- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صبر کا بیان
- حدیث نمبر 41
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہُ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ،فَقُلْنَا:اَ لَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا، اَلَا تَدْعُوْلَنَا؟ فَقَالَ:قَدْکَانَ مَنْ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِی الْاَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْھَا،ثُمَّ یُؤْتٰی بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہٖ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ،وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِہِ وَعَظْمِہِ،مَایَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہِ،وَاللہِ لَیُتِمَّنَّ اللہُ ھٰذَا الْاَمْرَحَتَّی یَسِیْرَالرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَافُ اِلَّا اللہَ وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ ،وَلٰٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ‘‘رَوَاہُ الْبُخَارِی(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/ ۵۰۳، حدیث:۳۶۱۲)
عن ابی عبد اللہ خباب بن الارت رضی اللہ عنہ قال:شکونا الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو متوسد بردۃ لہ فی ظل الکعبۃ،فقلنا:ا لا تستنصر لنا، الا تدعولنا؟ فقال:قدکان من قبلکم یوخذ الرجل فیحفر لہ فی الارض فیجعل فیھا،ثم یوتی بالمنشار فیوضع علی راسہ فیجعل نصفین،ویمشط بامشاط الحدید ما دون لحمہ وعظمہ،مایصدہ ذلک عن دینہ،واللہ لیتمن اللہ ھذا الامرحتی یسیرالراکب من صنعائ الی حضرموت لا یخاف الا اللہ والذئب علی غنمہ ،ولکنکم تستعجلون‘‘رواہ البخاری(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/ ۵۰۳، حدیث:۳۶۱۲)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب بِنْ اَرَترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :ہم نے نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے (کفار کی) شکایت کی آپ اپنی چادر مبارک کو تکیہ بنائے کعبۃاللہشریف کے سائے میں لیٹے ہوئے تھے ۔ ہم نے عرض کی: آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے لئے مدد نہیں مانگتے ؟ آپ ہمارے حق میں دعا نہیں فرماتے؟ فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی کو پکڑا جاتا پھر ایک گڑھاکھود کر اسے اس میں گاڑھا جاتا ،پھر ایک آرا لاکر اس کے سر پر چلایا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے ،لوہے کی کنگھیاں پھیری جاتیں جو گوشت اور ہڈیوں تک پہنچ جاتیں لیکن اس کے باوجود وہ دین سے رو گردانی نہ کرتا ،اللہ عَزَّوَجَلّکی قسم !اللہتعالیٰ دینِ اسلام کی تکمیل فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سوارمقام صَنْعَاء سے حَضْرَ مَوْت تک سفر کرے گا، اُسےاللہ عزَّوَجَلَّکے سوا کسی کا خوف نہ ہوگااور نہ ہی اپنی بکریوں پر بھیڑیے کاخو ف ہوگا لیکن تم جلد بازی کرتے ہو۔
شرح حدیث
