Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1278

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُمْرَةٌ فِيْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً اَوْ حَجَّةً مَعِي .

عن ابن عباس رضي الله عنهما:ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: عمرة في رمضان تعدل حجة او حجة معي .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”رمضان میں عمرہ کرنا حج کےبرابر ہےیا(فرمایا)میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔“

شرح حدیث

وقت کی شرافت سے عمل کا ثواب زیادہ:شارحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”رمضان مبارک میں عمرہ کا ثواب حج کے ثواب کےبرابر ہے کیونکہ اس میں تمام علماء کا اتفاق ہے کہ عمرہ حج کے قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ ابن خزیمہ نے کہا:” کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک شے کسی اور شے کے بعض وجود میں مشابہ ہوتی ہے تو اس اعتبار سے اس کو اس کی مثل کہا جاتا ہے ۔“ امام ترمذی نےاسحاق بن راہْوَیْہ سےنقل کیا کہ اس حدیث کا معنیٰ ایسا ہے جیسے حدیث میں وارد ہے کہقُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌتہائی قرآن کے برابر ہے ۔ابن عربی نے کہا:عمرہ کی یہ حدیث صحیح ہے کہ رمضان مبارک کی برکت سے عمرہ حج کا مقام پاتا ہے۔اﷲتعالیٰ کی یہ خاص عنایت اور فضل وکرم ہے ۔ابن جوزی نے کہا:اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حضور ِقلب سے کسی عمل کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اسی طرح وقت کی شرافت زیادہ ہونے سے اس وقت میں عمل کا ثواب زیادہ ہوتا ہے۔“
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ماہ رمضان میں کسی وقت عمرہ دن یا رات میں اس کا ثواب حج کے برابر ہے۔معلوم ہوا کہ جگہ اور وقت کا اثر عبادت پر پڑتا ہے۔اعلیٰ جگہ اور اعلیٰ وقت میں عبادت بھی اعلیٰ ہوتی ہے۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے سارے عمرہ ذیقعدہ میں ہوئے۔“مدنی گلدستہ’’عمرہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے 4 مدنی پھول
(1) سال بھر کے تمام دنوں سے زیادہ نویں ذی الحجہ کو گناہ گار بخشے جاتے ہیں۔
(2) غیر حاجی کے لیے نویں ذی الحجہ کا روزہ سنت ہے۔
(3) رمضان مبارک میں عمرہ کا ثواب حج کے ثواب کےبرابر ہے۔
(4) جس طرح حاضر قلبی کے ساتھ عمل کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اسی طرح وقت کی شرافت کی زیادتی سے بھی عمل کا ثواب زیادہ ہوجاتا ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک میں عمرہ اور میٹھے مدینے میں آخری عشرہ رمضان کا اعتکاف نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1278