Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1280

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ لَقِيْطِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّهُ اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اِنَّ اَبِيْ شَيْخٌ كَبِيْرٌ لَا يَسْتَطِيْعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلاَ الظَّعَنَ ؟ قَالَ : حُجَّ عَنْ اَبِيْكَ وَاعْتَمِرْ.

عن لقيط بن عامر رضي الله عنه انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال:ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن ؟ قال : حج عن ابيك واعتمر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا لقیط بن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں میں حاضر ہوکر عرض کی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرےوالد بہت بوڑھے ہیں نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کی اور نہ ہی سوار ہونے کی۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اپنے باپ کی طرف سے حج وعمرہ کر۔“

شرح حدیث

بدنی عبادات میں نیابت مطلقًا ناجائز ہے:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکورکے تحت فرماتے ہیں:”میرے والد زیادہ بوڑھے ہونے کی وجہ سے نہ تو حج و عمرہ کے ارکان ادا کرسکتے ہیں طواف سعی وغیرہ اور نہ سواری پر بیٹھ سکتے ہیں جو مکہ معظمہ تک پہنچائے ۔ غالبًا ان کے والد پر پہلے سے حج فرض تھا کسی مجبوری کی وجہ سے حج نہ کیا تھا ورنہ ایسے بوڑھے پر اگر اس کمزوری میں مال آئے تو حج فرض نہیں۔خیال رہے کہ حج بدنی و مالی عبادت کا مجموعہ ہے لہٰذا بوقت مجبوری دوسرا اس کی طرف سے کرسکتا ہے یعنی حج بدل مگر قدرت ہوتے ہوئے خود ہی کرنا ہوگا،محض بدنی عبادات میں نیابت مطلقًا ناجائز ہے اورمحض مالی عبادت میں مطلقًا جائز لہٰذا کوئی کسی کی طرف سے نماز روزہ کبھی ادا نہیں کرسکتا اور زکوۃ قربانی بہرحال ادا کرسکتا ہے اس کی اجازت سے۔خیال رہے کہ عمرہ فرض یا واجب نہیں سنت ہے لہٰذا حدیث میں دونوں کا حکم دینا استحبابًا ہے، یعنی بہتر یہ ہے کہ دونوں ہی باپ کی طرف سے ادا کرو۔ “مدنی گلدستہ’’بقیع‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اوران کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جب کوئی شخص معذور ہوجائے اور فریضہ حج ادا نہ کرسکے تو اس کی طرف سے کوئی دوسرا آدمی حج کرے تو جائز ہے۔
(2) انسان کے لئے جائز ہے کہ اپنے اعمال نماز،روزہ، صدقات وخیرات کا ثوا ب اپنے غیر کو نذرانہ کر دےاس پر اہل سنت وجماعت کا اتفاق ہے۔
(3) بدنی عبادات میں نیابت مطلقًا ناجائز ہے اورمالی عبادت میں مطلقًا جائز لہٰذا کوئی کسی کی طرف سے نماز روزہ کبھی ادا نہیں کرسکتا اور زکوٰۃ قربانی بہرحال ادا کرسکتا ہے۔
(4) ا گرمریض نےکسی کو اپنا نائب بناکرحج کے لے بھیجا پھر تندرست ہوگیا تو اس کا حج ادا نہ ہوگا اور اس پر حج کرنا فرض رہے گااور اگر وہ مرنے تک تندرست نہ ہو ا تو اس کا فریضۂ حج ادا ہوگیا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں صحت وتندرستی کی حالت میں بار بار حج کی سعادت نصیب فرمائے اور ہمارے حج کو حجِ مبرور فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1280