Main Icon

باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1241

جلد 7

حدیث مبارکہ

عنْ اَبي هُرَ يرَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِيْ اَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وشَرَابَهُ.

عن ابي هر يرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في ان يدع طعامه وشرابه.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”جوجھوٹی بات اوربُرے کام نہ چھوڑے تواﷲعَزَّ وَجَلَّکو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پرواہ نہیں ۔‘‘

شرح حدیث

جھوٹی بات اوربُرے کام کے معنیٰ:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہاں جھوٹی بات سے مراد ہر ناجائز گفتگو ہے،جھوٹ،بہتان،غیبت،چغلی،تہمت،گالی،لعن طعن وغیرہ جن سے بچنا فرض ہے ،اور بُرے کام سے مراد ہر ناجائز کام ہے آنکھ کان کا ہو یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کا،چونکہ زبان کے گناہ دیگر اعضا کے گناہوں سے زیادہ ہیں اس لئے ان کا علیحدہ ذکر فرمایا۔یہ حدیث بہت جامع ہے۔دو جملہ میں ساری چیزیں بیان فرمادیں اگرچہ بُرے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی بُرے ہیں مگر روزے کی حالت میں زیادہ بُرے کہ ان کے کرنے میں روزے کی بے حرمتی اور ماہِ رمضان کی بے ادبی ہے اس لئے خصوصیت سے روزے کا ذکر فرمایا ،ہر جگہ ایک گناہ کا عذاب ایک مگر مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا عذاب ایک لاکھ ہے، کیوں؟ اس زمینِ پاک کی بے ادبی کی وجہ سے۔یہاں( حدیثِ مذکور میں لفظ)حاجت بمعنیٰ ضرورت نہیں کیونکہاﷲ تعالٰیضرورتوں سے پاک ہے بلکہ بمعنیٰ توجہ،اِلتفات،پرواہ، یعنیاﷲ تعالٰیایسے شخص کا روزہ قبول نہیں فرماتا، قبول نہ ہونے سے روزہ گویا فاقہ بن جاتا ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ روزہ شرعًا تو درست ہوجائے گا کہ فرض ادا ہوجائے گا مگر قبول نہ ہوگا شرائطِ جواز تو صرف نیت ہے اور کھانا پینا،صحبت چھوڑدینا ،مگر شرائط ِقبول میں( بُری ) باتیں چھوڑنا ہے جو روزہ کا اصل مقصود ہے۔روزہ کا منشاء نفس کا زور توڑنا ہے جس کا انجام گناہ چھوڑنا ہے جب روزے میں گناہ نہ چھوٹے تو معلوم ہوا نفس نہ مرا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ ہر عضو کا ہونا چاہیے،صرف حلال چیزوں یعنی کھانے پینے کو نہ چھوڑو بلکہ حرام چیزوں یعنی جھوٹ و غیبت کو بھی چھوڑو،مرقات نے فرمایا کہ ایسے بے باک روزے دارکو اصل روزہ کا ثواب ملے گا اور ان چیزوں کا گناہ۔“اشعۃ اللَّمعات میں ہے:”مراد یہ ہےکہ جو جھوٹ اور بُرے کاموں سے باز نہ آئے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں اِس بات کی کوئی قدرو قیمت نہیں کہ انسان صرف کھانا پینا ترک کر دےبلکہ روزے سے مقصودشہوات کو توڑنا اور نفسانیت کی آگ بجھانا ہے تاکہ نفسِ امارہ کو نفسِ مطمئنہ بنا یا جائے ۔ مشائخِ کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامفرماتے ہیں کہ روزہ تین طرح کا ہوتا ہے:(1)عوام کا روزہ:کھانے پینے اور جماع سے رکنا (2) خواص کا روزہ :اپنے تما م اعضاء کولذتوں اور حرام و مکروہ باتوں سے روکنا(3)اَخَصُّ الخواص کا روزہ یہ ہےکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا سب سے دور رہے اور اس کے سوا کسی کی طرف توجہ اوراِلتفات نہ کرے۔“مدنی گلدستہ’’روزہ دار‘‘کے7حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) فضول جھگڑا ، گالی گلوچ اور بُرے کام ہر حال میں ممنوع ہیں مگر روزہ کی حالت میں سخت ممنوع ہیں۔
(2) شریعت میں روزہ پیٹ اور دماغ کا ہوتا ہے مگر طریقت میں سارے اعضاکوگناہوں سے بچانےکا۔
(3) اگر کوئی روزہ دارسے لڑے یا اسے گالی بکے تو روزہ دار کو چاہیے کہ جوابی کاروائی ہرگز نہ کرے بلکہ اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں،اس جملے کی برکت سے دونوں لڑائی سے باز رہیں گے۔
(4) جھوٹ ،غیبت چُغلی، گالی گلوچ ،بہتان وغیرہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، نورانیت ختم ہوجاتی ہے۔
(5) جو روزہ دار جھوٹ اور بُرے کام سے باز نہ آئے تو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی قدر و مَنزلت نہیں۔
(6) روزہ ہرعضو کا ہونا چاہیے کہ تما م اعضا کو بُرائیوں سے بچا یا جائے۔
(7) روزے کا منشا نفس کا زور توڑنا ہے جس کا انجام گناہ چھوڑنا ہے۔
اﷲعَزَّ وَجَلَّسے دعاہےکہ وہ ہمیں ہروقت بالخصوص روزے کی حالت میں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1241