- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 47
حدیث مبارکہ
عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ مَنْ کَظَمَ غَیْظًا، وَہُوَ قَادِرٌ عَلٰی أَنْ یُنْفِذَہُ، دَعَاہُ اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالٰی عَلٰی رُئُ وْسِ الْخَلَائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یُخَیِّرَہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ مَا شَاءَ‘‘۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ وَالتِّرْمِذِی وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ
(ابو داؤد ، کتاب الادب، باب من کظم غیظا، ۴/۳۲۵، حدیث:۴۷۷۷)
عن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:’’ من کظم غیظا، وہو قادر علی ان ینفذہ، دعاہ اللہ سبحانہ و تعالی علی رئ وس الخلائق یوم القیامۃ حتی یخیرہ من الحور العین ما شاء‘‘۔ رواہ ابوداود والترمذی وقال حدیث حسن
(ابو داود ، کتاب الادب، باب من کظم غیظا، ۴/۳۲۵، حدیث:۴۷۷۷)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا جو شخص غصہ نافذکرنے پر قادر ہونے کے باوجود اسے پی جائے ، قیامت کے دن اللہ عزَّوَجَلَّ تمام مخلوق کے سامنے بُلا کر اسے اختیار دے گا کہ بڑی آنکھوں والی جس حور کو چاہے پسند کرے۔
شرح حدیث
حدیثِ مذکور میں غُصّے کی حالت میں صبر کرنے کی تَلْقِیْن کی گئی ہے، کیونکہ اس حالت میں صبر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے خاص طورپر اس وقت کہ جب انسان مَغْضُوْب عَلَیْہ (یعنی جس پر غُصّہ آیا ہے اُس ) پر غصہ نافذکرنے کی قدرت رکھتا ہو ، ایسی صورت میں اگر کوئی شخص صبراور عفوو درگزر سے کام لے تو اس کے لئے زبر دست اِنعام ہے کہ بروزِ قیامت سب لوگوں کے سامنے بلا کراسے اختیار دیا جائے گا کہ جس جنتی حور کو چاہے اختیار کر لے ۔غُصّہ پینے والے پر فخر کیا جائیگااِمَام شَرَف الدِّیْنحُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :غصہ پی جانے سے مراد یہ ہے کہ جو غصے کا سبب بنا اسے معاف کرتے ہوئے صبر سے کام لینا ۔ غُصّہ پی جانا نفسِ امّارہ کو مغلوب کرنا ہے اسی لئے حدیث پاک میں غصہ پی جانے والے کی تعریف کی گئی ہے۔ قراٰن کریم میں بھی غُصّہ پی جانے والوں کی تعریف بیان کی گئی ہے ۔
چنانچہ، فرمان باری تعالیٰ ہے :وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ(پ۴،اٰل عمران:۱۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور غُصّہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے۔
جوشخص اپنے نفس کو خواہشات سے روکے توجنت اس کا ٹھکانااور حورِ عین اس کا انعام ہے۔ ’’اسے لوگوں کے سامنے بلایا جائے گا‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ سب مخلوق کے سامنے بلا کر اس پر فخر کیا جائے گا اور اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے یہ عظیم کام کیا ہے(یعنی اپنے غصے پر قابو پایا ) ۔ (شرح الطیبی، کتاب الاداب، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق، ۹/۲۸۲، تحت الحدیث:۵۰۸۸)
