- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا کا بیان
- حدیث نمبر 406
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي ذَرٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنِّي اَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ اَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا اَنْ تَئِطَّ مَا فِيْهَا مَوْضِعُ اَرْبَعِ اَصَابِعَ اِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ اِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْاَرُوْنَ اِلَى اللَّهِ. ( )
عن ابي ذر رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اني ارى ما لا ترون واسمع ما لا تسمعون اطت السماء وحق لها ان تئط ما فيها موضع اربع اصابع الا وملك واضع جبهته ساجدا لله والله لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم الى الصعدات تجارون الى الله. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذرّرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہسرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بے شک جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے ، آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ چرچرائے ، آسمان میں چار انگل بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر بسجود نہ ہو ۔ بے شک جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے ۔ ‘‘
شرح حدیث
دیکھنے اور سننے میں فرق کی وجہ :مذکورہ حدیث میں فرمایاگیا کہ ” بے شک جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے ۔ “ ایک چیز کو حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو دیکھیں اور سُنیں لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ والے نہ دیکھیں نہ سنیں ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ شَیْخ اِبْنِ عَرَبِی مَالْکِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّجس شخص کے لیے چاہتا ہے اور جو چاہتا وہ اس پر ظاہر فرما دیتا ہے اور جو اُن کے ساتھ دوسرے لوگ ہوں ، اُن پر ظاہر نہیں فرماتا ( یعنی جو کچھ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دِکھائی اور سنائی دیتا ہے وہ اَوروں کو دِکھتا ہے نہ سنائی دیتا ہے ) ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگاہ غیبی چیزیں دیکھتی ہے اور حضور کے کان غیبی آوازیں سنتے ہیں ،
جس نگاہ سےﷲتعالیٰ ہی نہ چھپا ، اُس سے اور کیا چیز چھپے گی :
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا …… جب نہ خدا ہی چھپا تم پر کروروں درود
’’مَا لَاتَرَوْنَ‘‘ میںمَاعام ہے ، ہر غیبی چیز حضور پر ظاہر ہے ۔ ‘‘ ( )
¥حضور نبی کریم بے مثل وبے مثال ہیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک سے واضح ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّنے بہت وسعتیں اورعظمتیں عطا فرمائی ہیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو ان تمام معاملات سے بھی آگاہ فرمایا ہے جو دیگر لوگوں سے پوشیدہ ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہ بھی دیکھ لیتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے ، اور آپ وہ بھی سن لیتے ہیں جو ہم نہیں سن سکتے ۔ تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فقط دیکھنے اور سننے سے متعلق پانچ پانچ خصوصیات پیش خدمت ہیں :
¥دیکھنے کی پانچ خصوصیات :( 1 ) ’’پوری زمین آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیش نظر ہے ، نیز دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اور قیامت تک جو کچھ ہوتا رہے گا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہتھیلی کی مثل ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔ ‘‘ ( ) ( 2 ) ’’حوض کوثر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیش نظر ہے ۔ ‘‘ ( ) ( 3 ) ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کی تاریکی میں بھی ویسے ہی دیکھتے ہیں جس طرح دن کی روشنی میں دیکھتے تھے ۔ ‘‘ ( ) ( 4 ) ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآگے اور پیچھے دونوں طرف سے دیکھتے ہیں ۔ ‘‘ ( ) ( 5 ) ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنگ بدر سے قبل ہی اس میں مرنے والے کفار کی جگہ کو ملاحظہ فرمالیا اور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو بتا بھی دیا کہ
