Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 410

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَافَ اَدْلَجَ وَمَنْ اَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ اَلَا اِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ اَلَا اِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ. ( )

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ ، يقول : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من خاف ادلج ومن ادلج بلغ المنزل الا ان سلعة الله غالية الا ان سلعة الله الجنة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جواللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتاہے وہ اُس کی اطاعت میں مستعد ہوجاتا ہے اور جو اُس کی اطاعت میں مستعد ہوجاتا ہے وہ منزل کو پالیتا ہے ۔ خبردار !اللہ عَزَّ وَجَلَّکا سودا گراں ہے ، خبردار !اللہ عَزَّ وَجَلَّکا سودا جنت ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

اے راہِ آخرت کے مسافر ! ہوشیار :حدیثِ مذکور میں رسولِ اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک حکیمانہ نصیحت ارشاد فرمائی ہے کہ جس شخص کو طویل سفر درپیش ہو اور راستے میں گھنا جنگل ہو اور اسے معلوم ہو کہ اس جنگل میں دشمن ہیں جو لوٹ مار کرتے اور ہلاک کردیتے ہیں تو اگر وہ سفر جاری رکھے اور ہوشیار رہے تو وہ دشمنوں سے اپنے آپ کو بچالیتا اور منزل کو پالیتا ہے اور جو غفلت کی نیند سوجائے تو دشمن اسے آلیتا ہے اور اس کا مال لوٹ لیتا ہے تو عقلمند کو چاہیے کہ وہ رات میں بھی سفر جاری رکھے اور دشمن اور اس کے چیلوں سے ہوشیار رہے ۔ چنانچہاِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ مثال حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آخرت کا سفر طے کرنے والے مسافر کے لیے بیان فرمائی ہے ۔ بے شک شیطان راستے میں گھات لگائے بیٹھا ہے ، نفس اور اُس کی باطل آرزوئیں شیطان کی مددگار ہیں ، پس اگر

انسان جاگتا رہے ، سفر کرتا رہے اور اِخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرتا رہے تو وہ شیطان ، اس کے مکروفریب اور اُس کے مددگاروں سے بچ جاتا ہے ۔ ‘‘ ( )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی جو دشمن کے شب خون مارنے کا اندیشہ کرتا ہے وہ جنگل میں رات غفلت سے نہیں گزارتا ، ورنہ مارا جاتا ہے ، لُٹ جاتا ہے ۔ شیطان شب خون مارنے والا دشمن ہے ، ہم دنیا میں راہِ آخرت طے کرنے والے مسافر ، ایمان کی دولت ہمارے پاس ہے ، یہاں غفلت نہ کرو ورنہ لُٹ جاؤ گے ۔ ‘‘ ( )
¥
آخرت کے لیے تدبیر :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں ہمیں بتادیا گیا کہ شیطان ہمارے راستے میں گھات لگائے بیٹھا ہے اور نفس اس کا مددگار و معین ہے اور ہماری منزل آخرت کا حصول ہے ۔ لیکن دشمن کا علم ہوجانا کافی نہیں بلکہ اس سے بچنے کے لیے ہمیں تدبیر کرنی پڑے گی ، اخروی نعمتوں کا حصول اتنا آسان نہیں اس کے لیے فکر آخرت کرنی پڑتی ہے ۔ حدیث میں بھی ہماری اسی طرف رہنمائی کی گئی ۔ چنانچہاِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’پھر راہِ آخرت کے مسافر کے لیے یہ راہنمائی کی گئی کہ راہِ آخرت پر چلنا بہت دشوار ہے اورآخرت میں کامیابی کا حصول بہت مشکل کام ہے یہ تھوڑی سی کوشش سے حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے خوب کوشش کرنا پڑتی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
نفس وشیطان کی مکاریاں اور اُن کا علاج :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! نفس وشیطان بہت ہی مکار ہیں ، یہ اپنی مکاریوں کے ذریعے ہمیں گناہوں کی دلدل میں دھنسا کر ، ہم سے نیک اعمال چھڑوا کر ہماری آخرت کو تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہیں ، نفس وشیطان کی مکاریوں سے بچنے کے لیے ان کی مکاریوں کو جاننا بہت ضروری ہے ۔ نفس وشیطان کی 10مکاریوں کی نشاندہی اور ان کا علاج بھی پیش خدمت ہے :

