Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1282

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا:الْمُسْلِمُونَ . قَالُوْا :مَنْ اَنْتَ ؟ قَالَ:رَسُوْلُ اللهِ. فَرَفَعَتِ امْرَاَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: اَلِهٰذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ وَلَكِ اَجْرٌ .

عن ابن عباس رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم لقي ركبا بالروحاء فقال : من القوم؟ قالوا:المسلمون . قالوا :من انت ؟ قال:رسول الله. فرفعت امراة صبيا فقالت: الهذا حج ؟ قال: نعم ولك اجر .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقامِ رَوْحامیں ایک قافلے سے ملے تو فرمایا:”یہ کون لوگ ہیں؟“انہوں نے عرض کی:ہم مسلمان ہیں،پھر انہوں نے پوچھا:آپ کون ہیں؟ارشاد فرمایا:”میںاﷲکا رسول ہوں۔“یہ سن کر کسی عورت نے ایک بچے کوآپ کی طرف اٹھایا اورعرض کی: کیا اس کابھی حج ہے؟ارشاد فرمایا:”ہاں! اور تجھے اس کا ثواب ملے گا۔“

شرح حدیث

نابالغ کے حج سےفرض حج ادا نہ ہوگا:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”رَوحا مدینہ منورہ سے چھتیس۳۶ یا چالیس میل دور مکہ مُعَظَّمہ کے راستہ پر ایک منزل ہے،یہاں ہی حضرت آمنہ خاتون (رَضِیَ اﷲ عَنْہَا) کا انتقال ہوا۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمحجۃ الوداع کے لیے تشریف لے جارہے تھے ادھر سے کوئی اور قافلہ بھی حج کے لیے آرہا تھا کہ ملاقات ہوگئی اور یہ سوال و جواب واقع ہوئے۔غالبًا یہ بچہ شِیر خوار تھا اس( کی والدہ ) نے عرض کیا کہ اگر میں اس کا احرام بندھوادوں اور اسے گود میں لے کر سارے ارکانِ حج ادا کروں تو کیا میرے حج کے ساتھ اس کا حج بھی ہوجائے گا۔ (ارشاد ہوا)بچہ کو بھی حج کا ثواب ملے گا حج کرنے کا اور تجھے بھی اس کے حج کا ثواب ملے گا حج کرانے کا۔فقہا فرماتے ہیں کہ اگرچہ نابالغ بچہ کا حج ثواب کے لحاظ سے تو ہو جائے گا مگر اس سےحَجَّۃُ الْاِسلام(فرض حج)ادا نہ ہو گا،بالغ ہونے پر پھر حج کرنا پڑے گا لیکن اگر فقیر یا غلام حج کرے تو ان کاحَجَّۃُ الْاِسلام(فرض حج)ادا ہوجائے گا کہ امیر ی یا آزادی کے بعد انہیں دوبارہ حج کرنا ضروری نہیں کہ ہر شخص مکہ معظمہ پہنچ کر وہاں کا ہی مانا جاتا ہے،مکہ کا فقیر یا غلام حجِ اسلام کر سکتا ہے مگر معظمہ کے چھوٹے بچوں کے حج سےحَجَّۃُ الْاِسلام(فرض حج) ادا نہیں ہوتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کی نیکیوں کا ثواب ماں باپ کو بھی ملتا ہے لہٰذا انہیں نماز روزہ کا پابند بناؤ۔“صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” نابالغ نے حج کیا یعنی اپنے آپ جبکہ سمجھ وال ہو یا اُس کے ولی نے اس کی طرف سے احرام باندھا ہو جب کہ ناسمجھ ہو، بہر حال وہ حج نفل ہوا،حَجَّۃُ الْاِسْلَامیعنی حجِ فرض کے قا ئم مقام نہیں ہوسکتا۔نا بالغ نے حج کا احرام باندھا اور وقوفِ عرفہ سے پیشتر بالغ ہو گیا تو اگر اسی پہلے احرام پر رہ گیا حج نفل ہواحَجَّۃُ الْاِسْلَامنہ ہوا اور اگر سرے سے احرام باندھ کر وقوفِ عرفہ کیا توحَجَّۃُ الْاِسْلَامہوا۔“مدنی گلدستہ’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت ملنے والے4مدنی پھول
(1) نابالغ کی عبادت کا شریعت نے اعتبار کیا ہےکہ ان کا نما ز پڑھنا ،روزہ رکھنا اور دیگر نیک اَعمال کرناصحیح ہے لیکن چونکہ وہ نابالغ ہیں اس لیے ان کی عبادت نفل قرار پاتی ہے۔
(2) نابالغ بچہ اگر حج کرے تو اس کا ثواب اس کے والدین کو پہنچے گا اور بالغ ہونے کے بعد شرائط پائے جانے پر فریضَۂ حج ادا کرنا اس پر واجب ہوگا ۔
(3) نابالغ بچہ نماز فاسد کردے تو اس کی قضا اس پر واجب نہیں ۔
(4) فقیر یا غلام حج کرے تو ان کا
حَجَّۃُ الْاِسْلَامادا ہوجائے گا کہ امیر ی یا آزادی کے بعد انہیں دوبارہ حج کرنا ضروری نہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں مرشدکے ساتھ مع اہل وعیال حج کی سعادت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1282