Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1283

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ عَلَى رَحْلٍ وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ.

عن انس رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حج على رحل وكانت زاملته.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکجاوے پر(سوار ہوکر) حج فرمایا اور یہی (کجاوہ )آپ کے سامان کے لیے بھی تھا۔“

شرح حدیث

سواری پر اور پیدل حج کی فضیلت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حج کے سفر میں سوار ہونا اور پیدل چلنا دونوں مباح ہیں البتہ افضلیت میں اختلاف ہے ۔بعض علما نے سوار ہونے کو افضل کہا کیونکہ اس میں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اتباع ہے اور اس میں خرچ کرنے کی فضیلت بھی ہے کیونکہ سفر حج میں خرچ کرنا راہِ خدا میں خرچ کرنے جیسا ہے جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسات سو گُنا بڑھاتا ہے۔حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ جس نے پیدل حج کیا حتّٰی کہ پیدل ہی واپس ہوا تو اس کے ہر قدم کے عوض حرم کی نیکیوں سے سات سو نیکی لکھی جاتی ہے اور حرم کی ہر نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے۔امام مجاہدرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے پیدل چالیس حج کیے۔حضرت سَیِّدُنا ابراہیم و حضرت سَیِّدُنا اسماعیلعَلَیْہِمَا السَّلَامنے پیدل حج کیا ۔اسی طرح حضرت سَیِّدُنا امام حسن مجتبیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے پچیس حج پیدل کیے۔ “کفایت شعاری اور سادگی کا سبق:فقیہِ اعظم،شارحِ بخاری حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں:”رحل(کجاوہ)یہ اونٹ کے لیےویسے ہی ہے جیسے گھوڑے کے لیے زین،زَامِلَہوہ اونٹ جس پر سامان لادا جائے، بتانا یہ چاہتے ہیں کہ حج واجب ہونے کے لیے عالیشان آرام دہ سواری شرط نہیں بلکہ معمولی سواری کافی ہے۔“شارحِ بخاری سیدمحموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مطلب یہ ہے کہ حضور(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)جس اونٹ پر سوار تھے حضور کا سامان بھی اسی پر تھا یہ نہ تھا کہ سواری کے لیے الگ سواری ہو اور سامان کے لیے الگ ہوں،تمام اَحادیث میں کفایت شعاری وسادگی کا سبق ہے اورکرّوفرّ(شان وشوکت) اور دھوم دھام سے بچنے کی ہدایت۔“سواری پر حج کرنے کے فضائل پر3فرامین مصطفےٰ:(1)”جو خانۂ کعبہ کے قصد سے آیا اور اُونٹ پر سوار ہوا تو اُونٹ جو قدم اُٹھاتا اور رکھتا ہے،اﷲ تعالٰیاس کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھتا ہے اور خطا کو مٹاتا ہے اور درجہ بلند فرماتا ہے۔“ (2)”حج کے دوران خرچ کرنے کا ثواب راہِ خدا میں خرچ کرنے کی طرح ہے ایک درہم سات سو کے برابر ہے۔“(3)”حج اور عمرہ کرنے والےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے مہمان ہیں اگر کچھ سوال کریں تو انہیں عطاکیا جاتا ہے اور اگر دعا کریں تو قبول کی جاتی ہے اور اگر ایک درہم خرچ کریں تو انہیں اس کا بدلہ ایک درہم کے دس لاکھ کی صورت میں دیا جاتاہے ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1283