گی :اِس حدیث پاک سے یہ پتہ چلا کہ کوئی شخص فقط اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے ہی کامیابی ملے گی کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّبندوں کو دنیا و آخرت میں دین پر ثابت قدمی عطا فرماتا ہے ۔ جیسا

کہ ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’یہاں آخرت سے مراد قبر ہے ، یعنی قبر میں کوئی شخص اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا ، محض ربّ کے کرم سے کامیابی ملے گی ۔ یعنی مؤمنوں کو زندگی اور قبر میں کلمۂ شہادت پر
اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ثابت قدم رکھتا ہے ، ورنہ دنیا کے بہت سے حالات اور قبر کے سخت سوالات اُسے پھسلانے والے ہیں ۔ قول ثابت سے مراد کلمہ طیبّہ ہے چونکہ قبر میں صرف عقائد کا امتحان ہے ، اِس لئے اَعمال کا ذکر نہ ہوا ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’مومن ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
قبر میں منکر نکیر نامی دوفرشتے انسان سے اس کے ربّ اور دین کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔
(2)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مسلمان کو دنیا و آخرت میں دینِ اسلام پر استقامت ملتی ہے ۔
(3) کوئی بھی فقط اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا ،
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مسلمان کو دنیا وآخرت میں کامیابی ملتی ہے ۔
(4) قبر میں عقائد کا امتحان ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قبر کے جوابات صحیح دینے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری قبر کی تمام منزلیں آسان فرمائے اورہمارا خاتمہ ایمان پر بالخیر فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 427