Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 50

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا قَالَ: قَدِمَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ فَنَزَلَ عَلٰی ِابْنِ أَخِیْہِ الْحُرِّ بْنِ قَیْسٍ۔وَکَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِیْنَ یُدْنِیْہم عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، وَکَانَ الْقُرَّائُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَمُشَاوَرَتِہِ کُہُوْلًا کَانُوْا أَوشُبَّانًا۔ فَقَالَ عُیَیْنَۃُ لِابْنِ أَخِیْہِ: یَا ابْنَ أَخِیْ! لَکَ وَجْہٌ عِنْدَ ہَذَا الْأَمِیْرِ فَا سْتَأْذِنْ لِیْ عَلَیْہِ، فَاسْتَأْذَنَ فَاَذِنَ لَہُ عُمَرُ۔فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: ھِیَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَوَاللہِ! مَا تُعْطِیْنَا الْجَزْلَ وَلَا تَحْکُمُ فِیْنَا بِالْعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُرَضِیَ اللہُ عَنْہُ حَتّٰی ہم أَنْ یُوْقِعَ بِہٖ ،فَقَالَ لَہُ الْحُرُّ: یَا أَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ! إِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ لِنَبِیِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ{خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ }وَإِنَّ ہَذَا مِنَ الْجَاہِلِیْنَ، وَاللہِ مَا جَاوَزَہَا عُمَرُحِیْنَ تَلَاہَا، وَکَانَ وَقَّافًا عِنْدَ کِتَابِ اللہِ تعالٰی۔رَوَاہُ الْبُخَارِی (بخاری، کتاب التفسیر، الاعراف، ۳/۲۲۷، حدیث:۴۶۴۲، بتغیر قلیل)

عن ابن عباس رضی اللہ عنہم ا قال: قدم عیینۃ بن حصن فنزل علی ابن اخیہ الحر بن قیس۔وکان من النفر الذین یدنیہم عمر رضی اللہ عنہ، وکان القرائ اصحاب مجلس عمر رضی اللہ عنہ ومشاورتہ کہولا کانوا اوشبانا۔ فقال عیینۃ لابن اخیہ: یا ابن اخی! لک وجہ عند ہذا الامیر فا ستاذن لی علیہ، فاستاذن فاذن لہ عمر۔فلما دخل قال: ھی یا ابن الخطاب! فواللہ! ما تعطینا الجزل ولا تحکم فینا بالعدل، فغضب عمررضی اللہ عنہ حتی ہم ان یوقع بہ ،فقال لہ الحر: یا امیرالمؤمنین! إن اللہ تعالی قال لنبیہ صلی اللہ علیہ وسلم{خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاہلین }وإن ہذا من الجاہلین، واللہ ما جاوزہا عمرحین تلاہا، وکان وقافا عند کتاب اللہ تعالی۔رواہ البخاری (بخاری، کتاب التفسیر، الاعراف، ۳/۲۲۷، حدیث:۴۶۴۲، بتغیر قلیل)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبدُ اللہبن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمافرماتے ہیں کہعُیَیْنَہ بن حِصْنِآئے اور اپنے بھتیجےحُرّبِنْ قَیْسکے پاس ٹھہرے۔حُرّبِنْ قَیْس اَمِیْرُ المُوْمِنِیِنحضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے مُقَرَّبِیْن میں سے تھے۔ قُرَّاء حضرات،اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے جَلِیْس(ساتھ بیٹھنے والے) اور مُشِیْر (مشورہ دینے والے)تھے، کچھ بوڑھے تھے کچھ جوان ، عُیَیْنَہ نے اپنے بھتیجے سے کہا ، بھتیجے ! اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ) کے ہاں تیری عزت ہے، میرے لیے وہاں جانے کی اجازت طلب کر، انہوں نے اجازت مانگی تو اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اجازت دے دی، جب حاضر ہوئے تو عرض کی: ’’اے عمر بن خطاب(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ) !اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! نہ تو آپ ہمیں زیادہ دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں ‘‘ اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُغضب ناک ہوگئے قریب تھا کہ انہیں سزا دیتے۔( یہ دیکھ کر) حضرتحُرّبِنْ قَیْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی ’’ اے اَمیْرُ الْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ!اللہ عزَّوَجَلَّنے اپنے نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرمایا :’’ عفو و درگزر کرو، نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں سے روگردانی کرو۔‘‘اور یہ نا سمجھ لوگوں میں سے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں :اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم اس آیت کی تلاوت کے بعد اَمِیْرُ المُوْمِنِیِن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے کچھ حرکت نہ کی اور آپاللہ عزَّوَجَلَّکی کتاب پر بہت عمل کرنے والے تھے ۔

