باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اسلام کی بنیادپانچ چیزوں پرہے:(1)اس بات کی گواہی دیناکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اورحضرت محمدمصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں (2)نماز قائم کرنا(3)زکوٰۃ دینا(4)حج اداکرنا اور(5)رمضان کے روزے رکھنا۔ “

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُنِيَ الْاِسْلاَمُ عَلٰی خَمْسٍ: شَهَادَةِ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَ اِقَامِ الصَّلَاةِ وَاِيْتَاءِ الزَّ كَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1271 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

”حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا:”اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو۔“ ایک شخص نے عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا حج ہر سال فرض ہے؟حضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خاموشی اختیار فرمائی حتّٰی کہ اُس شخص نے تین بار یہی پوچھا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر واجب ہو جاتا اور تم سے نہ ہوسکتا۔‘‘ پھر فرمایا:” جب تک میں کسی بات کو بیان نہ کروں تم مجھ سے سوال نہ کرو، اگلے لوگ کثرتِ سوال اور پھر انبیا کی مخالفت سے ہلاک ہوئے، لہٰذا جب میں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک ہو سکے اُس پر عمل کرو اور جب میں کسی بات سے منع کروں تو اُسے چھوڑ دو۔ “

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:یَااَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوْا فَقَالَ رَجُلٌ: اَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلاثًا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ: ذَرُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ فَاِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى اَنْبِيَائِهِمْ فَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَاَتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوْهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1272 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“عرض کی گئی :پھر کون سا عمل افضل ہے؟ارشاد فرمایا:”راہِ خُدا میں جہاد کرنا۔“ پوچھا کیا گیا:پھر کون سا؟ارشاد فرمایا:”حج مبرور۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ : اِيْمَانٌ بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللهِ قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبرُوْرٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1273 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا:”جو حج کرے اور فحش کلامی نہ کرے، نہ فسق کی باتیں کرے تو ایسا لوٹے گا جیسے اُس کی ماں نےاسے آج ہی جنا ہو۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ اُمُّهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1274 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ایک عمرہ دوسرےعمرہ تک کےدرمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کےسوا کچھ نہیں۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْعُمْرَةُ اِلَى الْعُمْرَ ةِ كَفَّارَةٌ لِّمَا بَينَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ اِلَّا الْجَنَّةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1275 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم جہاد کو افضل عمل سمجھتے ہیں تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”لیکن افضل جہاد حج مبرور ہے۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَت: قُلْتُ: يَارَسُوْلَ الله! نَرَى الْجِهَادَ اَفْضَلَ الْعَمَلِ، اَفَلَا نُجَاهِدُ ؟ فَقَالَ : لٰكِنْ اَفْضَلُ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1276 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہےکہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےا رشاد فرمایا:”یوم عرفہ(یعنی نویں ذی الحجہ) سے بڑھ کر کوئی دن نہیں جس میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرے۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا مِنْ يَوْمٍ اَكْثَـرَ مِنْ اَنْ يُّعْتِقَ اللهُ فِيْهِ عَبْدًا مِّنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1277 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”رمضان میں عمرہ کرنا حج کےبرابر ہےیا(فرمایا)میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔“

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُمْرَةٌ فِيْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً اَوْ حَجَّةً مَعِي .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1278 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ایک خاتون نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو بندوں پر حج فرض ہے وہ میرے بوڑھے والد پر فرض ہوگیا ہے لیکن وہ سواری پربیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں اُن کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” ہاں۔“

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ اِمْرَاَةً قَالَتْ: يَارَسُوْلَ الله اِنَّ فَرِيْضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ اَدْرَكَتْ اَبِيْ شَيْخًا كَبِيْراً لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ اَفَاَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1279 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا لقیط بن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں میں حاضر ہوکر عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرےوالد بہت بوڑھے ہیں نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کی اور نہ ہی سوار ہونے کی۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اپنے باپ کی طرف سے حج وعمرہ کر۔“

عَنْ لَقِيْطِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّهُ اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اِنَّ اَبِيْ شَيْخٌ كَبِيْرٌ لَا يَسْتَطِيْعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلاَ الظَّعَنَ ؟ قَالَ : حُجَّ عَنْ اَبِيْكَ وَاعْتَمِرْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1280 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا سائِب بِن یزیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حجۃ الوداع کے موقع پر مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ حج کرایا گیا ،اس وقت میری عمر سات سال تھی۔“

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حُجَّ بِيْ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَاَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنينَ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1281 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقامِ رَوْحامیں ایک قافلے سے ملے تو فرمایا:”یہ کون لوگ ہیں؟“انہوں نے عرض کی:ہم مسلمان ہیں،پھر انہوں نے پوچھا:آپ کون ہیں؟ارشاد فرمایا:”میںاﷲکا رسول ہوں۔“یہ سن کر کسی عورت نے ایک بچے کوآپ کی طرف اٹھایا اورعرض کی: کیا اس کابھی حج ہے؟ارشاد فرمایا:”ہاں! اور تجھے اس کا ثواب ملے گا۔“

عَنِ ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا:الْمُسْلِمُونَ . قَالُوْا :مَنْ اَنْتَ ؟ قَالَ:رَسُوْلُ اللهِ. فَرَفَعَتِ امْرَاَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: اَلِهٰذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ وَلَكِ اَجْرٌ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1282 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکجاوے پر(سوار ہوکر) حج فرمایا اور یہی (کجاوہ )آپ کے سامان کے لیے بھی تھا۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ عَلَى رَحْلٍ وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1283 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”عکاظ،مجنہ اور ذوالمجاز دورِ جاہلیت کے(مشہور)بازار تھے،صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے حج کے دنوں میں ان بازاروں میں تجارت کرنے کوگناہ سمجھا تواس پرموسمِ حج کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:﴿ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-﴾(پ۲،البقرۃ:۱۹۸) (ترجمۂ کنز الایمان: تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَتْ عُكَاظُ وَمَجِنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ اَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَاَثَّمُوا اَنْ يَتَّجِرُوْا فِي الْمَوَاسِمِ فَنَزَلَتْ:﴿ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-﴾ فِيْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1284 ، باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان