Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 33

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا أَنَّہَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُوْنِ فَأَخْبَرَہَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ کَانَ عَذَابًا یَبْعَثُہُ اللہُ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ فَجَعَلَہُ اللہُ رَحْمَۃً لِلْمُؤْمِنِیْنَ فَلَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یَقَعُ الطَّاعُوْنُ فَیَمْکُثُ فِیْ بَلَدِہٖ صَابِرًا یَعْلَمُ أَنَّہُ لَنْ یُصِیْبَہُ إِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَہُ إِلَّا کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّہِیْد۔ (بخاری ،کتاب الطب ، باب اجر الصابر فی الطاعون ،۴/۳۰ حدیث: ۵۷۳۴)

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا انہا سالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الطاعون فاخبرہا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ کان عذابا یبعثہ اللہ علی من یشائ فجعلہ اللہ رحمۃ للمؤمنین فلیس من عبد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا یعلم انہ لن یصیبہ إلا ما کتب اللہ لہ إلا کان لہ مثل اجر الشہید۔ (بخاری ،کتاب الطب ، باب اجر الصابر فی الطاعون ،۴/۳۰ حدیث: ۵۷۳۴)

حدیث ترجمہ

اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو رسُولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: طاعون ایک عذاب تھا کہ اللہ عَزَّوَجَل جس پر چاہتااسے بھیجتا ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَل نے مؤمنین کے لئے اسے رحمت بنادیا ۔تو جو شخص طاعون پھیلنے کے زمانے میں اپنے شہر میں صبرکے ساتھ طلب ثواب کے لئے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے تو اس کے لئے شہید کی مثل ثواب ہے۔

شرح حدیث

طاعون( Plague) کیا ہے ؟علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : طاعون، یہ جسم میں نکلنے والی گلٹیاں ہیں ، جو بغلوں ، کہنیوں ، ہاتھوں ،انگلیوں اور سارے بدن میں سخت درد اور سوجن اور جلن کے ساتھ نکلتی ہیں اور مُتَأَثِّرَہ حصہ سیاہ ،سرخ یا سبز ہو جاتا ہے ان کی وجہ سے طبیعت میں گھبراہٹ ہوتی ہے۔(شرح مسلم للنووی،کتاب السلام، باب الطاعون والطیرہ والکہانہ، ۷/۲۰۴، الجزء الرابع عشر)
مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی مطبوعہ کتاب ’’عَجائِبُ الْقُرْاٰن مَعْ غَرَائِب الْقُرْاٰن‘‘میں ہے ’’ طاعون ایک مُہْلِک(جان لیوا)وبائی بیماری ہے جس کو ڈاکٹر( پلیگ) Plague کہتے ہیں۔اس بیماری میں گردن اور بغلوں اور کُنجِ ران (ران کے کنارے )میں آم کی گٹھلی کے برابر گلٹیاں نکل آتی ہیں۔ جن میں بے پناہ درد اور ناقابلِ برداشت سوزش ہوتی ہے ۔ شدید بخار چڑھ جاتا ہے ،آنکھیں سرخ ہوکر دردناک جلن سے شعلہ کی طرح جلنے لگتی ہیں ،مریض شدتِ درد اور شدید بے چینی و بے قراری میں تڑپ تڑپ کر بہت جلد مرجاتا ہے۔(عجائب القراٰن، ص۲۵۷)
