Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1275

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْعُمْرَةُ اِلَى الْعُمْرَ ةِ كَفَّارَةٌ لِّمَا بَينَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ اِلَّا الْجَنَّةَ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:العمرة الى العمر ة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ایک عمرہ دوسرےعمرہ تک کےدرمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کےسوا کچھ نہیں۔“

شرح حدیث

عمرہ سنت ہے:شارح بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”عمرہ کا لغوی معنیٰ زیارت ہے اور شریعت مطہرہ میں اس کا معنیٰ شروط مخصوصہ کے ساتھ بیتاﷲکی زیارت کرنا ہے ۔ احناف کا مذہب ہے کہ عمرہ سنت ہے۔حج کے افعال کرنے کے بعد عمرہ کرنا مستحب ہے۔سید عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ ارشاد کہ عمرہ سےعمرہ تک درمیان کے سب گناہوں کا کفارہ ہے ۔صحیح یہ ہے کہ دوسرےعمرہ سےگناہوں کا کفارہ ہوتا ہے کیونکہ گناہوں کےوجود کےبعد ہی ان کا کفارہ مناسب ہے لہٰذا پہلے عمرہ سے گناہوں کا کفارہ نہیں ہوتا کیونکہ ابھی تک گناہوں کا وجود ہی نہیں تو کفارہ کس کا ہوگا۔“گناہ کبیرہ کی معافی کی قوی اُمید:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” علما فرماتے ہیں کہ دو عمروں کے درمیان کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں اور حج مقبول میں گناہ کبیرہ کی معافی کی بھی قوی امید ہے۔ حج مقبول کی جزا تو یقیناً ہے اس کے علاوہ دنیا میں غنا،دعا کی قبولیت بھی عطا ہوجائے تو ربّ کا کرم ہے حصر ایک جانب میں ہے۔ “گناہوں سے توبہ کی توفیق:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ عالی ”حجِ مبرور کا بدلہ جنت کےسوا کچھ نہیں۔“ کا یہ معنی ہوسکتا ہے کہ جسے حج مبرور کی توفیق مل جائے اسے ہر گناہ سے توبہ کی توفیق ملتی ہے ،اﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے باقی عمر گناہوں سے محفوظ رکھتاہے اور یوں وہ کامیاب ہو کرجنت میں داخل ہوجائے گا۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1275