- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 415
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ رَدِيْفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ! قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ! قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. ثَلاَثًا.قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ اِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ قَالَ : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ ! اَفَلاَ اُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوْا قَالَ : اِذًا يَتَّكِلُوا فَاَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْ تِهِ تَاَ ثُّمًا. ( )
عن انس رضی اللہ عنہ ان النبى صلى الله عليه وسلم ومعاذ رديفه على الرحل قال : يا معاذ ! قال : لبيك يا رسول الله وسعديك ! قال : يا معاذ ! قال : لبيك يا رسول الله وسعديك ! قال : يا معاذ ! قال : لبيك يا رسول الله وسعديك. ثلاثا.قال : ما من عبد يشهد ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله صدقا من قلبه الا حرمه الله على النار قال : يا رسول الله ! افلا اخبر بها الناس فيستبشروا قال : اذا يتكلوا فاخبر بها معاذ عند مو ته تا ثما. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسواری پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے حضرت سَیِّدُنَامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے ۔رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اے مُعاذ ! ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حاضرہوں ۔ “آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھرفرمایا : ’’اے معاذ ! ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حاضرہوں ۔ “آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر فرمایا : ’’اے معاذ ! ‘‘ عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حاضرہوں ۔ “ یوں تین مرتبہ فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکا جو بھی بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور رسول ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر جہنم کو حرام کردیتا ہے ۔ “ حضرت سَیِّدُنَامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا میں لوگوں کو اس بات کی خبر نہ دے دوں تاکہ وہ خوش ہوں؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ” پھر وہ
اِسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔ “ پھر حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے وصال کے وقت علم چھپانے کے گناہ کے خوف سے اس حدیث کو بیان کیا ۔
شرح حدیث
تین بار پکارنے کی وجہ :مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو تین بار پکارا ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئےمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’حضرت معاذ کو تین بار پکارنا ، کچھ نہ فرمانا زیادتی شوق کے لیے تھا کہ حضرت معاذ کلام سننے کے پورے مشتاق ہوجائیں ، جو بات انتظار کے بعد سنی جاتی ہے خوب یاد رہتی ہے ۔لَبَّیْكَ وَسَعْدَیْكَکا اردو میں مختصر ترجمہ یہ ہے کہ میں خدمت میں حاضر ہوں ۔ چھوٹے کو چاہیے کہ بڑے کا ادب بہرحال کرے ۔ ‘‘ ( )
¥زبان اور دل دونوں سے اقرار :مذکورہ حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جوسچے دل سے توحید و رسالت کی گواہی دےاللہ عَزَّوَجَلَّاس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا ۔ سچے دل سے گواہی دینے کا اس لیے فرمایا تاکہ اس حکم سے منافقین نکل جائیں کیونکہ وہ صرف زبان سے اسلام کا اقرار کرتے تھے اور دل میں کفر کرتے تھے ۔ ” دلیل الفالحین“میں ہے : ’’حدیث میں سچے دل سے ایمان لانے کا ذکر ہے ، دل سے ایمان لانے کا اس لیے کہا تاکہ جو صرف زبان سے اقرار کرے اور دل میں ایمان نہ ہو وہ اس بشارت سے خارج ہوجائے مثلاًمنافقین ۔ ‘‘ ( ) ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’اس طرح کہ دل سے اس کو مانے اور زبان سے اقرار کرے ، لہٰذا منافق اس بشارت سے علیحدہ ہے ، اور ساتر یعنی دل کا مؤمن زبان سے خاموش اس پر شریعت میں اسلامی احکام جاری نہ ہوں گے ۔ خیال رہے کہ عمر میں ایک بار زبان سے کلمۂ شہادت پڑھنا فرض ہے اور مطالبہ کے وقت بھی ضروری ۔ ‘‘ ( )