شہید کے برابر ثوابعَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبَارِی میں فرماتے ہیں کہ طاعون مومنوں کے لئے رحمت اور کافروں کے لئے عذاب ہے اور یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ طاعون کا رحمت ہونا مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے اور جب طاعون کی بیماری کافروں پر مُسَلَّط ہو تو یہ آخرت سے پہلے دنیا میں انکے لئے عذاب ہے۔ جب کسی آبادی میں طاعون کی بیماری پھیلے اور بندۂ مومن وہاں صبر کرتے ہوئے، اللہ عزَّوَجَلَّ کا حکم مانتے ہوئے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ٹھہرا رہے تو اسے شہید کی مثل ثواب ملے گا، یہ تینوں ( صفتیں جو ابھی ذکر ہوئیں ) طاعون کی بیماری میں مرنے والے کے لئے شہید کے برابر ثواب پانے کے لئے شرط ہیں۔(فتح الباری، کتاب الطب، باب اجر الصابر علی الطاعون، ۱۱/۱۶۳، تحت الحدیث: ۵۷۳۴)دو حدیثوں میں تطبیقعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :’’ ایک حدیث میں ہے کہ جو طاعون میں مرا وہ شہید ہے جبکہ حدیثِ مذکور میں ہے کہ طاعون میں مبتلا ہونے والے کے لئے شہید کی مثل اجر ہے تو ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ جو طاعون کے مرض پر بغیر شکوہ و شکایت کے صبر کرے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہے اور اسی حالت میں اسے موت آجائے تو وہ شہید ہے اور جسے موت نہ آئے تو اس لئے شہید کی مثل ثواب ہے ۔ ‘ (عمدۃ القاری، کتاب الطب، باب اجر الصابر فی الطاعون، ۱۴/۷۱۳، تحت الحدیث:۵۷۳۴)شہید کی مثل ثوابمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : طاعون کفار پر عذاب ہے جو کافر اس میں مرے گا وہ عذاب کی موت مرے گااورصبر کرنے والا مسلمان خواہ طاعون میں فوت ہوجائے یا بعد میں جب بھی مرے گا،درجۂ شہادت پائے گا۔(ملخصاًمراٰۃ المناجیح ، ۲/۴۱۴)اُمّتِ محمدیہ پر اللہ عزَّوَجَلَّ کا خاص کرمحضرت علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی تفہیم البخاری میں فرماتے ہیں :’’اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اس اُمَّتِ مُحَمَّدِیَہ پر اللہ عزَّوَجَلَّ کی بہت مہربانی ہے کیونکہ جو بیماری دوسری امتوں کے لئے عذاب مقرر کی گئی ہے وہ اس امت کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کی رحمت ہے۔ طاعون بنی اسرائیل کے لئے عذاب اور اِس امت کے لئے رحمت ہے ۔‘‘(تفہیم البخار ی، ۵/۳۵۵) دوسرے مقام پر فرمایا :’’ اس اُمّت کے مومنوں کے لئے طاعون کو رحمت کیا ہے اس کا رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ یہ شہید کے ثواب کو مُتَضَمِّن( شامل) ہے اگر چہ یہ صورت کے اعتبار سے سخت تکلیف دہ ہے ، لیکن یہ کافروں کے لئے شدید عذاب ہے۔‘‘ (تفہیم ا لبخار ی، ۸/۸۰۰)طاعون والے علاقے میں صبر و استقلال سے ٹھہرنامیر ے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت،پروانۂ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ اِمَام اَحْمَد رَضا خَان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں :’’ا پنے شہرمیں تین وصفوں کے ساتھ ٹھہرے :اول صبرواستقلال، دوم تَسْلِیْم وتَفْوِیْض ورَضَا بِالْقَضَاء پرطلبِ ثواب (یعنی ثواب کی نیت سے ربّ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اپنے آپ کو اس بستی میں روک رکھے)، سوم یہ سچا اعتقاد کہ بے تقدیرِ الٰہی ( اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم کے بغیر) کوئی بَلانہیں پہنچ سکتی۔ ‘‘(فتاوی رضویہ ، ۲۴/ ۳۰۲)
