Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 44

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ کَانَ اِبْنٌ لِأَبِیْ طَلْحَۃَ یَشْتَکِیْ فَخَرَجَ أَبُوْ طَلْحَۃَ فَقُبِضَ الصَّبِیُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُوْ طَلْحَۃَ قَالَ:مَا فَعَلَ اِبْنِیْ؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَھِیَ اُمُّ الصَّبِیِّ:ہُوَ أَسْکَنُ مَا کَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَیْہِ الْعَشَائَ فَتَعَشَّی، ثُمَّ أَصَابَ مِنْہَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ:وَارُواالصَّبِیَّ ،فَلَمَّاأَصْبَحَ أَبُوْ طَلْحَۃَ أَتٰی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ، فَقَالَ:’’ أَعَرَّسْتُمُ اللَّیْلَۃَ؟‘‘ قَالَ:نَعَمْ،قَالَ: ’’اللہم بَارِکْ لَہم ا؛فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِیْ أَبُوْ طَلْحَۃَ:اِحْمِلْہُ حَتّٰی تَأْتِیَ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ مَعَہُ تَمَرَاتٍ، فَقَالَ:’’ أَمَعَہُ شَیْئٌ ؟‘‘ قَالَ:نَعَمْ، تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَہَا، ثُمَّ أَخَذَھَا مِنْ فِیْہِ فَجَعَلَہَا فِی فِیِّ الصَّبِیِّ، ثُمَّ حَنَّکَہُ وَسَمَّاہُ عَبْدَاللہِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِی قَالَ اِبْنُ عُیَیْنَۃَ:فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ فَرَأَیْتُ تِسْعَۃَ اَوْلَادٍ کُلُّھُمْ قَدْ قَرَؤُوْاالْقُرْاٰنَ، یَعْنِیْ مِنْ اَوْلَادِ عَبْدِ اللہِ الْمَوْلُوْدِ
وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ:مَاتَ اِبْنٌ لِأَبِیْ طَلْحَۃَ مِنْ أُمِّ سُلَیْمٍ،فَقَالَتْ لِأَہْلِہَا:لَاتُحَدِّثُوْاأَبَاطَلْحَۃَ بِابْنِہِ حَتّٰی أَکُوْنَ أَنَا أُحَدِّثُہُ، فَجَائَ فَقَرَّبَتْ إِلَیْہِ عَشَائً فَأَکَلَ وَشَرِبَ، ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَہُ أَحْسَنَ مَا کَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذٰلِکَ،فَوَقَعَ بِہَا،فَلَمَّا أَنْ رَأَتْ أَنَّہُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْہَا قَالَتْ:یَا أَبَا طَلْحَۃَ!أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوْاعَارِیَتَہم أَہْلَ بَیْتٍ فَطَلَبُوْاعَارِیَتَہم ،أَلَہم أَنْ یَمْنَعُوْہم ؟ قَالَ:لَا،فَقَالَتْ:فَاحْتَسِبْ اِبْنَکَ۔قَالَ:فَغَضِبَ،ثُمَّ قَالَ:تَرَکْتِنِیْ حَتّٰی اِذَا تَلَطَّخْتُ ثُمَّ أَخْبَرْتِنِیْ بِابْنِیْ؟ فَانْطَلَقَ حَتّٰی أَتَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ بِمَا کَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ’’ بَارَکَ اللہُ فِیْ لَیْلَتِکُمَا‘‘ قَالَ: فَحَمَلَتْ، قَالَ:وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍوَہِیَ مَعَہُ،وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی الْمَدِینَۃَ مِنْ سَفَرٍ لَا یَطْرُقُہَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِیْنَۃِ، فَضَرَبَہَا الْمَخَاضُ، فَاحْتَبَسَ عَلَیْہَا أَبُوْ طَلْحَۃَ، وَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:یَقُوْلُ أَبُوْطَلْحَۃَ:إِنَّکَ لَتَعْلَمُ یَا رَبِّ!اَنَّہُ یُعْجِبُنِیْ أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَہُ إِذَا دَخَلَ، وَقَدْ اِحْتَبَسْتُ بِمَا تَرَی، تَقُولُ أُمُّ سُلَیْمٍ:یَا أَبَا طَلْحَۃَ! مَا أَجِدُ الَّذِی کُنْتُ أَجِدُ،اِنْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا، قَالَ وَضَرَبَہَا الْمَخَاضُ حِیْنَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِیْ أُمِّیْ:یَا أَنَسُ! لَا یُرْضِعُہُ أَحَدٌ حَتّٰی تَغْدُوَ بِہٖ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَلَمَّا أَصْبَحَ اِحْتَمَلْتُہُ فَانْطَلَقْتُ بِہٖ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ تَمَامَ الْحَدِیْثِ۔(بخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ یولد …الخ، ۳/۵۴۷، حدیث:۵۴۷۰ ) (مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی طلحۃ، ص۱۳۳۳، حدیث:۲۱۴۴)

عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال کان ابن لابی طلحۃ یشتکی فخرج ابو طلحۃ فقبض الصبی فلما رجع ابو طلحۃ قال:ما فعل ابنی؟ قالت ام سلیم وھی ام الصبی:ہو اسکن ما کان، فقربت إلیہ العشائ فتعشی، ثم اصاب منہا، فلما فرغ قالت:وارواالصبی ،فلمااصبح ابو طلحۃ اتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاخبرہ، فقال:’’ اعرستم اللیلۃ؟‘‘ قال:نعم،قال: ’’اللہم بارک لہم ا؛فولدت غلاما، فقال لی ابو طلحۃ:احملہ حتی تاتی بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وبعث معہ تمرات، فقال:’’ امعہ شیئ ؟‘‘ قال:نعم، تمرات، فاخذہا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فمضغہا، ثم اخذھا من فیہ فجعلہا فی فی الصبی، ثم حنکہ وسماہ عبداللہ وفی روایۃ للبخاری قال ابن عیینۃ:فقال رجل من الانصار فرایت تسعۃ اولاد کلھم قد قروواالقران، یعنی من اولاد عبد اللہ المولود
وفی روایۃ لمسلم:مات ابن لابی طلحۃ من ام سلیم،فقالت لاہلہا:لاتحدثوااباطلحۃ بابنہ حتی اکون انا احدثہ، فجائ فقربت إلیہ عشائ فاکل وشرب، ثم تصنعت لہ احسن ما کانت تصنع قبل ذلک،فوقع بہا،فلما ان رات انہ قد شبع واصاب منہا قالت:یا ابا طلحۃ!ارایت لو ان قوما اعارواعاریتہم اہل بیت فطلبواعاریتہم ،الہم ان یمنعوہم ؟ قال:لا،فقالت:فاحتسب ابنک۔قال:فغضب،ثم قال:ترکتنی حتی اذا تلطخت ثم اخبرتنی بابنی؟ فانطلق حتی اتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاخبرہ بما کان، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم’’ بارک اللہ فی لیلتکما‘‘ قال: فحملت، قال:وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی سفروہی معہ،وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا اتی المدینۃ من سفر لا یطرقہا طروقا فدنوا من المدینۃ، فضربہا المخاض، فاحتبس علیہا ابو طلحۃ، وانطلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:یقول ابوطلحۃ:إنک لتعلم یا رب!انہ یعجبنی ان اخرج مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا خرج وادخل معہ إذا دخل، وقد احتبست بما تری، تقول ام سلیم:یا ابا طلحۃ! ما اجد الذی کنت اجد،انطلق، فانطلقنا، قال وضربہا المخاض حین قدما فولدت غلاما، فقالت لی امی:یا انس! لا یرضعہ احد حتی تغدو بہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،فلما اصبح احتملتہ فانطلقت بہ إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وذکر تمام الحدیث۔(بخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ یولد …الخ، ۳/۵۴۷، حدیث:۵۴۷۰ ) (مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی طلحۃ، ص۱۳۳۳، حدیث:۲۱۴۴)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک صاحبزادہ بیمار تھا۔ آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے توبچے کا انتقال ہوگیا، واپس آکر بچے کا حال پوچھا تو بچے کی ماں حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہاکہ پہلے سے زیادہ پُرسکون ہے، پھران کے سامنے کھانا رکھا، انہوں نے کھایا اور پھر بیوی سے ہم بستر ہوئے اس کے بعد اُمِّ سُلَیْم نے کہا: بچے کو دفن کرو۔