مصیبت پر صبر کروعلامہ بَدْرُالدِّیْن مَحْمُوْد بِنْ اَحْمَدعَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِیشرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکا حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کرنا کہ آپاللہ عزَّوَجَلَّسے ہمارےلئے مدد طلب کیوں نہیں فرماتے؟ تاکہاللہ عزَّوَجَلَّکفار پر ہم اری مدد فرمائے یا ان پر اپنا کوئی عذاب نازل فرمائے ،یہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکودعا پر ابھارنے کے لئے تھااور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکو پچھلی امتوں کی مثال دینا اور فرمانا کہ تم جلدی کرتے ہو ،اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدی نہ کرو اور صبر سے کام لواور ہم نے تمہیں پچھلی امتوں کا جوحال سنایا اس پر خود کو رکھ کر صبر کرو۔ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اس طرح پچھلی امتوں کے واقعات سنانے کا مقصد یہ تھا کہ صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکا صبر مزید پختہ ہو جائے ۔ (ملخصا عمدۃ القاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ، ۱۱/۳۴۶ تحت الحدیث:۳۶۱۲)مومنوں پر ظلممُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث ِمذکور کے تحت فرماتے ہیں :’’پچھلی امتوں میں مومنوں پر ایسی سختی کی جاتی تھی کہ انہیں زندہ ہی آرے سے چیر دیا جاتا تھا۔ وہ چِر جاتے تھے مگر ایمان نہ چھوڑتے تھے نہ اُن مصیبتوں سے گھبراتے تھے۔اور لوہے کی نوکیلی اور دھار دار کنگھیاں ان کی کھوپڑی میں ٹھونکی جاتی تھیں ، جب وہ دماغ کی تہہ تک پہنچ جاتی تھیں تو انہیں پیچھے کی طرف زور سے کھینچا جاتا تھا جس سے ان کا بھیجہ تک کھنچ کر باہر نکل پڑتا تھا، مگر وہ لوگ اس کے باوجود نہ گھبراتے تھے، نہ ایمان چھوڑتے تھے۔ تم توخَیْرُالْاُمَم(بہترین اُمت) ہو تمہاری اِسْتِقَامَت ان سے زیادہ چاہیے۔ دُنیاوی تکالیف سے مت گھبراؤ یہ عارضی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسروں کے قصے سنا کر تسلی دینا سنتِ رسول ہے بلکہ قراٰن کریم نے بھی اس قسم کے بہت سے واقعات بیان فرمائے ہیں۔اور یہاں دین پورا ہونے سے مراد ہے اِسلام کا پھیلنا ، مسلمانوں کا غالب آجانا، کفار کا مغلوب ہوجانا ،مسلمانوں کی سلطنت میں اَمن و امان قائم ہوجانا۔ اس ایک کلمہ میں بہت سی بشارتیں ہیں ، ربّ کریم فرماتا ہے:وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ(پ۱۰، التوبۃ:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا
اور فرماتا ہے:لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖۙ(پ۱۰، التوبۃ:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان :کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۸ /۱۲۱)بارگاہِ رسالت میں دعا کی درخواستشارح بخاری فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نُزْھَۃ القاریشرحِ بخاری میں فرماتے ہیں :(حضرتِ سَیِّدُناخَبَّاب بِنْ اَرَترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو) مشرکین سے سخت تکلیفیں پہنچی تھیں آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُغلام تھے اُن کا مکۂ مکرمہ میں کوئی حامی و یاوَر (مددگار)نہ تھا اس لئے اُن پر سِتم گر ایسے ایسے مظالم ڈھاتے تھے جسے سن کر روح لرز جاتی ہے۔ انہیں دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹا کر سینہ پر بھاری پتھر رکھ کر چڑھ جاتے اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک اَنگارے بجھ نہ جاتے۔ ایک دفعہ توان کے ظالم آقا نے لوہا تپا کر اُن کے سر کو داغ دیا۔ ان جان لیوا مصائب سے تنگ آکر انہوں نے (بارگاہ رسالت میں ) یہ درخواست پیش کی تھی۔
صَنْعَاء۔ یمن کا دار السلطنت تھا اور وہاں کا سب سے بڑا شہر۔