معلوم ہوا کہ انسان تقدیر سے نہیں بھاگ سکتا ۔ جو نفع ونقصان اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا وہ اسے ضرور پہنچے گا۔موت اپنے وقت پر ضرورآئے گی چاہے گھر میں ہوں یا مضبوط ومحفوظ قلعوں میں۔ ہاں جس کی زندگی باقی ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں مار سکتی اور بسا اوقات تو قدرتِ الٰہی ایسے کرشمے دکھاتی ہے کہ عقلِ انسانی حیران رہ جاتی ہے ۔
اسی مناسبت سے ایک ایمان افروز حکایت بیان کی جاتی ہے :
جانور نے انسانی بچہ کی پرورش کیحضرتِ سَیِّدُنامَعْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی کا بیان ہے:اَبُوبُغَیْل نامی ایک شخص نے اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا : ایک مرتبہ طاعون کے مرض نے لاشوں کے انبار لگادیئے ،ہم مختلف قبیلوں میں جاکر مُردوں کو دفن کرتے۔ لیکن جب پور ے پورے گاؤں ہلاک ہونے کی وجہ سے لاشوں کی تعداد بہت بڑھ گئی اور ہم انہیں دفنانے سے عاجز آگئے تو ہم یوں کرتے کہ ایک گھر کے افراد کی لاشیں گھر کے ایک کمرے میں جمع کرکے دروازہ اورکھڑکیاں وغیرہ بند کردیتے۔ پھر طاعون کا مرض ختم ہو نے کے بعد جب ہم ایک گھرمیں داخل ہوئے تو وہاں ایک صحت مند، خوبصورت بچہ موجود تھا ۔ نہ جانے وہ بچہ کہاں سے آیا تھا؟اور اب تک بغیر غذا کے کیسے زندہ تھا ؟ ہم ابھی اسی شش وپنج میں تھے کہ اچانک ایک مادہ درندہ دیوار کے ٹوٹے ہوئے حصے سے اندر داخل ہوا اور بچے کے قریب آکر بیٹھ گیا۔بچہ اس کی طرف گیا اس کا دودھ پینے لگا۔ خالقِ کائنات ورَزَّاقِ مخلوقات جَلَّ جَلَالُہ کی اس شانِ رزّاقی کو دیکھ کرہم بہت حیران ہوئے کہ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے بندوں کو رزق کے اسباب مہیّا کرتاہے ۔ اس نے ایک بچے کی خوراک کاانتظام کس طرح کیا۔ طاعون کی بیماری سے اس گھر کے تمام افراد عورتیں اور مرد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے، انہیں افراد میں ایک حاملہ عورت بھی تھی جس کا انتقال ہوگیا پھر اس بچے کی ولادت ہوئی اور اس کے رزق کا انتظام ایک درندے کے ذریعے کیا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا مَعْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی کہتے ہیں کہ اس بچے کی خوب پرورش ہوئی اور وہ جو ان ہو گیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ بصرہ کی مسجد میں اپنی داڑھی سنواررہا تھا (یعنی وہ جوان ہوگیا تھا)۔ (عیون الحکایات ، ص۳۹۴)طاعون والے علاقے میں نہ جاؤ !حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ الرَّحْمٰن بِنْ عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون کی وَبا پھیلی ہے تو اس زمین میں نہ جاؤ اور اگر تمہاری زمین میں وَبا پھیلی ہے تو اس زمین سے راہِ فرار اختیار نہ کرو۔ (بخاری، کتاب الطب، باب ما یذکر فی الطاعون،۴/۲۹، حدیث:۵۷۳۰) لہٰذا جب کسی زمین میں طاعون کی وَبا پھیلی ہو تو وہاں نہیں جا سکتے کیونکہ اس جگہ جانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور اگر ہمارے علاقے میں یہ وَبا پھیل جائے تو وہاں سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ ہمارا بھاگنا ہمیں تقدیر کے لکھے سے بچا نہیں سکتا ۔