Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 409

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ اَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ اِلْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْاِذْنَ مَتٰى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ فَكَاَنَّ ذٰلِكَ ثَقُلَ عَلَى اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ : قُوْلُوْا : (حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيْلُ). ( )

عن ابي سعيد الخدری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كيف انعم وصاحب القرن قد التقم القرن واستمع الاذن متى يؤمر بالنفخ فينفخ فكان ذلك ثقل على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم : قولوا : (حسبنا الله ونعم الوكيل). ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں کس طرح خوش ہوں حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور منہ میں لیے کان لگائے بیٹھا ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہو اور وہ صور پھونکے ۔ ‘‘ یہ بات صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر گراں گزری تواللہ1∞کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے ارشاد فرمایا : ’’ تم کہو ! ہمیںاللہہی کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیثِ مذکور میں سرکارِ مدینہ راحتِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم لوگوں کواللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے کی ترغیب دلارہے ہیں کہ صور پھونکنے والا فرشتہ یعنی حضرت اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَامبالکل مستعد ہیں

اور حکمِ خدا وندی کے منتظر ہیں بس اشارہ ملنے کی دیر ہے ۔ جیسے ہی حکم ملا فوراً تکمیل کریں گے اور صور پھونک دیں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی ۔ لہٰذا تم لوگ ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہ ہونا اور نیکیوں میں لگے رہنا اور گناہوں سے دور رہنا ۔
¥
حضور کی نظریں سب کچھ دیکھتی ہیں :مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صور پھونکنے والے فرشتے کی حالت کو بیان فرمایا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگاہیں سب کچھ ملاحظہ فرمارہی ہیں ۔ چنانچہمُفَسِّر شہِیر،حَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت اسرافیل منہ میں صور لیے عرش اعظم کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ملے اور میں بلا تاخیر صور پھونک دوں ، جب میری آنکھیں یہ نظارہ کر رہی ہیں تو میرے دل کو چین و خوشی کیسے ہو ، ادھر خوف لگا ہوا ہے ۔ معلوم ہوا کہ حضور کی نظریں سب کچھ دیکھتی ہیں ۔ ‘‘ ( )
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ……… جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
¥
رسولِ خدا کا خوفِ خدا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیسا خوفِ خدا رکھنے والے ہیں ۔ حالانکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسید المعصومین ہیں ۔ یہ جنت اور جنت کی تمام نعمتیں بلکہ پوری کائنات آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے لیے بنائی گئی ہے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممالک جنت ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو جنت کے سب سے اعلی ترین مقام میں ہوں گے لیکن خوفِ خدا کا یہ عالم ہے کہ فرمارہے ہیں : ” میں کس طرح خوش ہوں ۔ “ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان خوفِ خدا کے اظہار کے لیے تھا نہ کہ قیامت کے آنے کے اندیشے کی وجہ سے کیونکہ قیامت سے پہلے بہت سی علامات ظاہر ہوں گی پھر قیامت آئے گی ۔ چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ
مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ یہ فرمان عالی اظہار ِ خوف و خشیت کے لیے ہے ، اس لیے نہیں کہ ابھی صور پھونک جانے ، قیامت آجانے کا اندیشہ ہے ۔ قیامت تو اپنے وقت پرآوے گی ، اس سے پہلے بہت سی علامات ہوں گی : خروجِ دجال ، نزولِ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَاموغیرہ ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آندھی بادل آنے پر سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر خوف کے آثار ظاہر ہوجاتے تھے ہیبت الٰہی کی وجہ سے ۔ اس لیے نہیں کہ عذاب الٰہی آنے کا اندیشہ ہے ، رب تعالیٰ وعدہ فرماچکا ہے کہوَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-(پ۹ ،الانفال:۳۳ )ترجمۂ کنزالایمان: اوراللہکا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو ۔ ( )
” مرقاۃ “میں ہے : ” علامہ قاضی عیاض
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ میری زندگی خوشگوار کیسے ہو ؟حالانکہ عنقریب صور پھونکا جانے والا ہے ۔ یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے لیا ہے اور وہ اِس انتظار میں ہے کہ اُسے حکم دیا جائے اور وہ صور پھونکے ۔ ‘‘ ( )
¥
صورکب اور کس طرح پھونکا جائے گا؟صور کب پھونکا جائے گا؟ یہ تواللہ عَزَّوَجَلَّہی جانتا ہے یا پھر اُس کے بتائے سے اُس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے ہیں لیکن قیامت کی نشانیاں جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں جب وہ تمام نشانیاں پوری ہوجائیں گی تو قیامت قائم ہونے سے چالیس سال پہلے تمام مسلمان فوت ہوجائیں گے ، پھر صور پھونکا جائے گا جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے : ” جب ( قیامت کی ) نشانیاں پوری ہو لیں گی اور مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے وہ خوشبودار ہوا گزرلے گی جس سے تمام مسلمانوں کی وفات ہو جائے گی ، اس کے بعدپھر چالیس برس کا زمانہ ایسا گزرے گا کہ اس میں کسی کے اولاد نہ ہو گی ، یعنی چالیس برس سے کم عُمر کا کو ئی نہ رہے گا اور دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے ۔کہنے والا کوئی نہ ہوگا ، کوئی اپنی دیوار لیستا ( پلستر کرتا ) ہوگا ، کوئی کھانا