پھر صبح کے وقت حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا ۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: کیا تم نے رات کو ہم بستری کی ؟عرض کی: جی ہاں ! آپ نے دعا مانگی: اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! ان دونوں کو برکت دے۔ چنانچہ، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے مجھ سے فرمایا: اسے اٹھا کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لے جاؤ ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھی دِیں۔نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: اس کے ساتھ کچھ ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ! چند کھجوریں ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں چبایا اور پھر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور یوں اس کی تَحْنِیْک فرمائی اور اس کا نامعَبْدُ اللہ رکھا۔بخاری کی روایت میں ہے اِبْنِ عُیَیْنَہ فرماتے ہیں : ایک انصاری نے بتایا کہ میں نے عَبْدُ اللہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ) کی اولاد سے نو لڑکوں کو دیکھا سب کے سب قراٰن کے قاری تھے ۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن سے حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کا ایک بچہ فوت ہوگیا، اُمِّ سُلَیْم نے گھر والوں سے کہا:’’ ابو طلحہ کو بچے کے بارے میں مجھ سے پہلے کوئی نہ بتائے۔‘‘حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ تشریف لائے تو اُمِّ سُلَیْم نے ان کے سامنے شام کا کھانا رکھا انہوں نے کھایا اور پیا پھر اُمِّ سُلَیْم پہلے سے زیادہ بن سنور کر ان کے سامنے آئیں انہوں نے جِماع کیا جب اُمِّ سُلَیْم نے دیکھا کہ وہ سیر ہوگئے اور خواہش کی تکمیل بھی کرلی، تو عرض کی: ’’ابو طلحہ! بتاؤ تو سہی اگر کوئی قوم کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے پھر واپسی کا مطالبہ کرے تو انہیں انکار کا حق ہے؟‘‘ فرمایا:’’ نہیں ‘‘ اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے کہا اپنے بیٹے کے بارے میں ثواب طلب کیجیے، حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا: تم نے مجھے نہ بتایا یہاں تک کہ میں نے جماع کیا پھر تم نے بچے کی خبر دی یہ کہہ کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو سارا واقعہ سنایا۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ تمہاری رات کو بابرکت بنائے۔ راوی فرماتے ہیں کہ اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا حاملہ ہوگئیں۔ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سفر میں تھے اور وہ بھی ہم سفر تھیں اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادت مبارکہ تھی کہ سفر سے واپس تشریف لاتے تو مدینہ طیبہ میں رات کو داخل نہ ہوتے۔ چنانچہ، مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو دردِ زہ شروع ہوگیا۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو ان کے پاس رکنا پڑا اور نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے گئے ، حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کہنے لگے: اے میرے رب عزَّوَجَلَّ ! تجھے معلوم ہے کہ مجھے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جا نا اور حضور کے ہم راہ ہی مدینے میں داخل ہونا پسند ہے لیکن اب میں یہاں رُک گیا ہوں۔حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کہنے لگیں : ابو طلحہ ! اب مجھے وہ پہلے والی تکلیف محسوس نہیں ہورہی لہٰذا چلئے۔ چنانچہ، ہم چل پڑے، مدینہ طیبہ پہنچے تو انہیں پھر دردِ زہ شروع ہوگیا اور لڑکا پیدا ہوا۔ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : مجھے میری والدہ نے فرمایا: اے انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ! جب تک تم کل صبح اسے نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں نہ لے جاؤ تب تک اسے کوئی دودھ نہ پلائے۔چنانچہ، صبح کے وقت میں اس بچے کو اٹھا کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔پھر حضرت انس نےپوری حدیث بیان کی ۔

