Main Icon

باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 970

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جابرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّه اَرَادَ اَنْ يَغْزُوَ فَقَالَ: يَامعْشَرَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ! اِنَّ مِنْ اِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيْرَةٌ فَلْيَضُمَّ اَحَدُكُمْ اِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ اَوِ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِاَحَدِنَا مِنْ ظَهْرٍ يَحْمِلُهُ اِلَّا عُقبَةٌ كَعُقْبَةٍ یَعْنِیْ اَحَدَهُمْ قَالَ: فَضَمَمْتُ اِلَيَّ اثْنَيْنِ اَوْ ثَلَاثَةً مَالِیْ اِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ اَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِيْ .

عن جابر رضي اللہ عنه عن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم انه اراد ان يغزو فقال: يامعشر المهاجرين والانصار! ان من اخوانكم قوما ليس لهم مال ولا عشيرة فليضم احدكم اليه الرجلين او الثلاثة فما لاحدنا من ظهر يحمله الا عقبة كعقبة یعنی احدهم قال: فضممت الي اثنين او ثلاثة مالی الا عقبة كعقبة احدهم من جملي .

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک جنگ پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: ”اے مہاجرین اور انصار کے گروہ! تمہارے بھائیوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کے پاس نہ مال ہے نہ ان کا یہاں کوئی قبیلہ ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لے۔“چنانچہ ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنی سواری پر سوار نہ ہوتا تھا مگر باری باری یعنی (وہ دو تین افراد) باری باری سوار ہوتے تھے۔ حضرتِ جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لیے تھے اور میں اپنی باری میں اسی طرح سوار ہوتا جس طرح وہ اپنی باری میں میرے اونٹ پرسوار ہوتے تھے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث میں اپنے رفیق سفر کا خیال رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اگر ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص ہو جس کے پاس سواری نہ ہو یا کوئی ضروری چیز موجود نہ ہو تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسے اپنے ساتھ سوار کرلیں اور ضرورت کی چیز اسے مہیا کردیں جیسے ہم کہیں جارہے ہوں اور راستے میں کوئی ہم سے لفٹ مانگ لے تو ہمیں چاہیے کہ اسے لفٹ دے دیں یا کسی کی گاڑی میں کوئی خرابی ہوجائے تو اپنی گاڑی سے اس کی گاڑی باندھ کر اسے کسی ورکشاپ یا مکینک تک چھوڑدیں یا اگر ایندھن ختم ہوگیا ہے اور ہمارے پاس کچھ زیادہ ایندھن ہے تو اسے دے دیں یا پھر کسی پیڑول پمپ تک اسے لے جائیں ، اس طرح بہت سے طریقوں سے ہم سفر میں لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔مدنی گلدستہ’’خیر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جس کے پاس سواری ہو وہ اپنے ساتھ ایسے شخص کو سوار کرلے جس کے پاس سواری نہ ہو۔
(2) راستے میں کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہو تو ضرور اس کی مدد کرنی چاہیے۔
(3) جب بہت سے لوگ ایک ساتھ سفر کر رہے ہوں تو انہیں ایک دوسرے کا خیال کرنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے رفیق سفرکا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 970