عقل مندغلامتفسیر روح البیان میں ہے :’’جب ملک شام میں طاعون کی وَبا پھیلی تو بَنُوْ اُمَیَّہ کا بادشاہ عَبْدُالْمَلِک بِنْ مَرْوَان موت کے ڈر سے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے شہر سے بھاگ نکلا اور ساتھ میں اپنے خاص غلام اور کچھ فوج بھی لے لی وہ طاعون سے اس قدر خائف اور ہراساں تھا کہ زمین پر پاؤں نہیں رکھتا تھا بلکہ گھوڑے کی پشت پر ہی سوتا۔ دورانِ سفر ایک رات اُسے نیند نہ آئی تو اس نے اپنے غلام سے کہا کہ تم مجھے کوئی قصہ سناؤ۔ عقلمند غلام نے بادشاہ کو نصیحت کرنے کا موقع پا کر یہ قصہ سنایا کہ ایک لومڑی اپنی جان کی حفاظت کے لئے ایک شیر کی خدمت گزاری کیا کرتی تھی تو کوئی دَرِندہ شیر کی ہیبت کی وجہ سے لومڑی کی طرف دیکھ نہیں سکتا تھا۔ لومڑی نہایت ہی بے خوفی اور اطمینان سے شیر کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھی۔ اچانک ایک دن ایک عقاب لومڑی پر جھپٹا تو لومڑی بھاگ کر شیر کے پاس چلی گئی۔ شیر نے اسے اپنی پیٹھ پر بٹھالیا۔ عقاب دوبارہ جھپٹا اور لومڑی کو شیر کی پیٹھ پر سے اپنے پنجوں میں دبا کر اڑ گیا۔ لومڑی چلّا چلّا کر شیر سے فریاد کرنے لگی تو شیر نے کہا: میں زمین پر رہنے والے درندوں سے توتیری حفاظت کرسکتا ہوں لیکن آسمان کی طرف سے حملہ کرنے والوں سے میں تجھے نہیں بچا سکتا۔ یہ قصہ سن کر عبدالملک بادشاہ کو بڑی عبرت حاصل ہوئی اور اس کی سمجھ میں آگیا کہ میری فوج ان دشمنوں سے تو میری حفاظت کرسکتی ہے جو زمین پر رہتے ہیں مگر جو بلائیں اور وبائیں آسمان سے مجھ پر حملہ آور ہوں ، ان سے مجھ کو نہ میری بادشاہی بچا سکتی ہے نہ میرا خزانہ اور نہ میرا لشکر میری حفاظت کرسکتا ہے۔ آسمانی بلاؤں سے بچانے والا تو بجز خدا کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ یہ سوچ کر عَبْدُالْمَلِک بادشاہ کے دل سے طاعون کا خوف جاتا رہا اور وہ رضائے الٰہی پر راضی رہ کر سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے شاہی محلمیں رہنے لگا۔ (روح البیان، پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ:۲۴۴، ۱/۳۷۸)طاعون سے بھاگنے والی جماعت کا انجامبنی اسرائیل کی ایک جماعت نے طاعون کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑا تو وہ سب کے سب مر گئے ۔ قراٰنِ کریم میں ارشادِخدا وندی ہے :اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ۪- فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا۫- ثُمَّ اَحْیَاهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(۲۴۳)(پ۲، البقرۃ:۲۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیابیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔
تفسیرِ نعیمی میں اس آیت کے تحت جو واقعہ بیان کیا گیاہے اس کاخلاصہ کچھ یو ں ہے : ایک شہر کے لوگ طاعون کے ڈر سے کسی پہاڑی علاقے میں چلے گئے۔ وہاں ایک فرشتے نے بحکمِ الٰہی چیخ کر کہا ’’سب مرجاؤ‘‘ چنانچہ سب ہلاک ہوگئے۔ اُن کی لاشیں ایسے ہی پڑی رہیں یہاں تک کہ گَل سَڑگئیں۔اتفاقاً حضرتِ سیِّدُنا حِزْقِیْل عَلَیْہِ السَّلام وہاں سے گزرے تو بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: الٰہی! اِنہیں زندہ فرمادے! ارشاد ہوا: آپ انہیں پکارئیے! چنانچہ، آپ عَلَیْہِ السَّلام نے کہا: اے ہڈیو! اللہ کے حکم سے جمع ہوجاؤ! تمام ہڈیاں جمع ہوگئیں ، پھرفرمایا: اے گلے ہوئے جسمو!میرے پرورد گار کے حکم سے کھڑے ہو جاؤ! تووہ سارے یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے: سُبْحَانَکَ اللہم رَ بَّنَا وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ۔پھر یہ لوگ کئی سال زندہ رہے۔ مگر ان کے چہرے مُردوں کے سے تھے ۔ان سے اولاد بھی پیدا ہوئی ۔ اس آیت میں انہی لوگوں کا ذکر ہے ۔(تفسیرِ نعیمی پ ۲، البقرہ، تحت الایۃ: ۲۴۳،۲/۴۸۲،مکتبہ اسلامیہ لاہور)