شرح حدیث

اُمِّ سُلیم حضرتِ سَیِّدَتُنا رُمَیصَاءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاجنت میںاُمِّ سُلَیْم کا نام رُمَیْصَاء تھا پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :میں نے (شبِ معراج ) خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ابوطلحہ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ رُمَیْصَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو دیکھا ۔(بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب عمر بن الخطاب، ۲/ ۵۲۵، حدیث:۳۶۷۹)
حضرتِ سَیِّدُنا اَبو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے فوت ہونے والے صاحبزادے کا نام ’’اَبُو عُمَیْر‘‘تھا ،اس وقت وہ دودھ پیتے بچے تھے ایک چھوٹی چڑیا ان سے بہت مانوس تھی، ان کے ساتھ کھیلتی تھی۔نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب ا ن کے گھر تشریف لے جاتے تو ارشاد فرماتے :’’یَا اَبَا عُمَیْر!مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ‘‘ یعنی اے اَبُو عُمَیْر ، نُغَیْر (پرندے) نے کیا کیا؟ (بخاری، کتاب الادب، باب الانبساط الی الناس …الخ، ۴/۱۳۴،حدیث:۶۱۲۹)
بچے کاعقیقہ کرنااور نام رکھناعَلَّامَہ ابُوالْحَسَناِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ حضرتِ سَیِّدُنا مُہَلَّب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّب فرماتے ہیں :اگر بچے کا باپ پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہوتو بچے کی پیدائش کے دن یا ایک دو دن بعد اس کا نام رکھنا جائز ہے اور اگر وہ (ساتویں دن) بچے کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ عقیقہ کے دن تک نام نہ رکھے (بلکہ عقیقہ کے دن نام رکھے)جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُناسَمُرَہ بِنْ جُنْدُب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :لڑکا اپنے عقیقہ میں گِروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذَبح کیا جائے اور اُس کا نام رکھا جائے اور سر مونڈا جائے۔ (ترمذی، کتاب الاضاحی، باب العقیقۃ بشاۃ، ۳/۱۷۷، حدیث:۱۵۲۷) مز ید فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بچے کو کھجور کی گھٹی دی کیونکہ یہ اس درخت کا پھل ہے جسے اللہ عزَّوَجَلَّ نے مومن سے تَشْبِیْہ دی اور اس کی مٹھاس کو بھی مومن سے تَشْبِیْہ دی اسلئے کھجور سے گھٹی دینی چاہیے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ …الخ، ۵/۳۷۳)
نوٹ: عقیقے کے بارے میں مزید معلومات کے لئے ’’شیخِ طریقت امیر اہل سنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ‘‘ کا رسالہ’’ عقیقے کے بارے میں سوال جواب‘‘ اور مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد سوم ، حصہ ۱۵، عقیقہ کا بیان کا مطالعہ کیجئے۔
پہلے سے بہتر جزاعلامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’اس حدیث سے بہت سے فائدے حاصل ہوئے،(۱) مصیبت کے وقت غم کا اظہار نہیں کرنا چاہیے جیساکہ اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہانے صبر کیا اور اپنے نفس پر غالب رہیں۔(۲) اس حدیث میں حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے عظیم صبر اور ان کے راضی بقضاء (تقدیر پر راضی)رہنے کی تعریف ہے۔ (۳) ضرورت کے وقت توریہ( ) کرنا جائز ہے اور توریہ کے جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس سے کسی مسلمان کا حق زائل نہ ہو۔