- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 36
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:’’کَأَنِّیْ اَنْظُرُ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْکِیْ نَبِیّاً مِّنَ الأَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہم ،ضَرَبَہُ قَوْمُہُ فَأَدْمَوْہُ،وَہُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْہِہٖ ،یَقُوْلُ:اللھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَإِنَّہم لَا یَعْلَمُوْنَ۔‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
(بخاری،کتاب احادیث الانبیاء، باب حدیث الغار،۲/۴۶۸ حدیث:۳۴۷۷)
عن ابی عبد الرحمن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قال:’’کانی انظر إلی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یحکی نبیا من الانبیائ صلوات اللہ وسلامہ علیہم ،ضربہ قومہ فادموہ،وہو یمسح الدم عن وجہہ ،یقول:اللھم اغفر لقومی فإنہم لا یعلمون۔‘‘متفق علیہ
(بخاری،کتاب احادیث الانبیاء، باب حدیث الغار،۲/۴۶۸ حدیث:۳۴۷۷)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : گویا کہ میں اب بھی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھ رہا ہوں ، جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک نبی عَلَیْہِ السَّلام کے بارے میں بیان فرمارہے تھے کہ اُن کی قوم نے اُنہیں اس قدر مارا کہ لہو لہان کر دیا اور وہ اپنے چہرئہ انور سے خون پونچھتے ہوئے فرمارہے تھے: یا اللہ ! میری قوم کو بخش دے یہ (مجھے )جانتے نہیں۔
شرح حدیث
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :معلوم ہواکہ وہ نبی ( عَلَیْہِ السَّلام ) حلم وصبروالے ،عفوودرگزر کرنے والے اوراپنی قوم پر بہت شفیق تھے، اپنی قوم کے لئے ہدایت کی دعاکرتے تھے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الجہاد والسیر،باب غزوۃ احد،۶/۱۵۰،الجزء الثانی عشر)
عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الْبَاری میں فرماتے ہیں :’’ شاید وہ نبی حضرتِ سَیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے ۔ قوم نے آپ پر تشدد کیا اور آپ کا گلا گھونٹا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوگئے جب اِفاقہ ہواتودعاکی: اے اللہ عزَّوَجَلَّ میری قوم کو بخش دے کیونکہ یہ لوگ مجھے نہیں جانتے۔‘‘ (فتح الباری، کتاب احادیث الانبیائ، باب حدیث الغار، ۷ / ۴۳۴، تحت الحدیث:۳۴۷۷)
مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح میں فرماتے ہیں :’’اُس نبی عَلَیْہِ السَّلام نے اپنی قوم کیلئے دعاکی: اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! میری قوم کو بخش دے‘‘ اس کامعنی یہ ہے کہ تو انہیں دنیا میں عذاب نہ دے اور نہ ہی ان کی نسلو ں کو ختم کر! ورنہ یہ بات تومعلوم ہے کہ کفار کے لئے مغفرت طلب کرناکہ ان کے شرک اور کفرکو معاف کر دیا جائے یہ بالاجماع جائز نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مغفرت، ایسی توبہ سے کِنایہ ہو جو مغفرت کوواجب کرنے والی ہو۔ یہ اس نبی عَلَیْہِ السَّلام کا کمال حِلْم اور حسن اخلاق تھا کہ گناہ ان کی قوم نے کیا اور آپ نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اُن کا عُذر پیش کیاکہ انہوں نے یہ جرم اس وجہ سے کیا ہے کہ یہ اللہ عزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول کو نہیں جانتے۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۹/ ۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۳)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ پاک کے اِن الفاظ (کَاَنِّی اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہ گویا میں اب بھی رسول اللہ کو دیکھ رہا ہوں ) کے تحت فرماتے ہیں :’’یہ ہے تصورِ رسول ، حضرات صحابۂ کِرام عَلَیْہم الرِّضْوَان ہروقت اپنے محبوب نبی ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی اَداؤں کے تصور میں رہتے تھے :
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا تصور میں ترے رہناعبادت اس کو کہتے ہیں
