Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 34

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ إِنَّ اللہَ قَالَ إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِیْ بِحَبِیْبَتَیْہِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُہُ مِنْہم ا الْجَنَّۃَ یُرِیْدُ عَیْنَیْہِ(بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، ۴/۶ حدیث: ۵۶۵۳)

عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول إن اللہ قال إذا ابتلیت عبدی بحبیبتیہ فصبر عوضتہ منہم ا الجنۃ یرید عینیہ(بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، ۴/۶ حدیث: ۵۶۵۳)

حدیث ترجمہ

’’ حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں :میں نے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے :جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر کرے تو میں اس کے عوض اسے جنت دونگا ۔ دومحبوب چیزوں سے مراد اس کی دونوں آنکھیں ہیں۔

شرح حدیث

حدیث میں فرمایا ’’حَبِیْبَتَیْہ‘‘ یعنی دو محبوب چیزیں دوسری حدیث میں اس کی وضاحت بھی فرمائی یعنی دونوں آنکھیں ، اس لئے کہ انسان کے بدن میں سب سے اہم اور محبوب عضو آنکھیں ہیں اور یہ بات کسی پر مَخْفِی (ڈھکی چھپی) نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ جب اس کی آنکھیں چلی جائیں پھر وہ صبر کرے ۔ ترمذی میں یہ الفاظ زائد ہیں ’’وَاحْتَسَبَ‘‘ مطلب یہ ہے کہ جس کی آنکھوں کی روشنی چلی جائے اور وہ صبر کرے اُس ثواب کی نیت کرتے ہوئے جس کا اللہ عزَّوَجَلَّ نے صابرین سے وعدہ فرمایا ہے تواس کو ان (آنکھوں ) کے عوض جنت ملے گی، لیکن اس کا صبر کرنا اس نیت سے خالی نہ ہو کیونکہ اَعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اور ظاہری طور پر صبر سے مراد یہ ہے کہ نہ وہ شکایت کرے، نہ پریشان ہو اور نہ ہی ناراضی کا اظہار کرے۔(عمدۃ القاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، ۱۴/۶۴۸، تحت الحدیث: ۵۶۵۳)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرْقاۃُ الْمفا تیح میں اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’یعنی جو نابینا ہوجائے (تو اللہ عزَّوَجَلَّ اسے جنت عطافرمائے گا)۔بعض روایات میں ایک آنکھ کی بینائی ختم ہونے پر بھی یہ فضیلت وارد ہوئی ہے ۔ آنکھوں کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا کہ انسان کو اپنے حواس میں سے ان دونوں سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی۔ اگرچہ اَصَحّ (زیادہ صحیح)یہ ہے کہ قوتِ سماعت ،قوتِ بصارت سے افضل ہے کیونکہ اُخرَوی اِعتبار سے قوتِ سماعت کے فوائد قوت بصارت پر غالب ہیں وہ اس لئے کہ کان ہی قراٰن و سنت ودیگر علوم کے اِدرَاک (حاصل کرنے) کا محل ہیں۔ ہاں دنیوی اعتبار سے آنکھوں کے فوائد غالب ہیں۔بعض روایات میں ایک آنکھ کے ضائع ہونے پر بھی جنت کی بشارت ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کا فَضل و کرم اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ۔تو جو شخص اس آزمائش میں مبتلا ہوجائے اسے چاہیے کہ وہ ان اَنبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام واَولیائے عِظام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کے حالات میں غور وفکر کرے کہ جب اُن پریہ آزمائش آئی تو وہ حضراتِ قدسیہ صبر و رَضا کے پیکر بنے رہے بلکہ وہ توایسی مصیبتوں کو نعمت شمارکیا کرتے تھے ۔حِبْرُ الْاُمَّۃ، (اُمَّت کے عالِم) ترجمانِ قراٰن، حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا جب نابینا ہو گئے تو یہ شعر پڑھا کرتے تھے :