فلاں جگہ فلاں کافر مر کرگرے گا ۔ ‘‘ ( )
¥سننے کی پانچ خصوصیات :( 1 ) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو ایسی قوت سماعت عطا فرمائی ہے کہ آپ قبروں کے عذاب کی آواز بھی سن لیتے ہیں ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت میں سیدنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قدموں کی آہٹ کو سن لیا ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت میں حضرت سیدنا حارثہ بن نعمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی قراءت کو سنا ۔ ‘‘ ( ) (4 ) ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آسمان کے دروازہ کھلنے کی آواز کو سنا ۔ ‘‘ ( ) (5 ) ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ستر ( 70 ) سال قبل جہنم میں گرائے جانے والے پتھر کی آواز کو سن لیا ۔ ‘‘ ( )
¥آسمان کا چرچرانا :مذکورہ حدیث پاک میں آسمان کے چرچرانے کا ذکر ہے ۔عَلَّامَہ شَیْخ اِبْنِ عَرَبِی مَالْکِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اَطِیْط“اونٹ کے پالان کی چرچراہٹ کو کہتے ہیں ، جبکہ اس پر وزن زیادہ ڈال دیا جائے تو وہ چر چراتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پر سجدہ ، رکوع اور ذکر کرنے والے ملائکہ کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ آسمان چر چراتا ہے ۔ اس حدیث میں صرف سجدہ کرنے والے ملائکہ کا ذکر ہے دوسرے ملائکہ کا دوسری روایات میں ذکر ہے ۔ ‘‘ ( ) مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’اَطِیْطکے معنی ٭چرچرانا بھی ہے اور ٭رونا بھی اور ٭مطلقًا آواز بھی ۔ یہاں تینوں معنیٰ بن سکتے ہیں : فرشتوں کے بوجھ سے چرچرانا جیسے اونٹ کا بھرا ہوا پالان بوجھ سے چرچر کرتا ہے یا خوفِ الٰہی میں روتا ہے فرشتوں کی تسبیح و تہلیل سن کریا ( آسمان ) خوداللہکا ذکر ، اس کی تسبیح و تہلیل کرتا ہے
فرشتوں کے ساتھ ۔ غرض کہ آسمان آواز ضرور کررہا ہے اس لیے اس کے لیے سننا فرمایا گیا کہ میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ، آسمان کی یہ آواز میں سن رہا ہوں ۔ اس ( حدیث ) سے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے تحمل و برداشت کا پتہ لگتا ہے کہ حضور یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے پھر بھی دنیا و دین دونوں سنبھالے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥خوف اوراُ مید دونوں ضروری ہیں :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہوا کہ ’’جو میں جانتا ہوں اگر تم بھی جانتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ اتنا خوف نہ کرے کہ ناامیدی اور مایوسی تک پہنچ جائے بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے امید بھی رکھے کہ اس امید پر نیک اعمال کرتا رہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف بھی رکھے کہ اس خوف کے سبب بُرے اعمال سے اجتناب کرتا رہے تو کبھی وہ مَظْہَرِ جمال ہوگا ( کہ رحمت الٰہی سے امید کے سبب نیک اعمال میں مشغول ہے ) اور کبھی مَظْہَرِ جلال ہوگا ( کہ خوف خدا کے سبب بُرائیوں سے مجتنب ہے ) ۔ ‘‘ ( )
¥جنت اور جہنم میں جانے والا ایک شخص :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کامل مؤمن وہی ہے جس کی ذات رحمت خداوندی اور خوف خداوندی دونوں کا مجموعہ ہو ، ہمارے اَسلاف اور بزرگان دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنبھی جہاں رحمت اِلٰہی پرنظر رکھتے تھے وہیں خوفِ خدا میں گریہ وزاری کرنا بھی ان کے معمولات میں شامل تھا ، نہ تو وہ امید کے سبب خوف کو ختم کرتے اور نہ ہی خوف کے سبب نااُمیدی کو اپنے دل میں جگہ دیتے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ’’تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں سوائے ایک شخص کے ۔ ‘‘ تو میں خوفِ خدا کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں اور اگر یہ ندا کی جائے کہ’’روئے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سوائے ایک شخص کے ۔ ‘‘ تو میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ
کی رحمت سے امید کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥مددمانگتے ہوئے راستوں پر نکل جانا :مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا : ”تَجْاَرُوْنَ“اس لفظ کی شارحین نے مختلف شرح کی ہے ۔ چنانچہ علامہ ابنِ عربی مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی تم چیختے ہوئے راستوں کی طرف نکل جاتے ۔ مطلب یہ ہے کہ جس پر کوئی مصیبت آتی ہے وہ مدد ڈھونڈنے کے لیے کسی راستے کی طرف بھاگتا ہے ۔ ‘‘ ( ) علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’تماللہتعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے گھروں سے صحراؤں کی طرف نکل کر بھاگو گے کیونکہ ایک خوفزدہ انسان کی یہی حالت ہوتی ہے کہ اُس پر اس کا گھر تنگ ہوجاتا ہے اور وہ گھر سے نکل کر کھلی فضا میں بھاگتا ہے ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’تم خوف و ڈر کی وجہ سے آبادیوں میں رہنا ، آرام کرنا بھول جاتے ، جنگلوں میں چیختے روتے پھرتے ، منزلیں بہت بھاری ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥خوفِ خدا سے جان نکل گئی :ہمارے اَسلاف اور بزرگانِ دِین پر ہر وقت خوفِ خدا غالب رہتا تھا کتابوں میں کثیر واقعات ملتے ہیں کہ وہ نفوسِ قدسیہ ہر وقت خوفِ خدا سے کانپتے لرزتے رہتے تھے ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 160 صفحات پر مشتمل کتاب ” خوفِ خدا “کے صفحہ نمبر 77 پر ہے : ” حضرت زُرَارہ بن اوفیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنہایت ہی عابد و زاہد اور خوفِ الٰہی میں ڈوبے ہوئے عالم باعمل تھے ۔ تلاوتِ قرآن کے وقت وعید وعذاب کی آیات پڑھ کر لَرزہ براَندام بلکہ کبھی کبھی خوفِ خدا سے بے ہوش ہوجاتے تھے ۔ ایک دن فجر کی نماز میں جیسے ہی آپ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی :
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸)فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ(۹)(پ: ۲۹ ،مدثر: ۸ ، ۹ )ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب صور پھنکا جائے گا تو وہ دن کرّا دن ہے ۔
تو نماز کی حالت میں ہی آپ پر خوفِ الٰہی کا اس قدر غلبہ ہوا کہ لرزتے کانپتے ہوئے زمین پر گر پڑے اور آپ کی رُوح پرواز کر گئی ۔ ‘‘
مرے اشک بہتے رہیں کاش ہردم ……… ترے خوف سے یا خدا یاالٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھر تھر رہوں کانپتا یاالٰہیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’مدینہ منورہ ‘‘ کے 10حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 10مدنی پھول
(1)فرشتےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نورانی مخلوق اورمعصوم ہیں ، نیز فرشتے ہروقتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں مصروف ہیں ۔
(2) آسمان پر سجدہ کرنے والے فرشتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کے بوجھ سے آسمان چرچراتا ہے ۔
(3) معصوم فرشتے بھیاللہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے ڈرتے ہیں اور خوف کی وجہ سے سر بسجود ہیں تو ہم جیسے گناہ گاراللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے کے زیادہ حقدار ہیں ۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے مثل وبے مثال ہیں ۔
(5) آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجہاں دیگر فضائل وکمالات میں جدا ہیں وہیں کمالاتِ حسیہ میں بھی پوری مخلوق سے جدا ہیں ۔
(6) دنیا میں جو کچھ ہورہاہے اورقیامت تک جو کچھ ہوتا رہے گا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے ہتھیلی کی مثل ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔
(7) آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نظر میں ایسی قوت ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے جنت ودوزخ کے
معاملات کو بھی ملاحظہ فرمالیتے ہیں ۔
(8) آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر غیبی آواز سنتے اور غیبی چیزوں کو ملاحظہ فرماتے ہیں جنہیں ہم دیکھ اور سن نہیں سکتے ۔(9) ∞بندے کو چاہیے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت پر بھی نظر رکھے اور نیک اعمال میں مشغول رہے اور خوفِ خدا بھی اپنے دل میں پیدا کرے تاکہ گناہوں سے بچتا رہے ۔(10) ∞ایمانِ کامل یہ ہے کہ اُمید اور خوف دونوں ہوں ، ہمارے اَسلاف اور بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنبھی جہاں رحمتِ اِلٰہی پر نظر رکھتے تھے وہیں خوف کے سبب گریہ وزاری بھی کرتے رہتے تھے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی پکی محبت نصیب فرمائے ، گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 406