حَضْرَ مَوْت۔صَنْعَاء سے چار دن سے زیادہ کی مَسافَت پر ایک شہر ہے اور اس کا بھی احتمال ہے کہ صَنْعَاء سے مراد شام کا صَنْعَاء ہو جو شام میں دِمَشْق کے بَابُ الْفَرَادِیْس کے اطراف میں ایک بستی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آج انسان کا ایک شہر سے دوسرے شہر میں جانا خطرے سے خالی نہیں لیکن ایک وقت آئے گا کہ پورے عرب میں اِسلام پھیل جائے گا اور ایسا امن قائم ہوگا کہ کسی سفر میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوگا اگر چہ وہ لمبا سفر ہو۔ (نزھۃ القاری ، ۴/ ۵۳۵ )جسم کی کھال اُتار دی گئیحضرتِ سَیِّدُنا حَسَن بَصْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے منقول ہے کہ’’ سابقہ اُمتوں میں ’’ عُقَیْب ‘‘ نامی ایک عابد ایک پہاڑی پراللہ عزَّوَجَلَّکی عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اسے خبر ملی کہ قریبی شہر میں ایک ظالم وجابر بادشاہ لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہے ،بِلا وجہ ان کے ہاتھ پاؤں اور ناک ،کان کاٹ ڈالتا ہے ۔چنانچہ، وہ عابد اس ظالم حکمران کے پاس گیا اور بڑے ہی جرأت مندانہ انداز میں کہا :اے بادشاہ !اللہ عزَّوَجَلَّسے ڈر! یہ سن کر بد بخت وظالم بادشاہ غضب ناک ہوگیا اور بڑے گستاخانہ انداز میں بولا : اے کتے ! تیرے جیسا حقیر شخص مجھےاللہ عزَّوَجَلَّسے ڈرنے کا حکم دے رہا ہے، میں تجھے اس گستا خی کی ایسی سزادوں گا کہ آج تک دنیا میں ایسی سزا کسی کو نہ دی گئی ہوگی ۔ پھر اس ظالم بادشاہ نے حکم دیا کہ قدموں سے سر تک اس کی کھال اتا ر لوتا کہ یہ تڑ پ تڑپ کر مرے ! حکم پاتے ہی جلا د آگے بڑھے عابدکو زمین پر لٹایااور قدموں سے کھال اتارنا شرو ع کردی۔ وہ صبر و شکر کا پیکر بنا رہا ،زبان سے اُف تک نہ کہا۔ جب پیٹ تک کھال اُتارلی گئی تو درد کی شدت سے اس کے منہ سے درد بھری آہ نکلی۔ فوراً حکم الٰہی پہنچا:اے عُقَیْب! صبر سے کام لے، ہم تجھے غَم وحُزْن(دکھ درد) کے گھر(دُنیا) سے نکال کر راحت وآرام کے گھر (یعنی جنت )میں داخل کریں گے اور اس تنگ وتاریک دنیا سے نکال کر وسیع وعریض جنت میں داخل کریں گے، حکم الٰہی پاکر وہ عظیم ولی بالکل خاموش ہوگیا ۔
جب ظالموں نے چہرے تک کھال اتارلی تو شدتِ درد سے دوبارہ بے اختیار درد بھر ی آہ نکلی، پھر حکم الٰہی ہوا، اے عُقَیْب! تیری اس مصیبت پر دنیا اور آسمان کی مخلوق رور ہی ہے ، فرشتے تیری طرف متوجہ ہوگئے ہیں ، اگر تو نے تیسری مرتبہ بھی ایسی ہی پُر درد آہ بھری تو میں اس ظالم قوم کو شدید عذاب کا مزا چکھاؤں گا۔ اب وہ عابد بالکل خاموش ہو گیا کہ کہیں میری آہ وزاری سے میری قوم کو عذاب میں مبتلا نہ کردیا جائے، بالآخر اس صبر وشکر کے پیکر کی تمام کھال اتارلی گئی اوراس نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ (عیون الحکایات ، ص۱۰۱)اللہ عزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتِری سنتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے
تِرے نام پہ ہو قرباں میری جان، جانِ جاناں ہو نصیب سر کٹانا مدنی مدینے والےمصائب پر صبر کا صِلہحضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ’’ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’بنی اسرائیل کا ایک شخص کہیں سفر پر گیا تو پیچھے سے اس کی ماں نے اس کی بیوی کے دل میں شوہر کی نفرت ڈال دی اور اپنے بیٹے کی طرف سے اسے جھوٹا طلاق نامہ دے دیا ۔ چنانچہ وہ عورت اپنے دونوں بچوں کو لے کراپنے والدین کے ہاں چلی گئی۔ وہاں کے ظالم بادشاہ نے مسکینوں کو کھاناکھلانے پر پابندی لگائی ہوئی تھی ۔ ایک دن عورت روٹی پکا رہی تھی کہ کسی مسکین نے کھانا مانگا ، اس نے کہا:’’کیا تجھے معلوم نہیں یہاں کے ظالم بادشاہ نے مسکینوں کو کھانا کھلا نے سے منع کیا ہوا ہے ؟ کہا:مجھے معلوم ہے لیکن اگر مجھے کھانا نہ ملا تو میں بھوک سے مر جاؤں گا۔‘‘ عورت کو ترس آگیااور اسے دو روٹیاں دیں اور یہ بات کسی کو بتانے سے منع کر دیا ۔ مسکین روٹیاں لے کر وہاں سے چلا گیا ۔راستے میں سپاہیوں نے روٹیاں دیکھ کر پوچھا :یہ کہاں سے لائے ہو ؟‘‘ کہا:’’ فلاں عورت نے دی ہیں۔‘‘ چنانچہ، سپاہی اس عورت کے پاس گئے اور اس سے حقیقت پوچھی تو اس نے اقرار کر لیا ۔ سپاہی اسے بادشاہ کے پاس لے گئے ۔ ظالم بادشاہ نے اس کے دونوں ہاتھ کٹوا کر دربار سے نکال دیا ۔ راستے میں اس کا ایک بیٹا نہر سے پانی بھرتے ہوئے نہر میں ڈوب گیا ۔دوسرا بیٹا اسے بچانے کے لئے گیا تو وہ بھی ڈوب گیا۔ اب وہ بیچاری تنہارہ گئی۔اچانک اس کے پاس ایک شخص آیااورکہا:اےاللہ عزَّوَجَلَّکی بندی !تجھے کیا ہوا؟میں تیری حالت بہت بُری دیکھ رہاہوں ؟ کہا : مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، مجھ پر گزرے ہوئے واقعات نے مجھے بے حال کردیا ہے۔ جب اس نَو وَارِد نے اصرار کیا تو عورت نے سارا واقعہ بیان کردیا۔ اس نے کہا : تو اپنے ہاتھو ں اور بچوں میں سے کس کی واپسی چاہتی ہے؟ کہا:مجھے میرے بچے چاہئیں۔ چنانچہ،اللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے وہ دونوں بچوں کو بھی نہر سے صحیح سالم نکال لایااور اس کے کٹے ہوئے ہاتھ بھی درست کردیئے اور کہا :اللہ عزَّوَجَلَّنے تجھ پر رحم فرمایا اور مجھے تیری مدد کے لئے بھیجا ۔ مسکین کو دی ہوئی دو روٹیوں کے بدلے تیرے دونوں ہاتھ تجھے لوٹا دیئے گئے اور مسکین پر ترس کھانے اور مصیبتپر صبر کرنے کی وجہ سے تیرے دونوں بیٹے تجھے لوٹا دیئے گئے ہیں اورتیرے شوہر نے تجھے طلاق نہیں دی تھی،لہٰذا اب تو اس کے پاس چلی جا ،وہ گھرآچکا ہے اور اس کی ماں کا بھی انتقال ہوگیا ہے ۔ جب وہ عورت اپنے گھر گئی تَو تمام معاملہ ویسا ہی پایا جیسا اسے بتا یا گیا تھا ۔‘‘ (الروض الفائق، ص۱۲۲)جان دے دی مگر ایمان نہ دیاجب حضرتِ سَیِّدُنا موسیعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کوپیغام حق پہنچایا تو بجائے قبول کرنے کے وہ بدبخت اپنے ملک کے بڑے بڑے جادو گروں کو آپ عَلَیْہِ السَّلام کے مقابلے میں لے آیا پھر اس مقابلے کا انجام کیا ہوا آیئے تفسیر نعیمی کی روشنی میں جانتے ہیں : چنانچہ، ’’ تفسیرِ نعیمی میں ہے کہ جب جادوگروں نے اپنا پورا زَور صَرف کردیا اور اپنی رسیاں پھینک کر میدان مقابلہ کو مصنوعی سانپوں ، اژدہوں سے بھردیا لوگوں کو ڈرادیا توحضرتِ سَیِّدُنا موسیعَلَیْہِ السَّلامکے پاس وحی آئی کہ اب موقع ہے آپ اپنا عصا ڈالیں۔ چنانچہ، آپ نے عصا ڈالا۔ عصا ڈالنا تھا کہ وہ ایک بہت بڑا اَژدَھا بن گیا اور اس میدان کے سارے مصنوعی سانپوں ، اژدھوں کو ایک ایک کرکے نگل گیا، دیکھتے ہی دیکھتے میدان بالکل خالی ہوگیا، پھر اس نے تماشائیوں کی طرف رخ کیا۔ سارے فرعونیوں میں بھگدڑ مچ گئی، بہت سے لوگ کچل کر مر گئے، آپ نے اس کی گردن پکڑ کر اٹھایا تو پھر وہی ہلکی پھلکی لاٹھی تھی، حق یعنی توحید، نَبُوَّتِ مُوسَوِی ، عصا کا معجزہ ہونا، دِیْنِ مُوْسَوِی کا درست ہونا، ثابت بلکہ ظاہر ہوگیا اور آج تک جو کچھ جادو گر کرتے رہے تھے اس کا باطل ہونا سب کو معلوم ہوگیا۔