شانِ انبیاءاس آیت سے چند فائدے حاصل ہوئے ۔پہلا فائدہ: حضور سید عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَنُورِ نَبُوَّت عالَم کے سارے اگلے پچھلے واقعات ملاحظہ فرمائے کیونکہ اتنے پرانے واقعہ کو’’ اَلَمْ تَرَ‘‘ اِسْتِفْہَامِ اِنْکارِیسے بیان فرمایا گیا کہ کیا آپ نے نہ دیکھا تھا یعنی ضرور دیکھا تھا۔ اِلٰی سے معلوم ہوتا ہے کہ رؤیت بمعنی نظر چشم ہے۔ ایسے ہی حضور نے آئندہ واقعات کو دیکھ کر خبر دی جن کے بارے میں بکثرت روایات موجود ہیں۔
اَ لَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنخَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ سے اشارۃً دوباتیں معلوم ہوئیں (1) طاعون کے زمانہ میں گھر چھوڑدینا منع ہے خواہ شہر بھی چھوڑدیا جائے یا صرف محلہ تبدیل کیا جائے جب کہ وَبا سے بھاگنا مقصود ہو۔ (2) حضور کی نظر اس عالَم میں رہ کر ہر چیز کو دیکھتی بھی تھی اور پہچانتی بھی تھی ہم اری آنکھیں بیک وقت بڑے مجمع کو دیکھ کر ہر ایک کو پہچان نہیں سکتیں ہم اری ناک بہت سی خوشبوئیں صحیح محسوس نہیں کرسکتی، ہمارے کان بیک وقت بہت سی آوازیں سن نہیں سکتے مگر حضور کے حواس ان کمزوریوں سے محفوظ۔حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آج لاکھوں کا سلام بیک وقت سن کر سب کو علیحدہ جواب دیتے ہیں قیامت میں بیک وقت ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لیں گے پھر ہر امتی کے ہر حال کو جانیں گے ورنہ شفاعت ناممکن ہے ۔حضور نعمتِ اِلٰہیہ کے قاسم ہیں اور قاسم ہر حصہ اور ہر حصہ دار کو پہچانتا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلام نے فرمایا تھا :
وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْؕ(پ۳، اٰل عمران:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔
معلوم ہوا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلام ہر دانہ اور اس کے کھانے والے سے خبر دار ہیں۔جب حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اتنا علم ہے تو پھر نبیوں کے سردار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علمِ غیب کا عالَم کیا ہوگا؟
دوسرا فائدہ : انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کی بارگاہ ِالٰہی میں وہ عزت ہے کہ اگر وہ کسی بات پر بطریقہ ناز ضد کر جائیں یا قسم کھالیں تو ربّ کریم عزَّوَجَلَّ پوری فرمادیتا ہے ۔ دیکھو حضرت حِزْقِیْل عَلَیْہِ السَّلام کی عَرض معروض پر ان سب کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔
تیسرا فائدہ: اللہ والوں کی پھونک یا آواز صورِ اسرافیل کا اثر رکھتی ہے کہ حضرت حِزْقِیْل عَلَیْہِ السَّلام کی پکار سے نَفْخِ صُوْر (صورِ اسرافیل)کی طرح اتنی بڑی جماعت زندہ ہوگئی ۔
چوتھا فائدہ: کوئی بھی تدبیر سے تقدیر نہیں بدل سکتا اور نہ آنے والی موت کو ٹال سکتا ہے۔ لہٰذا اے مسلمانو! جہاد نہ چھوڑو جب اپنے وقت پر موت آئے گی تو بہتر ہے کہ راہِ خدا میں آئے۔
