- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 48
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِیْ قَالَ:’’ لَا تَغْضَبْ‘‘ فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ:’’ لَا تَغْضَبْ‘‘۔رَوَاہُ الْبُخَارِی(بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۱،حدیث:۶۱۱۶)
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ ان رجلا قال للنبی صلی اللہ علیہ وسلم: اوصنی قال:’’ لا تغضب‘‘ فردد مرارا، قال:’’ لا تغضب‘‘۔رواہ البخاری(بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۱،حدیث:۶۱۱۶)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نَبِیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی :’’مجھے وصیت فرمائیے! ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’غصہ مت کرو۔‘‘ اس نے کئی بار یہی سوال دُہرایا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہر بار یہی فرمایا کہ’’ غصہ مت کیا کرو۔‘‘
شرح حدیث
غصہ نہ کرنے سے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ اِبْنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :’’ علامہ خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الھَادِیْ نے فرمایا : ’’لَاتَغْضَبْ‘‘ کے معنی ہیں کہ غصے کے اسباب سے بچ اور غصے کی وجہ سے جو کیفیت ہوتی ہے اسے اپنے اوپر عارض مت کر ، یہاں پر نفسِ غُصّہ سے منع نہیں کیاگیا کیونکہ وہ تو طبعی چیز ہے جو کہ انسان کی فطرت میں موجود ہوتا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ’’ جو شخص بارگاہ رسالت میں نصیحت کا طالب ہوا تھا شاید ان کا مزاج بہت تیز اورطبیعت میں غصہ زیادہ تھا اورمُبَلِّغِ اعظم، نَبِیِّ مُکَرََّمْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ ہر ایک کو اس کی طبیعت کے مطابق حکم ارشاد فرماتے اسی لئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں غصہ ترک کرنے کی وصیت فرمائی۔‘‘حضرت اِبْنِ تِیْن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَتِیْن فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس جملے ’’لَاتَغْضَبْ‘‘ میں دنیا و آخرت کی بھلائی جمع فرمادی کیونکہ غُصّہ اِنسان کو قطعِ تعلق کی طرف لے جاتا اور نرمی سے روکتا ہے اور بسا اوقات یہ انسان کو مَغْضُوْب عَلَیْہ (جس پر غُصّہ آیا ہے اس) کی ایذار سانی پر اُبھارتا ہے اور اس سے دین میں کمی آتی ہے۔ (ملخصاً فتح الباری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۱۱/۴۳۹، تحت الحدیث:۶۱۱۶)جیس ا مریض ویساعلاجعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَنِیْ فرماتے ہیں :’’حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سائل کو’’لَاتَغْضَبْ‘‘ اس لئے فرمایا کیونکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی طبیعتیں جانتے تھے اس لئے جس کی جیسی طبیعت ہوتی اُسے ویسا ہی حکم ارشاد فرماتے ، شاید کہ وہ صاحب بہت غصے والے تھے اسی لئے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں غصہ ترک کرنے کی وصیت فرمائی ۔‘‘ عَلَّامَہ اَبُو سَعِیْد عَبْدُ اللہ بِنْ عُمَر بَیْضَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی فرماتے ہیں : چونکہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانتے تھے کہ انسان کے اندر جتنی بھی برائیاں پیدا ہوتی ہیں وہ اس کی خواہشات اور غصے کی وجہ سے ہوتی ہیں اس لئے غصے کا تقاضہ کرنے والے اسباب کو چھوڑنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ پس جب اس شخص نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کسی ایسے اہم امر کی رہنمائی چاہی جس کے ذریعے وہ برائی اور غصے جیسے بڑے نقصان و بڑے گناہ سے بچے اور اپنے سب سے بڑے دشمن(نفس) پر غلبہ حاصل کرسکے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے غصے سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔(عمدۃ القاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۱۵/۲۵۵، تحت الحدیث:۶۱۱۶)سب سے زیادہ سخت چیزایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ کونسی چیز سب سے زیادہ سخت ہے؟ فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ کا غضب۔ عرض کی: مجھے غضب ِالٰہی سے کیا چیز بچا سکتی ہے ؟ فرمایا : غصہ نہ کیا کرو۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۰۵)رَبِّ سَتَّار پردہ پوشی فرمائے گاجو شخص اپنے غصے کوروکے اللہ عزَّوَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔ (معجم کبیر،عمر بن دینار عن ابن عمر،۱۲/۳۴۶،حدیث:۱۳۶۴۶)غصہ کی کثرت راہِ حق سے ہٹا دیتی ہےحضرتِ سَیِّدُنا سیلمان بن داؤد عَلَیْھِمَا السَّلَام نے فرمایا: زیادہ غصہ کرنے سے بچو کیونکہ غصے کی کثرت بُرْدبار آدمی کے دل کو راہِ حق سے ہٹادیتی ہے۔(احیاء العلوم، ۳/۲۰۴)مسلمانوں کی عمدہ صفاتحضرتِ سَیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : یہ باتیں مسلمانوں کی علامات میں سے ہیں : دین میں مضبوطی ، نرمی برتنے میں احتیاط ، ایمان یقین کے ساتھ ، علم بردباری کے ساتھ، رَفاقت سمجھ داری کے ساتھ، حقوق کی ادائیگی ، مالداری میں میانہ رَوی ،فاقہ میں اچھی طرح صبر ، باوجود طاقت کے احسان، رفاقت میں برداشت، سختی میں صبر ، غصے سے مغلوب نہ ہونا،غیرت وحمیت سرکشی پر نہ ابھارے ، شہوت غالب نہ ہو، پیٹ رسوا نہ کرے، حِرْصذَلیل نہ کرے،نیت میں کوتاہی نہ ہو، مظلوم کی مدد کرے اور کمزورپر رحم کھائے ،نہ کنجوسی کرے اور نہ حد سے زیادہ خرچ کرے، جب کوئی ظلم کرے تو اسے معاف کر دے اور جاہل سے درگزر کرے ،خود مَشَقَّت اٹھائے لیکن دوسروں کو آسانی پہنچائے۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۰۶)
ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہم اللہ الْمُبِیْن کے سامنے جب غصہ دلانے والی باتیں کی جاتیں تو وہ غُصّہ نہ کرتے بلکہ ان کی تمام تر توجہ اپنی آخرت کی طرف رہتی تھی اور شیطان کے اس وار کو ناکام بنا دیتے۔ چنانچہ،فکرِ صدیقیمنقول ہے کہ ایک شخص نے اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو برا بھلا کہا تو آپ نے فرمایا :’’جو کچھ اللہ عزَّوَجَلَّ نے تجھ سے چھپا رکھا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے ۔‘‘ گویا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف اور اس کی مزید معرفت کے حصول میں مشغول تھے اسی لئے آپ نے اپنی عیب جوئی کرنے والے پر غصہ نہ کیا ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)تو نے مجھے پہچان لیاایک عورت نے حضرتِ سَیِّدُنامالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار سے کہا:’’ اے ریا کار!‘‘ آپ نے فرمایا: تیرے سوا کسی نے مجھے نہیں پہچانا۔گویا آپ اپنے آپ سے ریاکاری کی آفت کو دور کرنے میں مشغول تھے اور جو کچھ شیطان کہتا تھا اس کا انکار فرماتے تھے، لہٰذا جب آپ کو رِیاکار کہا گیا تو آپ نے غُصّہ نہ کیا ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)برائی کرنے والے کے لئے دعائے مغفرتایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الوَلِیّ کو گالی دی تو انہوں نے فرمایا :اگر تو (اپنی بات میں ) سچاہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ مجھے بخش دے اور اگر تو جھوٹاہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ تجھے بخش دے۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی ان واقعات کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :’’ ان واقعات سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کو غُصّہ نہیں آتا تھا کیونکہ ان کے دل اہم دینی اُمورمیں مشغول ہوتے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گالی گلوچ اُن کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہو لیکن یہ اس طرف توجہ ہی نہ کرتے ہوں کیونکہ وہ اس بات میں مشغول ہوتے تھے جس کا اُن کے دلوں پر غلبہ تھا ، تو بعید نہیں کہ دل کا بعض اَہم امور میں مشغول ہونا بعض پسندیدہ چیزوں کے چلے جانے پر غُصّہ آنے کو روک دے اس وقت غصے کا مفقود ہونا متصور ہوگا۔‘‘ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)ایک جملے میں تمام اَخلاقحضرتِ سَیِّدُنا حسن بصر ی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :اے انسان ! جب تو غصے میں آتا ہے تو اُچھلتا ہے خیال کرکہیں ایسا نہ ہو کہ توجہنم میں چھلانگ لگابیٹھے۔ حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی گئی کہ ایک جملے میں بتائیے کہ اچھے اخلاق کیا ہیں ؟ فرمایا :غصے کو چھوڑدینا ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۰۵۔ ۲۰۶)
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی کیونکہ اگر کوئیمُعَزَّز آدمی میری برائی کرے تو مجھے چاہیے کہ اسے معاف کردوں اور اگر کوئی کمینہ گالی دے تو مجھے اپنی عزت کو اس کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے پھر یہ شعر پڑھا :
وَاَغْفِرُعَوْرَاءَ الْکَرِیْمِ اِدِّخَارَہُ وَاَعْرِضُ عَنْ شَتْمِ اللَّئِیْمِ تَکَرُّماً
ترجمہ :معزز آدمی کی خطا معاف کرتا ہوں تاکہ اجر ملے اور کمینے کی غلطی سے اپنی عزت بچانے کے لئے درگزر کرتا ہوں۔ (احیاء العلوم، ۲/۲۳۱)
مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ اُسے جلدی غُصّہ آتا ہے تو جلدہی چلا بھی جاتا ہے۔مومن کا غصہفرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :اَلْمُؤمِنُ سَرِیْعُ الْغَضَبِ سَرِیْعُ الرِّضَا،ترجمہ :مومن کو جلدی غُصّہ آتا ہے اور وہ جلد ہی راضی ہوجاتا ہے۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۲۳)
جب انسان کو غصہ آتا ہے تو دِلی کیفیت بدلنے کے ساتھ ساتھ اعضا ئے ظاہری پر بھی غصہ کی علامات با آسانی محسوس کی جاسکتی ہیں۔چنانچہ ،غصے کے نتیجے میں ہونے والے اثرات بیان کئے جاتے ہیںغصے کے اثراترنگ متغیر ہوجانا، کندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات وسکنات میں بے چینی کا پایا جانا، نیز کلام کا مُضْطَرِب ہوجانا (زبان پر قابو نہ رہنا) یہاں تک کہ باچھوں (ہونٹوں کے سِروں ) سے جھاگ نکلنے لگتا ہے، آنکھوں کی سرخی حد سے بڑھ جاتی ہے، نتھنے پھول جاتے ہیں ، بلکہ ساری صورت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی غضبناک شخص اس حالت میں اپنی ہی شکل دیکھ لے تو شرم کے مارے اپنی خوبصورت شکل کو بدصورتی میں تبدیل پا کر خود بخود ہی اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ کسی بھی انسان کی ظاہری حالت اس کی باطنی کیفیت کی عکاس ہوتی ہے۔ لہٰذاجب باطنی کیفیت ہی بُری ہو گی تو ظاہری حالت بھی اسی برائی پر پروان چڑھے گی، لہٰذا ظاہر کی تبدیلی حقیقت میں باطن کی تبدیلی کانتیجہ ہوتی ہے۔
