Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 404

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ سَمِعَ وَجْبَةً فَقَالَ :

هَلْ تَدْرُوْنَ مَا هٰذَا؟ قُلْنَا : اَللهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ ، قَالَ : هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا فَسَمِعْتُمْ وَجْبَتَھَا. ( )

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ سمع وجبة فقال :

هل تدرون ما هذا؟ قلنا : الله ورسوله اعلم ، قال : هذا حجر رمي به في النار منذ سبعين خريفا ، فهو يهوي في النار الآن حتى انتهى إلى قعرها فسمعتم وجبتھا. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہمرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے کہ اچانک کسی چیز کے گرنے کی زور دار آواز آئی ۔ رسول پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” کیا تمہیں معلوم ہے یہ کس چیز کی آوازتھی؟“ ہم نے عرض کی :اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں ۔ ارشاد فرمایا : ” یہ ایک پتھر تھا جسے ستر ( 70 ) سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اوروہ اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے ۔ پس تم نے اسی کے گرنے کی آواز سنی ہے ۔ “

شرح حدیث

حضورعَلَیْہِ السَّلَامجانتے ہیں :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے ستر 70سال قبل جہنم میں پھینکے جانے والے پتھر کی آواز سنی اور پھر سرکار دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس پتھر کی وضاحت فرمائی ۔ اس مکمل مضمون سے علم غیب مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حوالے سے درج ذیل چند اہم مدنی پھول حاصل ہوئے :
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے غیب کا علم ہے ۔
(2) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومَاکَانَ وَمَا یَکُوْنکا علم ہے ۔ یعنی جو معاملات ماضی میں ہوچکے ہیں ان کا بھی علم ہے اور جو معاملات آئندہ مستقبل میں ہوں گے ان کا بھی علم ہے ۔
(3) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ماضی ومستقبل کے نہ صرف اجمالی معاملات کا علم ہے بلکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان تمام معاملات کی تفصیلات سے بھی آگاہ ہیں ۔
(4) حضور نبی رحمت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ صرف اپنی حیاتِ طیبہ کے تمام معاملات سے آگاہ ہیں بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے اپنی ولادتِ باسعادت سے پہلے کے واقعات سے بھی آگاہ ہیں ، جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جہنم میں پتھر ستر سال پہلے پھینکا گیا تھا یقیناًآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس وقت دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے ، مگر آپ کو اس واقعے کا بھی علم ہے ۔
(5) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے علم غیب ہے اور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عطا سے غیب کا علم ہے ۔
(6) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یہ عرض کرنا کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا بھی یہ عقیدہ تھا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے غیب جانتے ہیں ۔
(7) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام جسمانی اوصاف میں بھی پوری مخلوق سے ممتاز ہیں ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہ بھی دیکھ لیتے ہیں جو عام لوگ نہیں دیکھ سکتے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے وہ بھی سن لیتے ہیں جو عام مخلوق نہیں سن سکتی ، یہی وجہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جہنم میں پتھر گرنے والی آواز کو سن لیا نیز آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلے سے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بھی اس آواز کو سنا ۔
(8) یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت ودوزخ اُخروی اور پوشیدہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن
اللہ عَزَّ وَجَلَّجسے چاہتا ہے جنت ودوزخ کے اُن مختلف پوشیدہ معاملات سے بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلے سے آگاہ فرمادیتاہے ۔
جو ہو چکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں ……… تری عطا سے خدایا حضور جانتے ہیں
70سال پہلے پھینکے جانے کی وضاحت :اس حدیث سے جہنم کی گہرائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہنم کس قدر گہری ہے کہ اس میں ایک پتھر پھینکا گیا تو وہ ستر سال تک اس میں گرتا ہی رہا اور یہ ستر سال کا عرصہ جو حدیث میں بتایا گیا ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ عرصہ لگا ہو تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ جہنم کتنی گہری ہے اور ہم جہنم سے ڈریں اور جہنم میں لے جانے والے اعمال سے بچیں ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ستر 70سال کو حقیقت پر محمول کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کثرت