نبی سے مراد یا تو نوح عَلَیْہِ السَّلام ہیں جواپنی قوم سے بڑی تکلیف اُٹھاتے تھے حتیٰ کہ کئی کئی دن بے ہوش رہتے تھے، ہوش آنے پر پھر جاتے تبلیغ فرماتے یا خود حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات پاک مراد ہے ۔یہ واقعہ طائف کی تبلیغ اور اُحدشریف کے جہاد کا ہے کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان ظالم کفار کو دعائیں دیتے جاتے تھے چہرۂ پاک سے خون صاف کرتے جاتے تھے۔ تاکہ خون آنکھوں یا منہ میں نہ پڑے یا زمین پر نہ گرے زمین پر گرنے سے عذابِ الٰہی آجانے کا اندیشہ تھا۔ ’’(میری قوم کو) بخش دے‘‘( اس کے)معنی یہ ہیں کہ تو انہیں ایمان کی توفیق دے عذاب نہ دے ورنہ کفار کے لئے بخشش کی دعا بحکمِ قراٰن ممنوع ہے ،نہ جاننے کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں اگر پہچانتے ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۷/۱۲۶)طائف کا سفروہ ہادی جو نہ ہوسکتا غَیْرُ اللہ سے خائف چلا اک روز مکے سے نکل کر جانبِ طائفدیا پیغام حق طائف میں طائف کے مکینو ں کو دکھائی جنسِ روحانی کمینوں کو خسیسوں کونبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعوت ِاسلام کے لئے جب طائف گئے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم راہ تھے۔ طائف میں بڑے بڑے اُمرا اور مالدار رہتے تھے۔ ان میں ’’عَمْرو‘‘ کا خاندان تمام قبائل کا سردار سمجھا جاتا تھا۔ یہ تین بھائی تھے عَبْدیالِیْل،مَسْعُوْد،حَبِیْب۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں اِسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اِسلام قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھارا کہ یہ لوگ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ برا سلوک کریں۔چنانچہ، شریروں کا یہ گروہ ہر طرف سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ٹوٹ پڑا اور یہ شرارتوں کے مجسمے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس پاؤں زخموں سے لہولہان ہو گئے اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے بے تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اُٹھاتے اورجب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چلنے لگتے تو پھر پتھروں کی بارش کرتے ۔طعنہ زنی کرتے،گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے ہوئے ہنستے ۔
بڑھے اَنبوہ در اَنبوہ پتھرلے کے بیگانے لگے مِینہ پتھروں کا رحمت عالَم پہ برسانے
وہ اَبرِ لطف جنکے سائے کو گلشن ترستے تھے یہاں طائف میں اس کے جسم پر پتھر برستے تھے
وہ بازو جو غریبوں کو سہارا دیتے رہتے تھے پیاپے آنے والے پتھروں کی چوٹ سہتے تھے
وہ سینہ جس کے اندر نورِحق مستور رہتا تھا وہی اب شق ہوا جاتا تھا اس سے خون بہتا تھا
جگہ دیتے تھے جن کو حاملانِ عرش آنکھوں پر وہ نعلین مبارک ہائے خوں سے بھر گئیں یکسر
حضور اس جَور سے جب چُور ہو کر بیٹھ جاتے تھے شقی آتے تھے بازو تھام کر اوپر اٹھاتے تھے
حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ دوڑ دوڑ کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے ۔ (شرح المواہب، ۲/۵۰ ، ۵۱)
آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے نڈھال ہوکر انگور کے ایک باغ میں داخل ہوئے ۔ یہ باغ مکۂ مکرمہ کے ایک مشہور کافر عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ کا تھا۔ جب عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ اور اس کے بھائی شَیْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ حالت دیکھی تو کافر ہونے کے باوجود انہوں نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے باغ میں ٹھہرالیا اور اپنے نصرانی غلام عَدَّاس کے ہاتھ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بِسْمِ اﷲ∞ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایاتو عَدَّاس تعجب سے کہنے لگا : یہاں کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے! یہ سن کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دریافت فرمایا: تمہارا وطن کہاں ہے؟ کہا :میں ’’شہر نِیْنَوَی‘‘ کا رہنے والا ہوں۔فر مایا: وہ حضرتِیُوْنُس بِنْ مَتَی عَلَیْہِ السَّلام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا عزَّوَجَلَّ کے رسول تھے ۔ یہ سن کر عَدَّاس آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ (شرح المواہب، ۲/۵۴،۵۶ )
اس سفر کے مدتوں بعد ایک مرتبہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کیا: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا جنگ اُحُد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے؟ فرمایا : ہاں !اے عائشہ !( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ) وہ دن میرے لئے جنگ اُحُد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار’’عَبْد یَالِیْل‘‘ کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوت اسلام کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور اہل طا ئف نے مجھ پر پتھربرسائے ۔ میں اس رنج و غم میں سرجھکائے چلتا رہایہاں تک کہ مقام ’’قَرْنُ الثَّعَالِب‘‘ میں پہنچ کر مجھے کچھ آرام ملا وہاں جب میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادَل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اس بادل میں سے جبریل ( عَلَیْہِ السَّلام ) نے مجھ سے کہا: اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ کی قوم کی باتوں سے باخبر ہے اور اب آپ کی خدمت میں مَلَکُ الْجِبَال( پہاڑوں پر مؤکل فرشتہ) حاضر ہے ۔ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا ۔چنانچہ، مَلَکُ الْجِبَال نے سلام کیا اور عرض کی : اے محمد( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )! اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ کی قوم کی باتیں سن لیں ہیں اب مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا گیا ہے آپ جو چاہیں حکم فرمائیں میں آپ کا حکم بجا لاؤں گا ،اگر آپ حکم دیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر اُلٹ دوں تاکہ کچل جائیں اور ہلاک وبرباد ہوجائیں ؟ رحمت عالَم، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ عزَّوَجَلَّ کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔ (شرح المواہب، ۲/ ۵۱)
اگر یہ لوگ آج اسلام پر ایمان نہیں لاتے خدائے پاک کے دامان وحدت میں نہیں آتے
مگر نسلیں ضرور ان کی اسے پہچان جائیں گی درِ توحید پر اک روز آکر سر جھکائیں گے
ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو جہاں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ کفارِ نا ہِنجار آپ کو بہت ستاتے کبھی سَرِ اَقدس پر کُوڑا کَرکَٹ ڈال دیا جاتا ، راستے میں کانٹے بجھائے جاتے ،سجدے کی حالت میں پُشْتِ مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی جاتی علاوہ اَزیں کفارِ بد اَطْوار آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عظمت نشان میں گستاخانہ جملے بکتے پھَبْتِیاں کَستے مَعَاذَ اللہ آپ کو کاہن وجادو گر کہتے۔ مگرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صبر سے کام لیتے کوئی جوابی کاروائی نہ کرتے وَرنہ اگر چاہتے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دشمنوں کا نام نشان تک مٹ جاتا لیکن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دعائیں دیں۔
پیمبرد عوتِ اسلام دینے کو نکلتا تھا نویدِ راحت وآرام دینے کو نکلتا تھا
نکلتے تھے قریش اس راہ میں کانٹے بچھانے کو وجودِ پاک پرسو سو طرح کے ظلم ڈھانے کو
خدا کی بات سن کر مُضحِکَے میں ٹال دیتے تھے نبی کے جسمِ اَقدس پر نجاست ڈال دیتے تھے
تَمَسْخُرْ کرتا تھاکوئی ،کوئی پتھراُٹھاتاتھا کوئی توحید پر ہنستاتھا کوئی منہ چِڑاتا تھا
قریشی مرد اُٹھ کرراہ میں آواز کَستے تھے یہ ناپاکی کے چھَرَّے چار جانب سے برستے تھے
کلامِ حق کوسن کر کوئی کہتا تھا شاعر ہے کوئی کہتا تھا کاہن ہے کوئی کہتا تھاساحِر ہے
مگر وہ مَنْبعِ حِلم وحیا خاموش رہتا تھا دعائے خیر کرتا تھا جفا و ظلم سَہتا تھا
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے دینِ اسلام کی راہ میں آنے والی مصیبتوں پر صبرکرنے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ’’رحمتِ عالَم‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مد نی پھول
(1) انسانوں میں سب سے زیادہ قوت برداشت انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام میں ہوتی ہے ، اِنہیں سب سے زیادہ ستا یا جاتا ہے اور یہ سب سے زیادہ صبر کرنے والے ہوتے ہیں۔
(2)انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کو جتنا زیادہ ستایا جائے ان کا حِلْم اتنا ہی زیادہ بڑھتا جاتا ہے ۔
(3) کفار کے لئے دعائے مغفرت ناجائز، ہاں ان کے لئے ہدایت کی دعا کرنا جائز ہے۔
(4) صحابۂ کِرام عَلَیْہم الرِّضْوَان کو اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایسا عشق تھاکہ وہ اپنے محبوب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَداؤں کے تصور میں گُم رہا کرتے تھے۔
ایسا گما دے ان کی وِلامیں خدا ہمیں ڈھونڈاکریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
(5) جاہل کا گناہ عالِم کے گناہ سے ہلکا ہوتا ہے۔
(6) ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو طائف میں کفار کی طرف سے پہنچائی گئی تکلیف غزوۂ احد کی تکالیف سے زیادہ تھی۔
(7) اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوایسی شان عطا فرمائی کہ تمام فرشتے بلکہ فرشتوں کے سردار حضرتِ سَیِّدُنا جبریل اَمین عَلَیْہِ السَّلام بھی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کے غلام ہیں۔
(8) ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعوتِ اسلام عام کرنے کے لئے مختلف علاقوں کی طرف سفر فرمایا کرتے تھے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں دینِ اسلام کی خوب خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے’’ دعوت اسلامی‘‘ کے مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
عطارؔ سے محبوب کی سنت کی لے خدمت
ڈَنکا یہ تیرے دین کا دنیا میں بجا دے
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 36