جادوگروں نے سوچا کہ اگر عصا مُوْسَوِی بھی ہمارے سانپوں کی طرح ایک شُعْبَدَہ(جادو) یا نظر بندی ہے تو ہمارے رَسّے، بانس، بَلّے جو سینکڑوں مَن تھے کہاں گئے اور اِس قدر وَزنی چیز نگل جانے کے بعد اس کا وزن ایک ماشہ بھی نہ بڑھا۔ یقیناً وہ معجزہ ہے اور موسیعَلَیْہِ السَّلامسچے نبی ہیں۔ چنانچہ، وہ خود نہیں گرے بلکہ رب کی طرف سے سجدے میں گرادیئے گئے، انہوں نے شکریہیا اظہارِ وفاداری یا اپنے ایمان کے لیے سجدہ کیا اور سجدہ میں گر کر بلند آواز سےبولے کہ ہم اُس پر ایمان لائے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے یعنی وہ جسے حضرت مُوْسٰی و ہَارُوْنعَلَیْہم ا السَّلَام رَبُّ الْعَالَمِیْنبتاتے ہیں جو اُن دونوں کا رب ہے، اس پر ہم ایمان لائے، فرعون اور اس کی رَبُوْبِیَّت (خدا ہونے)کے عقیدے سے ہم پھِر گئے، توبہ کرتے ہیں۔
فرعون جب اس میدان سے سخت شکست کھا کر بدحواسی میں بھاگا، گھر پہنچ کر ہوش ٹھکانے آئے اور اسے پتہ لگا کہ جادو گر تو سجدے میں گر کر موسیعَلَیْہِ السَّلاماور اسکے رَب پر ایمان لے آئے تو اسے اپنی قوم کے سامنے سخت شرمندگی ہوئی تب اس نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے جادو گروں کو پھر جمع کیا مگر اس دفعہ موسی عَلَیْہِ السَّلام اس مجمع میں نہ تھے۔ ان سے بولا کہ تم لوگ میری رعایا ہو، تم نے میری اجازت کے بغیر دل میں حضرت موسیعَلَیْہِ السَّلامکی مَحَبَّت کیوں قائم کی، دماغ میں انکی عظمت کیوں سوچی، سر سجدہ میں کیوں رکھا، زبان سے وہ کلمات کیوں کہے، تمہارے یہ اعضاء یعنی دل، دماغ، سر ، زبان میری ملکیت ہیں ، تم نے انہیں میری اجازت کے بغیر کیوں استعمال کیا؟ تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو یہ تمہارا ایک قصور ہے۔ اور تمہارادوسرا قصور یہ ہے کہ تمہیں شکست اور موسیٰ(عَلَیْہِ السَّلام) نے فتح نہیں پائی ہے۔بلکہ تم نے اس مقابلہ سے پہلے مصر میں یا مقابلہ کے وقت ’’اِسْکَنْدَرِیَہ‘‘ میں ایک سازش کرلی تھی۔ موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلام) تم سب کے استاد ہیں تم سب ان کے شاگرد تم نے دیدہ دانستہ یہ کھیل رچایا ہے، تاکہ تمہاری ظاہری شکست دیکھ کر میں اپنی سلطنت سے دستبردار ہوجاؤں اور میری قوم کو اس علاقے سے نکال کر خود رَاج کرو، سن لو! ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ میں تم کو تمہارے کئے کی سزا دوں گا تم اپنی سزا عنقریب جان لو گے، میں پہلے تو تمہارے دو طرفہ ہاتھ پاؤں کٹواؤں گا، یعنی ایک طرف کا ہاتھ، دوسری طرف کا پاؤں پھر تم کو درخت میں سولی دوں گا۔ تم میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔
جادو گر جوکہ اب پَکّے مومن بن چکے تھے فرعون کی یہ دھمکی سن کر بولے کہ ہم کو تیری دھمکیوں کی پرواہ نہیں کیونکہ اس صورت میں ہم اری موت شہادت کی ہوگی اور ہم دَارُالْفَرَار(دنیا) سے نکل کر دَارُالْقَرَار (آخرت) کیطرف ، دَارُالْمِحَن(امتحان کے گھر) سے نکل کر دارُالاَمن(اَمن کے گھر) کی طرف، تیرے پاس سے چھوٹ کر اپنے رب کی رحمت کی طرف جائیں گے۔ا یسی کامیاب موت پر ہزاروں زندگیاں قربان ہوں اتنا سن لے کہ ہم نے کوئی قصور نہیں کیا ہے جس سے ہم سزائے موت کے مستحق ہوں۔ ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی آیات پریا آیات کے ذریعہ پر ایمان لائے، یہ ایمان کمال ہے عیب نہیں ، یہ کہہ کر وہ اسی جگہاللہ عزَّوَجَلَّکی طرف متوجہ ہو کر عرض کرنے لگے کہ مولیٰ اب تُو ہم پر صبر بہادے، جس سے ہم نہا کر پاک و صاف ہوجاویں اور ہم کو ایمان، اپنی اطاعت پر موت نصیب فرما ! اٰمین۔(ملخصا تفسیر نعیمی ۹/ ۸۴۔۹۲۔۹۸ )سب سے پہلے سولی کس نے دی؟حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمافرماتے ہیں کہ فرعون نے سب سے پہلے سولی دی اور اِسی نے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں سب سے پہلے کاٹے تھے۔