اِنْ یُّذْھِبِ ﷲ مِنْ عَیْنِیْ نُوْرَ ھُمَا فَفِیْ لِسَانیْ وَقَلْبِی لِلْھُدٰی نُوْرٌ
ترجمہ : اگر اللہ عزَّوَجَلَّ میری آنکھوں کا نور لے گیا تو کیا ہوا؟ میری زبان اور دل میں تو ہدایت کا نور ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، ۴/۲۸، تحت الحدیث: ۱۵۴۹)
اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔حضرتِ سیدنااَبُو الْحَسَن علی بن خَلف اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :یہ حدیث مبارکہ اس بات پر دلیل ہے کہ مصیبت پر صبر کر نے کا ثواب جنت ہے ، دنیا میں کسی مسلمان کا نابینا ہو جانا اللہ عزَّوَجَلَّ کی اس پر ناراضی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ اللہ عزَّوَجَلَّ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ۔یا تو اُس سے کسی ایسی بُری چیز کو دور کردیتا ہے جس کا سبب اس کی آنکھیں بنتیں اور آخرت میں ایسا عذاب ملتا کہ اس پر صبر نہ ہو سکتا یا اس کے ایسے سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے کہ جسم کے کسی بہت ہی اہم حصے کا تلف ہی دنیا میں اس کا عوض ہو سکتا ہے تاکہ بروز قیامت وہ گناہوں سے پاک ہو کر اپنے ربِّ کریم عزَّوَجَلَّ سے ملاقات کرے ، یا پھر اس مصیبت کے ذریعے وہ اَجر کے اس درجے تک پہنچ جاتا ہے کہ جس تک وہ اپنے اَعمال کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تھا ۔ دیگر تما م مصیبتوں کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اَنبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام پر سب سے زیادہ مصیبتیں آتی ہیں پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر انکے بعد جوبہتر ہیں ، بندے کواسکی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔( ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب الصبر علی البلائ، ۴/۳۶۹، حدیث:۴۰۲۳) ایک حدیث پاک میں فرمایا گیاکہ دنیا میں عافیت سے رہنے والے لوگ جب مصیبت زدوں کو اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے دیا جانے والا ثواب دیکھیں گے توتمنا کریں گے کہ کاش! دنیا میں انکے جسم قینچیوں سے کاٹ دئیے جاتے ۔(معجم کبیر، ۱۲/۱۴۱، حدیث:۱۲۸۲۹) پس جو آنکھیں چلی جانے یا کسی اور عضوکے ضائع ہو جانے کی مصیبت میں مبتلا کیاگیا تو اسے چاہیے کہ اس مصیبت کو صبر وشکراور ثواب کی امید کے ساتھ قبول کرے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی جانب سے لئے جانے والے امتحان پر راضی رہے کیونکہ اس مصیبت کے بدلے اسے بہت اچھا اور بہت عظیم بدلہ ملے گا اور وہ جنت ہے ۔ (بخاری لابن بطال، کتاب المرضی، باب فضل من ذہب بصرہ، ۹/۳۷۷)
رضائے الٰہی کے طلب گار بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑتے بلکہ وہ مصائب و آلام پر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے عام لوگ نعمتیں ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ ،
عجیب و غریب مریضمنقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا یونُس عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ اَمین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا:میں رُوئے زمین کے سب سے بڑے عابِد( یعنی عبادت گزار) کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو ایک ایسے شخص کے پاس لے گئے جس کے ہاتھ پاؤں جُذام کی وجہ سے گل سڑ کر جُدا ہو چکے تھے اور وہ زَبان سے کہہ رہا تھا: ’’یا اللہ عزَّوَجَلَّ !