Main Icon

خوفِ خدا کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 405

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَدِىِّ بْنِِ حَاتِـمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ اَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى اِلَّا مَا قَدَّمَ وَ يَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَي اِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَي اِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ. ( )

عن عدى بن حاتـم رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم : ما منكم من احد الا سيكلمه ربه ليس بينه و بينه ترجمان فينظر ايمن منه فلا يرى الا ما قدم و ينظر اشام منه فلا يري الا ما قدم وينظر بين يديه فلا يري الا النار تلقاء وجهه فاتقوا النار ولو بشق تمرة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عدی بن حاتمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ محبوب ربِّ اکبر ، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” عنقریب تم میں سے ہرایک سے اُس کا رب بلا ترجمان کلام فرمائے گا ۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اَعمال نظر آئیں گے ۔ بائیں طرف دیکھے گا تو بھی اَعمال نظر آئیں گے ۔ اپنے سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی ، لہٰذا جہنم سے بچو ! اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جہنم سے بچنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ کسی بھی طرح جہنم سے بچو ، چاہے ایک کھجور کا ٹکڑا صدقہ کر کے ۔ یعنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی نہ چھوڑو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ چھوٹی نیکی ہی ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے ۔ اس لیے ہمیں جہنم کے عذاب سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جہنم کا عذاب بے حد دردناک اور ناقابلِ برداشت ہے ۔
¥
سب کی زبان عربی ہوجائے گی :مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” عنقریب تم میں سے ہرایک سے اُس کا ربّ بلا ترجمان کلام فرمائے گا ۔ “یعنی تم لوگ قیامت میں براہِ راست بلاواسطہ اپنے رب سے کلام کروگے یہ کلام عربی زبان میں ہوگا ۔ قیامت کا سارا کاروبار بلکہ آج نامہ اعمال کی تحریر ، قبر میں منکر نکیر کے سوالات ، سب عربی زبان میں ہیں ، مرتے ہی انسان کی زبان عربی ہوجاتی ہے ۔ رب تعالیٰ کے ہاں سرکاری زبان عربی ہے ، اس لیے فرمایا کہ لوگ اپنی دنیاوی بولیاں نہ بولیں گے تاکہ ربّ کا عربی کلام انہیں سمجھانے کے لیے کوئی ترجمہ کرنے والا درمیان میں ہو ۔ ‘‘ ( )
¥
بھاگنے کے راستے ڈھونڈے گا :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں جو فرمایا آدمی دائیں بائیں دیکھے گا ۔ یہ مثال کے طور پر ہے اس لیے کہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب اچانک اس پر کوئی مصیبت آ

پڑے تو وہ مدد طلب کرنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھتا ہے ۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ وہاں سے بھاگنے کے لیے راستے ڈھونڈے گا تاکہ اس نارِ جہنم سے نجات پاسکے ۔ ‘‘ ( )
چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی نہ چھوڑو :مذکورہ حدیث پاک میں ہمیں اِس بات کا درس دیا گیا ہے کہ ہماللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈریں ، اس کے ناقابلِ برداشت عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں ، عذاب سے بچنے کے لیے نیکیاں کریں ، چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھی نہ چھوڑیں ۔ اگر آدھی کھجور ہو تو اسے بھی صدقہ کردیں کہ اگر چہ یہ معمولی نیکی ہے پر معمولی سمجھ کر اسے مت چھوڑیں بلکہ اسے صدقہ کردیں ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یعنی اس سے کھجور کا نصف حصہ یا بعض حصّہ مراد ہے ۔ ‘‘ ( ) کسی بھی نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے کرگزرنا چاہیے ہوسکتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسی کے سبب ہماری مغفرت فرمادے ۔ نیکیوں کو حقیر نہ سمجھنے سے متعلق چارفرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’ تُوہرگز کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھ یہاں تک کہ تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’اے مسلمان عورتو ! کوئی عورت بھی اپنی پڑوسن کے ہدیے کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا پایا ہی کیوں نہ ہو ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’کسی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو اگرچہ وہ تمہارا اپنے بھائی کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈالنا یا اپنے بھائی سے گفتگو کرتے ہوئے مسکراناہی کیوں نہ ہو ۔ ‘‘ ( ) (4 ) ’’کسی نیک کام کو حقیر جانتے ہوئے ہرگزنہ چھوڑو ، چاہے وہ تمہارا کسی کو رسی کا ٹکڑا تحفے میں دینا ہو اور چاہے وہ تمہارا اپنے ڈول سے پانی پینے والے کے برتن میں پانی ڈالنا ہو اور چاہے وہ تمہارا اپنے بھائی سے گرم جوشی سے ملاقات کرنا ہو اور چاہے وہ تمہارا جانوروں کو مانوس کرنا ہو اور چاہے وہ تمہارا کسی کو جوتے کا تسمہ تحفے میں دینا ہو ۔ ‘‘ ( )

