Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 42

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:لَمَّا کَانَ یَوْمَ حُنَیْنٍ اَثَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نَاسًا فِی الْقِسْمَۃِ فَاَعْطَی الْاَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَۃً مِّنَ الْاِبِلِ،وَاَعْطٰی عُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذَالِکَ،وَاَعْطٰی نَاسًا مِّنْ اَشْرَافِ الْعَرَبِ وَاَثَرَھُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْقِسْمَۃِ۔ فَقَالَ رَجُلٌ:وَاللہِ اِنَّ ھٰذِہٖ قِسْمَۃٌ مَاعُدِلَ فِیْھَا،وَمَااُرِیْدَ فِیْھَا وَجْہُ اللہِ، فَقُلْتُ:وَاللہِ! لَاُخْبِرَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَاَتَیْتُہُ فَاَخْبَرْتُہُ بِمَا قَالَ:فَتَغَیَّرَوَجْہُہُ حَتَّی کَانَ کَالصِّرْفِ۔ثُمَّ قَالَ:’’فَمَنْ یَّعْدِلُ اِذَا لَمْ یَعْدِلِ اللہُ وَرَسُوْلُہُ؟ ثُمَّ قَالَ:یَرْحَمُ اللہُ مُوْسٰی قَدْأُوْذِیَ بِاَکْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَصَبَرَ‘‘فَقُلْتُ: لَاجَرَمَ لَا اَرْفَعُ اِلَیْہِ بَعْدَھَا حَدِیْثًا۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہ(بخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعطی المؤلفۃ قلوبھم، ۲/۳۵۹، حدیث:۳۱۵۰)

عن ابن مسعودرضی اللہ عنہ قال:لما کان یوم حنین اثر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ناسا فی القسمۃ فاعطی الاقرع بن حابس مائۃ من الابل،واعطی عیینۃ بن حصن مثل ذالک،واعطی ناسا من اشراف العرب واثرھم یومئذ فی القسمۃ۔ فقال رجل:واللہ ان ھذہ قسمۃ ماعدل فیھا،وماارید فیھا وجہ اللہ، فقلت:واللہ! لاخبرن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فاتیتہ فاخبرتہ بما قال:فتغیروجہہ حتی کان کالصرف۔ثم قال:’’فمن یعدل اذا لم یعدل اللہ ورسولہ؟ ثم قال:یرحم اللہ موسی قداوذی باکثر من ھذا فصبر‘‘فقلت: لاجرم لا ارفع الیہ بعدھا حدیثا۔متفق علیہ(بخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعطی المولفۃ قلوبھم، ۲/۳۵۹، حدیث:۳۱۵۰)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ غزوۂ حنین میں نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مالِ غنیمت تقسیم فرماتے ہوئے بعض لوگوں کو ترجیح دی، اَقْرَع بِن حَابِس کو سو اُونٹ دئیے عُیَیْنَۃ بِن حِصْن کو بھی اتنے ہی دیئے شرفائے عرب میں سے بھی بعض کو ترجیحاً کچھ زیادہ مال دیا، ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا اور نہ رضائے الٰہی کو پیشِ نظر رکھا گیا (حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں ) میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ضرور نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتاؤں گا ۔چنانچہ، میں نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکریہ واقعہ بیان کردیا ،یہ سن کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ انور سرخ ہوگیا، فرمایا: اگر اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ پھر فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ موسیٰ ( عَلَیْہِ السَّلام ) پر رحم فرمائے انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔(حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ )فرماتے ہیں : میں نے کہا کہ آیندہ میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں اس قسم کی بات نہیں پہنچاؤں گا۔

شرح حدیث

صبر کا اَجر تمام اعمال سے بڑھ کرعَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ اللہ عزَّوَجَلَّ نے نیک اَعمال کی جزا کے ساتھ ایک حد بھی بیان فرمائی جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ-(پ۸، الانعام:۱۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان :جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔
پھر راہِ خدا میں خرچ کرنے کی جزا اِس سے بھی زیادہ رکھی اور فرمایا :
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)(پ۳، البقرۃ:۲۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان :ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اُگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
اور صبر کرنے والوں کا اجر بے حساب رکھا اور فرمایا:
وَلَمَنْ صَبَرَوَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(پ۲۵، الشوری:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اور بیشک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہم ت کے کام ہیں۔
اذیت پر صبر کرنااپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا ہے یہ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام و صالحین عظام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کے اوصاف میں سے ہے ۔ اگر چہ، اللہ عزَّوَجَلَّ نے تمام نفوس کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ تکلیف اور مشقت پر درد محسوس کرتے ہیں جیسا کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انصاری کی بات سے تکلیف پہنچی حتی کہ آپ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ ہوگیا لیکن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صبر کیا اور پُر سکون ہوگئے کیونکہ آپ صابرین کے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کے وعدے واجر کو جانتے تھے ۔چنانچہ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید کرتے ہوئے حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے صبر کو مد نظر رکھااورصبرکیا۔ صبر کی کئی اقسام ہیں چنانچہ،اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنامولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: صبر تین قسم کا ہوتا ہے (۱) مصیبت پر صبر کرنا(۲)طاعت( نیک اعمال ) پر صبر کرنا (۳) معصیت سے صبر کرنا ۔پس جس نے مصیبت پر صبر کیا اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے تین سو درجات لکھے گااور ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان کی مَسافت( فاصلہ) ہے اور جس نے طاعت پر صبر کیا اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے سات سو درجات لکھے گااور ہر درجہ کے درمیان ساتویں زمین سے لے کر مُنْتَھَائے عَرْش ( اللہ تعالیٰ کے عرش کی انتہا تک)کا فاصلہ ہے اور جس نے معصیت سے صبر کیا اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے نو سو درجات لکھے گا اور ہر درجہ کے درمیان ساتویں زمین سے لے کر مُنْتَھَائے عَرْش کا دُگنا فاصلہ ہے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب،باب الصبر علی الاذی، ۹/۲۸۳)
نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی توہین کُفر ہےرَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توہین کرنا بالاِجماع کفر ہے اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجبُ القتل ہے اور اس کی توبہ قبول کرنے میں ائمہ مذاہب کے مختلف اقوال ہیں خواہ توہین آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات کی ہو یا آپ کے نسب کی ،آپ کے دین میں ہو یا آپ کی کسی صفت میں ہو اور یہ توہین کرناخواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً (چھپے الفاظ میں ) تَعْرِیْضاً ( ایسا کلام جس سے مراد کچھ اور ہو اور اشارہ کسی اور جانب ہو ) ہو یا تَلْوِیْحاً ( ایسا کلام جس میں بہت ہی دور کے معنی مراد لئے جائیں ) اسی طرح کوئی شخص آپ کو بد دعا کرے ، اسی طرح (معاذ اللہ ) کوئی شخص آپ پر لعنت کرے یا آپ کا بُرا چاہے ،آپ کے عوارضِ بشریہ یا آپ سے متعلق اشیاء یا اشخاص کا آپ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بطریق طعن یا مَذَمَّت ذکر کرے، الغرض جس شخص سے کوئی ایسا کلام صادر ہو جس سے آپ عَلَیْہِ السَّلام کی اہانت ظاہر ہو وہ کفر ہے اور اس کا قائل واجبُ القتل ہے ۔ (الشفاء للقاضی عیاض، الباب الاول فی بیان ما ھو فی حقہ سب او نقص من تعریض او نص، ۲/۲۱۴)حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تقسیم پر اعتراض کرنے والے کو سزا کیوں نہیں دی گئی ؟جس نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توہین کی وہ واجبُ القتل ہے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شخص کو سزا نہیں دی، ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ قول ثابت نہ ہوا ہو اورچونکہ صرف ایک صحابی نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک یہ قول پہنچایا تھا اور ایک شخص کی گواہی پر کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی روایت میں ہے کہ غزوہ حُنَیْن کی واپسی پر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چاندی تقسیم کی تو ایک شخص نے کہا: اے محمد( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) عدل کرو! تو اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اجازت مانگی کہ میں اس کو قتل کردوں ، تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:(مَعَاذَ اللہ )کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں ، تو یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کو قتل نہیں کروایا۔(اکمال المعلم، کتاب الزکوۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتھم، ۳ /۶۰۷، تحت الحدیث:۱۰۶۴)غیبت کی جائز صورتعَلَّامَہ اِ بنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الباری میں فرماتے ہیں :’’ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر کوئی شخص کسی حاکم یا مُعَظَّم و محترم شخصیت کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اُس کی شان کے خلاف ہو تو اسے اس بات کی اطلاع دینا جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غیبت کی یہ صورت جائز ہے کیونکہ جب حضرتِ سَیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے یہ خبر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوپہنچائی تو آپ نے انہیں اس سے منع نہ فرمایا کیونکہ حضرتِ سَیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خیر خواہی کا ارادہ کیا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اس شخص کی نشاندہی کی جو منافق تھا تاکہ اس سے بچا جا سکے اور یہ جائز ہے جیسا کہ کفار کی جاسوسی کرنا جائز ہے تاکہ ان کے مکرو فریب سے بچا جائے اور جس شخص نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں یہ بات کہی بے شک وہ بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا پس اس کے لئے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں۔‘‘ (فتح الباری، کتاب الادب، باب الصبر فی الاذی، ۱۱/ ۴۳۴)