‘‘( تفسیر الطَّبَری، پ۹، الاعراف، تحت الایۃ: ۱۲۴،۶/۲۴ )حضرتِ سَیِّدَتُنَا آسِیَہ بِنْت مُزَاحِمحضرتِ سَیِّدَتُنا آسِیَہ بِنْتِ مُزَاحِمْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَافرعون کی بیوی تھیں۔ حضرت آسیہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے جب جادوگروں کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کے مقابلہ میں مغلوب ہوتے دیکھ لیا تو فوراً اُن کے دل میں ایمان کا نور چمک اُٹھا اور وہ ایمان لے آئیں۔ جب فرعون کو خبر ہوئی تو اس ظالم نے ان پر بڑے بڑے عذاب کئے، بہت زیادہ زدو کوب کے بعد چومیخا کردیا یعنی چار کھونٹیاں گاڑ کر حضرت آسیہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے چاروں ہاتھوں پیروں میں لوہے کی میخیں ٹھونک کر چاروں کھونٹوں میں اس طرح جکڑ دیا کہ وہ ہل بھی نہیں سکتی تھیں اور دھوپ کی تپش میں ڈال دیا اور بھاری پتھر ان کے سینے پر رکھنے کا حکم دیا جب پتھر لایا گیا تو حضرت آسیہ نے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: یاربعزَّوَجَلَّ! میرے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے ، انہیں جنت میں سفید موتیوں سے بنا ہوا ان کا گھر دکھا دیا گیا اور پھراللہ تعالیٰنے ان کی روح قبض کر لی پس جب ان کے جسم پر پتھر رکھا گیا تو ان کے جسم میں روح نہیں تھی تو انہیں کچھ بھی درد محسوس نہ ہوا ۔ ابن کیسانعلیہ رحمۃُ الْمَنّانکا قول ہے کہ وہ زندہ ہی اُٹھا کر جنت میں پہنچا دی گئیں ، پس وہ جنت میں کھاتی اور پیتی ہیں۔ (عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب وضرب اللہ مثل للذین آمنوا… الخ، ۱۱/۱۴۴)
جس طرح سابقہ امتوں کے مومنین پر طرح طرح کے نا قابل برداشت ظلم کئے گئے حتی کہ انہیں انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیالیکن وہ دینِ برحق پر قائم رہے۔ اسی طرحسَیِّدُ الصَّابِرِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تربیت یافتہ مؤمنین نے بھی دینِ اسلا م کی خاطر ایسی ایسی قربانیاں دیں کے جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ،دہکتے ہوئے انگاروں اور صحرائے عرب کی بھڑکتی ہوئی ریت پر برہنہ جسم لیٹ جانا، گھوڑوں کے ساتھ بندھ کر جسم کو درمیان سے چِروا لینا ، جلتے ہوئے تیل میں بخوشی کود جانا، اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بخوشی میدانِ جہاد میں بھیج کر انکی شہادت پرشکرالٰہی بجا لانا ،گھر بار، مال واسباب، خاندان واہل عیال اور اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر ہجرت کر جانا، دشتِ کربلا میں خاندانِ نبوت کے لاڈلوں کا بھوک پیاس کی حالت میں ایک ایک کر کے شہید ہوجانا، اپنے دودھ پیتے بچوں کواپنے سامنے تیروں سے چھلنی ہوتا دیکھنا ، الغرض سابقہ امت کے مومنین نے جتنی قربانیاں دیں ، اس سے کہیں زیادہ قربانیاں نبیِّ آخرالزماں ، شہنشاہِ کون و مکاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غلاموں نے دیں یہ سب بارگاہِ رسالت کا فیض تھا کہ ایسے ایسے مصائب پر صبر کیا جن کو سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکا صبرحضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُوہ صحابیِ رسول ہیں جو بالکل آغاز ِاسلام میں مشرف بہ اِسلام ہوئے۔ ایسے خوفناک ماحول میں جب اِسلام لانے کی پاداش میں سخت ترین مصائب و آلام سے دو چار ہونا پڑتا تھا، حضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو کفارِ مکہ سخت سے سخت اذیتیں دیتے تھے۔ ان کا آقا اُمَیہ بن خلف تپتی ہوئی دھوپ میں ان کو مکہ کے صحرا میں پیٹھ کے بَل لٹاتا اور ایک بڑا پتھر ان کے سینے اقدس پر رکھواتا اور حضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو کہتا میں تمہیں ایسے ہی سزا دیتا رہوں گا یہاں تک کہ مر جاؤ گے یا پھر تم اپنے نبی محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا انکار کردو اور لَات و عُزّٰی کی عبادت کرو لیکن اس قدر تکلیف جھیلنے کے بعد بھی حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی زبان پر اَحَد اَحَد ہی جاری رہتا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ذکرعدوان المشرکین علی المستضعفین، ۱/۲۹۷)حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی مبارک ومُقَدَّس پیٹھحضرتِ سَیِّدُنا خَبَّابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی پوری پیٹھ پر زخموں کے سفید نشانات تھے ۔ اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے پوچھا :اے خَبَّابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! یہ زخموں کے نشان کیسے ہیں ؟ عرض کی : اے اَمیرُالْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! جب میرے دل میں محبت ِرسو ل کی شمع روشن ہوئی اور میں دامنِ اسلام سے وابسطہ ہوا تو کفارِ مکہ نے مجھے دہکتے ہوئے کوئلوں پر پیٹھ کے بَل لٹا دیا اور میری پیٹھ کی چربی سے انگارے بجھائے گئے میں کئی گھنٹے بے ہوش رہا رَبِّ کعبہ کی قسم ! جب مجھے ہوش آیا تو سب سے پہلے میری زبان سے یہ کلمہ نکلا ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے یہ حالات سن کر اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی آنکھیں بھر آئیں ،فرمایا: اے خَبَّابرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ! کُرتا اُٹھاؤ! میں تمھاری اس پیٹھ کی زیارت کروں گا۔اللہ اللہ! یہ پیٹھ کتنی مبارک و مقدس ہے جو مَحَبَّتِ رسول میں جلائی گئی ہے۔(الطبقات الکبری لابن سعد، خباب بن الارت، ۳/۱۲۲)مدنی گلدستہ’’اَلمد ینہ‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے حد یث مذکوراور اسکی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاناپنے مصائب کے حل کے لئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔
(2) ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عزَّوَجَلَّنے علمِ غیب کی دولت سے مالا مال فرمایا ۔اسی لئے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آنے والے واقعات کی خبر دی اور بتا دیا کہ ایک دور ایسابھی آئے گا کہ پورے عرب میں اسلام پھیل جائے گا اور مومنوں کواللہ عزَّوَجَلَّکے علاوہ کسی کا خوف نہ ہو گا۔
(3) صبر کرنے والا کبھی نا کام نہیں ہوتا اسے دنیا وآخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔
(4) صابرین کے واقعات سن کر بھی صبر کا جذبہ نصیب ہوتا ہے ۔
(5) جب سابقہ امتوں کے مومنین نے اپنے دین کی خاطر ہر طرح کی قربانی دی توامتِ محمدیہ کے ہرفرد کوبھی دینِ اسلام کی خاطر ہر ہر قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے کیونکہ یہ امت پچھلی تمام امتوں سے افضل ہے اور جو جتنا زیادہ مقرب ہو اُس پر اتنی ہی زیادہ آزمائشیں آتی ہیں۔
(6) جب کوئی مصیبت آئے تو فوراً اس سے چھٹکارے کی دعاکے بجائے پہلے صبر کرنا بہتر ہے تاکہ اس صبر پر زیادہ سے زیادہ ثواب مل سکے ۔
(7)مسکین پر ترس کھانے اور اس کی مدد کرنے سے بڑی بڑی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 41