Main Icon

باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 947

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:اِذَادَفَنْتُمُوْنِی فَاَقِيْمُوْا حَوْلَ قَبْرِيْ قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُوْرٌوَ يُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتّٰى اَسْتَاْنِسَ بِكُمْ وَاَعْلَمَ مَاذَا اُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ ربِّي ْ.

عن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ قال:اذادفنتمونی فاقيموا حول قبري قدر ما تنحر جزورو يقسم لحمها حتى استانس بكم واعلم ماذا اراجع به رسل ربي .

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:”جب تم لوگ مجھے دَفْن کردو تو میری قبر کے پاس اتنی دیر ٹھہرے رہنا جتنی دیر ایک اونٹ کو نحر کرنے اور اُس کا گوشت تقسیم کرنے میں لگتی ہے تاکہ میں تم لوگوں سے اُنسیت حاصل کرسکوں اور یہ جان سکوں کہ میں نے اپنے رب کے بھیجے ہوئے فرشتوں کو کیا جواب دینا ہے ۔“

شرح حدیث

امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”قبر کے پاس قرآن کا کچھ حصہ پڑھنا مستحب ہے اور اگر پورا قرآن ختم کرلیا جائے توبہت اچھا ہے۔“قبر کے پاس ذِکر و اِستِغفارکرنا:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: قبر کے گِرد کھڑے رہنے کی وصیت سے مراد شاید ثابت قدمی وغیرہ کی دعا ہے۔ اونٹ کے نحر اور گوشت تقسیم ہونے کی مقدار ٹھہرنا تاکہ میں تمہارے سبب انسیت حاصل کروں یعنی تمہاری دُعا، ذکر، تلاوت اوراِسْتِغْفَارسے اُنسیت پاؤں۔قبر کے پاس حلقہ باندھ کر کھڑے ہونا سنت ہے:اس وصیت سے کچھ مسئلے معلوم ہوئے: بعد دفن قبر کے آس پاس حلقہ باندھ کر کھڑے ہونا سنت ہے۔ میت حاضرین کو جانتی پہچانتی ہے اور ان کی موجودگی سے اس کی وحشتِ قبر دور ہوتی ہے،اُنس حاصل ہوتاہے۔ حاضرین کا میت کو بعد دفن تلقین کرنا،یعنی کلمہ طیبہ یا اذان سناکر اسے سوالاتِ نکیرین کے جوابات بتانا سنت سے ثابت ہے۔آپ (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)کی وصیت کا منشاءیہ ہے کہ بعدِ دفن قبر کا گھیرا ڈال کرذِکراﷲکرنا تاکہ تمہاری موجودگی سے مجھے اُنس حاصل ہو اور تمہارے ذِکر سے نکیرین کو جوابات دینے میں آسانی ہو۔حدیث سے ثابت ہونے والے مسائل:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عذابِ قبر اور فرشتوں کا سوال جواب کرنا حق ہے اور یہی اہلِ حق کا مذہب ہے۔ دوسرے یہ کہ تدفین کے بعد کچھ دیر قبر کے پاس ٹھہرے رہنا مستحب ہے۔ تیسرا یہ کہ مُردہ قبر کے پاس ہونے والے معاملات کو سنتا ہے۔مدنی گلدستہ’’تلقین‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مُردہ قبر پر موجود حاضرین کو جانتا ہے۔
(2) دفن کے بعدتلقین( کلمہ طیبہ یا اذان سناکر اسے سوالاتِ نکیرین کے جوابات بتانا)سنت سے ثابت ہے۔
(3) میت کو حاضرین کی موجودگی سے اُنسیت حاصل ہوتی ہے۔
(4) عذابِ قبر حق ہے ۔
(5) ∞مُردہ قبر کے پاس ہونے والے معاملات کو سنتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں قبر میں منکر نکیر کے سوالات پر ثابت قدمی اور میت کو تلقین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 947