زبان پر غصے اور غضب کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ اس سے بری باتیں نکلتی ہیں مثلاً ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحبِ عقل انسان کو حیا آتی ہے، ایسی گفتگو کرنے والے شخص کو غصے کے وقت اپنی باتوں پر قابو نہیں رہتا بلکہ اس کے الفاظ بھی بے ربط اورخلط ملط ہو جاتے ہیں۔ پھرنوبت مار پیٹ بلکہ قتل وغارت گری تک جا پہنچتی ہے، اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تووہ اپنا غصہ خود پر ہی نکالنے لگتا ہے ، اپنے کپڑے پھاڑتا اپنے آپ کواور دوسروں کو یہاں تک کہ جانوروں اور دوسری اشیاء تک کو مارنے یا توڑنے لگتا ہے، بلاوجہ پاگل شخص کی طرح بھاگنے لگتا ہے اور بعض اوقات زمین پر گر جاتا ہے اور حرکت تک نہیں کر سکتا بلکہ غضب کی زیادتی کی وجہ سے اس پر غشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔دل پر اس کے اثرات یہ مرتب ہوتے ہیں کہ جس پر غصہ ہو اس کے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیدا ہو جاتا ہے، اس کی مصیبت پر خوشی کا اورخوشی پر غم کااظہار کرتا ہے، اس کا راز فاش کرنے، دامنِ عزت چاک کرنے اور مذاق اُڑانے کا عزمِ مُصَمَّم (یعنی پختہ ارادہ)کرلیتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی برائیاں ایسی ہیں جن کا سبب غصہ بنتا ہے ۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۱/۱۱۸۔۱۱۹)
معلوم ہوا کہ بے جا غصہ ایک مذموم صفت ہے اور غصے کی حالت میں انسان قطع تعلق کرتا، انتقامی کاروائی کرتا اور مَغْضُوْب عَلَیْہ کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے بلکہ صبر کرتے ہوئے غصہ پی جائے تو اس کے لئے بڑا اَجروثواب ہے ۔شیخِ طریقت امیر اہلسنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرکَاتُہم العَالِیَۃاپنے رسالے ’’غصے کا علاج‘‘ کے صفحہ نمبر ۹ پر غصے کا ایک علاج یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ غُصّہ پی جانے اور درگزر سے کام لینے کے فضائل سے آ گاہی حاصل کرے ، جب کبھی غُصّہ آئے اُن فضائل پر غور وفکر کرکے غُصّے کو پینے کی کوشِش کرے۔ غصہ پینے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی گئی ہے۔ چنانچہ ،جنت کی بشارتحضرتِ سَیِّدُناابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنَّت میں داخِل کر دے؟ فرمایا :’’ لَا تَغْضَبْ وَلَکَ الْجَنَّـۃُ‘‘ یعنی غُصّہ نہ کرو، تو تمہارے لئے جنَّت ہے۔ (مجمع الزوائد، ۸/۱۳۴، حدیث:۱۲۹۹۰)کیا ہر غُصّہ حرام ہے؟عوام میں یہ غَلَط مشہور ہے کہ’’غُصّہ حرام ہے‘‘ غُصّہ ایک غیر اختیاری امر ہے، انسان کو آہی جاتا ہے، اِس میں اس کاقُصُور نہیں ، ہاں غصے کا بے جا استعمال بُراہے ۔ بعض صورتوں میں غُصّہ ضَروری بھی ہے مثلًا جِہاد کے وَقت اگرغُصّہ نہیں آئے گا تو اللہ عزَّوَجَلَّ کے دشمنوں سے کس طرح لڑیں گے! بہر حال غُصّے کا’’اِزالہ‘‘(یعنی اس کا نہ آنا)ممکن نہیں ’’اِمالہ‘‘ ہونا چاہئے یعنی غُصّہ کا رُخ دوسری طرف پھر جانا چاہئے۔یہ آخِرت کیلئے انتِہائی مفید ہے۔(غصے کا علاج، ص۲۷) اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے غصے پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ’’ فاروق‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مد نی پھول
(1) جنت کے طلبگار کواپنے غصے پر قابو رکھنا چاہیے۔
(2) غصہ انسان کی حالت میں ایسی تبدیلی کر دیتا ہے کہ غصہ والا شخص اپنی صورت دیکھ لے تو غصے سے باز آجائے۔
(3) غصہ نرمی سے روکتا ، قطع تعلق کرواتا ، دوسروں کو ایذا دینے پر ابھارتا اور اس کے علاوہ اور بہت سی اخلاقی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ۔
(4) جب کوئی ہمیں غصہ دلائے تو ہمیں اپنے اَسلاف کی پیروی کرتے ہوئے اپنی خامیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور اس شخص سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے صبر سے کام لینا چاہیے۔
(5) غصہ آنا برا نہیں بلکہ غصے کابے جا استعمال بُرا ہے ۔
یا رَبَّ الْعَالَمِیْن عزَّوَجَلَّ !بَطُفیلِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں اپنے قہر و غضب سے بچا اوردنیا و آخرت میں اپنی حفظ و امان میں رکھ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 48