Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 27

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِیْ یَحْیٰی عَنْ صُہَیْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ۔(مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلہ خیر، ص ۱۵۹۸، حدیث :۲۹۹۹)

عن ابی یحیی عن صہیب بن سنان رضی اللہ تعالی عنہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عجبا لامر المؤمن إن امرہ کلہ خیر ولیس ذاک لاحد إلا للمؤمن إن اصابتہ سرائ شکر فکان خیرا لہ وإن اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ۔(مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب المومن امرہ کلہ خیر، ص ۱۵۹۸، حدیث :۲۹۹۹)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا صُہَیْب بِنْ سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : مومن کا معاملہ کس قدر اچھا ہے کہ اس کا ہر معاملہ بھلائی پر مشتمل ہے اور یہ بات صرف مومن ہی کے لئے ہے۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔

شرح حدیث

عَلَّامَہ محَمَّد عَبْدُ الرَّئُ وْف مُنَاوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیاس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’مومن کا ہر معاملہ تعجب انگیز ہے اس لئے کہ اس کے تمام کاموں میں بھلائی ہی بھلائی ہے جبکہ کفار ومنافقین کو اصلاً (بالکل بھی)یہ فضیلت حاصل نہیں ، اگرمومن کو صحت و سلامتی پہنچتی ہے تواس پراللہ عزَّوَجَلَّکا شکر اداکرتا ہے،یہ اس کے لئے بہتر ہے کیونکہ اسے شاکرین میں لکھ دیا جاتا ہے اورجب کوئی تکلیف دِہ بات پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اورصابرین میں لکھ دیا جاتا ہے جن کی تعریف قراٰن کریم میں بیان کی گئی ہے، پھر جب تک وہ تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اس پر رحمت کے دروازے کھلے رہتے ہیں،تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہے ۔ لہٰذاہر مومن کو چاہیے کہ نعمت ملنے پر مُنْعِم یعنی نعمت دینے والے کا شکر بجا لائے اور مصیبت پہنچنے پرصبرکرے اور جن چیزوں کا اسے حکم ہے انہیں بجا لائے جن سے منع کیا گیا ہے ان سے اِجْتِنَاب (پرہیز) کرے ۔‘‘(ملخصاًفیض القدیر، حرف العین، ۴/ ۳۹۹، تحت الحدیث:۵۳۸۲)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح میں فرماتے ہیں : مومن کے تمام اُمور خیروبرکت والے ہیں اگرچہ بعض اُمور ظاہری طور پر شر محسوس ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ خیر پر مبنی ہوتے ہیں اگر مومن کو تنگدستی وفاقہ پہنچتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے ۔ حدیثِ قدسی ہے :’’ میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کو فَقْر (تنگی) دُرُست رکھتاہے اگر ان کو میں غنی (مالدار) کردوں تو وہ اپنے حال کو بگاڑ دیں اورکچھ بندے ایسے ہیں کہ ان کو غَنا ہی دُرُست رکھتاہے اگر میں ان کو فقیر کر دوں تو اپنی حالت کوبگاڑ ڈالیں۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ’’اللہ عزَّوَجَلَّمومن کے لئے خیر ہی کا فیصلہ فرماتا ہے۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ مسلمان کے لئے تعجب ہے کہ اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تواللہ عزَّوَجَلَّسے ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کرتاہے اور جب خیر کی بات پہنچتی ہے تو حمدو شکر بجا لاتا ہے ،بے شک ! مسلمان کو ہر کام کا اَجر دیاجائے گایہاں تک کہ جو لقمہ وہ اپنے منہ میں ڈالتا ہے (اس کا بھی ثواب پائے گا )۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۹ /۱۵۲، ۱۵۳، تحت الحدیث:۵۲۹۷)قراٰنِ پاک سے صبر کی اقسامحضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بن عبّاسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمفرماتے ہیں کہ قراٰنِ کریم میں تین قسم کا صبر بیان ہوا ہے :
( 1) وہ صبر جو طاعت میں ہو ،اس کے ثواب کے تین سو درجے ہیں۔
(2) وہ صبر جو حرام چیزوں سے بچنے پر کیا جائے، اس کے ثواب کے چھ سو درجے ہیں۔
(3) وہ صبر جو مصیبت کی ابتدا میں کیا جائے، اس کے ثواب کے نو سو درجے ہیں۔
بَلا پر صبر کرنا’’ صدیقوں ‘‘ کا درجہ ہے اس لئے حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیوں مناجات فرمایا کرتے تھے: ’’ اے ہمارے پر وردگا رعزَّوَجَلَّ! ہم کو اتنا یقین عطا فرما کہ دنیا کی مصیبتوں کا برداشت کرنا ہمارے لئے آسان ہوجائے۔‘‘ (احیاء العلوم،۴/۸۹)رحمتِ کامِلہ کے سائے میںاللہ عزَّوَجَلَّفرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کو بیماری میں مبتلا کروں اور وہ اس پر صبر کرے،کسی سے شکایت نہ کرے تو میں اس کے گوشت کو اچھے گوشت سے اور اس کے خون کو اچھے خون سے بدل دیتا ہوں۔ پھر اگر میں اسے شفا دوں تو ایسی شفا دیتا ہوں کہ اس کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں رہتا اور اگر میں اسے دنیا سے اٹھالوں تو اسے اپنی رحمتِ کاملہ کے سائے میں لے جاتا ہوں۔‘‘(کنز العمال، کتاب المواعظ والرقاق والخطب والحکم، قسم الاقوال، ۸/۳۴۳، حدیث:۴۳۲۲۰، الجزء الخامس عشر)ایمان کی خِلْعَتْحضرتِ سَیِّدُنا دا وٗدعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارِگاہ الٰہی میں عرض کی:یا اللہ عزَّوَجَلَّ!جو بندہ تیری رضا کے لئے مصائب وآلام پر صبر کرے تو تیرے ہاں اس کی کیا جزا ہے؟ارشاد فرمایا :’’میں اسے ایمان کی خِلْعَت (یعنی عزت والا لباس ) عطا فرماؤں گااور اس لباس کو اس کے اور جہنم کے درمیان آڑ بنا دوں گا اور اسے جنت میں داخل کروں گا۔‘‘(شعب الایمان ، الرابع والستون ، باب فی الصلاۃ علی من مات من اہل القبلۃ، ۷/۱۲، حدیث:۹۲۸۰)میزانِ عمل سے نجات کا نسخہحسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کے بدن یا اس کے مال یا اس کی اولاد کی طرف کوئی مصیبت بھیجوں پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ اس کا استقبال کرے تو قیامت کے دن مجھے اس سے حیا آئے گی کہ میں اس کے لیے میزان قائم کروں یا اس کا نامۂ اعمال کھولوں۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال،۲/۱۱۵، حدیث:۶۵۵۸، الجزء الثالث)دِیدارِ اِلٰہیتمام نبیوں کے سردار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’اللہ عزَّوَجَلَّجبریلعَلَیْہِ السَّلامسے فرماتا ہے کہ اے جبرئیل! جب میں اپنے کسی بندے کی بنائی لے لوں تو اس کا اجر یہ ہے کہ میں اسے اپنے دیدار سے مشرف فرماؤنگا ۔(معجم الاوسط، من اسمہ مقدام، ۶/۳۰۴، حدیث:۸۸۵۵)
حضرتِ سَیِّدُنا ابو القاسم عبد الکریم قشیری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے منقول ہے :ایک بزرگ فرماتے ہیں : میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ طوافِ کعبہ کے بعد جیب سے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکال کر پڑھتا اور چلا جاتا ۔کئی دن تک میں اسے اسی حالت میں دیکھتا رہا پھر ایک دن اس کا انتقال ہوگیا تو میں نے اس کی جیب سے کاغذ نکال کر دیکھا تو اس پر لکھاہوا تھا:وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا(پ ۲۷، الطور:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اے محبوب تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بے شک تم ہماری نگہداشت میں ہو۔
(رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص۲۲۲)
مصیبت کے وقت آنسو بہانے اور غمگین ہونے سے صبر کی فضیلت میں کوئی فرق نہیں آتا،ہاں واویلا کرنے، کپڑے پھاڑنے اور شکایت کرنے سے اجر میں خلل واقع ہوتا ہے۔(کیمائے سعادت، ۲/۷۸۳)
صبرِ جمیل کیا ہے؟صبر جمیل یہ ہے کہ دیکھنے والا مصیبت والے اور غیر مصیبت والے میں فرق محسوس نہ کرسکے ۔ مصیبت میں کپڑے پھاڑنا، سر اور منہ پر ہاتھ مارنا، سینہ پیٹنا، چیخنا چلّانا یہ تمام باتیں حرام ہیں۔
کسی مصیبت میں مبتلا ہونے پر اپنا حال بدل لینا، چادر سے منہ ڈھانپ کر پڑے رہنا ، اپنی دستار چھوٹی کرلینا، درست نہیں ہے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ
اللہ عزَّوَجَلَّنے اپنے بندے کو بغیر بندے کی مرضی کے پیدا کیا اور پھر بغیر اس کی مرضی کے اُسے اٹھالیا۔(کیمائے سعادت، ۲/۷۸۳)ناخن ٹوٹنے پرخوشی کا اظہارحضرتِ سَیِّدُنا فَتْح مَوْصِلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیکی زوجہ محترمہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہاکا پاؤں پھسلااور ان کا ناخن ٹوٹ گیا تووہ مسکرانے لگیں۔پوچھا گیا: کیا آپ کو درد نہیں ہورہا؟ فرمایا: اس درد پر صبر کرنے کے عوض ملنے والے ثواب نے میرے درد کی تلخی دور کردی ہے۔ (احیاء العلوم، ۴/۹۰)مومن کاتقویٰ تین باتوں سے ظاہر ہوتا ہےحضرتِ سَیِّدُنا داؤد عَلٰینَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرتِ سَیِّدُناسلیمانعَلَیْہِ السَّلامسے فرمایا : مومن کا تقویٰ تین باتوں سے ظاہر ہوتا ہے: (۱) جو کچھ نہیں ملا اس کے بارے میں کامل توکل کرنا (۲) جو کچھ پاس موجو دہو اس پر راضی رہنا (۳) جو لے لیا گیا اس پر خوب صبر کرنا ۔ (احیاء العلوم ، ۴/۹۰)
اللہ عزَّوَجَلَّ
کی تعظیم اور اس کے حق کی معرفتراحتِ قلبِ ناشاد،محبوبِ ربُّ الْعِبادصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزَّوَجَلَّکی تعظیم اور اس کے حق کی معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اپنے در د کی شکایت کرے نہ ہی دوسروں کے سامنے اپنی مصیبت کا تذکرہ کرے۔‘‘
دوران جنگ حضرتِ سَیِّدُنا سالم
رَضِیَ ﷲ تَعَالٰی عَنْہشدید زخمی تھے کسی نے انہیں پانی پلانا چاہا تو فرمایا: مجھے دشمن کے قریب کر دو اور پانی میرے پاس رکھ دو اگر میں زندہ رہا تو اس پانی سے روزہ افطار کر لوں گا ۔ (احیاء العلوم، ۴/۹۰)سُبْحَانَ اللہ عزَّوَجَلَّ!ایسے لوگ واقعی حقیقی صبر والے ہیں۔اللہ عزَّوَجَلَّان کے صدقے ہمیں دنیا وآخرت میں عافیت عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرتِ سیِّدنا ایُّوبعَلَیْہِ السَّلامکا صبرجب حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی آزمائش کا وقت قریب آیاتوحضرتِ سیِّدُنا جبرائیلعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حاضر ہوکر عرض کی: اے ایوب (عَلَیْہِ السَّلام)! عنقریب آپ کاربّ عزَّوَجَلَّآپ پر ایسی آزمائش اورہولناک معاملہ نازل فرمائے گا کہ جسے پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلَیْہِ السَّلامنے فرمایا:اگر میں محبوب کے ساتھ تعلق میں ثابت قدم رہا تو ضرور صبرکروں گا یہاں تک میرے بارے میں یوں کہا جائے : یہ انتہائی تعجب خیز بندہ ہے۔ پھر آپعَلَیْہِ السَّلامکو یہ نِدا کی گئی :اے ایوب ! آزمائش کے لئے تیار ہو جاؤ اور میرا حکم و فیصلہ نازل ہونے تک صبرکرتے رہو۔ آپ کی آزمائش کا سبب یہ تھا کہ ابلیسِ لعین نے حسد کی وجہ سے طرح طرح کے مکروحیلے سے آپ پر غالب ہونا چاہالیکن نہ ہو سکاتو کہنے لگا :یا اللہ عزَّوَجَلَّ! ایوب شکر گزار بندہ ہے وہ اس لئے فرمانبردار ہے کہ تو نے اسے مال، رزق اوراولاد میں وسعت عطا فرمائی اور صحت بخشی ہے، اگر تویہ سب کچھ واپس لے لے تو ایک لمحہ بھی تیری اطاعت نہ کرے گا۔اللہ عزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا: وہ اپنی حالت ہرگز تبدیل نہ کرے گا۔ چنانچہ، آزمائش شروع ہوئی اور آپ کی ساری اولاد لے لی گئی اس پر آپعَلَیْہِ السَّلام اور زیادہ عبادت کر نے لگے۔ دوسرے دن مال جلا دیا گیا تو فرمایا :تمام عطائیں اُسی کی ہیں ، چاہے لے لے چاہے باقی رکھے ۔ تیسرے دن آپعَلَیْہِ السَّلَامصبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ شیطانِ لعین نے آپعَلَیْہِ السَّلامکے جسم پر پھونک ماری تو آپعَلَیْہِ السَّلامجسمانی بیماری میں مبتلا ہوگئے، لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامظاہر و باطن میں اللہ عزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے رہے۔ مال واولاد چلے جانے کے بعد جب آپعَلَیْہِ السَّلامجسم کی آزمائش میں مبتلا ہوئے توفرمایا: تمام خوبیاںاللہ عزَّوَجَلَّکے لئے ہیں جس نے مجھے اپنی عبادت کے لئے چُن لیا اورمجھ پر اپنا خاص فضل اور بھلائی فرمائی اور مجھے اپنے علاوہ کسی چیزمیں مشغول نہ رکھا۔ حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہمیشہ ذکر کرتے رہے اوراپنے ربعزَّوَجَلَّکی حمداور شکر بجا لاتے رہے۔
آزمائش انسان کے احوال کوظاہرا ور محبت کے دعوے دار کی حالت بہت جلد واضح کردیتی ہے۔
اللہ عزَّوَجَلَّنے اپنے پیارے نبی حضرت ایُّوبعَلَیْہِ السَّلامپر ستر ہزار قسم کی آزمائشیں نا زل فرمائیں لیکن آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے صبر وشکر کیا اورشِکْوَہ نہ کیا۔ تو اے بھائیو! تم تو ایک کانٹا بھی برداشت نہیں کر سکتے جبکہ حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلَیْہِ السَّلَامکو اولاد لے کرآزمایا گیا مگر آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے عبادت میں اضافہ کر دیا، مال لے لیا گیا مگر محبت ِ الٰہی میں ذرہ برابر کمی نہ آئی، تمام آزمائشوں پر راضی رہے اور ظاہری و باطنی طور پربالکل کوئی شکوہ نہ کیا ۔چنانچہ، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو ندا دی گئی: ’’اے ایوب ! تو نے ہماری آزمائشوں پر صبر کیا توہم تجھے تیرا مال اوراولاد لوٹا دیں گے اور تیرے جسم کو آزمائش سے عافیت بخشیں گے اور تیرا نام اپنی آخری کتاب میں لکھ دیں گے اور تیرا ذکر محبوب بندوں کے رجسٹر میں پھیلا دیں گے۔‘‘ (الروض الفائق، ص۸۷)اللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکم مال والا پہلے جنت میں چلا گیاایک بزرگ فرماتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی اورکوئی کہنے والا کہہ رہاہے:’’اے مالک بن دینار!اے محمد بن واسع! (رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہما) تم دونوں جنت میں جاؤ ۔‘‘ میں دیکھنے لگا کہ دونوں میں سے کون پہلے جاتاہے تو حضرتِ سیِّدُنا محمد بن واسِععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّافِعْجنت میں پہلے داخل ہوئے۔ میں نے سبب دریافت کیا تو بتایا گیاکہ دنیامیں محمدبن واسععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّافِعکے پاس ایک قمیص تھی جبکہ مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَفَّاردو قمیصوں کے مالک تھے( اس لئے پیچھے رہ گئے )۔‘‘حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن معاذعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَہَّابفرماتے ہیں :’’میزان میں فقر وغَنا نہیں رکھا جائے گابلکہ صبر وشکر رکھا جائے گا، لہٰذا آؤ! ہم سب صبر وشکر کرنے والے بن جائیں۔‘‘ (الروض الفائق، ص۹۲)مد نی گلد ستہ
’’صبر سے جنت‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حد یث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)مومن کے لئے مصیبت ونعمت دونوں ہی میں خیرہے ۔
(2)جس کا رتبہ جتنا بلند ہوتا ہے اس پر اتنے ہی زیادہ مصائب آتے ہیں۔
(3) آزمائشوں کے باوجود
اللہ عزَّوَجَلَّکا ذکر کرتے رہنا انبیائے کِرامعَلَیْھِمُ السَّلَامکی سنتِ مبارکہ ہے۔
(4)دنیاوی مال واسباب کی زیادتی جنت میں دیر سے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔
(5)سچا مُحِبّ وہی ہے جو محبوب کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش پر صبرکرے ۔
(6) جب مصیبت پہنچے تو اس پر صبر کرنے کے ثواب کو یاد کر لینا چاہیے اس طرح صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
(7) کامل صبر کرنے والا وہ ہے جو اپنی حالت سے یہ محسوس نہ ہونے دے کہ وہ مصائب میں مبتلا ہے ۔
(8)جودنیا میں بینائی چھِن جانے پر صبر کرے تو بروز قیامت
اللہ عزَّوَجَلَّاسے اپنے دیدار کی عظیم دولت سے نوازے گا۔یا اللہ عزَّوَجَلَّہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں آزمائش میں مبتلا نہ فرما کیونکہ ہم تیرے ناتواں اور کمزور بندے ہیں اور اگر کبھی ہم پر آزمائش آجائے تو ہمیں اپنے پیارے نبی حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے صبر کے صَدْقے صبر کرنے کی توفیق عطا فرما!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 27