تُو نے جب تک چاہا ان اَعضاء سے مجھے فائدہ بخشااور جب چاہا لے لیا اور میری اُمّید صِرف اپنی ذات میں باقی رکھی ، اے میرے پیدا کرنے والے! میراتَو مقصود بس تُوہی تُو ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا یونُس عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: اے جبرئیل ! میں نے آپ کونَمازی روزہ دار شخص دکھانے کاکہا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جواب دیا، اِس مصیبت میں مُبتَلا ہونے سے قَبل یہ اَیسا ہی تھا، اب مجھے یہ حُکم ملا ہے کہ اس کی آنکھیں بھی لے لوں۔ چُنانچِہ، حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اشارہ کیا اوراُس کی آنکھیں نکل پڑیں ! مگر عابِد نے زَبان سے وُہی بات کہی: ’’یا اللہ عزَّوَجَلَّ ! جب تک تُو نے چاہا اِن آنکھوں سے مجھے فائدہ بخشا اور جب چاہا انھیں واپَس لے لیا۔ اے خالِق عزَّوَجَلَّ ! میری اُمّید گاہ صِرف اپنی ذات کو رکھا ، میرا تومقصود بس تُوہی تُوہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عابِدسے فرمایا:آؤ ہم تم باہم ملکر دُعا کریں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ تم کو آنکھیں اور ہاتھ پاؤں پھر لوٹا دے اور تم پہلے ہی کی طرح عبادت کرنے لگو۔ عابِد نے کہا: ہرگز نہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : آخِر کیوں نہیں ؟ عابِد نے جواب دیا:’’ جب میرے ربّ عزَّوَجَلَّ کی رِضا اِسی میں ہے تو مجھے صِحّت نہیں چاہیے ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا یونُس عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا،واقِعی میں نے کسی اور کو اِس سے بڑھ کر عابِد نہیں دیکھا۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کہا، یہ وہ راستہ ہے کہ رِضا ئے الٰہی تک رسائی کیلئے اِس سے بہتر کوئی راہ نہیں۔ ( رَوْضُ الرَّیاحین، الحکایۃ السادسۃ والثلاثون بعد الثلاثمائۃ، ص۲۸۱)اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔سُبْحٰنَ اللہ !صابِر ہو تو اَیسا! آخِر کون سی مصیبت ایسی تھی جو اُن بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وُجُود میں نہ تھی حتّٰی کہ آنکھوں کے چَراغ بھی بجھا دیئے گئے مگر اُن کے صبرو اِستِقِلال میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا، وہ ’’ راضی بَرِضائے الٰہی کی اُس عظیم منزِل پر فائز تھے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ سے شفاطَلَب کرنے کے لئے بھی تیّار نہیں تھے کہ جب اللہ عزَّوَجَلَّ نے بیمار کرنا منظور فرمایا ہے تو تندُرُستی نہیں چاہیے۔‘‘ سُبْحٰنَ اللہ ! یہ انھیں کاحِصّہ تھا۔ایسے ہی اَہْلُ اللہ کا مَقُولہ ہے،نَحْنُ نَفْرَحُ بِالْبَلَاءِبِالْبلَاَ کمَایَفْرَحُ اَہْلُ الدُّنیا بِالنِّعَمِ۔یعنی ’’ ہم بلاؤں اور مصیبتوں کے ملنے پر ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے اہلِ دنیا دُنیوی نعمتیں ہاتھ آنے پر خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یاد رہے! مصیبت بسا اوقات مومِن کے حق میں رَحمت ہوا کرتی ہے اور صَبر کر کے عظیم اَجر کمانے اور بے حساب جنَّت میں جانے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ چُنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباّس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:’’ جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کی مغفِرت فرما دے۔‘‘ ( مجمع الزوائد،کتاب الزہد،باب فیمن صبر علی العیش الشدید۔۔۔