Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 434

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍرَضِیَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنِ امْرَاَةٍ قُبْلَةً فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرَهُ فَاَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ : ( وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ ) فَقَالَ الرَّجُلُ : اَلِیَ هٰذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لِجَمِيعِ اُمَّتِي كُلِّهِمْ. ( )

عن ابن مسعودرضی الله عنه ان رجلا اصاب من امراة قبلة فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فانزل الله عزوجل : ( و اقم الصلوة طرفی النهار و زلفا من الیل-ان الحسنت یذهبن السیات ) فقال الرجل : الی هذا يا رسول الله ؟ قال : لجميع امتي كلهم. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا ۔ پھر ( نادم ہوکر ) حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا عرض کیا تواللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ(پ۱۲ ،ھود:۱۱۴ )ترجمۂ کنزالایمان: اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں ۔
اس شخص نے عرض کی : ’’
یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے ؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ میری تمام اُمَّت کے لیے ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

اجنبی عورت کے ساتھ خلوت خطرناک ہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یہ اَجنبیہ عورت کے ساتھ تنہائی کی شامت ہے ۔ ‘‘ حضرت ابن ملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں اُس عورت نے کہا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈر ۔ “ تو یہ نادِم

ہوئے اور اس فرمانِ باری تعالیٰ پر عمل کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور سارے واقعے کی خبر دی : (
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)) (پ۵ ،النساء: ۶۴ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھراللہسے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضروراللہکو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ ‘‘ پھرحضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ میں اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کروں گا ۔ ‘‘ چنانچہ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نمازِ عصر ادا فرمائی تواللہ تَبَارَک وَ تَعَالٰینے سورۂ ہود کی مذکورہ آیت نازل فرمائی ۔ ( )
¥
نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں :حدیث مذکورہ میں بیان کیا گیا کہ نیکیاں برائیوں کو مٹاتی ہیں ، جب اُن صاحب سے گناہ ہوگیا تو وہ نادم ہوکر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اپنا گناہ بیان کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے آیت نازل فرمائی اور اس میں حکم دیا کہ نماز قائم کریں ، اُن کے گناہ معاف ہوجائیں گے ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ لیکن وہ کونسے گناہ ہیں جو نماز سے معاف ہوتے ہیں؟ اس بارے میں علامہ ابن بطالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں کیونکہ بوسہ اور اُس جیسے اَفعال جو مرد عورت سے کرتا ہے ( جماع کے علاوہ ) وہ ”اَللَّمَمَ“کے تحت داخل ہیں جن کے بخشنے کا ربّ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ بندہ کبیرہ گناہوں سے بچے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ-اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِؕ-(پ۲۷ ،النجم: ۳۲ )ترجمۂ کنزالایمان: جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بے شک تمہارے ربّ کی مغفرت وسیع ہے ۔
اور کبیرہ گناہوں کے بارے میں اہلِ سنت کا اِجماع ہے کہ اُن کے معاف ہونے کے لیے ضروری ہے کہ