شرح حدیث

’’عُیَیْنَہ‘‘ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے طُلَیْحَہ بِنْ اَسَدِی کی موافقت کی جس نے نبوت کا دعوی کیا تھا، جب مسلمانوں نے مرتدین پر دھاوا بولا تو طُلَیْحَہ کَذَّاب فرار ہوگیا اور عُیَیْنَہ کو پکڑ کر اَمِیْرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے پاس لایا گیا آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اسے توبہ کرائی تو وہ توبہ کر کے مسلمان ہوگئے ۔(اُسدُ الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ۴/۳۵۴) یہ دیہات کے رہنے والے تھے ۔ ایک مرتبہ اپنے بھتیجے حضرتِ سَیِّدُناحُرّبِنْ قَیْس بِنْ حِصْن فَزَارِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے پاس آئے اورکہا کہ اے میرے بھتیجے! تم اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے رُفقامیں سے ہو، ان کے ہاں تمہاری عزت و وجاہت ہے مجھے ان کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ،حضرتِ سَیِّدُنا ابن قیسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُانہیں اپنے ساتھ دربارِ فاروقی میں لے گئے ، وہاں پہنچ کر عُیَیْنَہ نے کہا: ’’اے عمر بن خطاب (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ) !آپ ہمیں نہ تو زیادہ مال دیتے ہیں اور نہ ہی ہمارے ساتھ انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔یہ سن کر آپ کو شدید غصہ آیا کیونکہ آپ پر مستحقین کو ان کا حق نہ دینے اور معاملات میں انصاف نہ کرنے کا سنگین الزام لگایا گیاتھا ۔چنانچہ، آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے اسے سزا دینے کا ارادہ کیا ، تو حضرتِ سَیِّدُنَاحُرّ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی: یااَمیْرَ الْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ!بے شک !اللہ عزَّوَجَلَّنے اپنے نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حِلْم اور عَفْو و دَرگُزَر پر ابھارتے ہوئے فرمایا :’’اے محبوب معاف کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔‘‘ جب حضرتِ سَیِّدُنَاحُرّرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے یہ آیت تلاوت کی تو حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اس آیت کے خلاف نہیں کیا( اور اسے معاف کر دیا)حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن زبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :یہ آیت لوگوں کے اَخلاق کے بارے میں نازل ہوئی ۔ مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُناجبریلعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامسے فرمایا یہ کیا ہے ؟ عرض کی: مجھےنہیں معلوم میں پوچھ کے آتا ہوں۔پھر واپس آئے تو عرض کی:’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کارَبّ عزَّوَجَلَّآپ کو حکم دیتا ہے کہ جو آپ سے قطع تعلق کرے آپ اس سے صلہ رحمی کریں اور جو آپ سے کوئی چیز روکے آپ اسے عطا کریں اور جو آپ پر ظلم کرے آپ اس سے درگزر فرمائیں۔‘‘ تفسیرِ بغوی میں حضرتِ سَیِّدُنا جعفررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے منقول ہے کہ قراٰن کریم میں اخلاق کے بارے میں اس سے زیادہ جامع آیت نازل نہیں ہوئی۔‘‘ (ملخصاًدلیل الفالحین، باب الصبر، ۱/۲۰۱۔۱۹۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناعمر فاروق
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے کیسا صبراختیار فرمایا، آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُعدل وانصاف کے پیکر تھے ۔اَعرابی کی الزام تراشی پر آپ کو بہت غصہ آیالیکن حضرت سَیِّدُناحُرّرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے فرمانِ خداوندی سن کر آپ کا غصہ جاتا رہا اور انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ نے اُس اعرابی کومعاف کردیا ۔
یہ حقیقت ہے کہ نیک لوگ اپنی ذات کے لئے کسی پر غصہ کا نِفاذ نہیں کرتے بلکہ کسی نہ کسی اَحسن تدبیر سے اپنے غصے کو رضائے الٰہی کے لئے روک لیتے ہیں۔
چنانچہ، اس ضمن میں 4واقعات ملاحظہ فرمائیے!