(۴)عورت کا اپنے شوہر کی خواہش کے لئے بننا سنورنا جائز ہے ۔(۵)جو اپنی محبوب چیز چلی جانے پر رضائے الٰہی کے لئے صبر کرے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اسے پہلے سے بہتر شے عطا فرماتا ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کا ایک بیٹا فوت ہوا تو ان کی اولاد میں نو بیٹے ہوئے جو سب کے سب قراٰن کے قاری تھے ۔ (۶)جو رخصت کو چھوڑنے پر قادر ہو اُسے چاہیے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ اس سے بندہ بلند درجات اور اجرِ عظیم پاتا ہے ۔(۷) ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا ئیں بارگاہ الٰہی میں مقبول و مستجاب ہیں۔‘‘ (ملخصاًعمدۃ القاری، بخاری،۶/۱۳۶، تحت الحدیث:۱۳۰۱)کھجور کی گھٹی مستحب ہےعلامہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرح مسلم میں فرما تے ہیں : ’’علمائےکِرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بچے کی ولادت کے وقت اسے کھجور کی گھٹی دینا مستحب ہے اگر کھجور میسر نہ ہو تو اس کے علاوہ کسی میٹھی چیز سے دی جائے ۔ گھٹی دینے والا کھجور کو چبائے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائے اور بچے کے نگلنے کے لائق ہو جائے تو پھر بچے کا منہ کھول کر اس کے منہ میں رکھ دی جائے۔ مستحب یہ ہے کہ گھٹی دینے والا نیک و متقی شخص ہو کہ جس سے لوگ فیض حاصل کرتے ہوں خواہ وہ نیک شخص آدمی ہو یا عورت ، اگر ولادت کے وقت وہاں کوئی نیک شخص موجود نہ ہو تو پھر بچے کو اس کے پاس لے جایا جائے۔ اس حدیث میں اُمِّ سُلَیْم کے عظیم صبر، تقدیر پر راضی رہنے اور عقل و دانشمندی جیسے اوصاف کا ذکر ہے کہ انہوں نے صبر اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا پرراضی ہونے کا اظہار کیااور اپنے شوہر سے بیٹے کی موت کی خبر اس کی موت کی پہلی رات بہت احسن انداز سے چھپائی اور انہیں اپنی خواہش پوری کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الاداب ، باب استحباب تحنیک المولود الخ،۷ /۱۲۲-۱۲۴، الجزء الرابع عشر )بچوں کے نام اچھے رکھنے چاہئیں !بچوں کے اچھے نام رکھنے چاہئیں جیسا کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے بیٹے کا نام عَبْدُ اللہ رکھا۔
اللہ عزَّوَجَلَّ قراٰن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-(پ ۲۶، الحجرٰت: ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان : اورآپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔
آج کل لوگUnique( منفرد ، سب سے الگ) نام رکھنے کی دُھن میں اپنے بچوں کے ایسے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جن کے معانی درست نہیں ہوتے، حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی کے نام میں کوئی خامی دیکھتے تو اسے تبدیل فرمادیتے تھے ۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے :’’اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُغَیِّرُ الْاِسْمَ الْقَبِیْحَ ‘‘ (نبیِّ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی کہ برے نام کو بدل دیتے)۔(ترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی تغییر الاسمائ، ۴/۳۸۲، حدیث:۲۸۴۸) بچوں کے نام انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام صحابہ و صحابیات کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان و تابعین و تابعات اور بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہ الْمُبِیْن کے نام پررکھے جائیں۔ ہو سکے تو نام کسی متقی و پرہیز گار ،صحیح العقیدہ سنی عالِمِ دین سے رکھوایا جائے۔
