Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 52

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ یَحْیٰی أُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلًامِّنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! اَلَا تَسْتَعْمِلُنِیْ کَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ فَقَالَ:’’اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثَرَۃً، فَاصْبِرُوْاحَتّٰی تَلْقَوْنِیْ عَلَی الْحَوْضِ۔‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ۔ (بخاری، کتاب مناقب الانصار،باب قول النبی للانصار اصبروا…الخ، ۲/۵۵۸، حدیث:۳۷۹۲)

عن ابی یحیی اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ان رجلامن الانصار قال: یا رسول اللہ! الا تستعملنی کما استعملت فلانا؟ فقال:’’انکم ستلقون بعدی اثرۃ، فاصبرواحتی تلقونی علی الحوض۔‘‘ متفق علیہ۔ (بخاری، کتاب مناقب الانصار،باب قول النبی للانصار اصبروا…الخ، ۲/۵۵۸، حدیث:۳۷۹۲)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اُسَیْد بن حُضَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَارَسُولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ مجھے بھی عَامِل (زکوٰۃ وصول کرنے والا)کیوں نہیں بنا دیتے جس طرح فلاں کو بنایا ہے؟ آپعَلَیْہِ السَّلامنے فرمایا :’’تم میرے بعد ترجیحی سُلوک دیکھوگے پس صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوضِ کوثر پر ملاقات کرو۔‘‘

شرح حدیث

علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : مذکورہ حدیثوں میں حاکم کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اُبھارا گیا ہے اگرچہ حاکم ظالم ہو ، لیکن اسے اس کا حق دیا جائے گا اور اس کے خلاف بغاوت نہیں کی جائے گی۔ رعایا کو چاہئے کہ ظالم حاکم سے خلاصی ، اس کے شر ا ور حق تلفی کو دور کرنے اور اس کی اصلاح کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرے۔ ’’اَلْاَثَرَۃُ‘‘ کا معنی یہاں پر یہ ہے کہ اُمَرا یعنی حکمرانوں کا بَیْتُ الْمَال کے مال میں دوسروں (یعنی رعایا) کے مقابلے میں خود کو ترجیح دینا۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الامارۃ، باب وجوب الوفا ببیعۃ الخلیفۃ…الخ، ۶/۲۳۲، الجزء الثانی عشر)مستقبل کی خبریہ ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے کہ آ پصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی خبر دی اور بالکل ایسا ہی ہوا جیسا ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خبر دی تھی ۔(احکام الاحکام شرح عمدۃ الاحکام،کتاب الزکوۃ، ۳/۳۱۲)علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَنِیعمدۃُ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں:’’حدیث پاک میںنَبِیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ’’ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہنا‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ زکوۃ کا جو مال تمہیں دینا ہے ادا کرو اور اگر وقتِ ضرورت جہاد کے لئے تمہیں بلایا جائے تو اپنے آپ کو پیش کردو لیکن تمہارے وہ حقوق جو تمہیں نہیں دئیے جارہے تو ان حقوق کے لئےاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں دعا کرو ۔حضرتِ سَیِّدُنا زیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ اپنے حقوقاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں پَست آواز سے دعا کر کے مانگو کیونکہ اگر کوئیاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں بلند آواز سے دعا کر ے تو یہ صورت ظالم حکمرانوں کی بے عزتی کا سبب بنے گی جو فتنے وفساد کی طرف لے جائے گی۔ (عمدۃ القاری، کتاب الفتن،باب قول النبی ’’سترون بعدی امورا‘‘۱۶/۳۲۹، تحت الحدیث:۷۰۵۲) معلوم ہوا کہ چاہے حکمران اپنی ذمہ داری نبھائیں یا نہ نبھائیں رعایا کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جائزاُمور میں ان کی اطِاعت کرنی چاہیے، ہاں اگر وہاللہ عزَّوَجَلَّکی نافرمانی والے کام کا حکم دیں تو اُن کی اطاعت نہیں کی جائے گی اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے ’’لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللہ‘‘ یعنیاللہ عزَّوَجَلَّکی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔(مسلم ،کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ… الخ، ص۱۰۲۳، حدیث:۱۸۴۰) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم حکمران کے ظلم پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے خلاصی، اس کے شر سے بچنے اور اس کی اصلاح کے لئےاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں دعا کرنی چاہیے اور ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے کیونکہ ہمارے بُرے اعمال کے سبب ہم پر بُرے حکمران مُسَلَّط کر دیئے جاتے ہیں ہم ان حکمرانوں کو تو بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے اگر ہم اپنی اصلاح کرلیں اور اپنے اعمال درست کرلیں تواللہ عزَّوَجَلَّحکمرانوں کو بھی صحیح کردے گا جیسا کہ اس حدیثِ قُدسی سے صاف ظاہر ہوتاہے :قَالَ رَسُوْلُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:’’إِنَّ اللہ تَعَالٰی یَقُوْلُ: أَنَا اللہ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا مَالِکُ الْمُلُوْکِ وَمَلِکُ الْمُلُوْکِ قُلُوْبُ الْمُلُوْکِ فِیْ یَدِیْ وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُوْنِیْ حَوَّلْتُ قُلُوْبَ مُلُوْکِہم عَلَیْہم بِالرَّحْمَۃِ وَالرَّأْفَۃِ وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِیْ حَوَّلْتُ قُلُوْبَہم بِالسُّخْطَۃِ وَالنِّقْمَۃِ فَسَامُوْہم سُوْئَ الْعَذْابِ فَلَا تَشْغِلُوْاأَنْفُسَکُمْ بِالدُّعَائِ عَلَی الْمُلُوْکِ وَلٰکِنِ اشْغَلُوْا أَنْفُسَکُمْ بِالذِّکْرِ وَالتَّضَرُّعِ کَیْ أَکْفِیَکُمْ مُلُوْکَکُمْ۔‘‘
ترجمہ:
رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اللہ عزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے :’’میںاللہہوں ،میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ، باد شاہوں کے دل میرے دستِ قدرت میں ہیں ، جب لوگ میری اطاعت کریں تو میں ان(بادشاہوں ) کے دلوں کو رحمت اور نرمی کرنے کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب لوگ میری نافرمانی کریں تو میں اُن (بادشاہوں ) کے دلوں کو سختی اور سزا کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ لوگوں کو سخت ایذائیں دیتے ہیں ، تو تم اپنے آپ کو بادشاہوں کو بدعا دینے میں مشغول نہ کرو بلکہ ذکر اور عاجزی میں مصروف رہو تاکہ تمہارے بادشاہوں کی طرف سے میں کافی ہو جاؤں۔‘‘(مشکاۃ المصابیح، کتاب الامارۃ والقضائ، الفصل الثالث، ۲/۳۴۳، حدیث:۳۷۲۱)بادشاہوں کی سختی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیںمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :مطلب یہ ہے کہ میں بادشاہوں کے ظاہر و باطن کا بادشاہ اور مالک ہوں وہ سب مجبور و مَحْکوم ہیں ان کے دل و زبان و قلم سب میرے قبضہ میں ہیں ، اگر عام لوگ اور اکثر رعایا میری مُطِیْع (فرمانبردار) ہوجائے تو میں بادشاہوں کے دل میں رحمت و الفت پیدا کردوں گا خیال رہے کہ رَأفَۃ، رحمت سے قوی ہوتی ہے مہربانی کو رحمت کہتے ہیں اور بہت ہی زیادہ مہربانی کو رأفۃ ، رب تعالیٰ فرماتا ہےبِالْمُؤْمِنِیْنَ رَ وْفٌ رَّحِیْم۔ معلوم ہوا کہ بادشاہوں کی سختی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے اور ظالم بادشاہوں کی معزولی یا موت کی دعائیں نہ کرو ممکن ہے اس ظالم کے بعد کوئی اور بڑا ظالم تر تم پر مُسَلَّط ہوجائے۔ وجہِ ظلم کو دور کرو یعنی گناہوں سے توبہ کرو، تم میری اطاعت کرنے لگو حُکَّام تم پر نرم ہوجائیں گے۔(مراٰۃ المناجیح، ۵/۳۷۰ ، ملتقطاً)بُرے کام کابُرا انجاماگر ہم پر ظالم حکمران مسلط کر دیئے جائیں تو ان حکمرانوں کو کوسنے اور بُرا بھلا کہنے کے بجائے ہمیں حدیثِ مذکور میں بتائے گئے علاج پر عمل کرنا چاہیے یعنی ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے ، ہم اپنی اصلاح کر لیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّخود اُن کے دلوں کر نرم فرما دیگا اور وہ ہم پر رحم دل ہو جائیں گے۔
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :’’ یعنی اگر تم اسلامی بادشاہ کافِسْقُ و فُجُوْرکھلم کھلا دیکھو، ان کے اَحکام و اَفعال کی کوئی توجیہ نہ ہوسکے تو ان کی اطاعت نہ کرو ، مگر پھر بھی ان فاسق سلاطین پرخُرُوْجْ نہ کرو کہ ان سے لڑنا بِھڑنا باجماع مسلمین حرام ہے اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ بادشاہ فسق و ظلم کی وجہ سے معزول نہ ہوگا،کیونکہ سلطان کا معزول ہونا بڑی تباہی ملک و خوں ریزی کا باعث ہے۔ ہاں کافر سلطانِ اسلام نہیں بن سکتا، اگر مسلمان بادشاہ کافر ہوجائے تو معزول ہوگا۔(مراٰۃ المناجیح، ۵/۳۴۱، ملخصاً)
حدیثِ مذکور میں حوض کوثر کا بیان ہوا لہٰذا اس عظیم وبابرکت حوض کے متعلق کچھ بیان کیا جاتا ہے :
حوضِ کوثررسولِ اکرم نورمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’ میرا حوض ایک مہینہ کی مَسافت کا ہے اور اس کے گوشے برابر ہیں اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہے اس کے کوزے آسمان کے تاروں کی طرح ہیں جو اس سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب فی الحوض، ۴/۲۶۷، حدیث:۶۵۷۹)ہر نبی(عَلَیْہِ السَّلام)کے لئے حوض ہوگانور کے پیکر ،تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ ہر نبی کا حوض ہے اور وہ حضرات اس پر فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے پاس زیادہ آنے والے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ سب سے زیادہ لوگ میرے پاس ہی آئینگے ۔‘‘ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجا فی صفۃ الحوض، ۴/۲۰۰، حدیث:۲۴۵۱)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ ہر نبی کا حوض علیحدہ ہوگا۔ مگر ہمارے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حوض جس کا نام کوثر ہے ان سب سے بڑا سب سے خوبصورت اور سب سے لذیز ہوگا۔ہر نبی کے حوض پر ان کی امت ہی حاضرہوگی، امت کی زیادتی نبی کے لئے، شاگردوں کی زیادتی استاذ کے لئے ،مریدین کی زیادتی شیخ کے لئے ،رعایا کی کثرت بادشاہ کے لیے باعث ِفخر ہوتی ہے۔ جنتی لوگوں کی کل صفیں ایک سو بیس (120)ہوں گی جن میں سے اَسّی(80) صفیں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی امت باقی چالیس صفوں میں ساری امتیں۔ (مراٰۃالمناجیح، ۷/۴۵۸)خُلَفَائے راشدین سے محبت کا صِلہنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے:’’ میرے حوض کے چار کونے ہیں پہلے کونے پر ابوبکر ،دوسرے پرعمر ، تیسرے پر عثمان اور چوتھے پر علی ہوں گے(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم اَجْمَعِیْن) جو ابوبکر سے محبت کرے اور عمر سے بغض رکھے اس کو ابوبکر سیراب نہیں کریں گے اور جو عمر سے محبت رکھے اورابو بکر سے بغض رکھے اس کو عمرسیراب نہیں کریں گے اور جو عثمان سے محبت کرے اور علی سے بغض رکھے اسے عثمان حوض سے نہیں پلائیں گے اور جو علی سے محبت کرے مگر عثمان سے بغض رکھے اس کو علی سیراب نہیں کریں گے۔ (العلل المتناہیۃ لابن جوزی، حدیث فی فضل الاربعۃ، ۱/۲۵۴، حدیث :۴۰۸) تو جس نے ابوبکر سے محبت کی اس نے دین کو قائم کیااور جس نے عمر سے محبت کی سیدھی راہ اختیار کی اور جس نے عثمان سے محبت کی وہ نورِ مبین سے منور ہوا اور جس نے علی سے محبت کی تواس نے بڑی مضبوط گرہ کو تھام لیااور جس نے تمام صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکے متعلق حسنِ ظن رکھا وہ نفاق سے بَری ہے۔(الثقات لابن حبان، کتاب من روی عن اتباع التابعین، محمد بن المقاتل العبادانی، ۵/۴۴۸، حدیث:۳۳۱۰)
پھول رَحمت کے ہر دم لٹاتے رہے یاں غریبوں کی بگڑی بناتے رہے
حوضِ کوثر پہ مت بھول جانا کہیں تم پہ ہر دم کروڑوں دُرُودوسلام
ہمیں چاہیے کہ ہر مصیبت پر صبر کریں ، یہاں تک کہ اگر ظالم و فاسق حکمران ہم پر مسلط کردئیے جائیں تب بھی صبر سے کام لیا جائے ۔ہاں ! اُن کی اصلاح اور ان سے خُلاصی (چھٹکارا) کے لئے بارگاہ خدا وندی میں دعا گو رہیں۔ اپنی اور سب لوگوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔
اِنْ شَاء اللہ عزَّوَجَلَّبروز قیامت اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارے پیارے ہاتھوں جامِ کوثر پینا نصیب ہو گا ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّآج کے اس پُر فِتَن دور میں تبلیغ ِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے مشکبار مدنی ماحول میں اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کا ذہن ملتا ہے، عمل کا جذبہ بڑھتا ہے،اللہ ورسول عزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکی محبت ملتی ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّدعوت اسلامی کو دن دُگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ’’حوضِ کوثر‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے احاد یثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) حکمرانوں کی ناپسند یدہ باتوں پر صبر کرنے کا بھی اجر ملتا ہے ۔
(2)فسق و ظلم کی وجہ سے بادشاہِ اسلام معزول نہ ہوگا ہاں کوئی کافر کسی اسلامی سلطنت کا حاکم نہیں بن سکتا اگر(
مَعَاذَ اللہ) کوئی مسلمان بادشاہ کافر و مرتد ہوجائے تو اسے معزول کر دیا جائے گا۔
(3) حاکمِ اسلام پر خُرُوْج یا اس کے خلاف بغاوت نہیں کی جائے گی اگرچہ وہ رعایا کے حقوق ادا کرنے میں غفلت کرتا ہے ۔
(4) ظالم و فاسق بادشاہ کی اصلاح اور اس کے ظلم و شر سے بچنے کے لئے بارگاہِ خدا وندی میں دعا کرنی چاہیے ۔
(5) ظالم حکمران رعایا کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
(6) ہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عزَّوَجَلَّکی عطا سے علمِ غیب جانتے ہیں آپ نے بارہا مستقبل کی خبریں دیں اور بالکل ایسا ہی ہوا جیسا زبان حق ترجمان سے نکلا ۔
(7) حضور
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیامت کے دن اپنی امت کے صابرین اور دیگر افراد کوحوض کوثر سے بھر بھر کر جام پلائینگے جسے یہ جام نصیب ہوگا اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی ۔اللہ عزَّوَجَلَّہمیں بروز قیامت پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک ہاتھوں جامِ کوثر پینا نصیب فرمائے ! ہم اری بے حساب مغفرت فرمائے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 52