کھاتا ہوگا ، غرض لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے کہ دفعۃً ( اچانک ) حضرت اسرافیل
عَلَیْہِ السَّلَامکو صُور پھو نکنے کا حکم ہوگا ، شروع شروع اس کی آواز بہت باریک ہوگی اور رفتہ رفتہ بہت بلند ہو جائے گی ، لوگ کان لگا کر اس کی آواز سنیں گے اور بے ہوش ہو کر گِر پڑیں گے اور مر جائیں گے ، آسمان ، زمین ، پہاڑ ، یہاں تک کہ صُور اور اسرافیل اور تمام ملائکہ فَنا ہو جائیں گے ، اُس وقت سوا اُس واحدِ حقیقی کے کوئی نہ ہوگا ، وہ فرمائے گا : (لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ)(پ۲۴ ،المومن: ۱۶ ) آج کس کی بادشاہت ہے ؟ کہاں ہیں جَبّارین؟ کہاں ہیں متکبرین؟مگرہے کون جو جواب دے ، پھر خود ہی فرمائے گا : (لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶)) (پ۲۴ ،المومن: ۱۶ ) صرفاللہواحد قہار کی سلطنت ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
مشکلات میں پڑھے جانے والے بابرکت کلمات :حدیثِ مذکور کے آخر میں اس بات کا بیان ہے کہسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو ایک کلمہ پڑھنے کی ترغیب دی کہ یہ کلمہ پڑھیں ، اس کلمہ کی بڑی برکتیں ہیں ، ہمیں بھی ہر مشکل و مصیبت میں اس کلمے کا وِرد کرتے رہنا چاہیے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ یہ کلمات بڑے مبارک ہیں ۔ جب حضرتخلیلُ اللہ(عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) نمرود کی آگ میں جارہے تھے تو آپ کی زبان شریف پر یہ ہی کلمات تھے اور جب صحابہ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کو خبر پہنچی کہ کفار ہمارے مقابلے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے بھی یہ ہی کلمات کہے ۔ یہ کلمات مصیبتوں تکلیفوں میں بہت ہی کام آتے ہیں ۔ ہر مصیبت میں یہ کلمات پڑھنے چاہییں ۔ ‘‘ ( )
¥
رسولُ اللہکی اُمَّت پر شفقت ومحبت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں قُربِ قیامت ، حضرت سیدنا اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَامکے صور پھونکے جانے کا ذکر ہے وہیں اس بات کا بھی بیان ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اپنی اُمَّت پر کتنے شفیق اور مہربان ہیں ، آپ کواپنی ذات کے لیے قیامت کا کوئی خوف نہیں ہے مگر اپنی امت کے لیے فکر مند ہیں ، آپ کو تو کل بروزِقیامت کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا مگر آپ اپنی امت کی پریشانیوں کو لے کر فکر مند ہیں ۔ کاش ! ہم امتی بھی آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پسند پر اپنی پسند کو قربان کردیں اوریہی خواہش ہو کہ کاش ! میرا مال ، میری جان محبوبِ رحمٰنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آن پر قربان ہو جائے ، اُن سے نسبت رکھنے والی ہر چیز دلعزیز ہو ، جو خوش بخت ایسی زندگی گزارنے میں کامیاب ہو گیاتواللہتبارک وتعالیٰ اُس کے لئے دُنیا مسخر اور مخلوق کو اُس کے تابع کر دے گا ، آسمانوں میں اُس کے چرچے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدا و مصطفے ٰ کا محبوب بن جائے گا ۔
وہ کہ اُس در کاہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی ……… وہ کہ اُس در سے پھرا
اللہاُس سے پِھر گیامدنی گلدستہ
’’ نبی کریم ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب اور جلال کا مظہر ہے ، ہمیشہ اس سے پناہ مانگنی چاہیے ۔
(2) قیامت کی چند نشانیاں بھی بیان کی گئی ہیں جیسے ہی وہ نشانیاں پوری ہوں گی قیامت قائم ہوجائے گی ۔
(3) حضرت سیدنا اسرافیل
عَلَیْہِ السَّلَامصور پھونکنے کے لیے بالکل تیار ہیں جیسے ہیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا حکم ہوگا فوراً صُور پھونک دیں گے اور قیامت واقع ہوجائے گی ۔
(4) ہمیں چاہیے کہ ہر وقت نیکیوں میں مصروف رہیں اور ہمیشہ
اللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف سے ڈرتے رہیں ۔
(5) قیامت سے چالیس سال پہلے تمام مسلمان فوت ہوجائیں گے اور قیامت کے وقت کوئی بھی
اللہ عَزَّوَجَلَّکا نام لیوا زمین پر نہ ہوگا یعنی کفار ومشرکین پر قیامت قائم ہوگی ۔
(6) صور پھونکنے کے بعد سب کچھ فنا ہوجائے گا صرف
اللہواحدِ قہارعَزَّوَجَلَّکی ذات ہوگی ۔
(7) ہر قسم کی مشکل اور مصیبت کے وقت
حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الوَكِيْلُپڑھنا چاہیے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قیامت کی سختیوں سے محفوظ فرمائے ، قیامت کی تیاری کرنے

کی توفیق عطا فرمائے ، کل بروزِ قیامت حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے ، اوربلا حساب مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 409