¥مؤمن جہنم میں نہ جلے گا :حدیث پاک میں فرمایا گیا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر دوزخ کو حرام کردے گا ۔ “اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائے گایا جائے گا مگر اپنے گناہوں کی سزا پانے تک جہنم میں رہے گا لہٰذا گناہوں سے بچنا اور نیک اعمال کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔ چنانچہ ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’ (اللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر دوزخ کو حرام کردے گا ۔ ) اس طرح کہ وہ آگ میں ہمیشہ نہ رہے گا یا آگ اس کے دل و زبان کو نہ جلا سکے گی کیونکہ یہ ایمان اور شہادت کے مقام ہیں ، کافر کا قلب و قالب دونوں جلائے گی ، ربّ فرماتا ہے : (تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـٕدَةِؕ(۷)) (پ۳۰ ،الھمزۃ:۷ ) یا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو کافر مرتے وقت ایمان لائے اور کسی عمل کا موقع نہ پائے اس کے لیے یہ بشارت ہے ۔ بہرحال یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے نہ دیگر احادیث کے ، کوئی مؤمن عمل سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘ ( ) ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر دوزخ کو حرام کردے گا ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں جائیں گے لہٰذا بعض گناہ گار مسلمانوں کو عذاب ہوگا یہ اس حدیث کے منافی نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥ہر بات ہر وقت بتانے کی نہیں ہوتی :دلیل الفالحین میں ہے : ’’حضرت سَیِّدُنَامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِس بشارتِ عظمی کے اِعلان کی اجازت چاہی تاکہ لوگوں کے دلوں میں خوشی داخل ہو اور اُنہیں سچے دل سے اِیمان لانے اور اِخلاص کے ساتھ نیکیاں کرنے پر اُبھارا جائے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایاکہ’’پھر تو وہ اسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔ ‘‘ اور نیک اَعمال کو چھوڑ دیں گے تو پھر آخرت میں ملنے والے جنت کے اعلیٰ درجات ( جو نیک اعمال سے ملیں گے اُن ) کو نہ پا سکیں گے ۔ جبکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو اُمَّت کا مزید نیکیوں پر اہتمام ، اُن کی اپنے معاملات پر توجہ اور اُن کیلئے بلنددرجات کو چاہتے ہیں ۔ آپ نے حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اِس اِعلان کے ترک کرنے کا اشارہ اس لیے فرمایا کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِعلان کرنے کے مقابلے میں اِعلان نہ کرنے کے نتیجے کوزیادہ کامل خیال فرمایا ۔ ( )
مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’حضرت معاذ نے اِس بشارت کی تبلیغ کی اجازت مانگی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ یہ حکم تبلیغی اُمور میں سے ہے یا اَسرارِ اِلہٰیہ میں سے ۔ شرعی اَحکام سب کے لیے ہیں ، طریقت کے اَسرار اہل کے لیے ۔ خیال رہے کہ عوام بشارت سن کر بے پرواہ ہوجاتے ہیں ، مگر خواص بشارت پا کر زیادہ نیکیاں کرنے لگتے ہیں ۔ ربّ نے اپنے حبیب سے فرمایا : (لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ) ۔ ۔ ۔ الخ تو حضور نے نیکیاں اور زیادہ کیں ۔ عثمانِ غنی سے فرمایا تھا کہ جو چاہو کرو تم جنتی ہوچکے تو اُن کے اَعمال اور زیادہ ہوگئے ۔ ‘‘ ( )
¥حضور کی مُخالفت یا مُوافَقَت :سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ حدیث لوگوں کو بیان کرنے سے منع فرمایا دیا تھا تو پھر حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ حدیث کیوں بیان فرمائی ؟ ” تفہیم البخاری“ میں ہے : ’’حضرت معاذ نے کِتمانِ عِلم سے بچتے ہوئے وفات کے وقت لوگوں کو اس کی خبر دی اس میں آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی مخالفت نہیں کیونکہ وہ اس وقت لازم آتی ہے جبکہ توکل کی قید سے مقید ہو جب قید اُٹھ گئی تو مخالفت بھی نہ رہی ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ شروع اسلام میں لوگ نئے نئے مسلمان تھے ، اگر ان کو یہ خبر دی جاتی تو وہ یہ اعتماد کرلیتے کہ انسان کی نجات کے لیے توحید و رِسالت کا اِقرار کرلینا ہی کافی ہے ، عمل کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لیے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : اس وقت وہ اعتماد کرلیں گے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ قید نہ رہے گی اور لوگ دِین مستقیم میں ثابت ہوجائیں گے اور عبادت میں حرص کرنے لگیں گے اور ان کو یہ یقین ہوجائے گا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت سے تَقَرُّبِ الٰہی حاصل ہوتا ہے تو پھر اس کی خبر دینے میں کوئی حرج نہ ہوگا ، اس لیے حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی حیات کے آخری لمحات میں اس کی خبر دی جبکہ جملہ مذکورہ باتیں مستحکم ہوگئیں تاکہ کتمانِ علم لازم نہ آئے اور توکل کا خطرہ بھی زائل ہوگیا ۔ ‘‘ ( )
” دلیل الفالحین“میں ہے : ’’ جب حضرت سَیِّدُنَا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے علم چھپانے کے گناہ کے خوف سے اس حدیث کو بیان فرمایا کیونکہ علم چھپانا بہت سخت گناہ ہے اور اس کی وعیدیں قرآن و حدیث میں آئیں ہیں ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى(پ۲ ،البقرۃ: ۱۵۹ )ترجمۂ کنزالایمان: بے شک وہ جو ہماری اُتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں ۔ ( )
” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’حدیث شریف میں ہے جو علم چھپائے اسے آگ کی لگام دی جائے گی ۔ قرآن شریف میں بھی علم چھپانے کی برائیاں مذکور ہیں ۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ مجھے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بشارت سے اس وقت منع کیاتھا جب اکثر لوگ نو مسلم تھے اور حدیث دانی کاملکہ کم رکھتے تھے ، اب حالات بدل چکے ہیں ، لوگ ذی شعور اور سمجھدار ہوگئے ہیں ۔ یہ ہے اجتہادِصحیح ۔ ‘‘ ( )
¥حدیث سے مستفاد ہونے والے اَحکام :اس حدیث سے حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا بارگاہِ اقدس میں تقرب اور اُن کی جلالت ظاہر ہوئی اورنبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تواضع اور صحابہ پر شفقت بھی ۔ نیز معلوم ہوا کہ شیخ ( یعنی استاد پیر وغیرہ ) خاص علوم جو عام اشاعت کے لائق نہ ہوں انہیں خاص تلامذہ ( شاگردوں مریدوں وغیرہ ) کو بتا سکتا ہے اور اشاعت ( آگے بتانے ) سے روک سکتا ہے ، نیز معلوم ہوا کہ جو بات عوام کی سمجھ سے بالا تر ہو اور نا سمجھی سے ان کے فتنے میں پڑجانے کا خطرہ ہو اور اس کا جاننا انہیں ضروری نہ ہو اسے انہیں نہ بتائی جائے ۔ ‘‘ ( )
¥سو100قتل کرنے والے کی مغفرت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت بہت بڑی ہے ، اگر کوئی شخص مؤمن ہے اگرچہ کتنا ہی بڑا گناہگار ہے اور ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنَاابو سَعِیْد خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” تم سے پہلے ایک شخص نے ننانوے قتل کئے تھے ۔ جب اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالِم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس پہنچااوراس سے کہا : ’’میں نے ننانوے 99 قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ ‘‘ راہب نے کہا : ’’نہیں ۔ ‘‘ اس نے اسے بھی قتل کردیا اور سو 100کاعدد پورا کرلیا ۔ پھر اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالِم کے بارے میں سوال کیا تو اسے ایک عالِم کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے اس عالِم سے کہا : ’’ میں نے سو 100قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ہاں !اللہ عَزَّ وَجَلَّاور توبہ کے درمیان کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ؟ فلاں فلاں علاقہ کی طرف جاؤ وہاں کچھ لوگاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے ہیں ان کے ساتھ مل کراللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرو اور اپنے علاقہ کی طرف واپس نہ آنا کیونکہ یہ بُرائی کی سرزمین ہے ۔ ‘‘ وہ قاتل اس علاقے کی طر ف چل دیا ، جب وہ آدھے راستے میں پہنچا تو اسے موت آگئی ۔ رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے : ’’یہ توبہ کے دِلی اِرادے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف آیا تھا ۔ ‘‘ اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا ۔ تو اُن کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیااور انہوں نے اسے ثالِث مقرر کرلیا ۔ اُس فرشتے نے اُن سے کہا : ’’دونوں طرف کی زمینوں کو ناپ لو یہ جس زمین کے قریب ہوگا اُسی کا حق دار ہے ۔ ‘‘ جب زمین ناپی گئی تو وہ اس زمین کے قریب تھا جس کے اِرادے سے وہ اپنے شہر سے نکلا تھا تو رحمت کے فرشتے اسے لے گئے ۔ ( )
گناہ بے عَدَد اور جُرْم بھی ہیں لا تعداد ……… مُعاف کردے نہ سہ پاؤں گا سزا یاربّ
میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کر دے شَرَف عطا یاربّمدنی گلدستہ
’’مغفرت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) اگر کوئی اہم بات کرنی ہو تو مخاطب کو اچھی طرح اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیے تاکہ وہ غور سے سنے ۔
(2) اِیمان کے لیے ضروری ہے کہ توحید و رِسالت کا زبان و دل سے اِقرار کرے ، اگر صرف زبان سے اِقرار کرے اور دل میں کفر ہو تو ایسا شخص مذکورہ بشارت سے محروم ہے بلکہ وہ منافق ہے ۔
(3) جہنم کی آگ مؤمن کی زبان اور دل کو نہیں جلائے گی ۔
(4) نیک اَعمال نہ چھوڑے جائیں کہ اِن کی وجہ سے جنت کے اعلیٰ درجات ملیں گے ۔
(5) جو بات لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہو اور انہیں بتانا ضروری بھی نہ ہو یا ایسی بات کہ جس کے بتانے سے عوام کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ بات انہیں نہ بتائی جائے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عِلمِ دِین حاصل کرنے ، اس کو پھیلانے اور اَحکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 415