- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 31
حدیث مبارکہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ مَرَّالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِمْرَأَۃٍ تَبْکِیْ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اِتَّقِی اللہَ وَاصْبِرِیْ قَالَتْ إِلَیْکَ عَنِّیْ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِیْبَتِیْ وَلَمْ تَعْرِفْہُ فَقِیْلَ لَہَا إِنَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْ بَابَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَہُ بَوَّابِیْنَ فَقَالَتْ لَمْ أَعْرِفْکَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلَی۔وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِّمُسْلِمٍ :تَبْکِیْ عَلٰی صَبِیٍّ لَّھَا۔(بخاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۱/ ۴۳۳، حدیث: ۱۲۸۳)
عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال مرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم بإمراۃ تبکی عند قبر فقال اتقی اللہ واصبری قالت إلیک عنی فإنک لم تصب بمصیبتی ولم تعرفہ فقیل لہا إنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فاتت باب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم تجد عندہ بوابین فقالت لم اعرفک فقال إنما الصبر عند الصدمۃ الاولی۔وفی روایۃ لمسلم :تبکی علی صبی لھا۔(بخاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۱/ ۴۳۳، حدیث: ۱۲۸۳)
حدیث ترجمہ
’’ حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک عورت کے پاس سے گزرے ، وہ ایک قبر کے قریب رو رہی تھی، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ خدا سے ڈر اور صبر کر۔‘‘ وہ آپ کو نہ پہچان سکی اس لئے کہا:آپ مجھ سے دور ہو جائیے، کیونکہ آپ کو میری طرح مصیبت نہیں پہنچی۔ پھر جب اسے بتایا گیا کہ یہ تو نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں۔ تو وہ درِ اقدس پر حاضر ہوئی، تو وہاں کوئی دربان نہ پایا اُس نے عرض کی: میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا، اس لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ صبر تو پہلے صَدْمہ کے وقت ہوتاہے۔‘‘ مسلم شریف میں ہے کہ ’’وہ اپنے بچے پر رو رہی تھی۔‘‘
شرح حدیث
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاریمیں فرماتے ہیں :علامہ قرطبی نے فرمایا کہ شاید وہ عورت نوحہ زن تھی اور بہت زیادہ جَزَع و فَزَع (رونا پیٹنا) کر رہی تھی اس لئے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس عورت سے فرمایا کہاللہ عزَّوَجَلَّسے ڈر۔ علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے’’ اِتَّقِی اللہ ‘‘ (اللہ عزَّوَجَلَّسے ڈر) اس لئے فرمایا تاکہ اس کے لئے صبر کرنا آسان ہو جائے، گویا فرمایا کہ تو نے اگر صبر نہ کیا تواللہ عزَّوَجَلَّکے غضب سے ڈر ، اور آہ و بُکا نہ کر، تاکہ تجھے اس پر ثواب ملے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۶/۹۳، تحت الحد یث:۱۲۸۳)
بڑی مصیبت کے وقت صبر کرنا ہی اصل صبر ہے اور اسی پر اجرِ عظیم ہے ، بیٹے کی موت ماں کے لئے بہت بڑا صَدْمہ ہے۔ وہ عورت بھی اپنے بیٹے کی موت کا صَدْمہ برداشت نہ کر سکی اور اس کی قبر پر آکر رونے لگی ،سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے دیکھا تو صبر کی تلقین فرمائی ۔اس پر غم کا غلبہ تھا وہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نہ پہچان سکی اوربولی کہ آپ مجھے چھوڑ دیں ،جیسا غم مجھے پہنچا ہے آپ کو ایسا غم نہیں پہنچا۔ پھر جب اسے نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے متعلق بتا یا گیاتو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کراس نے اپنے اندازِ گفتگو پر معافی مانگ لی ۔صَدمہ کسے کہتے ہیں ؟علامہ عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاریمیں فرماتے ہیں :صَدمہ کے معنی کسی چیزسے ٹکر لگنے کے ہیں چونکہ مصیبت سے بھی دل کو ایک دھچکا لگتا ہے اس لئے مصیبت کے اثر کو صَدْمہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہاں صبر سے مراد صبرِکامل ہے جس پر ثواب مُرَتَّب ہوتا ہے ورنہ مصیبت خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو رفتہ رفتہ صبر آہی جاتا ہے کسی مصیبت پر اجْر صبرِ جمیل اور حسنِ نِیَّت ہی سے ہے ۔