- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- حدیث نمبر 1008
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ لِی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِقْرَاْ عَلَيَّ الْقُرْاٰنَ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللهِ! اَقْرَاُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ اُنْزِلَ؟ قَالَ: اِنِّي اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِيْ فَقَرَاْتُ عَلَيْهِ سُوْرَةَ النِّسَاءِ حَتَّی جِئْتُ اِلٰى هٰذِهِ الْاٰيَةِ:﴿ فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)﴾(النساء:۴۱)قَالَ: حَسْبُكَ الْاٰنَ فَالْتَفَتُّ اِلَيْهِ فَاِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.
عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال لی النبي صلى الله عليه وسلم: اقرا علي القران فقلت: یارسول الله! اقرا عليك وعليك انزل؟ قال: اني احب ان اسمعه من غيري فقرات عليه سورة النساء حتی جئت الى هذه الاية:﴿ فكیف اذا جئنا من كل امة بشهید و جئنا بك على هؤلآء شهیداﳳ(۴۱)﴾(النساء:۴۱)قال: حسبك الان فالتفت اليه فاذا عيناه تذرفان.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”مجھے قرآنِ پاک سناؤ۔“ میں نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کے سامنے پڑھوں جبکہ یہ قرآن آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر نازل کیا گیا۔ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”میں دوسرے سے سننا پسند کرتا ہوں۔“حضرت عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی جب میں اس آیت پر پہنچا:﴿ فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)﴾(پ۵،النساء:۴۱)(ترجمۂ کنزالایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُ مَّت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں۔) آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ”بس کافی ہے۔“میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔“
شرح حدیث
قرآن پڑھنا، پڑھوانا، سننا، سنانا سنت ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا ثواب کا کام ہے یوں ہی کسی دوسرے شخص سے قرآنِ پاک کی تلاوت سننا بھی ثواب کا کام ہے۔حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت سَیِّدُنَا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے ارشاد فرمایا: ”مجھے قرآنِ پاک سناؤ۔“ ”معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھنا، پڑھوانا، سننا، سنانا سب عبادت اور سنتِ رسول ہے۔ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ پڑھوانا نہ تو تعلیم کےلیے تھا نہ اِصلاح کے لیے بلکہ صرف سننے کے لیے تھا۔“قرآن سنتے وقت غور وفکر کرنا آسان ہے:جب حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ تو آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کے سامنے پڑھوں جبکہ یہ قرآن تو آپ پر نازل کیا گیا ہے۔’’یعنی حضور آپ کو تو حضرت جبریل قرآن سناتے ہیں تو میری کیا حقیقت ہے یا قرآنِ کریم حکمت ہے حضورحکیم ہیں،جنہیںاﷲعزیز حکیم نے سکھایا۔ حکمت حکیم کے منہ سے سجتی ہے، میرا حضور کے سامنے پڑھنے کا حوصلہ نہیں پڑتا۔‘‘ تو نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے ارشاد فرمایا کہ میں دوسرے سے سننا پسند کرتا ہوں، ”کیونکہ قرآن پڑھنا بھی عبادت ہے اور دوسرے سے پڑھواکر سننا بھی، پہلی عبادت تو ہم کرتے رہتے ہیں، آج چاہتے ہیں کہ دوسری عبادت بھی ادا کریں۔عرب شریف میں اب بھی دستور ہے کہ جہاں چند اَحباب جمع ہوتے ہیں تو وہاں ایک دوسرے سے قرآن شریف سنتے ہیں، یہ اس حدیث پرعمل ہے۔“