(1) تین جملوں کے ذریعے غصے کا علاجحضرتِ سَیِّدُنامُعْتَمِرْ بِنْ سُلَیْمَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں : تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص کوبہت زیادہ غصہ آتا تھا اس نے تین کاغذ اپنے ساتھیوں کو دئیے اور پہلے سے کہا کہ جب مجھے کسی پر غصہ آئے تو یہ کاغذ مجھے دے دینا، دوسرے سے کہا کہ جب میرا غصہ تھم جائے تو مجھے یہ کاغذ دے دینا، تیسرے سے کہا کہ جب میرا غصہ بالکل ختم ہوجائے تب مجھے یہ کاغذ دینا۔ ایک دن اسے کسی پر بہت زیادہ غصہ آیا تو اسے پہلا کاغذ دیا گیا اس میں لکھ تھا ’’اس غصے سے تیرا کیا تعلق ؟ تو خدا نہیں بلکہ عام سا انسان ہے، عنقریب تیرے جسم کا بعض حصہ دوسرے بعض کو کھا جائے گا‘‘ یہ پڑھ کر اس کا غصہ قدرے ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر اسے دوسرا کا غذ دیا گیا تو اس میں لکھاتھا’’ تو زمین والوں پر ر حم کر آسمانوں کا مالک تجھ پر رحم فرمائے گا ‘‘ پھر تیسرا رقعہ دیا گیا تو اس میں لکھا تھا ’’ لوگوں کواللہ عزَّوَجَلَّکے حق کے ساتھ پکڑو! ان کی اصلاح اسی بات سے ہوگی۔ حدود (شرعی سزاؤں )کو نہ چھوڑو! (احیاء العلوم، ۳/۲۱۶)(2) بُرد باری ہر درد کا علاج ہےکسی دانا(عقل مند ) کی زوجہ بہت بد اخلاق تھی ایک مرتبہ اس کا ایک دوست ملاقات کے لئے آیا۔جب کھانا رکھا گیا تو اس داناشخص کی اَہلیہ اپنے شوہر کو گالیاں دیتے ہوئے کھانا اٹھا کر لے گئی اس کے دوست نے یہ منظر دیکھا تواسے بہت غصہ آیا۔ چنانچہ، وہ ناراض ہو کر وہاں سے چلا گیا ،دانا شخص اس کے پیچھے گیا اور کہا :’’ کیا تمہیں وہ دن یادہے جب ہم تمہارے گھر کھانا کھا رہے تھے اچانک ایک مرغی دستر خوان پر گری جس نے سارا کھانا خراب کردیا تھا لیکن ہم میں سے کسی کو بھی اس پرغصہ نہ آیا۔‘‘ دوست نے کہا :’’ہاں ایک دن واقعی ایساہو ا تھا۔‘‘ دانا شخص نے کہا : ’’بس میری عورت کے عمل کو بھی اس مرغی کے عمل کی طرح سمجھ لو۔ ‘‘یہ سن کر اس کا غصہ ختم ہو گیا وہ واپس اپنے دوست کے ساتھ آیا اور کہا :’’ حلم ( بُرد باری) ہر درد کا علاج اور شفا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم، ۳/۲۲۱)(3) تَصَوُّرْ کے ذریعے غصے کا علاجایک عقل مند و نیک شخص کے پاؤں پر کسی نے کوئی چیز ماری جس سے اُسے کافی تکلیف ہوئی لیکن اُس نے غصہ نہ کیا جب اُس سے وجہ پوچھی گئی توفرمایا :’’ میں نے یہ تصور کر لیا تھاکہ کسی پتھر سے میرا پاؤں پھسل گیا ہے، لہٰذامیں نے اپنا غصہ ختم کردیا۔‘‘ (احیاء العلوم، ۳/۲۲۱)اللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(4)مسکین پر رحم کرو!منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ہر بادشاہ کے ساتھ ایک دانا شخص ہوتا تھا ، جب بادشاہ کوغصہ آتا تو وہ اسے ایک کاغذ دیتا جس پر لکھا ہوتا ’’ مسکین پر رحم کرو اور موت سے ڈرو اور آخرت کو یاد رکھو! ‘‘بادشاہ اسے پڑھتا تو اس کا غصہ ٹھنڈاہوجاتا ۔(احیاء العلوم، ۳/۲۱۴)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’علی‘‘ کے3 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول
(1) جو جتنا زیادہ نیک ہوتا ہے
اللہ عزَّوَجَلَّاسے اتنی ہی زیادہ قوت برداشت بھی عطا فرماتا ہے ۔
(2)انسان کو اپنے غصے پر قابو پانے کے لئے پہلے ہی سے کوئی تدبیر کرلینی چاہیے جو بوقت ضرورت اس کے غصے کو روکے ۔
(3) جو
اللہ عزَّوَجَلَّکی مخلوق پر رحم کرتا ہے رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں اچھی اچھی تدابیرکے ساتھ اپنے غصے کوروکنے کی توفیق عطا فرمائے !اپنے قہر وغضب سے بچا کرہم یشہ اپنی رحمت ورضوان کے سائے میں رکھے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 50