( 1 ) علم دِین سے دور کردینا : نفس وشیطان کا یک سب سے بڑا وار یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بندے کو علم دِین سے دور کردیتا ہے تاکہ بندہ نہ تو گناہوں کی مَعرفت حاصل کرکے ان سے بچنے کی کوشش کرے اور نہ ہی نیکیوں کی معلومات حاصل کرکے ان کو بجالانے کی سعادت حاصل کرسکے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ حصولِ علم میں مَصروف ہوجائے ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اور دیگر روز مرہ کے مسائل کو سیکھنے کی کوشش کرے ، ہر ہر معاملے میں شرعی راہنمائی لینے کا مدنی ذہن بنائے ۔
( 2 ) بُری صحبت میں مبتلا کردینا : انسان کی تباہی وبربادی کی پہلی سیڑھی بُری صحبت میں مبتلا ہونا ہے ۔ کیونکہ صحبت اثر رکھتی ہے ، بندہ اچھوں کی صحبت میں رہ کر اچھا بن جاتا ہے اور بُروں کی صحبت میں رہ کر بُرا ۔ نفس وشیطان کا یہ بہت بڑا وار ہے کہ وہ بُرے دوستوں کی صحبت میں مبتلا کردیتا ہے جس کے سبب بندے کی دنیا وآخرت دونوں تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اُن تمام لوگوں سے بچے اور دُور ہے جو اسے گناہوں کی طرف مائل کریں ، گناہوں کی طرف بلائیں ، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے ۔
( 3 ) خواہشات میں مبتلا کردینا : جب بندہ جائز وناجائز کی پرواہ کیے بغیر خواہشات کی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر اسے حلال وحرام کی تمیز نہیں رہتی ، بس پھر اسے یہی دھن لگی رہتی ہے کہ بس کسی طرح میری فلاں خواہش پوری ہوجائے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو پیش نظر رکھے کہ مجھے دنیا میں عیش عشرت کے لیے نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ، لہذا مجھے اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہے اور فقط جائز خواہشات کو دیکھنا ہے ۔ ناجائز خواہشات سے دور رہنا ہے ۔
( 4 ) لمبی لمبی امیدوں میں لگادینا : جب بندہ لمبی لمبی امیدیں باندھنا شروع کردیتا ہے تو وہ آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور یہی نفس وشیطان کا مقصود ہے کہ بندے کو کسی طرح اس کی آخرت سے غافل کردیا جائے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ لمبی لمبی امیدیں لگانے کی بجائے جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کی اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیاری میں مشغول ہوجائے ۔
( 5 ) محاسبہ نہ کرنے دینا : پوچھ گچھ اور حساب کتاب ایک ایسا اصول ہے جس کے ذریعے دنیا کے بڑے بڑے معاملات بالکل درست طریقے سے چلتے ہیں ، جب بندہ اپنا محاسبہ کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اسے اس بات کا

احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کی زندگی کے قیمتی اورانمول لمحات نیکیوں میں صَرف ہونے کی بجائے گناہوں میں ضائع ہورہے ہیں ۔ لہذا بندے کو چاہیے کہ روزانہ رات کو سونے سے قبل اپنے پورے دن کا محاسبہ کرے کہ آج میں نے کون کون سے نیک کام سرانجام دیے ہیں ، اگر نہیں دیے تو اس کی وجوہات پر غور وفکر کرے ۔
( 6 ) اچھے لوگوں کی صحبت سے دُور کردینا : جب بندے کو نفس وشیطان اچھے لوگوں کی صحبت سے دور کردیتے ہیں تو بندہ خو دبخود گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے ، بُرے لوگوں کی صحبت سے اپنے آپ کو دُور رکھے ۔
( 7 ) گناہوں کی محبت پیدا کردینا : نفس وشیطان کا بندے کی آخرت تباہ کرنے کا ایک خطرناک وار یہ بھی ہے وہ اس کے دل سے گناہوں کی نفرت کو ختم کردیتے ہیں ، یقیناً یہ بہت بڑی بدنصیبی ہے کہ بندہ گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھے اور ان گناہوں میں دھنستا ہی چلا جائے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے دل میں خوفِ خدا پیدا کرے ، قبر کے عذابات کو یاد کرے ، قیامت کی ہولناکیوں کو پیش نظر رکھے ، یہ مدنی ذہن بنائے کہ دنیا میں چھوٹی سی تکلیف برداشت نہیں کرپاتا تو کل بروز قیامت گناہوں کے سبب ملنے والے جہنم کے عذاب کو کس طرح برداشت کرپاؤں گا؟
( 8 ) نیکیوں سے متنفر کردینا : جب بندے کے دل میں گناہوں کی محبت پیدا ہوجائے تو یقینا وہ نیکیوں سے نفرت کرنے لگتا ہے کیونکہ نیکی اور گناہ ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ۔ نفس وشیطان نیکیوں کے بارے میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرکے بندے کے دل سے نیکیوں کی محبت کو ختم کرکے نفرت کو پیدا کردیتے ہیں ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ نیک لوگوں کی صحبت کو اختیار کرے کیونکہ جیسی صحبت ویسا اثر ، جب نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا تو اسے نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت ہوجائے گی ۔
( 9 ) ناشکری کی عادت ڈال دینا : ناشکری ایک ایسی وبا ہے جو کئی بیماریوں کی جڑ ہے ، جب بندہ
اللہ عَزَّوَجَلَّکی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرتا ہے تو اَوّلاً اس سے ان نعمتوں کو چھین لیا جاتا ہے اور پھر بندہ کئی باطنی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ نعمتوں کے زوال کو پیش نظر رکھے کہ اگر میں نے ان کا شکر ادا نہ کیا تو یہ نعمتیں ہوسکتاہے مجھ سے چھین لی جائیں ، نیز جن لوگوں کے پاس یہ

