Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1281

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حُجَّ بِيْ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَاَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنينَ .

عن السائب بن يزيد رضي الله عنه قال: حج بي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع وانا ابن سبع سنين .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سائِب بِن یزیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حجۃ الوداع کے موقع پر مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ حج کرایا گیا ،اس وقت میری عمر سات سال تھی۔“

شرح حدیث

نابالغ کا حج:شارِحِ بخاری علامہ سَیِّدمحموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحدیثِ مذکورکےتحت فرماتے ہیں:”واضح ہوکہ نابالغ کی عبادت کا شریعت نے اعتبار کیا ہےیعنی ان کا نما ز پڑھنا ،روزہ رکھنا وغیرہ صحیح ہے لیکن چونکہ وہ نابالغ ہیں اس لیے ان کی عبادت نفل قرار پاتی ہے اور ان کا ثواب ان کے والدین کو ملتا ہے بچپن میں اگر کسی نے حج کیا اور بالغ ہونے کے بعد اگر حج کی شرائط پائی گئیں تو پھر دوبارہ حج کرنا پڑے گاکیونکہ بحالت نابالغی جو حج کیا ہے وہ نفل قرار پائے گا۔“شارِحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”بچہ اگر حج کرے تو اس کا ثواب اس کے والدین کو پہنچے گا اور بالغ ہونےکے بعد فریضۂ حج ادا کرنا اس پر واجب ہے۔امام ابو حنیفہ،مالک،شافعی،ابویوسف،محمداورامام احمد بن حنبلرَضِیَ اﷲ عَنْہُمْکا یہی مذہب ہے۔انہوں نے کہا:عدم بلوغ کی حالت میں بچے کا حج کافی نہیں وہ نفل ہوگاجیسے عدم بلوغ کی حالت میں بچے کی نماز ہوجاتی ہے مگر وہ نفل ہوتی ہے۔اگر بچے نے نابالغی میں حج فاسد کردیا تو امام ابو حنیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:اس پر قضا واجب نہیں اور نہ ہی اس پر فدیہ واجب ہے جبکہ وہ بحالتِ احرام شکار کرے جیسے بچہ نماز فاسد کردے تو اس کی قضا اس پر واجب نہیں۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک سے نابالغ بچے کےحج یا مناسک ِحج کی ادائیگی کا جواز ثابت ہوتا ہے جبکہ وہ تمیز دار ہوتاکہ اسے عبادت کی عادت پڑے اور بلوغت کے بعد بھی وہ اس سےمانوس رہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1281