بندہ سچی توبہ کرے ، اُن پر نادم ہواور اِس بات کا پکا اِرادہ کرے کہ اُن گناہوں کی طرف دوبارہ نہیں لوٹے گا ۔ ( )
¥
اُمتِ مسلمہ کے لیے آسانیاں :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث کے پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ نمازِ فجر اور ظہر دن کے اِس کناروں کی نمازیں ہیں اور عصرو مغرب دوسرے کنارے کی اور عشاء رات کی ، لہٰذا یہ آیت پانچوں نمازوں کو شامل ہے ، زلف زلفت سے بنا ، بمعنیٰ قُرب یعنی رات کا وہ ٹکڑا جو دِن سے قریب ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے : (وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳)) (پ۳۰ ،التکویر: ۱۳ ) (ترجمۂ کنزالایمان: اور جب جنت پاس لائی جائے ۔ ) (یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے ؟ ) یہ آیت اگرچہ تیرے بارے میں اُتری مگر اس کا حکم عام ہے ۔ کوئی مسلمان کوئی گناہِ صغیرہ کرے ، اس کی نمازیں وغیرہ معافی کا ذریعہ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجنبیہ سے خلوت اور بوس وکنار گناہِ صغیرہ ہے ، ہاں یہ جرم بار بارکرنے سے کبیرہ بن جائے گا کیونکہ صغیرہ پر دوام کبیرہ ہے اوریہ جان کربوس وکنارکرنا کہ نماز سے معاف کرالیں گے کفر ہے کہ یہپر اَمن ( یعنی نڈر ہونا ) ہے ۔ یہ حدیث اس کے لئے ہے جو اتفاقًا ایسا معاملہ کر بیٹھے ، پھر شرمندہ ہوکر توبہ کرے ، لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اِس میں اُن حرکتوں کی اجازت دے دی گئی ۔ یہاںمِنْ اُمَّتِیفرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ آسانیاں صرف اِس امت کے لئے ہیں گزشتہ اُمَّتُوں کی معافی بہت مشکل ہوتی تھی ۔ ( )اجنبی مردوعورت کی تنہائی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک سے جہاںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور اس کے فضل کا پتہ چلا کہ اس کے بندے جب اس کی بارگاہ میں شرمندہ اور نادم ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں تووہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اجنبی مردوعورت کا تنہائی اختیار کرنا نہایت ہی خطرناک ہے ۔ آج کل ہمارے معاشرے میں اجنبی مردوں وعورتوں کے اختلاط وتنہائی کی بیماری بھی بڑی

تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے ، یقیناً یہ فحاشی وبے حیائی تک پہنچنے کی وہ سیڑھی ہے کہ جو اس سیڑھی پر چڑھ گیا اس کا بے حیائی سے بچنا بہت ہی مشکل ہے ، نہایت ہی غیرت اور خوف خدا کا مقام ہے ، کوئی بھی غیرت مند مسلمان اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرے گا ۔ اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے کی مذمت پر مشتمل تین فرامین مصطفے ٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے :(1 ) ’’عورتوں کے پاس جانے سے بچو ۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دیور کے متعلق کیا حکم ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’دیور موت ہے ۔ ‘‘ ( ) یعنی دیور کے سامنے ہونا گویا موت کا سامنا ہے کہ یہاں فتنے کا زیادہ احتمال ہے ۔ ( 2 ) ’’اپنی عورت یعنی ستر کی جگہ کو محفوظ رکھو مگر بی بی یا اس باندی سے جس کے تم مالک ہو ۔ ‘‘ ( ) ( 3 ) ’’جب مرد عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( )
٭
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناِس حدیثِ پاک کے تحت مرآۃ جلد 5 صفحہ21 پرفرماتے ہیں : ’’یعنی جب کوئی شخص اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے خواہ وہ دونوں کیسے ہی پاکباز ہوں اور کسی ( نیک ) مقصد کے لیے ( ہی ) جمع ہوئے ہوں ( مگر ) شیطان دونوں کو برائی پر ضَرور اُبھارتا ہے اور دونوں کے دلوں میں ضرور ہیجان پیدا کرتا ہے ، خطرہ ہے کہ زنا واقع کرادے ! اس لیے ایسی خلوت ( یعنی تنہائی میں جمع ہونے ) سے بَہُت ہی احتیاط چاہئے گناہ کے اسباب سے بھی بچنا لازم ہے ، بخار روکنے کیلئے نزلہ وزکام ( کو ) روکو ۔ ‘‘ ٭حضرت علامہ عبد الرَّء ُوف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْقَوِیاِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’جب کوئی عورت کسی اجنبی مرد کے ساتھ تنہائی میں اِکٹّھی ہوتی ہے تو شیطان کے لئے یہ ایک نفیس موقع ہوتا ہے ، وہ ان دونوں کے دلوں میں گندے وَسوَسے ڈالتا ہے ، اُن کی شہوت کو بھڑکاتا ہے ، حیاء ترک کرنے اور گناہوں میں مُلَوَّث ہو جانے کی ترغیب دیتا ہے ۔ ‘‘ ( ) ٭’’معلوم ہوا کہ اجنبی مردو عورت کوہرگز ہرگز تنہائی میں اکٹھا ہوناجائز نہیں اس صورت میں گناہوں کے وسوسے ہی نہیں تہمت لگ جانے بلکہ

نہ ہونے کا ہوجانے کا بھی اندیشہ رہتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو خطروں اور فتنوں سے بچانا ہر اسلامی بہن پر لازم ہے ۔ البتّہ خطروں اور فتنوں کے اندیشوں کی کوئی حدبندی نہیں ، نا محرم تو دور کی بات مَحارِم سے بھی خطرات ممکن ہیں ۔ صرف تنہائی میں ہی نہیں ، ہجوم میں بھی خطرات درپیش آتے رہتے ہیں ۔ اسلامی بہن کے اجنبی ڈرائیور کے ساتھ ٹیکسی میں اکیلی بیٹھنے پر اگرچِہ خلوت ( یعنی مرد کے ساتھ مکان میں تنہائی ) کاحکم تونہیں لیکن یہ صورت خَلوَت ( یعنی مرد کے ساتھ مکان میں تنہاہونا ) سے مُشابہ ( یعنی ملتی جُلتی ) ضَرور ہے اور ٹیکسی وغیرہ بند گاڑیوں میں خطرات کاکچھ زیادہ ہی احتمال ( یعنی امکان ) ہے ۔ ڈرائیور کے ذَرِیعے ٹیکسی کے مسافروں کے اِغواء کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں ۔ خاص طور پر اُس وقت خطرہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے جب کہ ڈرائیور کے بارے میں کوئی معلومات ہی نہ ہوں کہ کون ہے ؟ کہاں رہتا ہے ؟اور کیسا آدمی ہے ؟عُمُوماً بڑے شہروں میں ڈرائیوروں سے جان پہچان کم ہی ہوتی ہے دراصل عورت صِنفِ نازُک ہے اور عموماً مردوں کی توجُّہ کا مرکز ہوتی ہے اور آج کل حالات بھی اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ بَہُت سارے لوگ صِرف اس لئے گناہ نہیں کرتے کہ ان کے بس میں نہیں ورنہ جب کبھی انہیں موقع ہاتھ آتا ہے گناہ کی طرف فوراً لپک پڑتے ہیں ۔ ایسے نامساعِدحالات میں اسلامی بہنوں کی ذِمے داری ہے کہ وہ خود ہی محتاط طرزِ عمل اپنائیں ۔ لہٰذا احتیاط یہی ہے کہ جوان عورت ہرگز ہرگز اندرونِ شہر بھی رِکشہ ٹیکسی میں بِغیر محرم یا ثِقَہ وقابلِ اعتماد خاتون کے سفر نہ کرے نیز فتنے کا اندیشہ جتنا بڑھتا جائے گا احتیاط کی حاجت بھی اُتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی ۔ ‘‘
میں نیچی نگاہیں رکھوں کاش اکثر ……… عطا کردے شرم وحیا یاالٰہی
بے پردگی کا خاتمہ ہو عورتوں کو دے ……… زیور حیا وشرم کا یا ربِّ مصطفٰے
مدنی گلدستہ
’’مُصْطَفٰے ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔
(2) ہر مسلمان کو پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے ۔

(3) نا محرم کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا ناجائز وحرام ہے کہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔
(4) کبیرہ گناہ صرف سچی توبہ سے معاف ہوتے ہیں ۔
(5) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمَّت کے لیے بڑی آسانیاں ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ شرم وحیاء کا پیکر بنادے ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمادے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 434