پانچواں فائدہ: طاعون سے بھاگنا منع ہے ، دیکھو یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) طاعون سے بھاگے تھے عتابِ الٰہی میں گرفتار ہوئے۔ ‘‘(تفسیرِ نعیمی پ۲، البقرہ، تحت الایۃ: ۲۴۳،۲/۴۸۳،مکتبہ اسلامیہ لاہور)
انسان کو اپنے ربّ عزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ، بُرے لوگوں کی صُحْبَت ، بُرے مشوروں اور تمام گناہوں سے بچنا چاہیے ۔بسا اوقات دنیا میں بھی گناہوں کی سزا ملتی ہے ،جس میں لوگوں کے لئے عبرت کا سامان ہوتا ہے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص بدکاری کا مرتکب ہو ا تو پوری جماعت کو طاعون میں مبتلا کر کے ہلاک کیا گیا۔چنانچہ ،
گناہوں کی وجہ سے طاعونمنقول ہے کہ بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء اپنے دور کا بہت بڑا عالم ،عابد و زاہد اوراسمِ اعظم جاننے والا تھا۔ اس کی روحانیت کا یہ عالَم تھا کہ زمین سے عرشِ اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ بہت ہی مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات تھا( یعنی اس کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں ) اس کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی، اس کی درسگاہ میں طالب علموں کی دواتیں بارہ ہزار تھیں۔جب حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ’’قَوْمِ جَبَّارِیْن‘‘ سے جہاد کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوئے تو بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء کی قوم اس کے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا : موسیٰ ( عَلَیْہِ السَّلام )بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لے کر حملہ آور ہونے والے ہیں۔ وہ ہم اری زمینیں اپنی قوم بنی اسرائیل کو دینا چاہتے ہیں۔ تم اُن کے لئے ا یسی بددعا کر و کہ وہ شکست کھا کر واپس چلے جائیں ، تم چونکہ مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات ہو( تمہاری ہر دعا مقبول ہے) اس لئے یہ دعا بھی ضرورقبول ہوگی۔ یہ سن کربَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء کانپ اٹھا۔ اور کہنے لگا :
تمہارا بُرا ہو، خدا کی پناہ! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام اللہ عزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں اور ان کے لشکر میں مومنوں اور فرشتوں کی جماعت ہے میں ان پرکیسے بددعا کرسکتا ہوں ؟ لیکن اس کی قوم رَو رَو کر اسی طرح اصرارکرتی رہی ۔چنانچہ، اس نے کہا کہ اِسْتِخَارَہ کرلینے کے بعد اگر مجھے اجازت مل گئی تو بددعا کردوں گا۔جب اِسْتِخَارَہ کیا تو اسے بددُعا کی اجازت نہ ملی۔ چنانچہ، اس نے صاف اِنکار کرتے ہوئے کہا : اگر میں بددعا کروں گاتو میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔ یہ سن کر اس کی قوم نے بہت سے گِراں قدر(مہنگے) ہَدایا اور تحائف اسے دیئے یہاں تک کہ بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء پر حِرْص اور لالچ کا بھوت سوار ہو گیا، وہ مال کے جال میں پھنس کر اپنی گدھی پر سوار ہو ا اوربددعا کے لئے چل پڑا۔ راستہ میں بار بار اس کی گدھی ٹھہر جاتی اور منہ موڑ کرواپس بھاگتی مگر یہ اس کو مار مار کر آگے بڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ گدھی کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ تووہ بول پڑی :’’ تجھ پر افسوس !اے بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء !تو کہاں اور کدھر جا رہا ہے؟ دیکھ!میرے آگے فرشتے ہیں جو میرا راستہ روکتے اور میر امنہ موڑ کر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ اے بَلْعَمْ! تیرا بُرا ہو ،کیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ کے نبی اور مؤمنین کی جماعت پر بددعا کرے گا؟ گدھی کی یہ گفتگو سن کر بھی بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء واپس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ’’حُسْبَان‘‘ نامی پہاڑ پر چڑھ کرحضرتِ موسیَٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لشکروں کو بغور دیکھا اور مال و دولت کے لالچ میں اس نے بددعا شروع کردی۔ خدا عزَّوَجَلَّ کی شان کہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کے لئے بددعا کرتا تھا مگر اس کی زبان پر اس کی قوم کے لئے بددعا جاری ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر کئی مرتبہ اس کی قوم نے ٹوکا کہ اے بَلْعَمْ! تجھے کیا ہوا کہ الٹی بددعا کررہا ہے ؟ اس نے کہا :اے میری قوم!میں کیا کروں ؟ میں بولتا کچھ ہوں اور میری زبان سے کچھ اور ہی نکلتا ہے۔ پھر اچانک اس پر یہ عذابِ الٰہی نازل ہوا کہ اس کی زبان لٹک کر سینے پر آگئی۔ اس وقت بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء نے اپنی قوم سے کہا :افسوس میری دنیا و آخرت برباد و غارت ہوگئیں۔میرا ایمان جاتا رہا اور میں قَہْرِ قَہَّار و غَضَبِ جَبَّار عزَّوَجَلَّ میں گرفتار ہو گیا۔ اب میری کوئی دعا قبول نہیں ہوسکتی مگر میں تم لوگوں کو ایک چال بتاتا ہوں تم لوگ ایسا کرو گے تو شاید حضرت موسیٰ (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ و السَّلَام) کے لشکروں کو شکست ہوجائے گی ۔تم لوگ ہزاروں خوبصورت لڑکیوں کو بہترین لباس و زیورات پہنا کر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیج دو۔ اگر ان کا ایک آد می بھی بدکاری میں مبتلا ہوگیا تو پورے لشکر کو شکست ہوجائے گی۔ چنانچہ، بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء کی قوم نے اس کے بتائے ہوئے مکر کا جال بچھایا، بہت سی خوبصورت دوشیزاؤں کو بناؤ سنگھار کے ساتھ بنی اسرائیل کے لشکرمیں بھیج دیا۔ بنی اسرائیل کا ایک رئیس ایک لڑکی کے فتنے میں مبتلا ہوگیا اس نے لڑکی کو اپنے ساتھ لیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کے پاس آکر پوچھا : اے اللہ عزَّوَجَلَّ کے نبی! کیا یہ لڑکی میرے لئے حلال ہے؟ آپ عَلَیْہِ السَّلام نے فرمایا: خبردار !یہ تیرے لئے حرام ہے۔ فوراً اس کو اپنے سے الگ کردے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈر۔ مگر اس رئیس پر شہوت کاغلبہ تھا اس نے اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلام کی بات نہ مانی اور اس لڑکی سے بد کاری میں مبتلا ہوگیا ۔ اس گناہ کی نحوست کا یہ اثر ہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں اچانک طاعون کی وَبا پھیل گئی اور گھنٹے بھر میں ستر ہزار آدمی مر گئے ۔ سارا لشکرمنتشر ہو کر ناکام واپس چلا آیا۔ بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء بارگاہِ الٰہی سے دُھتکاردیا گیا۔ آخری دم تک اس کی زبان اس کے سینے پر لٹکتی رہی اور وہ بے ایمان ہو کر مر ا۔(صاوی، پ۹، الاعراف، تحت الایۃ:۱۷۵،۲/۷۲۷)