الخ، ۱۰/۴۵۰،حدیث: ۱۷۸۷۲)ایک روایت میں ہے کہ ’’مسلمان کو مرض ،پریشانی، رنج ،اذیَّت اور غم میں سے جو بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چُبھتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اس کے گناہوں کا کفّارہ بنا دیتا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۳، حدیث:۵۶۴۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’جس نے اپنے ایک بچے کے مرجانے پر صبر کیا اللہ عزَّوَجَلَّ اس کیلئے اس کے نامۂ اعمال میں اُحد پہاڑ کے وزن کے برابر اَجر لکھ دیتاہے اورجس نے دو بچوں کے مرجانے پر صبر کیاتو اللہ عزَّوَجَلَّ (قیامت میں )اسے ایسانور عطافرمائے گاجو اُس کے آگے آگے ہوگا اور محشر کی ظلمت وتاریکی میں اس کے لئے روشنی کریگا اورجس نے اپنے تین بچوں کے مرجانے پر صبر کیا تو جہنم کو عبور کرتے وقت اِس کے لئے جہنم کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اورجس نے اپنی ایک آنکھ ضائع ہونے پر صبر کیا تووہ شخص اللہ عزَّوَجَلَّ کادیدار سب سے پہلے کریگااور اللہ عزَّوَجَلَّ نابینا ؤں کو خلعتِ خاص سے نوازے گااور تمام مصیبت زدوں سے پہلے ان کے لئے جھنڈے لہرائے جائیں گے اور جس نے اپنی دونوں آنکھوں کے ضائع ہونے پر صبرکیاہوگا اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے عرش کے نیچے گھر بنائے گااوراس کے لئے ایسی بادشاہت ہوگی جس کی کوئی تعریف نہیں کرسکتا۔‘‘(قرۃالعیون لابی اللیث سمرقندی، الباب السادس فی عقوب النائحۃ ملحق بروض الفائق، ص۳۹۵)
صبر نہ کرنا بھی مصیبت ہےحضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مُبَارَک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :’’مصیبت ایک ہوتی ہے لیکن جب وہ کسی پر پہنچے اور وہ صبر نہ کرے تو دو مصیبتیں بن جاتی ہیں ، ایک تو وہی مصیبت اور دوسری مصیبت صبر کے اجر کا ضائع ہونا اور یہ مصیبت پہلی سے بڑھ کر ہے ۔(درۃ الناصحین، المجلس الخمسون فی بیان صبر ایوب علیہ السلام، ص۱۹۳)
نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ صبر تین ہیں (1)مصیبت پر صبر(2) طاعت (نیکیوں )پر صبر(3)گناہوں سے صبر۔توجس شخص نے مصیبت پر صبر کیا اس کے لئے تین سو درجات ہیں ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔جس نے طاعت پر صبر کیا اس کے لئے چھ سو دَرَجات لکھے جاتے ہیں ،ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک زمین سے دوسری زمین تک کافاصلہ ہے ۔اورجس نے مصیبت پر صبر کیا اس کے لئے نوسو درجات ہیں ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان اس سے دوگنافاصلہ ہے جتنا زمین سے لیکر عرش تک کافاصلہ ہے ۔‘‘ (کنز العمال، الصبر علی البلایا والامراض والمصائب والشدائد، ۲/۱۱۱، حدیث: ۶۵۱۲)
نابینا بزرگ کی نظر وِلایَتحضرتِ سَیِّدُنا یحییٰ بن مَعاذ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب سے منقول ہے کہ: ایک مرتبہ میں نے ایک ویران جنگل میں بانس کی جھونپڑی کے قریب ایک ایسے نابینا بوڑھے شخص کو دیکھا جو کوڑھ کے مرض میں مبتلاتھا ،کیڑے اس کے جسم کو کھارہے تھے۔ مجھے اس پربہت ترس آیا میں نے کہا : اے بزرگ!اگر آپ چاہیں تو میں اللہ عزَّوَجَلَّ سے آپ کی صحت یا بی کی دعا کروں ؟اس نے کہا :اے یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ! میں اس حال میں بھی اپنے ربِّ کریم سے راضی ہوں اور سن ! کبھی بھی اَولیائے عِظام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام سے ٹکر نہ لینا ،اوراگر تجھے اپنی دعا کی قبولیت پر اتنا ہی نازہےتوپہلے اپنے لئے دعا کرکہ اللہ عزَّوَجَلَّ تیرے دل سے اناروں کی محبت نکال دے ۔یہ سن کر میں بہت حیران ہوا کیونکہ اس نے میرے اس عہد کو جان لیا تھاجو میرے ربّ عزَّوَجَلَّ اور میرے درمیان تھا کہ میرا نفس جس چیز کی خواہش کرے گا میں اسے ترک کر دوں گا،لیکن انار مجھے بہت پسند تھے، باوجود کوشش میں انہیں ترک نہ کرسکا تھا ۔ (اس نابینا بزرگ نے نظر ولایت سے ان کے دل کا حال جان لیا تھا ) ۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ الثالثۃ عشرۃ بعد المائۃ، ص۱۳۱)
