باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ جس وقت صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمقامِ حِجر یعنی قومِ ثمود کے تباہ شدہ علاقے سے گزرنے لگے تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اَصحاب سےفرمایا:”ان عذاب میں مبتلا لوگوں کے پاس سے روتے ہوئے گزرو، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو اِن کے پاس سے مت گزرنا کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جس میں وہ لوگ مبتلا ہوئے۔“ایک روایت میں ہےکہ جب رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقامِ حِجر کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا: ”ان ظالم لوگوں کے مکانات کے پاس سے روتے ہوئے گزرو تاکہ تم پر وہ عذاب نہ آجائے جس میں وہ مبتلا ہوئے تھے۔“ پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے سر کو ڈھانپ لیا اور تیزی سے چلنے لگے حتّٰی کہ اُس وادی سے گزرگئے۔

عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّه عَنْهُمَا اَنَّ رسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَصْحَابِهِ يَعْني لمَّا وَصلُوا الْحِجْرَ : دِيَارَ ثمُوْدَ :لا تَدْخُلُوا عَلٰى هَؤُلاءِ الْمُعَذَّبِيْنَ اِلَّا اَنْ تَكُونُوْا بَاكِيْنَ فَاِنْ لَمْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ فَلَا تَدْخُلُوْا عَلَيْهِمْ لَا يُصِيْبُكُمْ مَا اَصَابَهُمْ.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ قَالَ:لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ: لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ اَنْ يُصِيْبَكُمْ مَا اَصَابَهُمْ اِلَّا اَنْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ ثُمَّ قَنَّعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاْسَهُ وَاَسْرَعَ السَّيْرَ حَتّٰى اَجَازَالْوَادِي.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 955 ، باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان