Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 35

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عَطَاءَ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ قَالَ،قَالَ لِیْ اِبْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا:أَ لَا أُرِیْکَ اِمْرَأۃً مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ؟ فَقُلْتُ بَلٰی! قَالَ:ہٰذِہِ الْمَرْأۃُ السَّوْدَائُ أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّیْ أُصْرَعُ، وَ إِنِّی أَتَکَشَّفُ، فَادْعُ اللہَ تَعَالٰی لِیْ قَالَ:إنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ،وَإنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللہَ تَعَالٰی أنْ یُعَافِیَکِ، فَقَالَتْ:أَصْبِرُ، فَقَالَتْ إنِّیْ أتَکَشَّفُ فَادْعُ اللہَ أنْ لَا أَتَکَشَّفَ ، فَدَعَا لَہَا. مُتَّفَقٌ عَلَیہِ. (بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح ، ۴/۶، حدیث:۵۶۵۲)

عن عطاء بن ابی رباح قال،قال لی ابن عباس رضی اللہ عنہم ا:ا لا اریک امراۃ من اہل الجنۃ ؟ فقلت بلی! قال:ہذہ المراۃ السودائ اتت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالت إنی اصرع، و إنی اتکشف، فادع اللہ تعالی لی قال:إن شئت صبرت ولک الجنۃ،وإن شئت دعوت اللہ تعالی ان یعافیک، فقالت:اصبر، فقالت إنی اتکشف فادع اللہ ان لا اتکشف ، فدعا لہا. متفق علیہ. (بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح ، ۴/۶، حدیث:۵۶۵۲)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عَطَاء بِنْ اَبو رَبَاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں : مجھے حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما نے فرمایا :کیا تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا :یہ سیاہ فام عورت نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی :مجھے مِرگی کا دورہ پڑتا ہے جس کی وجہ سے میں بے پَردہ ہوجاتی ہوں ، اللہ عزَّوَجَلَّ سے میرے لیے دعا کیجئے ،نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر صبر کرسکو تو تمہارے لیے جنت ہے اور اگر چاہو تو میں تمہار ی صحت کے لیے اللہ عزَّوَجَلَّ سے دعاکروں ،اس نے کہا: میں صبر کروں گی ،پھر عرض کی: میں بے پردہ ہوجاتی ہوں ، دعا کیجئے میں بے پردہ نہ ہوا کروں ،چنانچہ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لیے دعا فرمادی۔

شرح حدیث

علامہ عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :’’ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس عورت کو دو باتوں کا اختیار دیا ، یا تو اس بیماری پر صبر کر اور جنت کو پالے یا پھر میں تیرے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ سے دعا کروں کہ وہ تجھے شفا عطا فرمائے، اس عورت نے صبر اختیار کیا اور عرض کی : اللہ عزَّوَجَلَّ سے میرے لئے دعا فرمائیں کہ دورانِ مِرگی میں بے پردہ نہ ہوا کروں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لئے دعا فرمائی تو اس کے بعد وہ بے پردہ نہیں ہوتی تھی۔ (عمدۃ القاری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الر یح، ۱۴/۶۴۷، تحت الحدیث: ۵۶۵۲)