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو ید ِبیضاء لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
آنکھوں سے پیاری رضائے الٰہیاپنے زمانے کے مشہور ولی حضرتِ سَیِّدُنا یونس بن یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عالَم شباب تھا، اکثروقت مسجد میں ہی گزراتے تھے ایک مرتبہ مسجد سے گھر آتے ہوئے اچانک ایک عورت پر نظر پڑی اور دل اس طرف مائل ہوا لیکن پھرفوراََہی شرمندہ ہو کر تائب ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں یوں دعا کی: ’’اے میرے پاک پروردگار عزَّوَجَلَّ ! آنکھیں اگرچہ بہت بڑی نعمت ہیں لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں یہ میری ہلاکت کا باعث نہ بن جائیں اور میں ان کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں ،میرے مالک !تو میری بینائی سلب کرلے۔‘‘ چنانچہ، ان کی دعاقبول ہوئی اور وہ نابینا ہو گئے ۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ السابعۃ والاربعون بعد المائۃ، ص۱۶۵)
سُبْحَانَ اللہ عزَّوَجَلَّ ! ہمارے اسلاف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَ جْمَعِیْن کیسے عظیم تھے کہ گناہوں سے حفاظت کے لئے نابینا ہونا بھی منظور کر لیتے ۔اے ہمارے پیارے اللہ عزَّوَجَلَّ !ا ن بزرگوں کے صَدقے ہمیں بھی نعمتو ں کی صحیح قَدرکرنے کی تو فیق عطا فرما ،بُرے اَعمال کی طرف رغبت دلانے والی چیز وں سے بیزار ی عطا فرما، بد نگاہی جیسی مُہْلِک (ہلاک کرنے والی) بیماری سے ہم اری حفاظت فرما ۔ اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نیچی نیچی نظروں کے صَدقے ہم اری بے باکیوں اور غفلتو ں سے در گزر فرما اور ہم اری دائمی مغفرت فرما۔
یاالٰہی رنگ لائیں جب مری بے باکیاں اُن کی نیچی نیچی نظرو ں کی حیا کا ساتھ ہو
نابیناؤں پر خصوصی کرمنابینا ہوجانااگرچہ بہت بڑی آزمائش ہے لیکن اس پر ملنے والے انعامات ایسے عظیم ہیں کہ ان پر نظر رکھنے والے کو صبر کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے، آنکھوں کا نفع دنیا تک محدود ہے ،مرتے ہی یہ نفع ختم ہوجا تا ہے لیکن آنکھوں کے بدلے ملنے والی جنت اور اس کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہونگیں اس لئے جو نابینا ہو جائے وہ نقصان میں نہیں بلکہ بہت فائدے میں رہتا ہے ۔ دوسروں کی نسبت نابینا کے حواس اور قوت مدرکہ بہت تیز ہوتی ہے یہ دنیا میں اس کے لئے پہلاانعام ہے۔مدنی گلدستہ’’صابرین ‘‘کے6 حروف کی نسبت سے حدیث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6 مدنی پھول
(1) جو اپنی بینائی چلی جانے پر صبر کرے تو اس صبر کے عوض اسکی جزا جنت ہے ۔
(2)جو ایک آنکھ ضائع ہو جانے پر صبر کرے تواس کے لئے بھی جنت کی بشارت ہے ۔
(3) مصیبت پر صبر نہ کرنا بھی ایک بڑی مصیبت ہے ۔
(4) ہر وہ مصیبت جس پر صبر کیا جائے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔
(5) نیک بند ے مصائب پر خوش ہوتے اور انہیں اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے نعمت شمار کرتے ہیں۔
(6) مسلمان پر مصائب کا آنا اللہ عزَّوَجَلَّ کی ناراضی کی علامت نہیں بلکہ رحمت ِخداوندی کے اس کی طرف متوجہ ہونے کی علامت ہے۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں ہر دم صابر وشاکر رکھے ،اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے اورہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے !
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 34