Main Icon

باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1006

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَاَ فِي الْعِشَاءِ بِالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ فَمَا سَمِعْتُ اَحَدًا اَحْسَنَ صَوْتًامِنْهُ.

عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہما قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قرا في العشاء بالتين والزيتون فما سمعت احدا احسن صوتامنه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا براء بن عازبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو عشاکی نماز میں سورۂوَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِپڑھتے ہوئے سنا تو میں نے آپ سے اچھی آواز والا کسی کو نہیں سنا۔“

شرح حدیث

سب سے زیادہ بلند آواز والے:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی حُسنِ قراءت کو بیان کیا گیا ہے۔ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبڑی خوبصورت آواز میں تلاوتِ قرآنِ پاک فرمایا کرتے تھے اور آپعَلَیْہِ السَّلَامعام لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بلند آواز تھے یعنی جب آپ تلاوت فرماتے یا وعظ فرماتے تو آپ کی آواز بہت اونچی ہوا کرتی تھی۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی آواز اس قدر بلند ہوتی کہ جہاں تک آپ کی آوازپہنچتی وہاں تک کسی اور کی آواز نہ پہنچتی تھی۔حضرت سَیِّدُنَا ابنِ رواحہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامجمعہ کے روز منبرپرتشریف فرماتھے اور ابنِ رواحہ بنی تمیم میں تھے تو آپ نے وہاں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی آواز سُنی کہ بیٹھ جاؤ تو آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاپنی جگہ پر ہی بیٹھ گئے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”معلوم ہوا کہ رسولاﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمبہت ہی خوش آواز تھے۔ ابنِ عساکر کی روایت میں ہے کہاﷲ تعالیٰنے کوئی نبی بد شکل یا بد آواز نہ بھیجا، ہر نبی نہایت خوبصورت اور خوش آواز ہوئے۔ بیہقی شریف میں ہے کہ حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنہایت خوش آواز اور بلند آواز تھے کہ آپ کی نماز کی تلاوت عورتیں گھروں میں بے تکلف سن لیتی تھیں۔ غرض کہ رب تعالیٰ نے اپنے محبوب کو ہر اندازِ محبوبانہ بخشا۔“مدنی گلدستہ’’نبی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) رسولُ
اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت ہی خوش آواز تھے۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی آواز مبارک عام لوگوں کے مقابلے میں بلند تھی کہ جب آپ تلاوت کرتے یا خطبہ ارشاد فرماتے تو جہاں تک آپ کی آواز جاتی وہاں تک کسی اور کی آواز نہ جاتی تھی۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہر حال میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حکم پر عمل کرتے تھے جیساکہ حضرت ابنِ رواحہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے خطبہ کے دوران مسجد سے دورحضورعَلَیْہِ السَّلَامکی آواز سُنی کہ بیٹھ جاؤ تو آپ جہاں تھے وہیں بیٹھ گئے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھی آواز میں تلاوتِ قرآنِ پاک سننے اور اس پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1006