اُس نیک عورت کا نام سُعَیْرَہ یا سُقَیْرَہ تھا۔ بی بی خدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی کنگھی چوٹی کی خدمت انجام دیتی تھیں۔(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، ۴/۵۰، تحت الحدیث: ۱۵۷۷)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (اس عورت نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ میں مرگی کے دورے کی وجہ سے گر جاتی ہوں ) مجھے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا، دوپٹہ وغیرہ اتر جاتا ہے ، خوف کرتی ہوں کہ کبھی بے ہوشی میں ستر نہ کھل جائے( فرمایا: اگرصبر کرے گی تو تیرے لئے جنت ہے اور اگر چاہے تو میں تیری صحت یابی کی دعا کروں ) اگرچہ آرام ہونے پر بھی تُو جَنَّتی تو ہوگی،کیونکہ تو مومنہ اور صحابیہ ہے مگر صبر پر جنت کے اعلیٰ مقام کی مُسْتَحِقْ ہوگی ۔( عرض کی: میں صبر کرتی ہوں ، دعا کیجئے میں بے پردہ نہ ہوا کروں )۔ چنانچہ، حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمادی پھر وہ مِرگی میں کبھی بھی بے ستر نہ ہوئیں ، ربِّ کریم عزَّوَجَلَّ نے اُن کی حفاظت کے لئے کوئی فرشتہ مقرر فرما دیا ہوگا۔ حدیث پاک سے اشارۃً معلوم ہوا کہ کبھی بیماری کی دوا اور مصائب میں دعا نہ کرنا ثواب اور صبر میں شامل ہے اس کا نام خودکشی نہیں ، خصوصاً جب پتا لگ جائے کہ یہ مصیبت رَبّ کی طرف سے امتحان ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلام نے نمرود کی آگ میں جاتے وقت اور حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے میدان کربلا میں دفعیہ کی دعا نہ کی، ورنہ عام حالات میں دوا بھی سنت ہے اور دعا بھی۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اکثر دعا کی ہے اور صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے مرض وفات میں دوا بھی ۔(ملخصاً مراٰۃ المناجیح ،۲/۴۲۷ )
دُعاؤں سے علاجعَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتح الباری میں فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں خاص طور پر مِرگی زَدَہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ دُنیوی مصیبتوں پر صبر کرنا جنت کا وارث بنا دیتا ہے۔ یہ بھی بیان ہوا کہ رخصت کی نسبت سختی کو اختیار کرنے میں فضیلت ہے بشرطیکہ وہ جانتا ہو کہ مصیبت کی سختی لمبی ہونے کی صورت میں صبر کرسکے گا اور اس کے التزام سے کمزور نہ ہوگا ۔ بیمار ی میں دوا کا استعمال نہ کرنابھی جائز ہے اور تمام امراض کا علاج صرف دعا ہی کے ذریعے کرانا (اوردوا استعمال نہ کرنا) یہ بھی جائز ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں التجا کے ذریعے علاج کروانا دواؤں وغیرہ کے علاج سے بہتر وفائدہ مندہے کیونکہ دعاؤں کی تاثیردواؤں کی تاثیرسے افضل واعلیٰ ہے۔‘‘(فتح الباری، کتاب المرضی ، باب فضل من ذہب بصرہ ، ۱۱/۹۹، تحت الحدیث:۵۶۵۳)مِرگی (Epilepsy) کیا ہے؟مِرگی (Epilepsy ) کو عربی میں ’’صَرْعٌ‘‘ کہتے ہیں ا س کا معنی ہے :’’بے ہوش ہوکر گِر پڑنا ‘‘ یہ مرض کبھی اَخلاط کے فساد کے سبب ہوتا ہے اور کبھی جن یا خبیث ہم زاد کے اَثر سے ہوتا ہے، جیساکہ قراٰن میں فرمایا گیا :یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ(پ۳، البقرۃ:۲۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان :جسے آسیب نے چھوکر مخبوط بنادیا ہو۔(نزہۃ القاری ، ۵ / ۴۸۹ )
عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتح الباری میں فرماتے ہیں ہے :’’مِرگی وہ بیماری ہے جو اعضائے رئیسہ (یعنی قلب ، جگر، دماغ، پھیپھڑے، گردے وغیرہ ) کو اُن کے افعال سے جزوی طور پر روک دیتی ہے ۔ اس بیماری کے واقع ہوتے ہی مریض کے اعضاء مڑنے لگتے ہیں وہ کھڑا نہیں رہ سکتا گر پڑتا ہے اورمنہ سے جھاگ نکلنے لگتے ہیں۔‘‘ (فتح الباری، کتاب المرضی ، باب فضل من یصرع من الریح ، ۱۱/۹۸، تحت الحدیث: ۶۵۵۲)