(عمدۃ القاری،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،۶/۹۴، تحت الحدیث: ۱۲۸۳)مدہوشی کا کفر معتبر نہیںاس عورت پر غم کا شدید غلبہ تھا اس لئے نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نہ پہچان سکی اوراس انداز میں جواب دیا ۔مراٰۃ المناجیح میں ہے: یہ نہ پہچاننا بھی شدت غم سے ہوگا ورنہ نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تو اجنبی بھی پہچان لیتے تھے، گلی سے گزرتے تو گھروالے خوشبو کی مہک سے پہچان جاتے ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تو کنکر ،پتھر، جِنّ و اِنس ،چاند ،تارے ،سورج سب پہچانتے ہیں۔اس عورت نے جو کہا تھا وہ کفر تھا کیونکہ ا س میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی توہین تھی مگر چونکہ اس نے غم کی مدہوشی میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوپہچانے بغیر یہ الفاظ کہے تھے اس لئے وہ اِسلام سے خارج نہ ہوئی۔ فُقہاء فرماتے ہیں کہ اگر جاں کَنی کی شدت میں مرنے والے سے کوئی کفر کی بات سنی جائے تو اسے کافر نہ کہا جائے گا اس کی نماز جنازہ اور دفن ہوگا کیونکہ مدہوشی کا کفر معتبر نہیں۔‘‘ (ملخصاًمراٰۃ المناجیح ،۲/ ۵۰۳)والی ٔدوجہاں کا دربارِ عالیدَلِیْلُ الْفَالِحِیْن میں ہے عَلّامَہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے فرمایا:’’جب اس عورت کو بتایا گیا کہ تجھے نیکی کی دعوت دینے والے والی ٔ دو جہاں ، سرورِ ذیشاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتھے تو اس نے دل میں خوف محسوس کیا، آپ کے دربار عالی کی ہیبت اس کے دل میں بیٹھ گئی ۔اس نے سوچا کہ جس طرح دنیوی بادشاہوں کے دربان و پہریدار ہوتے ہیں لوگوں کو بادشاہ کے پاس جانے سے روکتے ہیں ، شاید یہاں بھی ہے ایسا ہی معاملہ ہوگا ۔لیکن جب وہ شہنشاہ کونینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دربار عالی میں پہنچی تو معاملہ بالکل برعکس پایا۔ (د لیل الفالحین ،باب الصبر ۱/۱۷۲)یعنی وہاں نہ کوئی دربان تھا نہ پہرے دار ۔کیونکہ وہ کسی دنیوی بادشاہ کا دربار نہ تھا بلکہ وہ تو نبیوں کے سالار، احمد مختارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وہ دربار تھا جہاں ہر بے کس وناچار کو حاضر خدمت ہونے کی اجازت عام تھی۔ یہ وہی مقدس بارگاہ تھی جہاں حاضر ہونے والوں کے بگڑے ہوئے کام بن جاتے ہیں ، بڑے بڑے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ قراٰن کریم میں ارشادِ خدا وندی ہے :وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)(پ۵، النساء: ۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
مجرم بلائے آئے ہیں جَائُ وْکَ ہے گواہ
پھر رَد ہو کب یہ شان کرِیموں کے دَر کی ہےصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداِمَام شَرفُ ا لدِّیْنحُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جب اس عور ت نے آکر معافی مانگی اور عذر پیش کیا کہ میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی اس لئے نازیبا کلمات منہ سے نکل گئے توشفیعِ مذنباں ، سرورِ ذیشاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ حکمت بھرا جواب ارشاد فرمایا :إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی، یعنی صبر تو پہلے صَدْمہ کے وقت ہوتاہے، گویا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے یوں فرمایا: تو میرے سامنے معذرت نہ کر(اور خوف محسوس نہ کر) کیونکہ ہماراغصہ صرفاللہ عزَّوَجَلَّکی رضا ہی کے لئے ہوتا ہے (اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتا ) تواپنے نفس کی طرف دیکھ کہ اچانک آنے والی مصیبت پرصبر کے بجائے جَزَع و فَزَع (رونا پیٹنا) کر کے تیرے نفس نے تجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملنے والی فضیلت وکرامت سے محروم کر دیا ہے ۔‘ ‘ (شرح الطیبی علی المشکوٰۃ، کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت، ۳/۴۱۵، تحت الحدیث:۱۷۲۸)سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حُسنِ اخلاقاس حدیث پاک سے ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حسنِ اخلاق اور عفو و درگزر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اس عورت کو نصیحت کی تو اس نے بہت ہی دل آزاری والی بات کہی لیکن قربان جائیں اس پیکرِ عظمت وشرافت پر کہ ہر طرح کے اختیار ات کے باوجود کسی طرح کی کوئی جوابی کاروائی نہ فرمائی۔ جب وہ معافی طلب کرنے آئی تب بھی اسے شرمندہ کرنے کے بجائے علم و حکمت کے گوہر عطا فرمائے ۔ ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صبر وتحمل اور عفو و درگزر کے توکیا کہنے۔
وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دعااکثر کوئی لاؤ مثال ایسی شرافت ہو تو ایسی ہوصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدپیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحسنِ اخلاق کے جس عظیم مرتبے پر فائز ہیں اس کاذکر قراٰنِ مجید میںاللہ عزَّوَجَلَّنے اس طرح فرمایاہے :وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ۲۹، القلم:۴) ترجمۂ کنز الایمان :اور بے شک تمہاری خو بڑی شان کی ہے ۔
حدیث ِ مذکور میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حسنِ اَخلاق کا بہترین نمونہ موجود ہے ۔جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سمجھانے پر اس عورت نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بے ادبانہ الفاظ کہے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ تو اُسے ڈانٹا نہ مارا نہ ہی اپنے نفس کی خاطر کوئی انتقامی کاروائی کی ۔پھر جب وہ عورت نادِم ہوکر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تب بھی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے اس کی غلطی کا احساس نہیں دلایا نہ اُسے اس کی خطا پر زد و کوب کیا بلکہ احسن انداز میں اُسے نیکی کی دعوت دی، کیونکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے تھے کہ وہ اس وقت سخت صَدْمے سے دوچار ہے ۔نیکی کی دعوتشہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بھی کوئی قابلِ اصلاح کام دیکھتے تو نیکی کی دعوت دیتے ۔ سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب دیکھا کہ وہ عورت قبر کے پاس بیٹھی رور رہی ہے اور اس طرح آہ و بُکا کرنا صبر اور تقویٰ کے خلاف ہے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے صبرو تقویٰ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:اِتَّقِی اللہ وَاصْبِرِییعنیاللہ عزَّوَجَلَّسے ڈر اور صبر کر۔پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعفو و درگزر فرماتے تھےترمذی شریف کی روایت ہے کہ اَبُوعَبْدُ اللہ جَدَلیکہتے ہیں کہ میں نے اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلُّفاً، نہ بازاروں میں شور کرتے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف فرمادیتے اور در گزر سے کام لیتے ۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ ، باب ماجاء فی خلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۳/۴۰۹، حدیث :۲۰۲۳)
نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعفو و درگزر کے کمال مرتبے پر فائز تھے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے گناہ گاروں اور ایذا دینے والوں کو نہ صرف معاف فرماتے بلکہ انہیں اِنعامات سے بھی نوازتے۔ سیرت کی کتب میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عفو کا معاملہ اہل مکہ و طائف کے سرداروں سے مخفی نہیں ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکۂ مکرمہ میں فاتحانہ انداز سے داخل ہوئے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عام معافی کا دامن مکے کے سرداروں اور ان زعماء تک پھیل گیا جنہوں نےاللہ عزَّوَجَلَّکی زمین میں سرکشی کی اور آپ کو ایذا دینے میں کسی زیادتی سے دریغ نہ کیا۔آپ مکۂ مکرمہ میں داخل ہوئے توکچھ لوگوں نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کیا اور لڑائی پر آمادہ ہوگئے جس کے نتیجے میں اُنہیں شِکست ہوئی اب وہ امن کے طالب ہوئے تو نہ صرف آپ نے انہیں امان دیکر معاف فرمادیا بلکہ ان کی تالیفِ قلب کے لئے انہیں بہت سامال بھی عطا فرمایا ۔ایذا دینے والے پر انعام کی بارشحضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ ہم رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُٹھ جاتے تو ہم بھی اُٹھ جاتے ۔ ایک دن آپ اُٹھے تو ہم بھی آپ کے ساتھ اُٹھے،جب آپ مسجد کے درمیان پہنچے تو ایک اَعرابی نے آپ کی چادر کو زور سے کھینچا آپ کی چادر کُھردری تھی جس سے آپ کی گردن مبارک پر اس کا نشان رہ گیا پھر اَعرابی نے کہا: اے محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!یہ مال جو تمہارے پاس ہے اس سے میرے یہ دو اُونٹ لادْدو کیوں کہ جو تم مجھے دوگے وہ نہ تمہارا مال ہے نہ تمہارے والد کا، یہ سن کر رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استغفار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : نہیں ! میں تجھے نہیں دونگا جب تک تم میری چادر کھینچنے کا بدلہ نہ دو۔ اَعرابی نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ کو بدلہ نہیں دونگا۔ سرکار نے تین مرتبہ یہی فرمایا اور ہر مرتبہ اَعرابی نے یہی کہا میں آپ کو بدلہ نہیں دونگا ، جب ہم نے اَعرابی کا قول سنا تو ہم تیزی سے اس کی طرف دوڑے تو رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جس نے میری بات سنی میں اسے قسم دیتا ہوں کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹے جب تک کہ میں اسے اجازت نہ دے دوں ، پھر رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص سے کہا : اے فلاں اِسے ایک اونٹ گندم اور ایک اونٹ کھجور دے دو پھر رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: چلو۔ ( نسائی،کتاب القسامۃ والقود، باب الْقَوَدُ مِنَ الْجَبْذَۃ، ص۷۶۸، حدیث: ۴۷۸۵)قبروں کی زیارت کرناعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِیمیں فرماتے ہیں : زیارتِ قبور کے مسئلے میں علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامکا اختلاف ہے ،حازمی کہتے ہیں کہ تمام اہلِ علم حضرات مَردوں کے لئے قبروں کی زیات کے جائز ہونے کے قائل ہیں۔ زیارتِ قبور کے جواز پر بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک حضرتِ سَیِّدُنا بُرَیْدَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی حدیث ہے جسے امام مسلمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کیا ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو۔ (عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۶/۹۴، تحت الحدیث: ۱۲۸۳)عورتوں کوقبروں پر جانا منع ہےسرکارِ اعلیٰ حضرت امامِ اَہلسُنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے فتاوی رضویہ شریف میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا :’’ اَصَحّ (صحیح ترین بات) یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں۔ (فتاوی رضویہ مخرجہ ، ۹/ ۵۳۷ ) مزید فرماتے ہیں :قبورِ اَقرباء پر خصوصاً بحال قُرب عہدِ مَمات تَجْدیدِ حُزْن لازِمِ نِسَاء ہے (یعنی قریبی رشتہ داروں کی قبور پرجانے سے عورتوں کا غم ضرور تازہ ہوتا ہے بالخصوص اس وقت کہ جب وفات کچھ عرصہ قبل ہی ہوئی ہو )اور مزاراتِ اولیا پر حاضری میں اِحْدَی الشَّنَاعَتَیْن(دو برائیوں میں سے ایک)کا اندیشہ یا ترکِ ادب (ادب چھوڑنا) یا اَدَب میں اِفرَاط ناجائز (حد سے زیادہ بڑھ جانا)تو سبیل اِطلاق منع ہے۔ ولہٰذا’’غُنِیَّہ‘‘ میں کراہت پر جزْم فرمایا(یعنی مکروہ کہا) البتہ حاضری وخاکبوسی آستانِ عرشِ نشان سرکارِ اعظمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم( یعنی حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضے پر حاضری) اَعظم ُالْمَندُوبات ( مستحبات میں سب سے اہم ) بلکہ قریبِ واجبات ہے۔ اس سے (عورتوں کو) نہ روکیں گے اورتعدیل ادب (ادب میں میانہ روی رکھنا) سکھائیں گے۔وَاﷲ تَعَالٰی اَعْلَمُ(فتاوی رضویہ ، ۹ /۵۳۸)مدنی گلدستہ
’’یا ربّ رحم کر‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول(1) اگر کسی کو خلافِ شرع کام کرتا دیکھیں اور اُسے منع کرنے پر قدرت بھی ہو تو فوراً اُسے منع کرنا چاہیے۔
(2)اوّل صَدْمے کے وقت بے صبری کے کلمات کہے بغیر صبر کرنا صبرِ جمیل ہے اور اِسی پر اجرِ عظیم ہے ۔
(3) کسی مصیبت پر ثواب، صبرِ جمیل اور اچھی نیت ہی کی وجہ سے ملتا ہے ۔
(4) شِدّتِ غم کی وجہ سے بِلا قَصْد بے دھیانی میں اگر کسی سے کوئی کلمۂ کفر صادِر ہوجائے تو اُس پر حکمِ کفر نہیں۔
(5) غلطی کا احساس ہوتے ہی فوراً معافی مانگ لینی چاہیے۔
(6) اگر کوئی شخص بد اخلاقی سے پیش آئے تو اس کے ساتھ حسنِ سلوک ہی کرنا چاہیے۔
(7) ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم سے ہمارے والدین سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔
(8) زیارتِ قبور کو جانا چاہیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے ۔ مگر عورتوں کو اس کی اجازت نہیں۔
(9) سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضہ مبارک کی حاضری قریب واجب ہے۔اللہ عزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر مصیبت پر صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضۂ مبارک کی با ادب حاضری جلد از جلد نصیب فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 31