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”گویاکہ دوسرے سے سننے میں حکمت یہ ہے کہ معنی کا سمجھنا اور اُن میں غور و فکر کرنا دوسرے سے سننے میں زیادہ کامل و زیادہ آسان ہے، سننے والا یوں سمجھتا ہے کہ کلمات غیب سے اُتررہے ہیں۔ جیساکہ حضرت موسٰیعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لیے درختِ طور سے کلام کا ظہور ہوا تھا۔“حضورتمام انبیاکے گواہ ہیں:حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکےحکم پر سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاس آیتِ مبارکہ پر پہنچے:فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)(پ۵،النساء:۴۱) ترجمۂ کنز الایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں۔
”یعنی اے محبوب قیامت کے دن ان کفار کا کیا بنے گا جب کہ ان کے انبیاء ان کے خلاف گواہی دیں گے اور اے محبوب تم ان تمام انبیاء کی تائیدی گواہی دو گے کہ مولیٰ یہ سارے انبیاء سچے ہیں ان کی قوموں نے واقعی بہت سرکشی کی تھی اپنے نبیوں کی بات نہ مانی تھی۔“ اس کے بعد آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے ارشاد فرمایا ”بس کافی ہے۔“یعنی اب اور تلاوت نہ کرو کیونکہ میں اس آیت میں غور و فکر کرنے میں مشغول ہوں اور اس سبب سے مجھے رونا آرہاہے اور میری حالت ایسی نہیں کہ اب میں اور تلاوتِ قرآن سُن سکوں۔
حضرت عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے ہیں۔”یعنی حضورِانورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی یا تو ہیبتِ الٰہی سے قیامت کے اس مقدمہ کے تصور سے یا اپنی اُمَّت پر رحمت کی وجہ سے۔معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے بشرطیکہ بناوٹ سے نہ ہو۔ بیہقی شریف میں ہے کہ قرآنِ کریم غم و رنج لیے ہوئے آیا ہے اس لیے تم اس کی تلاوت پر رویا کرو۔“قرآن پاک سننا پڑھنے سے افضل:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”مذکورہ حدیثِ پاک میں قرآنِ پاک کی تلاوت سننے،اس کی طرف متوجہ ہونے اور اس میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی دوسرے شخص کو قرآنِ پاک پڑھنے کا کہنا تاکہ اس سے قرآنِ پاک کی قراءت سنے یہ مستحب ہے کیونکہ سنتے وقت خود قراءت کرنے کے مقابلے میں معنیٰ زیادہ سمجھ میں آتے ہیں اور کامل طورپر غور و فکر ہوتی ہے اور اِس حدیث سے یہ بات بھی اَخذ کی گئی ہے کہ قرآن کی تلاوت سننا قراءت کرنے سے زیادہ افضل ہےاور یہ اُس وقت ہے جب سننے میں جو خُشُوع اور تَدَبُّر حاصل ہوتا ہو وہ پڑھنے میں نہ آتا ہو۔“
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت
رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی
عمل کا ہو جذبہ عطا یاالٰہی
گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
نوٹ: مذکورہ حدیثِ پاک کی تفصیلی شرح کیلئے فیضان ریاض الصالحین،جلد4،باب نمبر 54 کی حدیث نمبر 446 کا مطالعہ کیجئے۔مدنی گلدستہ’’قراءت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) قرآن شریف پڑھنا، پڑھوانا، سننا، سنانا سب عبادت اور سنت ہے۔
(2) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامخود بھی قرآنِ پاک کی تلاوت فرماتے اور دوسروں سے سننا بھی پسند فرماتے تھے کیونکہ دوسرے سے سنتے وقت قرآن کے معانی میں غور و فکر اور تدبر کرنا آسان ہوتا ہے۔
(3) قیامت کے دن تمام انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماپنی اُمَّت کے کفار کے خلاف گواہی دیں گے اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان تمام انبیاء کی تائید میں گواہی دیں گے۔
(4) قرآن شریف پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے بشرطیکہ بناوٹ سے نہ ہو، حدیثِ پاک میں ہے کہ قرآنِ کریم غم و رنج لیے ہوئے آیا ہے اس لیے تم اس کی تلاوت پر رویا کرو۔
(5) جب پڑھنے کے مقابلے میں سنتے وقت معانی میں غور و فکر کرنا زیادہ آسان ہو اور سنتے وقت خشوع بھی زیادہ حاصل ہوتو ایسی صورت میں قرآنِ پاک کی تلاوت سننا قرآنِ پاک پڑھنے سے افضل ہے ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ پاک کی تلاوت سننے اور اس میں غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1008