سرکار اعلیٰ حضرت امام اہلسنت،مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے جب مرگی کے بارے میں سوال ہوا توآپ نے فرمایا :’’یہ بہت خبیث بَلَا ہے اور اسی کو اُمُّ الصِبْیَان کہتے ہیں اگر بچوں کو ہو۔ ورنہ صَرْع ( یعنی مِرگی)۔ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ اگر پچیس بَرَس کے اندر اندر ہوگی تو اُمید ہے کہ جاتی رہے اور اگر پچیس بَرَس کے بعد یا پچیس بَرَس والے کو ہوئی تو اَب نہ جائے گی۔ ہاں کسی ولی کی کرامت یا تعویذ سے جاتی رہے تو یہ اَمر آخَر(یعنی دوسری بات) ہے۔ یہ فی الحقیقت ایک شیطان ہے جو انسان کو ستاتا ہے ۔‘‘( ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص ۴۱۷)
مِرْگی کے اسباباس بیماری کے دو سبب ہیں (1) آلودہ ہوا کا دماغ کے راستوں میں رُک جانایا پرانے بخار کا اعضاء سےدماغ کی طرف پہنچنا (2) خبیث جنات کی شرارت ،یہ جنات کبھی تو انسان کی خوبصورتی کی وجہ سے اور کبھی فقط اَذِیت پہنچانے کے لئے انسان پر مُسَلَّط ہوجاتے ہیں۔ (فتح الباری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح ، ۱۱/۹۸، تحت الحدیث: ۶۵۵۲)مِرْگی کا علاجمِرْگی کی پہلی قسم کے بارے میں اَطبّا کا موقف ہے کہ اس کا علاج دواؤں کے ذریعے ممکن ہے ( لہٰذا کسی ماہر تجربہ کار طبیب ،ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا جائے) جبکہ دوسری قسم کی مرگی جو جنات کے اثر سے ہوتی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ نیک و پاکیزہ ارواح کو ان کے مقابل لایا جاے تاکہ شریر وخبیث روحوں کے اثرات زائل اورافعال باطل ہوجائیں۔ (فتح الباری،کتاب المرضی ، باب فضل من یصرع من الریح ، ۱۱/۹۸، تحت الحدیث: ۶۵۵۲)
سُوْرَۃُ الشَّمْس (پ:۳۰) پڑھ کر مرگی والے کے کان میں پھونک مارنا بہت مفید ہے ۔(جنتی زیور ص ۶۰۲)
اذان کے ذریعے مرگی کا علاجبچّے اور مغموم کے کان میں اور مرگی والے اور غضب ناک اور بد مزاج آدمی یا جانور کے کان میں اور لڑائی کی شدّت اور آتش زدگی کے وقت اور بعد دفن میت اور جنّ کی سرکشی کے وقت اور مسافِر کے پیچھے اور جنگل میں جب راستہ بھول جائے اور کوئی بتانے والا نہ ہو اس وقت اَذان مستحب ہے۔ وَبا( بیماری ) کے زمانے میں بھی مستحب ہے۔ ( بہار شریعت ، ۱/۴۶۶، حصہ ۳)بچوں کومِرگی کے مرض سے بچانے کا نُسخہبچہ پیدا ہونے کے بعد جو اَذان میں دیر کی جاتی ہے ،اس سے اکثر( یہ مرگی کا )مرض ہوجاتا ہے اور اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا کام یہ کیا جائے کہ نہلا کر اذان واقامت بچے کے کان میں کہہ دی جائے تو اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ عمر بھر محفوظی رہے گی۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ۴۱۷بحوالہ،شعب الایمان باب فی حقوق الاود، ۶/۳۹۰، حدیث:۸۶۱۹)طبیبوں کے طبیب نے مِرگی زدہ کا علاج فرما یاحضرتِ سَیِّدُنایَعْلٰی بِنْ مُرَّہ ثَقَفِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ :ایک سفر میں مجھے نبیِّ رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی کا شرف ملا ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضرِ خدمت ہوئی جسے مرگی کا مرض تھا۔طبیبوں کے طبیب اللہ عزَّوَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی ناک کا بانسہ پکڑکر فرمایا:’’ نکل !میں اللہ عزَّوَجَلَّ کارسول محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) ہوں۔‘‘سفر سے واپسی پر جب اس عورت سے بچے کے متعلق پوچھا تو عرض گزار ہوئی : اُس ذاتِ پاک کی قسم جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نبیِّ برحق بنا کر بھیجا! آپ کے بعد ہم نے اس میں کوئی تشویش والی بات نہ پائی ( یعنی ذرہ برابر بھی مرگی کا اثر نہ پایا)۔ (مسند امام احمد، حدیث یعلی بن مرۃ الثقفی، ۶/۱۷۸، حدیث:۱۷۵۷۶)
