- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 45
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ،إِنَّمَاالشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَ الْغَضَبِ۔‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری ،کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۰،حدیث:۶۱۱۴)’’وَالصُّرَعَۃُ‘‘ بضَمِّ الصَّادِ وَفَتْحِ الرَّائِ، وَأَصْلُہُ عِنْدَ الْعَرَبِ مَنْ یَصْرَعُ النَّاسَ کَثِیْراً۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:’’ لیس الشدید بالصرعۃ،إنماالشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب۔‘‘متفق علیہ (بخاری ،کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۰،حدیث:۶۱۱۴)’’والصرعۃ‘‘ بضم الصاد وفتح الرائ، واصلہ عند العرب من یصرع الناس کثیرا۔
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پالے۔‘‘ امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں ’’اَلصُّرَعَۃُ‘‘ اہلِ عرب کے ہاں اسے کہتے ہیں جو لوگوں کواکثر پچھاڑ دیتا ہو۔
شرح حدیث
نفس سے جہاد کرنا زیادہ مشکل ہےحدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ’’ جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے اور غصے کو اپنے آپ سے روکے اصل میں پہلوان وہی ہے۔‘‘ اس سے پتہ چلا کہ نفس سے جہاد کرنا دشمن سے جہاد کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اسی لئے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غصے پر قابو پانے والے کو اس سے بھی بڑا پہلوان کہا جو لوگوں پر غالب ہو کر انہیں پچھاڑدیتا ہو۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۹/۲۹۶)
مسلم شریف کی روایت میں یوں ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَانسے پوچھا : ’’تم کیا سمجھتے ہو کہ پہلوان کون ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان نے عرض کی: پہلوان وہ ہے جسے لوگ پچھاڑ نہ سکتے ہوں۔ فرمایا:’’نہیں اصل پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ ‘‘شریعت کو مطلوب و محبوب کون؟علامہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : تم یہ سمجھتے ہو کہ پہلوان وہ ہے جو بہت طاقتور ہو اوراُس کو کوئی پچھاڑ نہ سکے ؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ شریعت کو محبوب و مطلوب تووہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ، باب فضل من یملک تفسہ عند الغضب،۸/ ۱۶۲، الجزء السادس عشر ملخصاً)غصہ برداشت کرنے سے متعلق 12روایات(1)کیسے صابر تھے محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گھرانے والے !حضرتِ سَیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے ایک غلام کے ہاتھ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے کپڑوں پر پانی گرگیا،تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اسے تیز نظر ں سے دیکھا ، غلام نے کہا:میرے آقا! وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ (اور غصہ پینے والے)۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا:میں نے اپنا غصہ پی لیا۔غلام نے پھرکہا: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ(اورلوگوں سے در گزر کرنے والے)۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کیا۔ غلام نے کہا:وَ اللہ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔(اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں )۔ (پ۴، الِ عمران:۱۳۴) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا: جا!تو اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے آزاد ہے اور میرے مال میں سے ایک ہزار دیناربھی تیرے ہیں۔(بحر الدموع ، ص۲۰۲)
اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(2) گالی دینے والے کے ساتھ خیر خواہیحضرتِ سَیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو کسی نے گالی دی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اسے اپنا مبارک کُرتا اور ایک ہزار درھم دینے کا حکم دیا۔ تو کسی نے کہا: آپ نے پانچ خصلتیں جمع کر لی ہیں :
(۱) بردباری(۲) تکلیف نہ دینا (۳) اس شخص کوایسی بات سے رہائی دینا جو اسے اللہ عزَّوَجَلَّ سے دور کردیتی (۴) اسے توبہ وندامت کی طرف راغب کرنا (۵) برائی کے بعد تعریف کی طرف رجوع کرنا۔ آپ نے معمولی دنیا کے ساتھ یہ تمام عظیم چیزیں خرید لیں۔ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۱)(3) گالی دینے والا خود شرمندہ ہوگیاحضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا کو ایک شخص گالی دینے لگا جب وہ خاموش ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے حضرتِ سَیِّدُناعِکْرِمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے فرمایا: اے عِکْرِمَہ! اس شخص کی کوئی حاجت ہو تو اسے پورا کر دو! جب اس شخص نے یہ سنا تو شرمندہ ہوکر سر جھکا لیا۔(احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)(4)بغیر خریدے غلام بنا لیاایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’میں نے بصرہ کے ایک شخص کی برائی کی : تو اس نے صبر وبردباری سے کام لیا گویا اس نے مجھے ایک عرصہ تک اپناغلام بنا لیا ۔