Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1274

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ اُمُّهُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته امه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا:”جو حج کرے اور فحش کلامی نہ کرے، نہ فسق کی باتیں کرے تو ایسا لوٹے گا جیسے اُس کی ماں نےاسے آج ہی جنا ہو۔“

شرح حدیث

رفث اورفسق سے مراد:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حج کے بیان میں رَفَث سے مراد ہوتا ہے بیوی سے صحبت یا صحبت کے اَسباب پر عمل یا صحبت کی گفتگو اور فسق سے مراد ہوتا ہے ساتھیوں سے لڑائی جھگڑا یعنی جو رضائے الٰہی کے لیے حج کرے اور حج کو فحش باتوں،لڑائی جھگڑوں سے پاک و صاف رکھے تو گناہ صغیرہ سے تو یقیناً اور کبیرہ سے احتمالًا بالکل پاک وصاف ہوجائے گاحقوق العباد تو ادا ہی کرنا پڑیں گے۔حق یہ ہے کہ تاجر حاجی کو بھی ثواب ملے گا مگر مخلص حاجی سے کم۔“صغیرہ وکبیرہ گناہوں کی مغفرت:امام حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:” جو حج میں فحش کلامی اور فسق کی باتیں نہ کرے تو حج سے اس طرح واپس ہوگا جیسے آج ہی پیدا ہوا ہویعنی اس کا کوئی گناہ باقی نہ رہے گا۔ اِس کا ظاہری معنیٰ یہ ہے کہ اس کے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اور گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہو جائے گا جیسے اس دن تھا جب پید ا ہواتھا۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1274