یہ مریض مر رہا ہے ترے ہاتھ میں شفا ہے
اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے
مِرْگی کی بیماری بغداد سے بھاگ گئیایک شخص حضور غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: ’’میں اَصْبَہَان کا رہنے والا ہوں میری ایک بیوی ہے جس کو اکثر مرگی کا دورہ رہتا ہے اور اس پر کسی تعویذ کا اثر نہیں ہوتا۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبدالقادر جیلانی،قطب ربانی،غوث صمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا کہ’’یہ ایک جن ہے جو وَادی سَرَانْدِیْپ کا رہنے والا ہے، اُس کا نام خَانس ہے اور جب تیری بیوی پر مرگی آئے تو اس کے کان میں یہ کہنا کہ اے خانس!تمہارے لئے شیخ عبدالقادر ( رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ) جو کہ بغداد میں رہتے ہیں ان کافرمان ہے کہ’’آج کے بعد پھر نہ آناورنہ ہلاک ہو جائے گا۔‘‘تو وہ شخص چلا گیا اور دس سال تک غائب رہا پھر وہ آیا اور اس سے دریافت کیا گیا تو اس نے کہا : ’’میں نے شیخ کے حکم کے مطابق کیا پھر اب تک اس پر مرگی کا اثر نہیں ہوا۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبدالقادرجیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی زندگی مبارک میں چالیس برس تک بغداد میں کسی پر مرگی کا اثر نہیں ہوا، جب آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وصال فرمایا تو وہاں مرگی کا اثر ہوا۔(بہجۃ الاسرار، باب ذکر فصول من کلامہ، ص۱۴۰)
فَحُکْمِیْ نَافِذٌ فِیْ کُلِّ حَالٖ سے ہوا ظاہر تصرُّف اِنس وجِن سب پرہے آقاغوثِ اعظم کا
ہوئی اک دیوسے لڑکی رِہااس نام لیواکی پڑھاجنگل میں جب اس نے وظیفہ غوثِ اعظم کا
معلوم ہوا کہ نیک بندوں کی برکت سے مصائب وآلام دور ہوتے اور بلائیں ٹلتی ہیں۔ لہٰذا بھلائی کے طلبگار کو نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔
مدنی گلدستہ’’مدنی آقا ‘‘کے 7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 7 مدنی پھول
(1)دُنیو ی مصائب پر صبر کرنا دخولِ جنت کا باعث ہے۔
(2)مرگی زدہ کے کان میں اذان دینے سے مرگی کے مرض میں افاقہ ہو تا ہے۔
(3)ہمارے اسلاف رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام آخرت کی بہتری کے لئے د نیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی قربان کر دیا کرتے تھے ۔
(4)مرگی زدہ شخص کو مسجد میں اعتکاف نہیں کرنا چاہیے۔
(5) کسی مرض کی دوا نہ لینا اور صرف دعا کے ذریعے مرض کا علاج کرنا جائز ہے بلکہ دعا کا اثر دوا سے زیادہ ہوتا ہے ۔
(6)بچے کو پیدائش کے فورا بعد نہلا کر اس کے کان میں اذان واقامت کہی جائے تو وہ تمام عمر مرگی کے مرض سے محفوظ رہتا ہے۔
(7) جسے جنات کی وجہ سے مرگی کا مرض ہوا ہو تو نیک لوگوں سے تعویذ یا دم وغیرہ کے ذریعے اس کا علا ج کروایا جائے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل ہمیں دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے ! اپنے نیک بندوں کے صَدقے ہمیں مصائب وآلام سے محفوظ رکھے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 35