- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 43
حدیث مبارکہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہٖ خَیْرًا عَجَّلَ لَہُ الْعُقُوْبَۃَ فِی الدُّنْیَا، وَإِذَا أَرَادَ اللہُ بِعَبْدِہِ الشَّرَّ أَمْسَکَ عَنْہُ بِذَنْبِہٖ حَتّٰی یُوَافِیَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
وَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’ إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَائِ، وَإِنَّ اللہَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاہم ، فَمَنْ رَضِیَ فَلَہُ الرِّضٰی، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ‘‘۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِی وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ (ترمذی، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ، ۴/ ۱۷۸، حدیث: ۲۴۰۴، بتغیر قلیل)
عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا اراد اللہ بعبدہ خیرا عجل لہ العقوبۃ فی الدنیا، وإذا اراد اللہ بعبدہ الشر امسک عنہ بذنبہ حتی یوافی بہ یوم القیامۃ۔
و قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم:’’ إن عظم الجزائ مع عظم البلائ، وإن اللہ إذا احب قوما ابتلاہم ، فمن رضی فلہ الرضی، ومن سخط فلہ السخط‘‘۔ رواہ الترمذی وقال حدیث حسن (ترمذی، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الصبر علی البلائ، ۴/ ۱۷۸، حدیث: ۲۴۰۴، بتغیر قلیل)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو جلد ہی دنیا میں سزا دے دیتا ہے اور جب کسی بندہ کے ساتھ برائی کا قَصد فرماتا ہے تو گناہ کے باوجود اس کی سزا روک رکھتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔
نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بھی فرمایا کہ ثواب کی زیادتی مصائب کی زیادتی پر موقوف ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے اسے آزماتا ہے پس جو (اس حالت میں ) خوش رہا اس کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا ہے اور جو ناخوش ہوا اس کے لئے ناراضی ہے۔ امام ترمذی ( عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی ) نے فرمایا کہ یہ حدیث حَسَن ہے
شرح حدیث
پہلے رب راضی ہوتا ہے پھر بندہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرقاۃ شرح مِشکاۃ میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : اللہ عزَّوَجَلَّ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی اس کے گناہوں کی سزا دے دیتا ہے کیونکہ آخرت کا عذاب بہت سخت اور ہم یشہ رہنے والا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا اُس سے روک رکھتا ہے یعنی آخرت میں اسے اس کے گناہوں کی پوری پوری سزا دے گا ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ جب کسی قوم سے محبت کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو انہیں مصیبت میں مبتلا فرماتاہے تو مصیبت دوستی کے لئے ہے اور اس میں مبتلا اَولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کو کیا جاتا ہے ، پس جو اس مصیبت پر راضی رہا تو اس کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا ہے۔ یا یہ معنی ہیں کہ اسے دنیا اور آخرت میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل ہوگی اور جس نے مصیبت پر صبر نہ کیا اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے فیصلے پر راضی نہ رہا تو اس کے لئے دنیا میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی ناراضی اور آخرت میں اس کا غضب ہے ۔ علامہ مِیْرَک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْحَقّ فرماتے ہیں : مصیبت کا آنا محبت کی علامت ہے پس جو مصیبت آنے پر راضی رہا تو وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے اور جو مصیبت پر ناراض ہوا تو وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا ناپسندیدہ بندہ بن جاتا ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض… الخ، ۴/۴۲، تحت الحدیث: ۱۵۶۶)
علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :اس سے پتا چلا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا بندے کی رضا سے پہلے ہے پہلے رب راضی ہوتا ہے پھر بندہ راضی ہوتا ہے جیسا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے :رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ(پ۳۰، البینۃ:۸)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی۔
(شرح الطیبی، کتاب الجنائز ، باب عیادۃ المریض…الخ، ۳/۳۲۴، تحت الحدیث:۱۵۶۶)مصیبت گناہوں کا کفارہ ہےاللہ عزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا اسے دنیا ہی میں دے دیتاہے کبھی خود اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے کبھی دوست کی موت کی شکل میں کبھی مال کے ضائع ہونے کی صورت میں ، اگر وہ تقدیر سے نہ اُکتائے تو یہ مصیبتیں اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور قیامت کے دن اسے پورا اَجر دیا جائے گا،وہ گناہوں سے پاک ہوجائے گا۔اوراگر وہ گناہ گار نہ ہو اور اس پر مصیبت نازل ہو تو وہ مصیبت اس کے درجات کی بلندی کا سبب بن جاتی ہے اسی پر اس حدیث کو محمول کیا جائے گا جس میں فرمایا ’’اَشَدُّالنَّاسِ بَلَائً اَ لْاَنْبِیَائُ‘‘ (یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب انبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَام پر آتے ہیں )۔ حدیثِ مذکور میں لوگوں کو تقدیر میں لکھی ہوئی مصیبتوں پر صبر کی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ لوگوں کے لئے صبر کرنا ہی بہتر ہے۔ پس جس نے صبر کیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے تقدیر پر صبر نہ کیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ کی لکھی ہوئی تقدیر بدل تو سکتی نہیں ہے پس اس نے بلندی ٔدرجات اور گناہوں کی معافی جیسی نعمت کو گنوا دیا۔(ملتقطا، دلیل الفالحین، باب الصبر،۱/۱۸۷، تحت الحدیث:۴۳)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : گناہوں پر دنیا میں پکڑ ہوجانا اللہ عزَّوَجَلَّ کی رحمت کی علامت ہے اور باوجود سرکشی وزیادتیِ گناہ کے ہر طرح کا عیش ملنا غضبِ الٰہی کی نشانی ہے کہ اس کا منشا یہ ہے کہ تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دی جائے ( اﷲ∞ کی پناہ) مقصد یہ ہے کہ کسی مومنِ صالح کو بلاؤں میں گرفتار دیکھ کر یہ نہ سمجھ لو کہ یہ بُرا آدمی ہے، نیک لوگوں پر بڑی مصیبتیں بڑے درجات ملنے کا ذریعہ ہیں حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کافر و بدکار پر بڑی بلا آجائے تو اس کا درجہ بڑا ہوگیا، یہ سب کچھ مومن کے لیے ہے ، مُردے کو بہترین دوائیں دینا بے کار ہے، جڑ کٹے درخت کی شاخوں کو پانی دینا بے سود، اگر کافر عمر بھربھی مصیبت میں رہے، جب بھی دوزخی ہے اوراگر مومنِ صالح عمر بھر آرام میں رہے جب بھی جنتی۔ ہاں تکلیف والے مومن کے درجے زیادہ ہوں گے بشرطیکہ صابر اور شاکر رہے ۔ خیال رہے کہ رضا یا ناراضی دل کا کام ہے، لہٰذا تکلیف میں ہائے وائے کرنا اس کے دفع کی کوشش کرنا یا مریض و مظلوم کا حکیم و حاکم کے پاس جانا ناراضی کی علامت نہیں ، ناراضی یہ ہے کہ دل سے سمجھے کہ رب نے مجھ پر ظلم کیا میں اس بلا کا مستحق نہ تھا یہاں صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندے کی رضا رب کی رضا کے بعد ہے پہلے اللہ عزَّوَجَلَّ بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہو کر اچھے اعمال کی توفیق پاتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/۴۲۲)صَبْر کی فضیلت پر مشتمل 4روایات:
(1) مومن کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہےحضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ’’ مومن کے معاملے پرتعجب ہے کہ اس کا سارامعا ملہ بھلائی پرمشتمل ہے اور یہ صرف مومن کے لئے ہے جسے خو شحالی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتاہے کیونکہ اسکے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تنگدستی پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔‘‘(مسلم، کتاب الزھد والرقائق ،باب المومن امرہ کلہ خیر، ص ۱۵۹۸، حدیث:۲۹۹۹)(2) سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیںحضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقا ص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:’’ یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! سب سے زیادہ مصیبتیں کن لوگوں پر آئیں ؟‘‘ فرمایا:’’ انبیا ئے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام پر پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر انکے بعد جوبہتر ہیں ، بندے کو اسکی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر وہ دین میں سخت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں کمزور ہوتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کی دینداری کے مطابق اسے آزماتا ہے۔ بندہ مصیبت میں مبتلاہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ دنیا ہی میں اسکے سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔‘‘( ابن ماجہ ، کتاب الفتن ، باب الصبر علی البلاء ، ۴/۳۶۹، حدیث: ۴۰۲۳)(3) صبر ویقینحضرتِ سَیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے راویت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ ’’صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے ۔‘‘ (التر غیب والترھیب ،کتاب الجنا ئز ، باب التر غیب فی الصبر۔۔۔الخ، ۴/۱۴۰، حدیث:۵)(4)دنیا سے بے رغبتی کیا ہے؟حضرتِ سَیِّدُنا اَبو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ’’ حلال کو حرام ٹھہرا لینااور مال کو ضائع کردینا دنیا سے بے رغبتی نہیں ،بلکہ دنیا سے بے رغبتی تو یہ ہے کہ تمہیں اپنے پا س موجود مال سے زیادہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے خزانوں پر بھروسہ ہواور جب تمہیں مصیبت میں مبتلا کیا جائے تو تم اس کے ثواب میں زیادہ رغبت رکھو اور یہ تمنا ہو کہ کاش یہ میرے لئے باقی رہے۔‘‘(ترمذی، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الزھادۃ فی الدنیا، ۴/ ۱۵۲، حدیث:۲۳۴۷)مد نی گُلد ستہ
’’عثمان ‘‘کے 5حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے5 مدنی پھول(1) گنہگار مسلمان کو دنیا ہی میں گناہوں کی سزامل جانا بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی نعمت ہے ۔
(2) ہر چھوٹی بڑی مصیبت پر صبر کرنا چاہیے کہ جتنی بڑی مصیبت ہوگی اس کی جزا بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔
(3) بے رغبتی کی اصل اللہ عزَّوَجَلَّ پر بھروسہ ہے ۔
(4) بندے کی رضا رب کی رضا کے بعد ہے پہلے اللہ عزَّوَجَلَّ بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہو کر اچھے اعمال کر تا ہے ۔
(5)مصائب پر صبر کرنے کا اَجر صرف مومنین کے لئے ہے کافروں کے لئے کوئی اجر نہیں۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 43