- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا کا بیان
- حدیث نمبر 397
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْن مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : یُؤْتَی بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍلَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعْ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَجُرُّوْنَھَا. ( )
عن عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : یؤتی بجہنم یومئذلھا سبعون الف زمام مع کل زمام سبعون الف ملک یجرونھا. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہی سے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن جہنم کو ستر ہزار ( 70000 ) لگاموں سے کھینچ کر لایا جائے گا ، ہر لگام کو ستر ہزار ( 70000 ) فرشتے پکڑ کر کھینچ رہے ہوں گے ۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث میں جہنم کی ہولناک جسامت اور کیفیت کا بیان ہے جسے پڑھ کر یا سن کر بندہ خوف سے کانپ اٹھتا ہے ، قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں مختلف مقامات پر جہنم سے پناہ مانگنے ، اس سے بچنے ، اس کی ہیئت وکیفیت کا بیان اور اسے برا ٹھکانہ قرار دیا گیا ہے ۔ جہنماللہ عَزَّ وَجَلَّکے قہر وجلال اور غضب کا مظہر ہے ، جہنم کا خوف دراصلاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کا خوف ہے ، اور یہ باب بھی خوف خدا کا ہے ، اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥لفظ’’جہنم ‘‘ کی تحقیق :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جہنم عربی زبان کا لفظ ہے یا عجمی زبان کا اس بارے میں اختلاف ہے پس ایک قول یہ ہے کہ جہنم عربی لفظ ہے اور ”جُہُوْمَۃٌ“ سے بنا ہے اورجُہُوْمَۃٌ
کا معنی ہے وہ منظر جس کو دیکھنا ناگوار گزرے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جہنم اہلِ عرب کے قول ”بئر جھنام“ سے ماخوذ ہے اس کا مطلب ہے گہرا کنواں ۔ اکثر لوگوں نے کہا کہ جہنم عربی نہیں بلکہ عجمی لفظ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥جہنم ابھی کہاں ہے ؟مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ پیدا ہوچکی ہے ، نیز وہ اِس وقت اُس جگہ نہیں جہاں قیامت کے بعد ہوگی یعنی محشر اور جنت کے درمیان راستے میں ، ابھی یہ کسی اور جگہ ہے ۔ اُس دن ملائکہ اُسے کھینچ کر وہاں پہنچائیں گے جہاں اس نے رہنا ہے ۔ اس کی تائید قرآنِ کریم کی اس آیت سے ہے :وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ ﳔ(پ۳۰ ،الفجر: ۲۳ )ترجمۂ کنزالایمان: اور اس دن جہنم لائی جائے ۔
حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے معراج میں دوزخ کی سیر فرمائی اس جگہ جہاں وہ تھی ۔ آج اتنابڑا سورج کس قدر تیزی سے حرکت کر ہا ہے ، یوں ہی دوزخ اپنی جگہ سے ہٹا کر لائی جائے گی ۔ ‘‘ ( ) ایک قول یہ بھی ہے کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے ۔ ( )
¥جہنم کی کیفیت کا بیان :بہارشریعت میں ہے : ’’ یہ ایک مکان ہے کہ اُس قہار و جبار کے جلال و قہر کا مظہر ہے ۔ جس طرح اُس کی رحمت و نعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچیں وہ ایک شَمّہ ( قلیل مقدار ) ہے اُس کی بے شمار نعمتوں سے ، اسی طرح اس کے غضب و قہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ تکلیف و اذیت کہ اِدراک کی جائے ، ایک ادنیٰ حصہ ہے اس کے بے انتہا عذاب کا ۔ قرآنِ مجید و احادیث میں جو اُس کی سختیاں مذکور ہیں ، ان میں سے کچھ اِجمالاً بیان کرتا ہوں کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور اُن اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے ۔ حدیث میں ہے کہ جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے ، جہنم کہتا ہے : اے رب ! یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے ، تُو
اس کو پناہ دے ۔ قرآنِ مجید میں بکثرت ارشاد ہوا کہ جہنم سے بچو ! دوزخ سے ڈرو ! ہمارے آقا و مولیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم کو سکھانے کے لیے کثرت کے ساتھ اُس سے پناہ مانگتے ۔ جہنم کے شرارے ( چنگاریاں ) اُونچے اُونچے محلوں کی برابر اُڑیں گے ، گویا زَرد اُونٹوں کی قطار کہ پیہم آتے رہیں گے ۔ آدمی اور پتھر اُس کا ایندھن ہے ، یہ جو دنیا کی آگ ہے اُس آگ کے ستّر جُزوں میں سے ایک جُز ہے ۔ جہنم کی آگ ہزار برس تک دھونکائی گئی ، یہاں تک کہ سُرخ ہوگئی ، پھر ہزار برس اور ، یہاں تک کہ سفید ہو گئی ، پھر ہزار برس اور ، یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی ، تو اب وہ نِری سیاہ ہے جس میں روشنی کا نام نہیں ۔ یہ دنیا کی آگ ( جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں کہ بعض موسم میں تو اس کے قریب جانا شاق ہوتا ہے ، پھر بھی یہ آگ ) خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جائے ، مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اُس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی اور پناہ مانگتی ہے ۔ دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ، حدیث میں ہے کہ اگر پتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اُس میں پھینکی جائے تو ستّر برس میں بھی تہہ تک نہ پہنچے گی ۔ “ ( )