سے کنایہ ہو یعنی یہ پتھر بہت سالوں پہلے پھینکا گیا تھا ۔ ‘‘ ( )
¥
آسمان سے زمین کی مسافت پانچ سو سال :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جہنم کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آسمان سے زمین پر کوئی چیز پھینکی جائے تو وہ رات آنے سے پہلے زمین پر پہنچ جاتی ہے حالانکہ زمین وآسمان کی درمیانی راہ پانچ سو 500سال کی مسافت ہے ۔ جیسا کہ بہارِشریعت میں ہے : ’’ دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ۔ حدیث میں ہے کہ اگر پتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اُس میں پھینکی جائے تو ستّر 70برس میں بھی تہہ تک نہ پہنچے گی اور اگر انسان کے سر برابر سیسے کا گولا آسمان سے زمین کو پھینکا جائے تو رات آنے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا ، حالانکہ یہ پانسو500 برس کی راہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
جنت کا دروازہ کھلتا ہے یا دوزخ کا؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جہنماللہ عَزَّ وَجَلَّکے دردناک عذاب والی جگہ ہے ، جہنم کے عذاب کو سہنے کی کسی میں سکت نہیں ، ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے ڈرتے رہنا چاہیے ، جہنم کے عذاب سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگنی چاہیے ۔ ہمارے بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنبھی جہنم کے خوف سے ہمیشہ ڈرتے رہتے اور خوفِ خدا کے سبب لرزتے رہتے تھے ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنامسروق الاجوع تابعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاتنی لمبی نماز ادا فرماتے کہ ان کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے اور یہ دیکھ کر ان کے گھر والوں کو ان پر ترس آتا اور وہ رونے لگتے ۔ ایک دن ان کی والدہ نے کہا : ’’میرے بیٹے ! تو اپنے کمزور جسم کا خیال کیوں نہیں کرتا؟ اس پر اتنی مشقت کیوں لادتا ہے ؟ تجھے اس پر ذرا رحم نہیں آتا ؟ کچھ دیر کے لئے آرام کر لیا کرو ، کیااللہتعالیٰ نے جہنم کی آگ صرف تیرے لئے پیدا کی ہے کہ تیرے علاوہ کوئی اس میں پھینکا نہیں جائے گا ؟ ‘‘ انہوں نے جواباً عرض کی : ’’امی جان ! انسان کو ہر حال میں مجاہدہ کرنا چاہیے کیونکہ قیامت کے دن دو ہی باتیں ہوں گی یا تو مجھے بخش دیا جائے گا یا پھر میری پکڑ ہوجائے گی ، اگر میری مغفرت ہوگئی تو یہ محضاللہتعالیٰ کا فضل اور اس

کی رحمت ہوگی اور اگر میں پکڑا گیا تو یہ اس کا عدل ہو گا ، لہذا اب میں آرام نہیں کروں گا اور اپنے نفس کو مارنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا ۔ ‘‘ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے گریہ وزاری شروع کر دی ۔ لوگوں نے پوچھا : ’’آپ نے تو ساری عمر مجاہدوں اور ریاضتوں میں گزاری ہے ، اب کیوں رو رہے ہیں؟ ‘‘ تو آپ نے فرمایا : ’’مجھ سے زیادہ کس کو رونا چاہيے کہ میں ستر ( 70 ) سال تک جس دروازے کو کھٹکھٹاتا رہا ، آج اسے کھول دیا جائے گا لیکن یہ نہیں معلوم کہ جنت کا دروازہ کھلتا ہے یا دوزخ کا ۔ ۔ ۔ ؟کاش ! میری ماں نے مجھے جنم نہ دیا ہوتا اور مجھے یہ مشقت نہ دیکھنا پڑتی ۔ ‘‘ ( )
کلیجہ منہ کو آتا ہے میرا دل تھرتھراتا ہے ……… کرم یارب اندھیرا قبر کا جب یاد آتا ہے
الٰہی واسطہ پیارے کا میری مغفرت فرما ……… عذاب نار سے مجھ کو خدایا خوف آتا ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’یاالٰہی بخش دے ‘‘ کے 11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 11مدنی پھول
(1)
جہنم اور اس کے مختلف عذابات سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگنی چاہیے ۔
(2) جہنم اتنی گہری ہے کہ اگرپتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکی جائے تو ستر سال میں بھی تہہ تک نہ پہنچے گی ۔
(3) آسمان سے زمین تک کی مسافت پانچ سو سال ہے لیکن آسمان سے کوئی چیز صبح پھینکی جائے تو رات سے پہلے زمین پر پہنچ جاتی ہے تو پھر جہنم کی گہرائی کا عالم کیا ہوگاکہ جس میں ستر سال میں کوئی چیز اس کی تہہ تک نہیں پہنچتی ۔
(4) جہنم جتنی گہری ہے اس کے عذابات بھی اتنے ہی سخت ہیں ، سمجھدار وہی ہے جو جہنم کے عذابات سے پناہ مانگتا رہے ، اپنے دل میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف پیدا کرے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال ترک

کرکے جنت میں لے جانے والے اعمال بجا لائے ۔
(5) حضور نبی کریم ، رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ۔
(6) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عطا سے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی غیب کا علم رکھتے ہیں ۔
(7) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی ولادت سے پہلے کے واقعات سے بھی باخبر ہیں جیسا کہ مذکور حدیث پاک میں آپ نے ستر سال پہلے جہنم میں پھینکے جانے والے پتھرکی خبردی ۔
(8) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا بھی یہ عقیدہ تھا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو غیب کا علم عطا فرمایا ہے ۔
(9) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجنت ودوزخ کے معاملات سے تفصیلاً آگاہ ہیں ۔
(10) جنت ودوزخ غیب سے ہیں اور ان کے تمام معاملات انسانوں سے پوشیدہ ہیں لیکن
اللہ عَزَّ وَجَلَّجسے چاہے دنیا میں بھی ان کے پوشیدہ معاملات بطور عبرت دکھا دیتا ہے ۔
(11) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسی قوی قوت سماعت عطا فرمائی ہے کہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے جنت وجہنم وغیرہ کی آوازیں بھی سن سکتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں جہنم اور اس کے تمام عذابات سے محفوظ فرمائے ، بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 404