حضرتِ سَیِّدُناعلامہم لَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ ’’باوجود قدرت غصہ نہ نکانے والے کی بروز قیامت لوگوں کے سامنے تشہیر و تعریف کی جائے گی اور اس پر فخر کیا جائیگا ، پھر اس شخص کو اختیار دیا جائے گا کہ جنتی حوروں میں سے جس حور کو چاہے لے لے یہ اس کے جنت میں داخل ہونے اور بلند درجہ پانے کی طرف اشارہ ہے ۔‘‘ (ملتقتا،مرقاۃ المفاتیح، کتاب الاداب، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق، ۸/۸۱۶، تحت الحدیث:۵۰۸۸)نیک لوگ غصے سے کس طرح بچتے تھے؟ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہ الْمُبِیْن فکرِ آخرت جیسے اہم کام میں مشغولیت کی وجہ سے اپنے دل میں غصے کے نفاذ کی کوئی گنجائش نہیں پاتے تھے کیونکہ اہم باتوں میں دل کی مشغولیت دوسرے کاموں کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ اسی مناسبت سے بزرگان دین کے واقعات ملاحظہ فرمائیے !(1) گالی مجھے نقصان نہ دے گیایک شخص نے صحابیِ رسول حضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو گالی دی تو آپ نے فرمایا :’’ اگر میزان میں میرے اعمال کا وزن کم ہوا تو جو کچھ تو کہتا ہے میں اس سے بھی بُرا ہوں اور اگر میرے اعمال کاپلڑا بھاری ہواتو تیری گالی مجھے کوئی نقصان نہ دے گی ۔‘‘چونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی پوری توجہ آخرت کی طرف تھی اسی لئے آپ کا دل گالی سے متاثر نہیں ہوا۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)(2) دشوار گزار گھاٹیحضرتِ سَیِّدُنا رَبِیْع بِنْ خَیْثَمْ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کسی نے گالی دی تو آپ نے فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ نے تیری بات سن لی ہے اور جنت کے راستے میں ایک دشوار گزار گھاٹی ہے اگر میں اسے پا ر کر گیا توتیری یہ گالی مجھے کوئی نقصان نہ دے گی ا ور اگر میں اسے پار نہ کر سکا تو جو کچھ تو کہہ رہا ہے میں اس سے بھی برا ہوں۔‘‘(احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)(3) سخت کلامی پر صبرایک دفعہ ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ العَزِیْزسے بہت سخت کلامی کی تو آپ نے کافی دیر تک اپنا سرِمبارک جھکائے رکھا پھر اس سے فرمایا :’’ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں شیطان کے ہاتھوں کمزور ہوکر سلطانی غلبہ کے سبب تمہارے ساتھ ایسا سلوک کرو ں جس کا کل تم مجھ سے بدلہ لو ؟‘‘(احیاء العلوم، ۳/۲۰۵)غصہ دِلانے کے اسبابحضرتِ سَیِّدُنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پوچھا:’’کونسی چیز زیادہ سخت ہے؟‘‘ فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ کا غضب۔ ‘‘پوچھا :’’کون سا کام غضب ِ الٰہی کے قریب کرتا ہے ؟‘‘ فرمایا:’’ غصہ کرنا۔‘‘پوچھا:غصہ کس وجہ سے پیدا ہوتاہے؟‘‘فرمایا:’’ تکبر ، فخر، خودساختہ عزت وجھوٹی حَمِیَّت(غیرت) سے۔‘‘ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
خود پسندی ، مِزاح، غیر سنجیدگی، دوسروں کوشرمندہ کرنا، بات کاٹنا، مخالفت کرنا، دھوکا دینا،زائد مال اورجاہ ومرتبے کی شدید حِرْص، یہ تمام اُمور غصہ دلانے کے اسباب ہیں ، لہٰذا اِن اَسباب کے مخالف اُمور کے ذریعے ان کو زائل کرنا ضروری ہے ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)غصہ دلانے والے امور کا علاجحُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیغصہ اور اسکے اسباب کا علاج تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’تکبر کو تواضع واِنکساری کے ذریعے اور خود پسندی کو اپنی حقیقت کی پہچان کے ذریعے دور کیا جائے۔ فخر کو دور کرنے کے لئے اپنا یہ ذہن بنائے کہ میں بھی اپنے غلاموں (نوکروں ) کی طرح ایک بندہ ہوں کیونکہ تمام لوگوں کا نَسَب ایک ہے اور سب ایک باپ حضرتِ سَیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلام کی ا ولاد ہیں البتہ فضیلت میں کچھ تَفَاوُت (فرق) ہے (جس کا معیار تقویٰ و پرہیز گاری ہے ) تکبر خود پسندی اور فخر نِہایت گھٹیا عادات ہیں بلکہ تمام برائیوں کی جڑ ہیں جب تک ان سے خالی نہ ہو ا جائے اس وقت تک دوسروں پر فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی۔تو جب ہمارا نَسَب بھی ایک ہے اور ظاہری وباطنی اعضاء بھی ایک جیسے ہیں تو ہم کسی پر فخر کیوں کریں۔ طنزومزاح سے اس طرح بچاجاسکتا ہے کہ آدمی اپنے ایسے اہم دینی اُمورمیں مشغول ہوجائے جوتمام زندگی کوگھیرلیتے ہیں لیکن پھر بھی بچ جاتے ہیں اوریہ اسی وقت ہوگا جب اُن اُمورکی معرفت حاصل ہو گی ۔لغو باتوں کو فضائل اور اخلاقِ حسنہ کی طلب میں سنجیدگی اختیار کرنے کے ذریعے دور کیاجا سکتا ہے۔اس طرح لغو باتوں کاایک علاج عُلومِ دِینیہ میں مشغولیت بھی ہے جو کہ اُخروی سعادت تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
دوسروں کامذاق اڑانیسے بچنے کاطریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کولوگوں کی ایذارسانی(تکلیف پہنچانا) اورانکے تَمَسْخُر (مذاق اُڑانے) سے بچانے کی فکر کی جائے۔ دوسروں کو شرمندہ کرنے کی عادت کو یوں چھوڑا جا سکتا ہے کہ بُری بات اور کڑواجواب دینے سے بچا جائے ، مال وجاہ (دولت و مرتبہ)کی کثرت کی حرص کویوں دور کیاجاسکتا ہے کہ ضرورت کے مطابق مال پر قناعت اور بے نیازی کی عزت کی طلب کی جائے اور حاجت کی ذلت سے بچا جائے۔ ان تمام عادات واوصاف کے علاج کے لئے رِیاضت اور مَشَقَّت برداشت کرنے کی اَشَدّ ضرورت ہے اور ان میں رِیاضت سے پہلے ان کی خرابیوں سے آگاہ ہونابھی ضروری ہے تاکہ نفس ان سے اِعراض کرے (منہ پھیرے) اور ان کی خرابیوں سے نفرت کرے پھر ان بری عادات کی مخالف عادات (یعنی اچھی عادات) کی عرصہ دراز تک پابندی کی جائے تاکہ نفس ان کا عادی ہوجائے ۔ جب ان عادات کے چھوٹ جانے سے نفس پاک ہوجائے گا تو ان سے پیداہونے والے غصے سے بھی جان چھوٹ جائے گی ۔‘‘ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۳)مدنی گلدستہ
’’ قد یر‘‘ کے 4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4 مدنی پھول(1) غصہ پینے والا قابلِ فخر ہے ۔
(2) جواپنے غصے کا علاج کرنا چاہے اسے چاہئے کہ بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہ الْمُبِیْن کے غصہ پینے کے واقعات کو مدِّ نظر رکھے، اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ ان نیک لوگوں کے صَدقے بے جاغصے کی عادت دور ہو جائے گی اور حِلْم و برد باری کی توفیق نصیب ہوگی۔
(3) برائی کو بھلائی کے ذریعے دور کیا جائے تو بہت اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں ، لہٰذا جس پر غصہ آئے اس کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے، اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ اس کی زندگی میں انقلاب آجائے گا ۔
(4) جوآخرت کی تیاری میں مشغول ہوں وہ اپنی ذات کے لئے لوگوں پر غصہ نہیں نکالتے بلکہ غصہ دلانے والوں کو بھی آخرت کی تیاری کی مدنی سوچ دیتے ہیں۔
یا اللہ عزَّوَجَلَّ !ہمیں اپنے نیک بندوں کے صَدقے فکرِ آخرت نصیب فرما! دونوں جہاں میں ہمیں ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھ اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرما! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 47