¥
گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہ کریں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جس طرح کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے ویسے ہی کسی گناہ کو حقیر سمجھ کر کرنا نہیں چاہیے کیونکہ چھوٹا گناہ اس چنگاری کی طرح ہے جو بڑھتے بڑھتے پورے مکان کو جلا کر راکھ کردیتی ہے اورچھوٹی نیکی اس چھوٹے سے گھونٹ کی طرح ہے جسے پی کر کسی کی جان بچ جاتی ہے ۔ شیطانِ لعین پہلے چھوٹے گناہ کرواتا رہتا ہے ، پھر جب بندہ اس کا عادی ہوجاتا ہے تو اسے بڑے گناہوں کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے ، پھر بندہ صغیرہ گناہوں سے کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور بسا اوقات بندہ کفروشرک کے گندے گڑھے میں جاگرتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو مؤمن سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن اس کے ایمان کی دولت شیطان لوٹ کر فرار ہوچکا ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ صغیرہ گناہ بھی اِصرار کے ساتھ کبیرہ بن جاتا ہے ، نیز ہرگناہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا باعث ہے ۔ لہٰذا کسی بھی گناہ کو حقیر سمجھ کر مت کریں ہوسکتا ہے اسی حقیر گناہ کے سبب آخرت میں ہماری پکڑ ہوجائے ۔ عبرت کے لیے ایک حکایت پیش خدمت ہیں :ایک تنکے نے جنّت سے روک دیا :دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ’’ظلم کا انجام ‘‘ صفحہ11تا13پر حضرتِ علامہ عبدالوہّاب شَعرانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی کتاب’’تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرِّین‘‘ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ مشہور تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ایک اسرائیلی شخص نے اپنے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کی ، ستَّر 70سال تک لگاتار اس طرح بندگی کرتا رہا کہ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو جاگ کر عبادت کرتا ، نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا ، نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا ۔ اُس کے انتِقال کے بعدکسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ ‘‘ جواب دیا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے میرا حساب لیا ، پھر سارے گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر دانتوں میں خِلال کرلیا تھا ( اور یہ مُعامَلہ حُقُوق العباد کا تھا ) اوروہ مُعاف کروانا رَہ گیا تھا اس کی وجہ سے میں اب تک جنَّت سے روک دیا گیاہوں ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’جنت البقیع ‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1)
جہنماللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب اور جلال کا مظہر ہے ، اس سے ہروقت پناہ مانگنی چاہیے ۔
(2) زندگی میں آدمی چاہے کوئی بھی زبان بولتا ہو لیکن مرنے کے بعداس کی زبان عربی ہوجاتی ہے ۔
(3) نیک اعمال جہنم سے نجات کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ، لہٰذا نیک اعمال کرکے اپنے آپ کوجہنم سے بچاؤ ۔
(4) قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے انسان وہاں سے بھاگنے کے لیے ادھر اُدھر راستے ڈھونڈے گالیکن وہاں جائے فرار کہاں؟ لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ بندہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرلے ۔
(5) نیک اعمال بھی گناہوں کے کے خاتمے کا سبب ہیں ، لہٰذا اپنے گناہوں سے توبہ کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کو بھی جاری وساری رکھیے تاکہ کل بروزِ قیامت نامہ اعمال نیکیوں سے بھرپور ہو ۔
(6) نیکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی بہرصورت مفید ہے ، لہٰذا کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
(7) نیکی اسی صورت میں مفید ہے جبکہ وہ بارگاہ الٰہی میں مقبول ہو ، چھوٹی نیکی کو بھی اس لیے نہ چھوڑیے کہ ہوسکتا ہے کل بروزِ قیامت بڑی بڑی نیکیوں کو قبولیت حاصل نہ ہو مگر کسی چھوٹی نیکی کے سبب
اللہ عَزَّ وَجَلَّمغفرت فرمادے اور داخل جنت فرمادے ۔
(8) کسی بھی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہیں کرنا چاہیے ، ہوسکتا ہے کل بروزِقیامت اسی کے سبب پکڑ ہوجائے ۔
(9) رب تعالیٰ کی ناراضی میں دنیا وآخرت دونوں کی تباہی وبربادی ہے ، لہٰذا جہنم میں لے جانے والے اعمال سے بچتے ہوئے جنت میں لے جانے والے اعمال بجا لانے کی کوشش کی جائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کل بروزِقیامت ذِلّت ورُسوائی سے محفوظ فرمائے ، ہمارے تمام گناہوں کومعاف فرمائے ، نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بلا حساب مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 405