¥جہنم کے طبقات :دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ” جہنم کے خطرات“ کے صفحہ نمبر ۱۵ پر ہے : ’’قرآنِ مجید کی آیت مبارکہ ہے : (α لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍؕ-لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠(۴۴))(پ۱۴ ،الحجر: ۴۴ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اِس کے سات دروازے ہیں ہر دورازے کیلئے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے ۔ ‘‘ اِس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا قول ہے کہ جہنم کے سات طبقات ہیں جن کے نام یہ ہیں : ( 1 )جَہَنَّم(2 )لَظَی( 3 )حُطَمَہ( 4 )سَعِیْر( 5 )سَقَر( 6 )جَحِیْم( 7 )ھَاوِیَہ۔ پوری آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’شیطان کی پیروی کرنے والے بھی سات حصوں میں منقسم ہیں ، اُن میں سے ہر ایک کیلئے جہنم کا ایک طبقہ معین ہے ۔ ‘‘
¥جہنم کے خوف سے جگر ٹکڑے ہوگیا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناللہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب بندے ہیں ، جن کے بارے میںاللہ عَزَّوَجَلَّنے قرآنِ مجید میں اپنی رضا کا پروانہ جاری فرمادیا ہے ۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ(پ۳٠،البینۃ: ۸ )ترجمۂ کنزالایمان:اللہان سے راضی ۔
اس کے باوجود صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ایسا خوفِ خدا پایا جاتا تھا کہ ہر وقت اُن پر لرزہ طاری رہتا تھا اور وہ جہنم کا نام سن کر ہی کانپ اٹھتے تھے ۔ بعض اوقات تو خوف سے انتقال بھی کرجاتے تھے ۔ چنانچہ مروی ہے کہ ایک نوجوان انصاری صحابی پر دوزخ کا ایسا خوف طاری ہوا کہ وہ مسلسل رونے لگے اور اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا ۔ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کا ذکر کیا گیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے اور اُن کو اپنے سینے سے لگایا اوروہ انتقال کر گئے ۔ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” اپنے ساتھی کے کفن ودفن کا انتظام کرو ، جہنم کے خوف نے اِس کے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے ۔ “ ( )
¥جہنم کا نام سن کر بے ہوش ہو گئے :حضرت سَیِّدُناعبداللہبن وہب فہریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ایک لاکھ اَحادیث زبانی یاد تھیں ۔ آپ پر خوفِ الٰہی کا بڑا غلبہ تھا ۔ ایک دن حمام میں تشریف لے گئے تو کسی نے یہ آیت پڑھ دی :وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ(پ۲۴ ،المؤمن:۴۷ )ترجمۂ کنزالایمان: اور جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے ۔
جہنم کا نام سنتے ہی آپ بے ہوش ہو کر غسل خانے میں گر پڑے اور بہت دیرکے بعد آپ کو ہوش آیا ۔ اسی طرح ایک شاگرد نے آپ کی کتاب’’ جامع ابن وھب ‘‘ میں سے قیامت کا واقعہ پڑھ دیا تو آپ خوف کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر پڑے اور لوگ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے ۔ جب بھی آپ کو ہوش آتا تو بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا اور پھر بے ہوش ہو جاتے ، اسی حالت میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔ ( )
مرے اشک بہتے رہیں کاش ہردم ……… ترے خوف سے یا خدا یا الٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفر ت ہو ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’جہنم سے بچو ‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1)کل بروزِ قیامت جہنم ستر ہزار ( 70000 ) لگاموں سے باندھ کر لائی جائے گی ۔
(2) ابھی جہنم اُس جگہ نہیں ہے جس جگہ قیامت کے دن لائی جائے گی ۔
(3) دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر 70اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔
(4) جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے ۔
(5) جو جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتا ہے :یا اللہ! اس کو مجھ سے پناہ دے دے ۔ ‘‘
(6) ہمیں جہنم سے پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ اس کا عذاب طاقتور سے طاقتور شخص بھی سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔
(7) جہنم تین ہزار سال تک جلائی گئی ہے اب اس کی آگ بالکل سیاہ ہے اس میں روشنی نام کی چیز نہیں ۔
(8) جہنم کے سات طبقے ہیں ، جن میں مختلف لوگوں کو مختلف عذاب دیے جائیں گے ۔
(9) شیطان کی پیروی کرنے والے اپنے اپنے گناہوں کے اعتبار سے جہنم کے طبقات میں جائیں گے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عذابِ جہنم سے محفوظ فرمائے اور ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی جہنم میں داخل نہ فرمائے ، ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راضی ہوجائے اور ہماری بلا حساب مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 397