Main Icon

باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1273

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ : اِيْمَانٌ بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللهِ قِيْلَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبرُوْرٌ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم اي العمل افضل ؟ قال : ايمان بالله ورسوله قيل: ثم ماذا ؟ قال: الجهاد في سبيل الله قيل: ثم ماذا ؟ قال : حج مبرور.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“عرض کی گئی :پھر کون سا عمل افضل ہے؟ارشاد فرمایا:”راہِ خُدا میں جہاد کرنا۔“ پوچھا کیا گیا:پھر کون سا؟ارشاد فرمایا:”حج مبرور۔“

شرح حدیث

اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مبرور وہ حج ہے جس میں حاجی کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو۔بنیادی عمل:شارِحِ بخاری علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اﷲتعالیٰ اور اس کے رسولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لانا بنیادی عمل ہے جس کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں۔ جہاد یعنی کفار سے جنگ کرنااﷲتعالیٰ کا دین بلند کرنے کے لئے ہے یہ دوسرے اعمال سے اس لئے افضل ہے کہ اس میںاﷲکی راہ میں جانیں قربان ہوتی ہیں اس کے بعد حج افضل ہے کیونکہ یہ مالی اور بدنی عبادتوں سے مرکب ہے۔“افضل سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”(یہاں) افضل سے مراد درجہ اور ثواب میں زیادہ، چونکہ ایمان عقائد کا نام ہے اور عقیدہ دل کا عمل ہے اس لیے ایمان کو اعمال میں داخل کیا گیا،نحوی لوگ جاننے پہچاننے اور ماننے کو افعالِ قلوب کہتے ہیں،چونکہ سارے اعمال کی صحت و قبولیت ایمان پر موقوف ہے اس لیے ایمان کا سب سے پہلے ذکر کیا گیا۔ﷲ کی راہ کا جہاد وہ جنگ ہے جس میں محض رب کو راضی کرنا اور اسلام کی اشاعت منظور ہو،مال، ملک،عزت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرنا فتنہ ہے جہاد نہیں۔شعر
جنگ شاہاں فتنہ و غارت گری است جنگ مؤمن سنت پیغمبری است
(بادشاہوں کی جنگ فتنہ وغارت گری ہے جبکہ مومن کی جنگ پیغمبر
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔)
چونکہ حج بدنی و مالی عبادات کا مجموعہ ہے اس لیے اس کا بھی بڑا درجہ ہے۔حج مقبول و مبرور وہ ہے جو لڑائی جھگڑے گناہ و ریاسے خالی ہو اور صحیح ادا کیا جائے۔“
حج مبرور کی نشانی:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”زیادہ صحیح یہ ہے کہ حج مبرور سے وہ حج مراد ہے جو خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوجائے اور اگرچہ قبولیت حج کا سبب وہی ہے جو علما نے بیان فرمایا ہے کہ ممنوعات سے بچے لیکن خدا کا فضل بہت وسیع ہے وہ کبھی بندے کی نیکی قبول کرلیتا ہے اور اس کے گناہوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمادیتا ہے ۔علمائے کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامنے یہ بھی فرمایا ہے کہ حج مبرور کی نشانی یہ ہے کہ حج سے واپس آنے کے بعد اُس کی عملی حالت پہلے سے بہتر ہوچکی ہو اور آخرت کی طرف رغبت بڑھ چکی ہو ،دنیا سے بے رغبتی میں اضافہ ہوچکا ہو اور گناہوں کی طرف جانے کا خیال دوبارہ اُس میں نہ آئے۔“حج افضل ہے یا جہاد:فقیہِ اعظم،حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث کے سیاق سے ثابت کہ جہاد حج سے افضل ہے لیکن یہ بھی مطلقاً نہیں جہاد اگر فرض عین ہوجائے مثلاً دشمن ہجوم کرکے کسی آبادی کو گھیر لیں تو بلاشبہ حج سے افضل ہے ۔اس عہد مبارک کی عمومی حالت یہی تھی ورنہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہےکہ حج جہاد سے افضل ہو۔مثلاً جہاد فرض عین نہیں یا ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ جہاد فرض ہی نہ ہو اور ایک شخص پر حج فرض ہوچکا ہے تو اس کے لیے حج ہی افضل ہوگا ۔مختصر یہ کہ اعمال میں فضیلت کی ترتیب کلی اور قطعی نہیں مقرر کی جاسکتی۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1273