Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1284

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَتْ عُكَاظُ وَمَجِنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ اَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَاَثَّمُوا اَنْ يَتَّجِرُوْا فِي الْمَوَاسِمِ فَنَزَلَتْ:﴿ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-﴾ فِيْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ .

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:كانت عكاظ ومجنة وذو المجاز اسواقا في الجاهلية فتاثموا ان يتجروا في المواسم فنزلت:﴿ لیس علیكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم-﴾ في مواسم الحج .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”عکاظ،مجنہ اور ذوالمجاز دورِ جاہلیت کے(مشہور)بازار تھے،صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے حج کے دنوں میں ان بازاروں میں تجارت کرنے کوگناہ سمجھا تواس پرموسمِ حج کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:﴿ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-﴾(پ۲،البقرۃ:۱۹۸) (ترجمۂ کنز الایمان: تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔)

شرح حدیث

حج کےدنوں میں تجارت کی اجازت:شارحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتےہیں:”ذوالْمَجازمِنٰی میں ایک جگہ ہے جہاں جاہلیت کےزمانہ میں خرید وفروخت کرتے تھے۔اسی طرحعُکاظمکہ کے ایک طرف منڈی کی جگہ ہے جہاں عرب ہرسال جمع ہوتے اور مہینہ بھر خریدوفروخت کرتے رہتے تھے اور فاخرانہ اَشعار کہا کرتے تھے جب اسلام آیا تو سب کو ختم کردیا گیا ۔ابوداؤد نےابنِ عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی کہ لوگ حج کے زمانہ میں تجارت اور خریدوفروخت کرنے سے ڈرتے تھے اور کہتےتھے یہ ایاماﷲتعالیٰ کے ذِکر کے ہیں۔ یعنی اِحرام سے پہلے اور اِحرام کھول دینے کے بعد خرید وفروخت میں حرج نہیں۔“فقیہِ اعظم،حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مَجِنّہمکہ مُعَظَّمہ سے ایک بَرید (بارہ میل) کے فاصلےپر مَرُّالظَّہران کےاَطراف میں لگتا تھا ۔یہ شامہ او رطفیل دوپہاڑوں کے درمیان ہے ،بہت پُرفضا باغوں سے بھری ہوئی جگہ ہے ۔یہ(بازار) پہلی ذوالحجہ سے آٹھ تک لگتا اس کے بعد لوگ حج کے لیے چل دیتے۔لوگوں نے یہ سمجھا کہ اَیَّامِ حج صرف عبادت کے لیے ہے ان ایام میں عرفات اور مکہ معظمہ کے قریب سوائے عبادت کے تجارت وغیرہ نہیں کرنی چاہیےیہ رَہْبَانِیَّت تھی اس لیےارشاد فرمایا گیا کہ مال اور ضروریاتِ زندگیاﷲکا فضل ہے۔ان ایام میں اور ان مقامات میںاﷲکا فضل حاصل کرنے کی کوئی ممانعت نہیں۔“مدنی گلدستہ’’سفرِ حج‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیث مذکورہ ا ور اُن کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) سفرِ حج میں خرچ کرنا راہِ خدا میں خرچ کرنے جیسا ہے جسے
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسات سو گُنا بڑھاتا ہے۔
(2) پیدل حج کرنے والے کے لیے ہر قدم کے عوض حرم کی نیکیوں سے سات سو نیکی لکھی جاتی ہے اور حرم کی ہر نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے۔
(3) حضرت سَیِّدُنا آدم
عَلَیْہِ السَّلَامنے چالیس جبکہ حضرت سَیِّدُنا امامِ حَسَن مجتبیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے پچیس حج پیدل کیے۔
(4) انسان کو کفایت شعاری وسادگی سے کام لینا چاہیے کہ یہ عظیم لوگوں کا طریقہ ہے ۔
(5) مال اور ضروریاتِ زندگی اﷲ کا فضل ہے۔اَیَّامِ حج میں بھی
اﷲکا فضل حاصل کرنے کی ممانعت نہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِخلاص کے ساتھ باربارحج وعمرہ کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1284