‘‘ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)(5) سردار بنانے والی خصوصیاتحضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے حضرتِ سَیِّدُنا عَرَابَہ بِنْ اَوْس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا :’’ اے عَرَابَہ! تم اپنی قوم کے سردار کیسے بنے ؟‘‘ عرض کی:’’ اے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ! میں اُن کے جاہلوں سے درگزر کرتا، انکے مانگنے والوں کو عطا کرتا اور ان کی حاجات پوری کر نے کی کوشش کرتا تھا۔ تو جو شخص میری طرح یہ کام کرے گا وہ مجھ جیسا ہو جائے گا اور جو اس سے بڑھ کر کرے گا وہ مجھ سے افضل ہو گا۔اور جو میرے عمل سے کم عمل کرے گا تو میں اس سے بہتر ہوں۔‘‘ (احیاء العلوم ،۳/۲۲۰)(6) آدمی مشورہ دینے کے قابل کب ہوتا ہے ؟حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں :’’آدمی اس وقت تک رائے (مشورہ ) دینے کے قابل نہیں ہوتا جب تک اُس کا حِلْم (بُردباری) اسکی جہالت پر اور اس کا صبر اس کی خواہش پر غالب نہ آجائے اورا س مقام تک علم کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں۔‘‘ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)(7) بُرد باری کا پہلا صِلہاَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا مولائے کائنات ، علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :’’آدمی کو بردباری (غصہ برداشت کرنے) کا پہلا عوض یہ ملتا ہے کہ تمام لوگ اُس کے طرف دار ہوجاتے ہیں اور اس کے مخالف کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)(8) جنت میں جلدی جانے والےنبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :جب اللہ عزَّوَجَلَّ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا تو ایک مُنَادِی (پکارنے والا)ندا دے گا:’’ فضیلت والے لوگ کہاں ہیں ؟ ‘‘توتھوڑے سے لوگ کھڑے ہونگے اور جلدی جلدی جنت کی طرف چل دیں گے۔ فرشتے پوچھیں گے:’’ہم تمہیں بہت تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ وہ کہیں گیـ∞:’’ ہمیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔‘‘ فرشتے پوچھیں گے:’’ تمہاری فضیلت کونسی ہے؟‘‘ وہ جواب دیں گے کہ’’ جب ہم پر ظلم کیا جاتا تھا تو ہم صبر کرتے تھے۔ جب ہم سے بُرا سلوک کیا جاتا تو ہم معاف کر دیا کرتے تھے۔ جب ہم سے جہالت کا برتاؤ کیا جاتا تو ہم حوصلے اور بردباری سے کام لیتے تھے۔‘‘ اس وقت ان سے کہا جائے گا:’’ جنت میں داخل ہو جاؤ ! عمل کرنے والوں کا کتنا اچھا اجر ہے۔‘‘ (احیاء العلوم ،۳/۲۲۰)(9)خیر وبرکت کیا ہے؟اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : بھلائی یہ نہیں کہ تمہارا مال و اولاد زیادہ ہو بلکہ بھلائی تو یہ ہے کہ تمہار اعِلْم وحِلْم زیادہ ہو۔ اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی عبادت کے ساتھ لوگوں کے سامنے فخر نہ کرو،جب نیکی کرو تو اللہ عزَّوَجَلَّ کا شکرادا کرواور جب گناہ سرزَد ہوجائے تو اللہ عزَّوَجَلَّ سے بخشش طلب کرو۔ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)(10) دوسروں پر ظلم کرنے والا ذلیل ہےایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا امام جعفر بن محمد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم اسے عرض کی: کچھ لوگوں سے میرا جھگڑا ہوا ہے میں اس معاملے کو چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن مجھے لوگوں کی طرف سے ذلت کے طعنے کا خوف ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا جعفر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا:’’ ذلیل تو وہ ہے جو دوسروں پرزیادتی کرے ۔‘‘(احیاء العلوم ، ۳/۲۲۱)(11)حُسنِ سُلوک برائی سے روکتا ہےحضرتِ سَیِّدُنا خلیل بن احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَد فرماتے ہیں : اگر برائی کرنے والے کے ساتھ حُسنِ سُلوک کیا جائے تو اُس کے دل میں ایسی بات پیدا ہوجاتی ہے جو اُسے برائی سے روکتی ہے ۔ (احیاء العلوم ،۳ /۲۲۱ )(12)اپنی ذات کے لئے بدلہ نہ لینااَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے نشہ کرنے والے ایک شخص کو سزادینے کا ارادہ فرمایا: تو وہ آپ کی برائی کرنے لگا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اسے چھوڑ دیا۔ لوگوں نے عرض کی: اے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن !جب اس نے آپ کو گالی دی تو آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا ؟ فرمایا : اس لئے کہ ا س نے مجھے غصہ دِلایا تھا اب اگر میں اسے سزا دیتا تو یہ میری اپنی ذات کے لئے غصہ ہوتا اور میں نہیں چاہتا کہ کسی مسلمان کو اپنی ذاتی غیرت کی وجہ سے کوئی سزا دوں۔ (احیاء العلوم ،۳/۲۲۳)مدنی گُلد ستہبُرْد باری کے7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حقیقی پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو پا لے ۔
(2)حُسنِ اخلاق بُروں کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے ۔
(3) عظیم لوگ اپنے نفس کے لئے کسی سے بدلہ نہیں لیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں۔
(4) جو کسی پر احسان کرتا ہے اس پر بھی احسان کیا جاتا ہے۔
(5) جو جتنا زیادہ عِلْم وحِلْم والا ہو گا اسے اتنی ہی زیادہ خیروبھلائی ملے گی ۔
(6) مشورہ ایسے شخص سے لینا چاہیے جس کا حِلْم اُس کی جہالت پر غالب ہو اور اس کا صبر اس کی خواہش پر غالب ہو ۔
(7)اپنے نفس سے جہاد کرنا دشمن سے جہاد کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 45