نعمتیں نہیں ہیں اُن کے اَحوال پر غور وفکر کرے ، اپنے دل میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف پیدا کرے ۔
( 10 ) غفلت میں مبتلا کردینا : چور کا ایک بہت بڑا ہتھیار غفلت بھی ہے یعنی جب مالک اپنے مال سے غافل ہوجاتا ہے تو چور اس کے مال کو چرا لیتا ہے ، اسی طرح نفس وشیطان بھی بندے کو غافل کردیتے ہیں اور جیسے ہی وہ غافل ہوتا ہے تو اس کی سب نیکیوں اور سب سے قیمتی دولت اِیمان پر ڈاکہ ڈال دیتے ہیں ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو غافل لوگوں سے دُور رکھے ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر میں مشغول رکھے کہ جو بندہذِکرُاللہسے غافل ہوتا ہے تو وہ غافل کردیا جاتا ہے ، نیزاللہوالوں کی صحبت اختیار کرے کہاللہوالے بھیاللہسے ملا دیتے ہیں ، اور غافل دِلوں کو جگا دیتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
¥
جنت بہت قیمتی ہے :واضح رہے کہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے جنت بہت ہی اعلی اور قیمتی ہے اس لیے اس کی قیمت بھی بہت اعلیٰ ہے اور اس کی قیمت نیک اور خالص اعمال ہیں ۔ لہٰذا اگر جنت کو پانا ہے تو اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنا ہوں گے ۔ چنانچہ حدیث پاک میں فرمایا گیا : ” خبردار !اللہ عَزَّ وَجَلَّکا سودا گراں ہے ۔ “ یعنی اس کی قدرو منزلت بہت بلند ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکا سودا جنت ہے جو کہ بلند ہے اور باقی رہنے والی ہے اور اُس کی قیمت خالص اعمال ہیں ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا :وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا(۴۶)(پ۱۵ ،الکھف: ۴۶ )ترجمۂ کنزالایمان: اور باقی رہنے والی اچھی باتیں اُن کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتراور وہ امید میں سب سے بھلی ۔ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے :اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ(پ۱۱ ،التوبۃ: ۱۱۱ )ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہنے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے ۔

جنت سودا ہے ، ربّ تعالیٰ فروخت فرمانے والا ہے ، ہم خریدار ہیں ، ہمارے مال و جان اس سودے کی قیمت ہے ، اس کا عکس یہ ہے کہ
اللہ تَعَالٰیخریدار ہے ، ہمارے جان و مال سودے ہیں ، جنت اس کی قیمت ہے ، اگر جان دے کر بھی یہ سودا مل جاوے تو سستا ہے مگر ہمارا حال یہ ہے :وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا………ہم مفلس کیا مول چکائیں ہاتھ ہی اپنا خالی ہےاللہتعالیٰ ہم محتاجوں کو اپنے محبوب کے نام کی خیرات دیدے فقیروں بھکاریوں سے قیمت نہیں مانگی جاتی اس پر ہر کرم کریمانہ ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
ہم سب مسافر ہیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس دنیا میں ہم سب مسافر ہیں ، اس لیے ہمیں ایک مسافر کی طرح زندگی گزارنی چاہیے ۔ مسافر اپنے مال و متاع کے بارے میں غفلت نہیں برتتا ، بلکہ ہر وقت ڈاکوؤں اور راہزنوں سے ہوشیار رہتا ہے ۔ بالکل اسی طرح ہم راہِ آخرت کے مسافر ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بس اپنی آنے والی منزل کی فکر کریں اس کے بارے میں سوچیں اور اس کی تیاری کریں اور اپنی سب سے قیمتی دولت یعنی ایمان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے بچائیں کیونکہ اگر ہم نے ذرا بھی غفلت برتی تو یہ شیطان اور اس کے چیلے ہمارا ایمان لوٹ لیں گے اور پھر ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا سوائے پچھتاوے کے ۔ کیونکہ آخرت کی منزل کو وہی پائے گا جس کے پاس ایمان ہوگا اور جنت میں بھی اسی کو داخلہ ملے گا جو صاحبِ ایمان ہوگا ۔ جسے رب تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی ۔ ہمارے اسلاف بھی ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّکو راضی کرنے میں ہی لگے رہتے تھے ۔ چنانچہ ،
¥
رب تعالٰی کو راضی کر لو !مروی ہے کہ حضرت سیدتنا رابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاکا معمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتیں : ’’اے رابعہ ! ہوسکتا ہے یہ تیری زندگی کی آخری رات ہو ، ہو سکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو چنانچہ اٹھ اور اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کر لے تاکہ

