Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1276

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَت: قُلْتُ: يَارَسُوْلَ الله! نَرَى الْجِهَادَ اَفْضَلَ الْعَمَلِ، اَفَلَا نُجَاهِدُ ؟ فَقَالَ : لٰكِنْ اَفْضَلُ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قلت: يارسول الله! نرى الجهاد افضل العمل، افلا نجاهد ؟ فقال : لكن افضل الجهاد حج مبرور.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم جہاد کو افضل عمل سمجھتے ہیں تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”لیکن افضل جہاد حج مبرور ہے۔“

شرح حدیث

حج کو جہاد کہنے کی وجہ:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مبرور کا معنیٰ مقبول ہے اس کا معنیٰ یہ بھی کیا جاتا ہے جس میں کوئی گناہ نہ ملا ہو ۔سید عالمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے عورتوں کے لیے حج مقبول کو افضل جہاد قرار دیا ،ابن ماجہ نے اُمُّ المؤمنین عائشہرَضِیَ اﷲ عَنْہَاسےروایت کی انہوں نے کہا،میں نےعرض کیا:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم!کیا عورتوں پر جہاد ہے؟آپصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ہاں ان پر جہاد ہےمگر اس میں قتل وغارت(نہیں )اور وہ حج وعمرہ ہے ۔“اُمِّ سلمہرَضِیَ اﷲ عَنْہَانے کہا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا:”حج ہر کمزور شخص کا جہاد ہے ۔“حج کو جہاد اس لیے کہا گیا ہے کہ حاجی شہوات نفسانیہ کو روک کر نفس سے جہاد کرتا ہے ۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لیےحج کرنا افضل جہاد ہے اسی لیے سَیِّدُنَا عمر فاروقرَضِیَ اﷲ عَنْہُنے ازواج مطہرات کو حج کرنے کی اجازت دی ۔“جہاد کو افضل عمل سمجھنے کی توجیہ:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکا یہ فرمانا کہ ”ہم جہاد کو افضل عمل سمجھتے ہیں“اس کی وجہ یہ ہے ابتدائے اسلام میں جہاد کرنے والوں کی قلت تھی اور ہر شخص پر جہاد فرضِ عَین تھا لیکن جب اسلام ہر جگہ پھیل گیا تو پھر جہاد فرض کفایہ ہوگیااور بعض لوگوں کے جہاد کرنے سے دیگر مسلمانوں سے جہاد کی فرضیت ساقط ہوگئی اور حج جہاد سے افضل ہوگیااسی وجہ سے حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا:”عورتوں کے لیے افضل جہاد حج ہے۔“مدنی گلدستہ’’پنج تن پاک‘‘کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) راہ ِ خدا میں جہاد وہ جنگ ہے جس میں محض رب کو راضی کرنا اور اسلام کی اشاعت منظور ہو،مال، ملک،عزت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرنا فتنہ ہے جہاد نہیں۔
(2) حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ حاجی کے عمل میں بہتری آئے اور آخرت کی طرف رغبت بڑھ جائے۔
(3) جو رضائے الٰہی کے لیے حج کرے اور فحش باتوں اور لڑائی جھگڑے سے بچے تو وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے ۔
(4) عمرہ سنت ہے اور حج کے افعال کرنے کے بعد عمرہ کرنا مستحب ہے۔
(5) حج کو جہاد اس لیے کہا گیا ہے کہ حاجی شہوات نفسانیہ کو روک کر نفس سے جہاد کرتا ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حج مبرور کی سعادت مرحمت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1276