Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 37

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ھَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا اَذًی وَلَا غَمٍّ ،حَتَّی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُھَا اِلَّا کَفَّرَ اللہُ بِھَا مِنْ خَطَایَاہُ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔(بخاری، کتاب المرضی ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۳، حدیث:۵۶۴۱)وَالْوَصَبُ اَلْمَرَضُ

عن ابی سعید وابی ھریرۃ رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ما یصیب المسلم من نصب ولا وصب ولا ھم ولا حزن ولا اذی ولا غم ،حتی الشوکۃ یشاکھا الا کفر اللہ بھا من خطایاہ۔متفق علیہ۔(بخاری، کتاب المرضی ، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۳، حدیث:۵۶۴۱)والوصب المرض

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری اور حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ’’مسلمان کو تھکاوٹ ، بیماری، غم، تکلیف وغیرہ حتی کہ کانٹا بھی چُبھ جائے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ ‘‘ ’’وَصَب‘‘ بیماری کو کہتے ہیں۔

شرح حدیث

علامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : انسان کو اس کے ارادے کے مطابق آیندہ آنے والے خطرات سے جو تکلیف پہنچتی ہے اسے ھَمّ کہتے ہیں۔ ماضی میں جو تکلیف پہنچی ہو اُسے حُزْن کہتے ہیں ،ھَمّ اور حُزْن یہ دونوں باطنی تکلیفیں ہیں۔ غیر کی زیادتی سے جو تکلیف پہنچے اسے اَذَی (اذیت) کہتے ہیں۔ ایسی چیز جس سے دل تنگ ہو جائے اسے غم کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری، کتاب المرضٰی، باب ماجاء فی کفارۃالمرض، ۱۴/۶۳۹، تحت الحدیث:۵۶۴۱)
فَتْحُ الْبارِی شرح بخاری میں ہے :اِمَام قَرَافِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الکَافِی فرماتے ہیں :’’یقینا مصائب وآلام گناہوں کا کفارہ ہیں ، چاہے ان کے ساتھ بندے کی رضا ملی ہوئی ہو یا نہ ہو ۔ ہاں مصائب پر راضی رہنے کی صورت میں یہ مصائب بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں جبکہ بغیر رضا کے کم گناہوں کا کفارہ ۔ تحقیق یہ ہے کہ مصیبت جتنی بڑی ہو گی اتنے ہی بڑے گناہوں کا کفارہ ہوگی اگر بندہ مصیبت پر راضی رہے تو اس پر بھی اُسے (الگ) اجر دیا جائے گا۔ اگر مصیبت زدہ پر کوئی گناہ نہ ہو تواسے اس کے بدلے اتنا ثواب دے دیا جائے گا۔ (فتح الباری، کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارۃ المرض،۱۱/۹۰، تحت الحدیث:۵۶۴۱)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ خلاصۂ حدیث یہ ہے کہ صابر مسلمان کی تھوڑی تکلیف بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، صوفیائے کرام ( رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام ) فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو عبادتوں میں لذت نہ آئے، اُس پر اُسے غم ہو یہ بھی گناہوں کی معافی کا باعث ہے، عبادات کی لذت پانے والا لذت کے لئے بھی عبادت کرتا ہے مگر اس سے محروم (شخص )خالص اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے( عبادت کرتا ہے )۔‘‘ ( مراٰۃ المناجیح ، ۲/۴۱۰)
مومن کے لئے خیر ہی خیر ہےاللہ عزَّوَجَلَّ کا خاص کرم ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب میں مبتلا کر کے ان مصائب کو ان کے گناہوں کا کفارہ بنادیتا ہے، دنیا میں کسی بھی انسان کی ہم یشہ ایک جیسی حالت نہیں رہتی۔ کبھی خوشی ہوتی ہے تو کبھی غمی ،کوئی دن اس کے لئے نویدِ مسرت لے کر آتا ہے تو کوئی پیغامِ غم۔ کبھی اس کی ذات پر مصیبت آتی ہے تو کبھی اس کے کاروبار پر، کبھی بدن پر تو کبھی گھر بارپر، اس طرح انسان پر بے شمار مصیبتیں آتی ہیں ، لیکن مسلمان کے لئے ان تمام معاملات میں خیر ہی خیر ہے اگر اسے کوئی مصیبت پہنچے اور و ہ صبر کرے تو یہ اس کے لئے بھلائی ہے اور خوشی ملنے پر رَبّ تعالیٰ کا شکر کرے تو یہ بھی بھلائی ہے ۔الغرض صابر و شاکر مسلمان ہر حال میں کامیاب ہے ۔مدنی گلدستہ’’احمد‘‘ کے 4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1)مسلمان پر آنے والی ہر مصیبت اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔
(2) مصیبت جتنی بڑی ہو اتنے ہی بڑے گناہ کا کفارہ بنتی ہے ۔
(3) جس مصیبت پر رضا کے ساتھ صبر کیا جائے اس کا ثواب اس مصیبت سے زیادہ ہے جو بغیر رضاکے ہو۔
(4) نیک اعمال چھوٹ جانے پر جو غم ہو تا ہے وہ غم بھی گناہوں کے لئے کفارہوتا ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 37