Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1279

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ اِمْرَاَةً قَالَتْ: يَارَسُوْلَ الله اِنَّ فَرِيْضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ اَدْرَكَتْ اَبِيْ شَيْخًا كَبِيْراً لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ اَفَاَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما ان امراة قالت: يارسول الله ان فريضة الله على عباده في الحج ادركت ابي شيخا كبيرا لا يثبت على الراحلة افاحج عنه ؟ قال : نعم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ایک خاتون نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو بندوں پر حج فرض ہے وہ میرے بوڑھے والد پر فرض ہوگیا ہے لیکن وہ سواری پربیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں اُن کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” ہاں۔“

شرح حدیث

بڑھاپے میں حج فرض ہونے سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’میرے باپ پر بڑھاپے میں حج فرض ہوا ہے یا اس طرح کہ اسلام میں فرضیتِ حج کا حکم جب آیا تو بڈھے تھے یا اس طرح کہ ان کے پاس مال بڑھاپے میں ہی آیا ہے،یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے حج نہ کیا حتّٰی کہ بڈھا ہوگیا۔“عبادت میں نیابت کا حکم :علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جب کوئی شخص معذور ہوجائے اور فریضہ حج ادا نہ کرسکے تو اس کی طرف سے کوئی دوسرا آدمی حج کرے تو جائز ہے۔صاحب ہدایہ نے کہا:اصل یہ ہے کہ انسان کے لئے جائز ہے کہ اپنے اعمال نماز،روزہ ، صدقات وخیرات کا ثوا ب اپنے غیر کو نذرانہ کردےاس پر اہل سنت وجماعت کا اتفاق ہے کیونکہ سرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے دو مینڈھے قربانی کیے ایک اپنی ذات سِتُودَہ صفات کی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کے لیے ذبح کیا۔عبادت کی تین اقسام ہیں :*ایک محض مالی عبادت جیسے زکوۃ اس میں کسی کو نائب بنانا جائز ہے کہ اس کی طرف سے زکوۃ ادا کردے۔* دوسری عبادت محض بدنی ہے جیسے نماز اس میں کسی حال میں نیابت(نائب بنانا) جائز نہیں۔*تیسری عبادت جو دونوں سے مرکب ہو جیسے حج مالی اور بدنی عبادت سے مرکب ہےاس میں نیابت اس وقت صحیح ہے جب مناب عنہ(جس کی طرف سے نائب بنایا گیا) کو چلنے کی قدرت نہ ہو مگر شرط یہ ہے کہ موت تک وہ چلنے سے عاجز رہے۔بظاہر حدیث سے یہی سمجھ آتا ہے کہ مناب عنہ کا حج ادا ہوجاتا ہے ۔کسی مریض نے نائب کو حج کرنے بھیجا پھر وہ تندرست ہوگیا تو اس کا حج ادا نہ ہوگا اور اس پر حج کرنا فرض ہے اور اگر وہ تندرست نہ ہو اور مرجائے تو اس کا فریضۂ حج ادا ہوجاتا ہے۔امام ابو حنیفہرَضِیَ اﷲ عَنْہُنے کہاکہ اگر کسی نے حج نہ کیا ہواور وہ کسی کی طرف سے حج کرنا چاہے تو جائز ہے اور مذکور حدیث اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ سید عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے عورت سے یہ دریافت نہ فرمایا کہ تونےپہلے حج کیا ہے یا نہیں اور اس کو باپ کی طرف سےحج کرنے کی اجازت دےدی۔“حجِ بدل کی شرائط:حجِ بدل کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کا پایا جاناضروی ہے،چنانچہصَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حج بدل کے لیے چند شرطیں ہیں: (1)جو حج بدل کراتا ہو اس پر حج فرض ہو یعنی اگر فرض نہ تھا اور حج بدل کرایا تو حج فرض ادا نہ ہوا، لہٰذا اگر بعد میں حج اس پر فرض ہوا تو یہ حج اس کے لیے کافی نہ ہوگا بلکہ اگر عاجز ہو تو پھر حج کرائے اور قادر ہو تو خود کرے۔ (2)جس کی طرف سے حج کیا جائے وہ عاجز ہو یعنی وہ خود حج نہ کرسکتا ہو اگر اس قابل ہو کہ خود کر سکتا ہے، تو اس کی طرف سے نہیں ہو سکتا اگرچہ بعد میں عاجز ہوگیا، لہٰذا اس وقت اگر عاجز نہ تھا پھر عاجز ہوگیا تو اب دوبارہ حج کرائے۔(3) وقتِ حج سے موت تک عذر برابر باقی رہے اگر درمیان میں اس قابل ہو گیا کہ خود حج کرے تو پہلے جو حج کیا جاچکا ہے وہ نا کافی ہے۔ ہاں اگر وہ کوئی ایسا عذر تھا، جس کے جانے کی امید ہی نہ تھی اور اتفاقاً جاتا رہا تو وہ پہلا حج جو اس کی طرف سے کیا گیا کافی ہے مثلاً وہ نابینا ہے اور حج کرانے کے بعد انکھیارا ہوگیا تو اب دوبارہ حج کرانے کی ضرورت نہ رہی۔ (4)جس کی طرف سے کیا جائے اس نے حکم دیا ہو بغیر اس کے حکم کے نہیں ہوسکتا۔ ہاں وارث نے مورث کی طرف سے کیا تو اس میں حکم کی ضرورت نہیں۔ (5)مصارف اُس کے مال سے ہوں جس کی طرف سے حج کیا جائے، لہٰذا اگر مامور نے اپنا مال صرف کیا حج بدل نہ ہوا یعنی جب کہ تبرّعاً ایسا کیا ہو اور اگر کُل یا اکثر اپنا مال صرف کیا اور جو کچھ اس نے دیا ہے اتنا ہے کہ خرچ اس میں سے وصول کرلے گا تو ہوگیا اور اتنا نہیں کہ جو کچھ اپنا خرچ کیا ہے وصول کرلے تو اگر زیادہ حصہ اس کا ہے جس نے حکم دیا ہے تو ہوگیا ورنہ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1279