- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 32
باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 32
جلد 1
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی مَا لِعَبْدِی الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَاء ٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلَّا الْجَنَّۃُ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ، ۴/۲۲۵، حدیث:۶۴۲۴)
عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال یقول اللہ تعالی ما لعبدی المؤمن عندی جزاء اذا قبضت صفیہ من اہل الدنیا ثم احتسبہ الا الجنۃ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ، ۴/۲۲۵، حدیث:۶۴۲۴)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا اَبو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ اللہ عزَّوَجَلَّ فرماتا ہے، جب میں اپنے مومن بندے سے اس کی کوئی دنیوی محبوب چیز لے لوں ، پھر وہ صبر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
شرح حدیث
محبوب شے کے بدلے جنتحَافِظ اِبنِحَجَرعَسْقَلَانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتح الباریمیں فرماتے ہیں :’’صَفِیُّہ‘‘ سے مراد صرف بیٹا نہیں بلکہ یہ عام ہے اس میں بھائی باپ ہر وہ انسان یا چیز شامل ہے جس سے انسان محبت کرتا ہے اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے مُفْرَد (واحد) ذکر کیا ہے یعنی کسی کا ایک بچہ فوت ہو اس کے لئے بھی جنت ہے۔
اِحْتَسَبَہٗ سے مراد یہ ہے کہ محبوب چیز کے فوت ہوجانے پراللہ عزَّوَجَلَّسے ثواب کی امید کرتے ہوئے اس پر صبر کرے ۔
امام احمد و نسائیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہماسے مروی ہے کہ ایک شخص حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا: کیا تمہیں اس سے محبت ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں ! پھر اس کا بیٹا فوت ہوگیا حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانسے دریافت کیا کہ اس آدمی کا کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس کا بیٹا فوت ہوگیا۔ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم جنت کے کسی دروازے سے آؤاور وہ (فوت شدہ بچہ) پہلے سے تمہارے انتظار میں وہاں کھڑا ہو؟ صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاننے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیا یہ خوشخبری صرف اس شخص کے لئے ہے یا ہمارے لئے بھی ہے ؟ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : تم سب کے لئے بھی ہے ۔ (فتح الباری ،کتاب الرقاق،باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ فیہ سعد، ۱۲/۲۰۵، تحت الحدیث:۶۴۲۴)پسندیدہ چیز کے چلے جانے پر صبر کی فضیلتمراٰۃ المناجیح میں ہے : یہ حدیثِ پاک ہر پیاری چیز کو عام ہے ماں باپ، بیوی، اولاد حتی کہ فوت شدہ تندرستی وغیرہ جس پر بھی صبر کرے گااِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّجنت پائے گا۔ لہٰذا یہ حدیث بڑی بِشارت کی ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۲/۵۰۵)
شَرْحُ الطِّیْبِی میں مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں پیاری چیز کو دنیوی چیز کے ساتھ مقید کیا گیا ہے یعنی دنیوی چیز کے فوت ہونے پر صبر کیا تو اس کی جزا جنت ہے۔یہ اس لئے ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اگر کسی اُخرَوی چیز (یعنی جن چیزوں کی وجہ سے آخرت بہتر بنتی ہے جیسے دینی دوست ، دینی استاذ ، پیر ومرشد وغیرہ )کے فوت ہوجانے پر صبرکیا تو اس کی جزا جنت سے بھی زیادہ ہے یعنی’’ اللہ کی رضا ‘‘اور یہ سب سے بڑی جزا ہے ۔ ‘‘ (شرح الطیبی، کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت، ۳/۴۱۷، تحت الحدیث:۱۷۳۱)
سدا کیلئے ہوجا راضی خدایا ہمیشہ ہو لطف و کرم یاالٰہی
کائنات کی ہر ہر شے کا خالق و مالک خدائے بزرگ وبرتر ہے ۔ہر جگہ اسی قَادِرِ مُطْلَق (ہر چیز پر قادر) کا حکم چلتا ہے جیساکہ قراٰن میں ہے: ’’اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘(پ۷، الانعام:۵۷)ترجمۂ کنز الایمان :حکم نہیں مگراللہکا ۔ اِنسان اور اس کی تمام پسندیدہ اشیاء بھیاللہ عزَّوَجَلَّہی کی مِلک ہیں۔ اگر وہ اپنی مِلْک (مِلکِیَّت) میں سے کچھ لے لیتا ہے اور اُس پر بندہ صبر کرے تواللہ عزَّوَجَلَّاسکے صبر کے بدلے میں جنت کے انعام سے نوازتا ہے تو یہاللہ عزَّوَجَلَّکا اپنے بندوں پر فضلِ عظیم ہے ۔بیٹے کی موت پر مسکراہٹہمارے بزرگانِ دینرَحِمَھُمُ اللہ الْمُبِیْنصبر وشکر کے آئینہ دارتھے۔ رَبّ کی رِضا پر راضی رہتے اور کبھی بھی حرفِ شکایت زباں پر نہ لاتے ۔ سِلْسِلَہ عَالِیَہ چِشْتِیَہ کے عظیم پَیشْوا حضرتِ سَیِّدُنا فُضَیْل بِن عِیَاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّابکو کبھی کسی نے مسکراتے نہ دیکھا تھا،لیکن جس دن آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے شہزادے ولیِ کامل حضرتِ سَیِّدُنا علی بِن فُضَیْلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکا انتقال ہوا تو آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہمسکرانے لگے ، لوگوں نے عرض کی : یہ خوشی کا کونسا موقع ہے جو آپ مسکرارہے ہیں ؟فرمایا: میںاللہ عزَّوَجَلَّکی رِضا پر راضی ہو کر مسکرارہا ہوں کیونکہاللہ عزَّوَجَلَّکی رِضا ہی کے سبب میرے بیٹے کو قضا آئی ہے ۔رب عزَّوَجَلَّکی پسند اپنی پسند ۔ (مُلَخَّصًا تَذْکِرَۃُ الْاَوْلِیَائ،فارسی، ۱/ ۸۶)صبر کرنے والوں کا مرتبہحضرتِ سَیِّدُناابنِ عبّاسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہاللہ عزَّوَجَلَّنے سب سے پہلی چیز لَوحِ محفوظ میں یہ لکھی کہ میںاللہ ( عزَّوَجَلَّ) ہوں میرے سوا کوئی عبادت کا مستِحق نہیں !محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) میرے رسول ہیں۔ جس نے میرے فیصلے کوتسلیم کرلیااور میری نازل کی ہوئی مصیبت پر صبر کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کیا تو میں نے اس کو صِدّیق لکھا ہے اور اس کوصِدّیقین کے ساتھ اٹھا ؤں گا اور جس نے میرے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور میری نازِل کی ہوئی مصیبت پر صَبْرنہیں کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا وہ میرے سواجسے چاہے اپنامعبود بنالے ۔ (تفسیرقرطبی، پ۳۰، البروج، تحت الایۃ:۲۲، ۱۰/۲۱۰)صابرین کوعِلْم وحِلْم عطا کیا جاتا ہےحضرتِ سَیِّدُناابودرداءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے فرمایا کہ میں نے اپنے پیارے نبیِّ کریم، رء وف رحیم آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :اللہ عزَّوَجَلَّنے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہارے بعد ایسی اُمت پیدا کرنے والا ہوں کہ اگر انہیں کوئی پسندیدہ چیز ملے گی تواللہ عزَّوَجَلَّکی حمد کریں گے اور اگر کوئی ناپسندیدہ چیز ملے گی توثواب طلب کرتے ہوئے صبر کریں گے۔حالانکہ ان کے پاس نہ عِلْم ہو گا نہ حِلْم ۔ عرض کی :الٰہی! انہیں یہ خوبی عِلْمو حِلْم کے بغیر کیونکر ملے گی؟فرمایا: میں انہیں اپنے عِلْم و حِلْم سے دوں گا۔(شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، باب فی الصبر علی المصائب، ۷/۱۹۰حدیث:۹۹۵۳)تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’یا غوث‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول(1)اولاد یا اس جیسی محبوب شے کے فوت ہو جانے پراللہ عزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے ثواب کی امید پر صبر کرنا چاہیے کہ اس صبر پر جنت کی بِشارت ہے ۔
(2)اللہ عزَّوَجَلَّکے محبوب بندوں پر مصائب زیادہ آتے ہیں۔
(3)اللہ عزَّوَجَلَّکابہت بڑا کرم ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی چیز لے لے اور بندہ اس مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کو جزا میں جنت عطا فرماتا ہے ۔
(4) صبر کرنے والے کواللہ عزَّوَجَلَّعِلْم و حِلْم عطا فرماتا ہے ۔
(5) جواللہ عزَّوَجَلَّکے فیصلے کو دل سے قبول کرے اور اس پر صبر کرے تواللہ عزَّوَجَلَّاسے صِدِّیْقِیْن میں لکھ دیتا ہے۔٭٭٭٭٭٭٭٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 32