Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 39

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہِ خَیْرًا یُصِبْ مِنْہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِی ۔ وَضَبَطُوْا یُصَِبْ بِفَتْحِ الصَّادِ وَکَسْرِہَا(بخاری ، کتاب المرضی ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۴، حدیث:۵۶۴۵)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من یرد اللہ بہ خیرا یصب منہ ۔ رواہ البخاری ۔ وضبطوا یصب بفتح الصاد وکسرہا(بخاری ، کتاب المرضی ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۴، حدیث:۵۶۴۵)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّجس سے بھلائی کا ارداہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں مبتلا فرماتا ہے۔’’یُصَِبْ‘‘ صاد کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ آتا ہے۔

شرح حدیث

گناہوں کا کفارہعَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہشرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ حدیث کا معنی یہ ہے کہ مومن کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔‘‘ (شرح بخاری لابن بطال ،کتاب المرضی ،باب ماجاء فی کفارۃ المرضی، ۹/۳۷۱ )
عَلَّامَہ حَافِظ اِبِنْ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبارِی شرحِ بخاری میں فرماتے ہیں : اَبُو عُبَیْد ہَرَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّمسلمان کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تاکہ اس پر اسے ثواب دے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَوَّلسے مروی ہے کہ’’ جباللہ عزَّوَجَلَّکسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں مصائب میں مبتلا فرماتا ہے تو جس نے صبر کیا اس کے لئے صبر ہے اور جس نے جَزَع (بے صبری) کی اس کے لئے جَزَع ہے ۔‘‘(مسند امام احمد ، باقی مسند الانصار، ۹/۱۶۰، حدیث:۲۳۶۹۵) ان احادیثِ مبارکہ میں بندہ ٔ مومن کے لئے بڑی بشارتیں ہیں کیونکہ انسان کو کبھی نہ کبھی مرض یا غم کی وجہ سے تکلیف ضرور پہنچتی ہے اور مرض ، دکھ ،درد ،تکلیف بدنی یاقلبی تمام کی تمام مصیبتیں مومن کے گناہوں کو مٹاتی ہیں۔(فتح الباری، کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۱۱/۹۳، تحت الحدیث:۵۶۴۵)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : انسان صبر سے وہاں پہنچتا ہے جہاں دیگر عبادات سے نہیں پہنچ سکتا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۴۱۰)
حدیث ِمذکور میں مصیبت پر صبر کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ،مصیبت کا آنا خیر کی علامت ہے ، اس لئے جب کوئی مصیبت آن پڑے تو صبر سے کام لیا جائے ،شکوہ وشکایت کے الفاظ اپنی زبان پر نہ لائے جائیں اور نہ ہی لوگوں کے سامنے پریشانی کا اظہار کیا جائے ۔کیونکہ مصیبت پر صبر کرنا گناہوں کے مِٹنے اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
مدنی گلدستہ
پَنْجتَن پاک کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اسکی
وضاحت سے ملنے والے5مد نی پھول
(1)مصیبتوں کا آنا انسان کے حق میں بہتری کی علامت ہے ۔
(2) صبر وہ عظیم نیکی ہے جس کے ذریعے انسان وہ مقام و مرتبہ پالیتا ہے کہ دوسری نیکیوں کے ذریعے اسے حاصل نہیں کرسکتا۔
(3) مصائب میں وہی مسلمان مبتلا ہوتا ہے جس سے
اللہ عزَّوَجَلَّمحبت فرماتا ہے ۔
(4)مصائب وآلام سے گھبرا کر بے صبری نہیں کرنی چاہیے بلکہ صبر کر کے عظیم اجر حاصل کرنا چاہیے۔
(5) بے صبری سے مصیبتیں دور نہیں ہوتی بلکہ صبر پر ملنے والا اجر ضرور ضائع ہو جاتا ہے۔
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں اپنی دائمی محبت سے مالا مال فرمائے ،اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، سَیِّدُ الصَّابِرِیْنرَحْمَۃٌ لِّلْعٰالَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے ہمارا حشر صابرین کے ساتھ فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 39