Main Icon

باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1005

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:لَقدْ اُوْتِيْتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيْرِ اٰلِ دَاوُدَ.( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: لَوْ رَاَيْتَنِيْ وَاَنَا اَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِكَ الْبَارِحَةَ.

عن ابی موسى الاشعري رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له:لقد اوتيت مزمارا من مزامير ال داود.( ) وفي رواية لمسلم: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: لو رايتني وانا استمع لقراءتك البارحة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا: ”بے شک تمہیں حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکے مزامیر میں سے ایک مزمار عطا کیا گیا ہے۔“اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ابو موسٰیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا: ”اگر تم مجھے گزشتہ رات دیکھتے جبکہ میں تمہاری قراءت سن رہا تھا (تو بہت خوش ہوتے)۔“

شرح حدیث

تمام سازوں سے حسین آواز:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی حُسنِ قراءت کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ نہایت خوبصورت انداز میں تلاوتِ قرآن کیا کرتے تھے۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے آپ کے بارے میں فرمایا کہ آپ کو حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی خوش اِلحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔حضرت سَیِّدُنا ابو عثمان نہدیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ہمیں نماز پڑھائی، میں کہتاہوں کہ میں نے کبھی کسی صنج، بربط اور کسی بھی چیز کی آواز ان کی آواز سے اچھی نہیں سُنی۔“حضرت ابو موسٰی اَشعریرَضِیَ اﷲ عَنْہُ:
αمُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّت
مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”داؤدعَلَیْہِ السَّلَامنہایت خوش آواز تھے کہ جس مجلس میں آپ زبور کی تلاوت کرتے اس مجلس سے جنازے نکلتے تھے۔ حضرت ابو موسٰی بھی بہت ہی خوش آواز تھے۔ خیال رہے کہ حضرت ابو موسٰی کا نام عبداﷲابنِ قیس ہے، مکہ معظمہ میں ایمان لائے، حبشہ کی طرف ہجرت کی پھرکشتی والوں کے ساتھ خیبر میں پہنچے، ۲۰ہجری میں حضرت عمر (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) نے امیرِ لشکر بنا کر بھیجا، آپ نے اَہواز فتح فرمایا، شروعِ خلافتِ عثمانی تک آپ بصرہ میں رہے پھر وہاں سے کوفہ آگئے، مکہ معظمہ میں وفات پائی۵۲ہجری میں وہاں ہی دفن ہوئے۔“مزامیر سے کیا مراد ہے؟علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”زَمْرکے لغوی معنی غنا ہیں، یہاں اس سے حُسنِ صَوت (یعنی اچھی آواز) مراد ہے۔مَزَامِیْر مِزْمَارکی جمع ہے اور وہ معروف آلہ ہے۔حُسنِ صَوت پر اِس کا اِطلاق کیا گیا ہے کیونکہ یہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامزبور شریف ستّر آوازوں میں پڑھتے تھے۔ بعض اوقات ان کی قراءت سے بیمار آدمی جھومنے لگتے تھے۔ جب وہ رونے کا ارادہ کرتے تھے تو خشکی اور سمندر کے تمام جانور خاموشی سے سُنتے اور رونے لگتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی مجلس سے کئی جنازے اُٹھائے جاتے تھے۔“اچھی آواز والے سے قرآن سننا مستحب ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اس بات پر اِجماع ہے کہ اچھی آواز والے شخص سے قرآنِ مجید سننا مستحب ہے اور امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاچھی آواز والے نوجوان کو اس کی اچھی آواز کی وجہ سے لوگوں پر مُقَدَّم کرتے تھے۔“حضرت سَیِّدُنا عقبہ بن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُقرآنِ پاک کی تلاوت بڑی اچھی آواز میں کرتے تھے، امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے فرمایا کہ فلاں سورت پڑھو، جب انہوں نے اس صورت کی تلاوت کی تو حضرت سَیِّدُنا عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ”اِس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی زینت یہ ہے کہ اسے اچھی آواز میں پڑھا جائے تاکہ دلوں میں اس کی عظمت بڑھے اور لوگ اس کی نصیحت قبول کریں۔ اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو شخص پابندی کے ساتھ تلاوت قرآنِ پاک کرتا ہے قرآن اس کی آواز کو خوبصورت بنا دیتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’قرآنِ پاک‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی خوش الحانی کی تعریف فرمائی۔
(2) حضرت داؤد
عَلَیْہِ السَّلَامستر زبانوں میں زبور شریف کی تلاوت فرماتے۔
(3) حضرت داؤد
عَلَیْہِ السَّلَامجس مجلس میں زبور شریف کی تلاوت فرماتے اس سے کئی جنازے نکلتے تھے۔
(4) حضرت سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےاچھی آواز سے قرآنِ مجید پڑھنے والے نوجوان کو دوسروں پر مقدم فرمایا۔
(5) اچھی آواز والے شخص سے قرآنِ مجید کی تلاوت سننا مستحب ہے۔
(6) قرآنِ پاک کی تلاوت خوش الحانی کے ساتھ کرنی چاہیے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت بڑھے اور لوگ اس پر عمل پیرا ہوں۔
(7) جو شخص پابندی کے ساتھ تلاوتِ قرآنِ پاک کرتا ہے اس کی آواز میں حُسن پیدا ہو جاتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھی آواز میں تلاوتِ قرآنِ پاک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1005