حدیثِ مذکور میں ہے کہ نَبِیِّ مُعَظَّم ،رَسُولِ مُحتَرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس انصاری کی بات سے سخت صدمہ پہنچا اور آپ کواتنا جلال آیا کہ چہرہ ٔانور سرخ ہوگیا لیکن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غصے پر قابو رکھا، صبر فرمایا اور کسی قسم کی کوئی انتقامی کار وائی نہیں کی۔چنانچہ، ہمیں بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس سلوک سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور غصے کے وقت اپنے اوپر قابو رکھنا چاہیے ۔ لیکن یہ اسوقت ہے جب معاملہ ہم اری اپنی ذات سے متعلق ہو اور اگر کوئی بدبخت شخص اللہ عَزَّوَجَل یا اس کے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یااسکے دین کی توہین کرے تو ہمیں اسے معاف کرنے کا اختیار نہیں۔ جب اپنی ذات سے متعلق کسی با ت پر غصہ آئے تو کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس میں اپنا نقصان کر بیٹھیں ، عموماً غصے کی حالت میں انسان ایسا کام کر جاتا ہے جس کے بعد اسے پچھتا نا پڑتاہے ، کیونکہ غصے کی حالت میں شیطان انسان سے اس طرح کھیلتا ہے جیسے بچہ گیند سے کھیلتا ہے۔
کئی آیات مقدسہ اور احادیثِ مبارکہ میں غصہ پینے کی فضیلت وارد ہوئی ہے یہاں چند فضائل بیان کئے جاتے ہیں :
غصہ پینے کے فضائلاللہ عزَّوَجَلَّ قراٰن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللہ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(پ۴، اٰل عمران:۱۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان :اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبو ب ہیں۔
اُمت کے بہترین لوگنبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ میری اُمت کے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب انہیں غصہ آجائے تو فوراً رُجوع کر لیتے ہیں۔‘‘ (معجم الاوسط ، ۴/ ۲۲۴، حدیث:۵۷۹۳)سب سے زیادہ اَجر والاگُھونٹفرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :’’ اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک اس گھونٹ سے زیادہ اجر والاکوئی گھونٹ نہیں جوغصے کا گھونٹ بندے نے رضائے الٰہی کے لئے پیا۔‘‘(ابن ماجہ ، کتاب ابواب الزھد ، باب الحلم، ۴/ ۴۶۳، حدیث:۴۱۸۹)سینہ ایمان سے بھر دیا جاتا ہےفرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک کوئی گھونٹ اتنا پسندیدہ نہیں جتنا بندے کاغصے کا گھونٹ پینا پسند ہے، جو بندہ غصہ پی لیتا ہے اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے سینے کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/۵۶، حدیث:۵۸۱۸، الجزء الثالث (غصہ آنا بھی چاہیےیاد رکھیے !فی نفسہ غصہ بُرا نہیں ہاں غصے میں آکر شریعت کی نافرمانی کرنا مذموم و ناجائز ہے۔ صحیح موقع پر غصہ آنا مومن کی علامت ہے ۔غصہ میں تفریط یعنی اس قدر کم غصہ آنا کہ بالکل ہی ختم ہو جائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑجائے، یہ ایک مذموم صفت ہے کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مُرُوَّت اور غیرت ختم ہو جاتی ہے اورجس میں غیرت یامروّت نہ ہو وہ کسی قسم کے کمال کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ ایسا شخص عورتوں بلکہ حشراتُ الارض(یعنی زمینی کیڑے مکوڑوں ) کے مشابہ ہوتا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُناامام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِی کے اس قول کا یہی معنی ہے:’’جسے غصہ دلایا گیا اور وہ غصہ میں نہ آیا تو وہ گدھا ہے اورجسے راضی کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ راضی نہ ہوا تو وہ شیطان ہے۔‘‘ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، ۱/۱۰۳)
اللہ عزَّوَجَلَّ نے صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان کی حَمِیَّت اور شدت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘-(پ۶، المائدۃ: ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان :مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔
ایک اور مقام پر ارشادِہوتا ہے :
اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ(پ۲۶، الفتح:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان :کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
دین کی خاطر غصہ نیک لوگوں کوہی آتا ہےفرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :’’دین کے لئے غصہ میری اُمت کے بہترین اور نیک لوگوں ہی کو آتاہے۔ ‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال ،۲/۵۵،حدیث:۵۸۰۰، الجزء الثالث)
ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’سینوں میں موجود قراٰنِ کریم کی عزت وعظمت کی خاطر حاملینِ قراٰن کو بھی غصہ لاحق ہو جاتاہے ۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال ، ۲ /۵۵، حدیث:۵۷۹۹ ، الجزء الثالث)
مد نی گُلد ستہ’’صبرِ نبی‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیث مبارکہ اور اسکی وضاحت سے ملنے والے6 مد نی پھول
(1) اللہ عزَّوَجَلَّ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرماتا ہے ۔
(2) صبر انبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام اور صالحین کی صفات میں سے ایک اعلیٰ صفت ہے ۔
(3) حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توہین کرنا بالاجماع کفر اور آپ کی توہین کرنے والا واجب القتل ہے
(4) اگر کوئی شخص کسی حاکم یا معظم دینی کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اس کی شان کے خلاف ہو تو کسی کا اس تک یہ بات پہنچا دینا جائز ہے ۔
(5) ہم اری ذات کے بارے میں چاہے کوئی کیسی ہی غصہ دلانے والی بات کہے ہمیں غصہ پی کر صبر سے کام لینا چاہئے۔
(6) احکام شریعت کی خلاف ورزی دیکھ کر غصہ آنا مذموم نہیں محمود ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں غصہ پینے اور مواقع اظہار پر اسے ظاہر کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 42