اچھے نام رکھنے کی فضیلت پر 4فرامین مصطفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(1)اللہ عزَّوَجَلَّکے پسندیدہ نام’’تمہارے ناموں میں اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک زیادہ پیارے نام عَبْدُاﷲ و عَبْدُالرَّحْمٰن ہیں۔‘‘(مسلم، کتاب الاداب، باب النھی عن التکنی بابی القاسم …الخ، ص۱۱۷۸، حدیث:۲۱۳۲)(2)قیامت میں ناموں سے بلایا جائے گا’’ قیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپوں کے نام سے بلایا جائے گا، لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔‘‘( أبو داود ، کتاب الادب، باب فی تغییر الاسمائ، ۴/ ۳۷۴، حدیث:۴۹۴۸)(3)نامِ محمد رکھنے کی فضیلت’’جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تووہ اور اس کا لڑکا دونوں جنت میں جائیں گے۔‘‘
(کنزالعمال،کتاب النکاح، الباب السابع فی بر الاولاد وحقوقہم ، ۸/۱۷۵، حدیث:۴۵۲۱۵، الجزء السادس عشر )
(4)جس کا نام محمد ہوگا اُسے عذاب نہ ہوگابروزِ قیامت دو شخص اللہ رَبُّ الْعِزَّت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے، حکم ہو گا اِنہیں جنت میں لے جاؤ! وہ عرض کریں گے : اے ہمارے ربّ عزَّوَجَلَّ !ہم کس عمل کی بدولت جنت کے قابل ہوئے، ہم نے توکوئی کام جنت کا نہیں کیا؟ اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا :جنت میں جاؤ !میں نے قسم ارشاد فرمائی ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو وہ دوزخ میں
نہ جائے گا۔‘‘(الفردوس بمأثور الخطاب للدیلمی، ۲ /۵۰۳، حدیث:۸۵۱۵)
آنکھوں کا تارا نامِ محمد دل کا اُجالا نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
دولت جو چاہو دونوں جہاں کی کر لو وظیفہ نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
روزِ قیامت میزان وپُل پر دے گا سہارا نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
پوچھے گامولالایاہے کیا کیا میں یہ کہوں گا نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر کر دے اشارہ نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
رنج والَم میں ہے نام لیوا کر دے اشارہ نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مد نی گُلد ستہ’’ قفلِ مد ینہ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اسکی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) اولاد کا فوت ہونا اگرچہ بہت بڑی مصیبت ہے مگر اس پر صبر کرنے کا اجر بھی بہت بڑا ہے ۔
(2) بچے کو گھٹی دینا سنتِ مبارکہ ہے گھٹی کسی نیک پرہیزگار مسلمان سے دلوانی چاہیے ۔
(3)بچوں کو بزرگوں کی بارگاہ میں لے جانا صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان کی سنت ہے۔
(4) کسی کو کوئی غم کی خبر سنانی ہو تو یکدَم نہیں سنانی چاہیے بلکہ ہو سکے توپہلے اس کی ذہن سازی کر لی جائے ۔
(5) ہو سکے تو تَبَرُّکاًکسی بزرگ ہستی سے نام رکھوایا جائے اور اگر خود رکھیں تو اچھا نام رکھنا چاہیے جیسے عَبْدُ اللہ ،عَبْدُ الرَّحْمٰن، مُحَمَّد ، اَحْمَد وغیرہ یا بزرگانِ دین کے نام پر نام رکھیں۔
(6) اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام سے محبت دنیا وآخرت میں کامیابی کا سبب ہے یہاں تک کہ ان کے ناموں پرنام رکھنا بھی سعادت مندی کی دلیل ہے۔
(7) جب کسی کا بچہ فوت ہو جائے تو تعزیت کرتے وقت اس کے لئے اچھے نِعْمُ الْبَدَل کی دعا کرنی چاہئے ۔
(8) جس مسلمان کا نام مُحَمَّد یا اَحْمَد ہو گا وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ
یا اللہ عزَّوَجَلَّ !اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامِ نامی کے صَدقے ہم اری بے حساب مغفرت فرما! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭٭٭٭٭٭٭

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 44