Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 398

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اِنَّ اَهْوَنَ اَهْلِ النَّارِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَرَجُلٌ یُوْضَعُ فِی اَخْمَصِ قَدَمَیْہِ جَمْرَتَان يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ مَا يَرَى اَنَّ اَحَدًا

اَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَاِنَّهُ لَاَهْوَنُهُمْ عَذَابًا. ( )

عن النعمان بن بشير رضی اللہ عنہما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ان اهون اهل النار عذابا یوم القیامۃ لرجل یوضع فی اخمص قدمیہ جمرتان يغلي منهما دماغه ما يرى ان احدا

اشد منه عذابا وانه لاهونهم عذابا. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک قیامت کے دن جہنمیوں میں سے جس کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا ، وہ یہ ہوگا کہ اس کے تلووں کے نیچے آگ کے دھکتے ہوئے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا اور وہ یہ گمان کرے گا کہ اُ س سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہورہا ، حالانکہ اُسے سب سے ہلکا عذاب ہوگا ۔ “

شرح حدیث

جہنمی کی کیفیت کی وجہ :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یعنی جہنم میں جس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا وہ یہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں دیا جارہا وہ ایسا اس لیے سمجھے گا کیونکہ وہ تنہا ہوگا اور اسے دوسرے جہنمیوں کے حال کی اطلاع نہ ہوگی ۔ اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ جہنمیوں کو الگ الگ قسم کا عذاب ہوگا ۔ ‘‘ ( )
¥
جہنم کے مختلف طبقا ت کا عذاب :مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’دوزخ کے مختلف طبقے ہیں ، ہر طبقے کا عذاب مختلف ہے اونچے طبقے کا عذاب نیچے سے ہلکا ہوگا ، اونچے طبقے کے دوزخیوں میں بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کا ذکر یہاں ہے ۔ خیال رہے کہ اگر کالا دانہ پاؤ ں کی انگلی میں نکل آوے تو اس سے سر چکراتا ہے ۔ مریض کہتا ہے : میری کھوپڑی پھٹی جارہی ہے اس کا نمونہ دنیا میں ہی قائم ہے ۔ لہٰذا اس حدیث پر اعتراض نہ کرو کہ سرکا پاؤں سے کیا تعلق ہے ۔ یعنی اس کے صرف پاؤ ں میں آگ ہوگی باقی جسم میں نہیں ۔ ‘‘ ( )

¥
جہنم کے مختلف عذاب :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 207 صفحات پر مشتمل کتاب ” جہنم کے خطرات“صفحہ نمبر ۱۶ پر ہے : ’’جہنم میں دوزخیوں کو طرح طرح کے خوفناک اور بھیانک عذا ب میں مبتلا کیا جائے گا ۔ اُن عذابوں کی قسموں اور اُن کی کیفیتوں کو خداو ند ِ علامُ الغیوب کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ جہنم میں دی جانے والی سزاؤں کو دنیا میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ عذاب کی چند صورتیں ہیں جن کا حدیثوں میں تذکرہ آیا ہے اُن میں سے بعض یہ ہیں : ( 1 ) کچھ جہنمیوں کو اِس طرح کا عذاب دیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اُن کو لٹا کر اُن کے سروں پر ایک پتھر اِس زور سے مارے گا کہ اُن کا سر کچل جائے گا اور وہ پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا جائے گا ۔ پھر وہ فرشتہ جب تک اُس پتھر کو اُٹھا کر لائے گا ، اُس کے سر کا زخم اچھا ہو چکا ہو گا پھر وہ پتھر مارے گا تو سر کچل جائے گا اور پتھر پھر لڑھک کر دور چلا جائے گا ۔ پھر فرشتہ پتھر اُٹھا کر لائے گا اور پھروہ پتھر مار کراُس کا سر کچل دے گا ۔ اِسی طرح لگا تار یہی عذاب ہوتا رہے گا ۔ ( ) (2 ) کچھ دوزخیوں کو خون کے دریا میں ڈال دیا جائے گاتو وہ تیرتے ہوئے کنارہ کی طرف آئیں گے تو ایک فرشتہ ایک پتھر کی چٹان اُن کے منہ پر اِس زور سے مارے گا کہ وہ پھر بیچ دریا میں پلٹ کر چلے جائیں گے ۔ بار بار یہی عذاب اُن کو دیا جاتا رہے گا ۔ یہ سود خوروں کا گروہ ہو گا ۔ ( ) ( 3 ) جہنم میں آگ کا ایک پہاڑ ہے جس کی بلندی ستر برس کا راستہ ہے ، اس پہاڑ کا نام ’’صعود ‘‘ ہے ۔ دوزخیوں کو اس کے اُوپر چڑھایا جائے گا توستر برس میں وہ اُس کی بلندی پر پہنچیں گے پھراُن کو اُوپر سے گرایا جائے گا تو ستر برس میں نیچے پہنچیں گے ۔ اِسی طرح ہمیشہ عذاب دیا جاتا رہے گا ۔ ( )مدنی گلدستہ
امام’’حسن ‘‘ کے 3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول

(1) جہنمیوں کو مختلف قسم کا عذاب ہوگا ، کسی کو کم کسی کو زیادہ ۔
(2) جہنم کے تمام عذابات سے رب تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ جہنم کا سب سے ہلکا عذاب بھی اتنا سخت ہے کہ اس کی وجہ سے دماغ ہانڈی کی طرح ابلنے لگے گا تو پھر سخت عذاب کا کیا عالم ہوگا؟
(3) دوزخ میں جو جہنمی جتنا نیچے ہوگا اس کا عذاب اتنا ہی سخت ہوگا ، کیونکہ دوزخ کے اُونچے طبقے کا عذاب نیچے کے عذاب سے ہلکا ہوگا ، نچلے طبقے والے کا عذاب اوپر والے سے سخت ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں جہنم کے ہر طرح کے عذاب سے محفوظ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 398