دین کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہےدینِ اسلام ایسا پاکیزہ و ستھرا دین ہے کہ اس کا ہر ہر حکم حکمت بھرا ہے ،اسلام کے احکامات کو ماننے والا ہم یشہ فائدے میں رہتا ہے۔ اگرچہ بسا اوقات بعض احکام بظاہر بہت گِراں محسوس ہوتے ہیں لیکن ان میں دین ودنیا کی بے شمار بھلائیاں پِنہاں ہوتی ہیں۔ اسی حکم کو لے لیجئے کہ طاعون زَدَہ علاقے سے بھاگنا ناجائز و گناہ ہے، بظاہر یہ حکم نَفس پر بہت گراں ہے لیکن اس میں بے شمار دِینی ودُنیوی فوائدو حکمتیں ہیں۔ چنانچہ، اس حکم کی حکمت بیان کرتے ہوئے سرکارِاعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، مولانا شاہ اِمَام اَحْمَد رَضا خَان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں :’’جن حکمتوں کی بناپر حکیم کریم، رء وف رحیم عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم نے طاعون سے فرار (بھاگنا) حرام فرمایا ان میں ایک حکمت یہ ہے کہ اگرتندرست بھاگ جائیں گے بیمار ضائع رہ جائیں گے ان کا کوئی تیماردار ہوگا نہ خبرگیراں ، پھر جو مریں گے ان کی تجہیز وتکفین کون کرے گا، جس طرح خود آج کل ہمارے شہر اور گردونواح کے ہنود میں مشہور ہورہاہے کہ اولاد کو ماں باپ، ماں باپ کو اولاد نے چھوڑ کر اپناراستہ لیا بڑوں بڑوں کی لاشیں مزدوروں نے ٹھیلے پر ڈال کر جہنم پہنچائیں ، اگر شرعِ مُطہّر مسلمانوں کو بھی بھاگنے کاحکم دیتی تومَعَاذَاﷲ یہی بے بسی بیکسی ان کے مریضوں مَیِّتوں کو بھی گھیرتی جسے شرع قطعاً حرام فرماتی ہے۔اِرْشَادُ السَّارِی شرح صحیح البخاری میں ہے (لَا تُخْرِجُوْا فِرَارًا مِّنْہُ) فَاِنَّہُ فِرَارٌمِّنَ الْقَدْرِ وَلِئَلَّا تَضِیْعُ الْمَرْضٰی لِعَدْمِ مَنْ یَّتَعَھَّدُھُمْ وَالْمَوْتٰی مِمَّنْ یُّجَھِّزُھُمْ۔ ترجمہ(مقام طاعون سے بھاگ کرکہیں باہر نہ جاؤ کیونکہ یہ تقدیرِالٰہی سے بھاگنے کے مُترادِف ہے اور تاکہ بیمار ضائع نہ ہونے پائیں اس لئے کہ اس افراتفری کے باعث مریضوں کی نگہبانی اور حفاظت کے لئے کوئی نہیں ہوگا اور مرنے والوں کی تجہیزوتکفین اور تدفین کے لئے بھی کوئی نہ ہوگا)۔(فتاوی رضویہ ، ۲۴/۳۰۳-۳۰۴)مدنی گلدستہ’’ شہید ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیث مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)طاعون ایک عذاب تھا لیکن اِس اُمت کے لئے اِسے رحمت بنا دیا گیا ۔
(2) جسے اللہ عزَّوَجَلَّ بچانا چاہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔تقدیر سے کوئی نہیں بھاگ سکتا جو انسان کے مُقَدَّر میں لکھ دیا گیا وہ اسے ضرور پہنچے گا ۔
(3)انبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کا گستاخ دنیا وآخرت میں ذلیل وخوار ہوتا ہے ۔
(4) جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے بھاگنا حرام اور اس علاقے میں جانا بھی منع ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا و آخرت میں عافیت عطا فرمائے ، جو مصائب ہمارے مُقَدَّر میں ہیں ان پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 33