کل قیامت میں تجھے ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہمت کر ، سونا مت ، جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر ۔ ‘‘
یہ کہنے کے بعد آپ اٹھ کھڑی ہوتیں اور صبح تک نوافل ادا کرتی رہتیں ۔ جب فجر کی نماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مخاطب کر کے فرماتیں : ’’اے میرے نفس ! تجھے مبارک ہو کہ گذشتہ رات تونے بڑی مشقت اٹھائی لیکن یاد رکھ کہ یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے ۔ ‘‘ یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو جاتیں اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اُٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں : ’’رابعہ ! یہ بھی کوئی نیند ہے ، اس کا کیا لطف؟ اسے چھوڑ دو اور قبر میں مزے سے لمبی مدت کے لئے سوتی رہنا ، آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ، ہمت کرو اور اپنے رب کو راضی کر لو ۔ ‘‘ اس طرح کرتے کرتے آپ نے پچاس 50سال گزار ديے کہ آپ نہ تو کبھی بستر پر دراز ہوئیں اور نہ ہی کبھی تکیہ پر سر رکھا یہاں تک کہ آپ انتقال کر گئیں ۔ ( )
اندھیری قبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر ……… کروں گا کیا جو تو ناراض ہوگیا یارب
گناہگار ہوں میں لائق جہنم ہوں ……… کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یارب
رہائی مجھ کو ملے کاش نفس وشیطاں سے ……… ترے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یارب
میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کردے شرف عطا یارب
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’فکرآخرت ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
جسے حقیقی خوف خدا نصیب ہوجاتا ہے وہ رب تعالیٰ کی اِطاعت میں لگ جاتا ہے ۔
(2) جو شخص
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں لگ جاتا ہے وہ حقیقی طور پر کامیاب ہوجاتا ہے ۔

(3) سمجھدار وہی ہے جو اپنے سفر کو بھی جاری وساری رکھے اور اس سفر میں آنے والی تمام مشکلات ، اس راہ میں بیٹھے چوروں اور لٹیروں سے بھی ہوشیار رہے ۔
(4) نفس وشیطان بہت عیار ومکار ہیں ، ان کی عیاری ومکاری کی معلومات حاصل کرکے ان سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنی چاہیے ورنہ آخرت کے تباہ وبرباد ہونے کا شدید اندیشہ ہے ۔
(5) ایمان ہماری سب سے قیمتی شے ہے ، ہمارا حقیقی سرمایہ ہے ، شیطان ہمارا ازلی دشمن ہے ، جو ہروقت ایمان کو لوٹنے کے درپے ہے ، لہٰذا اپنے دل میں خوف خدا پیدا کیجئے ، گناہوں کو ترک کرکے نیکیوں میں مصروف ہوجائیے اور شیطان مردود سے رب تعالیٰ کی پناہ مانگئے ۔
(6) جنت رب تعالیٰ کی رضا اور اس کے فضل ورحمت سے ہی ملے گی ، اگر جنت کو پانا ہے تو اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیے اور رب تعالیٰ کی رضا کے لیے نیک اَعمال میں مصروف ہوجائیے ۔
(7) جنت بہت ہی اعلیٰ اور قیمتی ہے اس لیے اس کی قیمت بھی بہت اعلیٰ ہے اور اس کی قیمت نیک اور خالص اعمال ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قبر وآخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری مغفرت فرمائے اور ہمیں جنت الفردوس میں پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 410