Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 29

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی زَیْدٍ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ مَوْلَی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَحِبِّہِ وَابْنِ حِبِّہٖ رَضِیَ اللہُ عَنْہما، قَالَ أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ ابْنِیْ قَدِ احْتُضِرَ فَاشْھَدْنَا فَأَرْسَلَ یُقْرِیئُ السَّلَامَ وَیَقُولُ: إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطَی وَکُلُّ شَیْیئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ تُقْسِمُ عَلَیْہِ لَیَأْتِیَنَّہَا فَقَامَ وَمَعَہُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ، وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ رَضِیَ اللہُ عَنْہم فَرُفِعَ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّبِیُّ فَاَقْعَدَہُ فِیْ حِجْرِہٖ وَنَفْسُہُ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ فَقَالَ سَعْدٌ یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا ہَذَا فَقَالَ ہَذِہٖ رَحْمَۃٌ جَعَلَہَا اللہُ فِی قُلُوْبِ عِبَادِہٖ وَ فِی رِوَایَۃٍ ’’فِی قُلُوبِ مَنْ شَائَ مِنْ عِبَادِہٖ ‘‘وَإِنَّمَا یَرْحَمُ اللہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَائَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری ،کتاب الجنائز، باب قول النبی ، یعذب المیت ببعض بکاء اہلہ، ۱/۴۳۴، حدیث:۱۲۸۴)

عن ابی زید اسامۃ بن زید بن حارثۃ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحبہ وابن حبہ رضی اللہ عنہما، قال ارسلت بنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم إن ابنی قد احتضر فاشھدنا فارسل یقریئ السلام ویقول: إن للہ ما اخذ ولہ ما اعطی وکل شییئ عندہ باجل مسمی فلتصبر ولتحتسب فارسلت إلیہ تقسم علیہ لیاتینہا فقام ومعہ سعد بن عبادۃ، ومعاذ بن جبل، وابی بن کعب وزید بن ثابت ورجال رضی اللہ عنہم فرفع إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبی فاقعدہ فی حجرہ ونفسہ تتقعقع ففاضت عیناہ فقال سعد یا رسول اللہ ما ہذا فقال ہذہ رحمۃ جعلہا اللہ فی قلوب عبادہ و فی روایۃ ’’فی قلوب من شائ من عبادہ ‘‘وإنما یرحم اللہ من عبادہ الرحمائ۔ متفق علیہ (بخاری ،کتاب الجنائز، باب قول النبی ، یعذب المیت ببعض بکاء اہلہ، ۱/۴۳۴، حدیث:۱۲۸۴)

حدیث ترجمہ

حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آزاد کردہ غلام اور آپ کے محبوب اور محبوب کے بیٹے حضرتِ سَیِّدُنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ’’ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ایک صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میرا بچہ فوت ہورہاہے آپ تشریف لے آئیں ، آپ نے جواب میں سلام کے ساتھ کہلا بھیجا کہ جو چیز خدا تعالیٰ کی تھی وہ اُس نے لے لی اور اُسی کا ہے جو اُس نے دیا اورسب کے لئے ایک میعاد مقرر ہے ، پس چاہئے کہ وہ صبرکریں اوراسے ثواب سمجھے۔ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صاحبزادی نے آپ کو قسم دے کر پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیے ۔ چنانچہ، آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوئے سَعَد بِنْ عُبَادَہ، مَعَاذ بِنْ جَبَل، اُبَی بِنْ کَعْب اورزَیْد بِن ثَابِت(عَلَیْہم الرِّضْوَان) اور کچھ دوسرے لوگ بھی آپ کے ہم راہ تھے، وہ بچہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لایا گیا وہ دم توڑ رہا تھا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ کرم سے آنسوں بہنے لگے،حضرتِ سَیِّدُنا سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کیا ؟ ارشاد فرمایا: یہ جذبۂ تَرَحُّم( رحمدلی) ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے۔ اور ایک روایت یوں ہے کہ ’’ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہا ڈال دیا‘‘ اور اللہ عزَّوَجَلَّ رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔

شرح حدیث

عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفَتْحُ الْبَارِی میں فرماتے ہیں :’’ حدیث شریف کے الفاظ’’لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطَی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّجس چیز کو لینے کا ارادہ فرماتا ہے وہ وہی چیز ہے جواللہ عزَّوَجَلَّہی نے بندے کو عطا فرمائی تھی اگر وہ بندے سے لے لے تواللہ عزَّوَجَلَّنے وہی لیا جو اُس کا تھا ، لہٰذا اس وقت بے صبر ی اور جَزَع و فَزَع کرنا مناسب نہیں کیونکہ اگر کسی کو کوئی چیز امانت کے طور پر دی جائے اور پھر اس سے واپس طلب کی جائے تو اسے جزع و فزع نہیں کرنا چاہیے ۔ (فتح الباری، کتاب الجنائز، باب قول النبی یعذب المیت، ۴/۱۳۶، تحت الحدیث:۱۲۹۰)حضرتِ سَیِّدَتُنا زینبرَضِیَ اللہ تَعَا لٰی عَنْہَاحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ا ن صاحبزادی کا نام حضرتِ سَیِّدَتُنا زینبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاتھا اور ان کے فوت ہونے والے بچے کا نام علی بن ابو العاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُتھا ۔(فتح الباری، کتاب الجنائز، باب قول النبی یعذب المیت، ۴/۱۳۵، تحت الحدیث:۱۲۹۰)صبر کرو اَجر پاؤعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیفرماتے ہیں :’’جب حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ کی شہزادی حضرتِ سَیِّدَتُنا زینبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکا پیغام ملا تو آپ نے فرمایا: فَلْتَصْبِرْ یعنی انہیں چاہیے کہ صبر کریں اور اس صبر پر اللہ عزَّوَجَلَّ سے ثواب کی نیت کریں ، تاکہ ان کا یہ عمل ان کے نیک اعمال میں شمار کیا جائے۔‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۶/۱۰۱، تحت الحدیث:۱۲۸۴)شفیق اور رحم دل آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(حضرت سَیِّدَہ زینبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے)بچے کا حال دیکھ کر رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اَزْراہِ شفقت ضبط نہ رہا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس پر حضرتِ سَیِّدُنا سَعَد بِنْ عُبَادَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو تعجب ہوا اس لئے کہ وہ حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صبر و ضبط کو بارہا ملاحظہ فرماچکے تھے غزوہ ٔاُحد کی اُس قیامت خیز گھڑی میں زخمی ہونے کے باوجود زبان سے اُف تک نہ کہا، غزوہ خندق کی اُس شدت میں جسے قراٰن مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ دل حلقوم تک آگئے تھے ، پہاڑ سے بھی زیادہ اِسْتِقَامَت تھی اور آج بچے کا یہ حال ملاحظہ فرماکر رورہے ہیں یا تعجب اس پر ہوا کہ میت پر رونے سے منع فرمایا ہے پھر آنسو کیوں بہہ رہے ہیں ؟ تو جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ شفقت کا مقتضٰی ہے جو اختیاری نہیں ، فطری ہے اور یہ ممنوع نہیں بلکہ محمود ہے اس لئے کہاللہ عزَّوَجَلَّاپنے اُنہیں بندوں پر مہربانی فرماتا ہے جو دوسروں پر مہربان ہوتے ہیں۔ (نزھۃ القاری، ۲/ ۷۹۰ )
ہمارے پیارے آقا
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت نرم دل اور رحیم ہیں۔رحم کرنا ایسی صفت ہے کہ جسکی وجہ سے رحمت الٰہی متوجہ ہوتی ہے۔ انسان تو انسان بسا اوقات بے زبان جانوروں پر رحم کرنے والوں کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ،فاحشہ عورت کی بخشش ہو گئیمنقول ہے کہ ایک فاحشہ عورت کو صرف اس لئے بخش دیا گیا کہ اس نے کنویں کے منڈیر پرپیاس سے تڑپتے ہوئے کتے کو پانی پلایا تھا۔ (بخاری، کتاب بدء الخلق، باب اذا وقع الذباب فی شراب احدکم …الخ، ۲/۴۰۹، حدیث:۳۳۲۱)پیارے آقاصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اولادِ کراماس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضورِ اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اولاد کرام کی تعداد چھ ہے۔ دو فرزند حضرتِ سَیِّدُنا قاسم و حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم اور چار صاحبزادیاں حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب و حضرتِ سَیِّدَتُنا رقیہ و حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم و حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرِضْوانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْن، لیکن بعض مؤرخین نے کہا کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک صاحبزادےعبداﷲبھی ہیں جن کا لقب طیب و طاہر ہے۔ اس قول کی بنا پر حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے۔ تین صاحبزادے اورچار صاحبزادیاںرِضْوانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْن۔ حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِینے اسی قول کو زیادہ صحیح بتایا ہے۔(شرح المواھب، ۴/ ۳۱۳)حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ان ساتوں مقدس اولاد میں سے حضرتِ سَیِّدُناابراہیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ،حضرت مَارِیَہ قِبْطِیَّہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے شِکَم اطہرسے تَوَلُّد(تَ۔وَلْ۔لُدْ۔پیدا)ہوئے باقی تمام اولاد کرام اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُناخَدِیجَۃُ الْکُبْرٰیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے بطن اطہر سے پیداہوئیں۔ (شرح المواھب، ۴/ ۳۱۶)بچوں کے انتقال پر صبرکا ثوابشہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی مگر صرف اتنی دیر کہاللہ عزَّوَجَلَّکی قسم پوری ہوجائے۔ ‘‘( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب فضل من یموت لہ ولد، ص۱۴۱۵، حدیث:۲۶۳۲)اللہ عزَّوَجَلَّفرماتاہے : ’’وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَاترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو ۔(پ ۱۶، مریم:۷۱)
لہٰذا حدیث مبارکہ کامعنی یہ ہوا کہ آگ اسے بالکل معمولی چھوئے گی تاکہ
اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم پوری ہوجائے لیکن اس سے انسان کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔وَ اللہ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔(شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ، ۸/۱۸۰، الجزء السادس عشر)آگ سے بچانے والی مضبوط دیوارایک عورت اپنے بچے کے ساتھ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئی:اےاللہ عزَّوَجَلَّکے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے لئے دعا کیجئے کیونکہ میں اپنے تین بچوں کو دفنا چکی ہوں۔‘‘ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’کیا تُو تین بچوں کو دفنا چکی ہے ؟‘‘ عرض کی:جی ہاں ! فرمایا:بے شک! تو نےآگ سے حفاظت کیلئے ایک مضبوط دیوار تیار کرلی ہے ۔(مسلم ، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ، ص۱۴۱۶، حدیث: ۲۶۳۶)ایک بچے کے انتقال پر صبر کا انعامنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’جس مسلمان جوڑے کے تین بچے انتقال کرجائیںاللہ عزَّوَجَلَّان بچوں پر فضل ورحمت کرتے ہوئے ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاننے عرض کی : اور دو بچے؟ فرمایا: اور دو بچے بھی۔ پھر عرض کی:اور ایک؟ فرمایا: ایک بھی۔ پھر فرمایا: اس ذاتِ پاک کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے جس عورت کا کچا بچہ فوت ہوجائے (یعنی حمل ضائع ہوجائے) اور وہ اس پر صبر کرے تو وہ بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف کے ذریعے کھنچتا ہوا جنت میں لے جائے گا ۔ (مسند امام احمد، ۸/ ۲۵۴، حدیث:۲۲۱۵۱ )
حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَر
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’میری امت میں سے جس کے دوبچے پیشوائی کرنے والے ہونگے (یعنی فوت ہوچکے ہوں گے)اللہ عزَّوَجَلَّانکے سبب اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی: اور جس کاایک بچہ پیشو ائی کے لیے گیاہو تو ؟فرمایا: وہ ایک بچہ بھی اس کی پیشوائی کرے گا۔‘‘عرض کی :آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی امت میں جس کی پیشوائی کیلئے کوئی نہ ہوتو؟ فرمایا :ایسوں کی پیشوائی میں کروں گا اور وہ میرے جیسا پیشوا ہرگز نہ پاسکیں گے۔ ‘‘ (ترمذی،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی الثناء الحسن علی المیت، ۲/۳۳۳، حدیث:۱۰۶۴)
جس کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی
اس کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’بقیع‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) نزع کے وقت بزرگوں کو دعا اور برکت کے لئے بلانا چاہیے ۔
(2) اہلِ میت کو صبر و شکر کی تلقین کرنی چاہیے۔
(3) غم اور مصیبت کے وقت آنکھوں میں آنسو آجانا ایک فطری عمل ہے شریعت میں اس کی ممانعت نہیں۔
(4) لوگوں پر رحم کرنے والوں پر
اللہ رَحِیْم وکَرِیْم عزَّوَجَلَّرحم فرماتا ہے ۔اللہ عزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہم پر رحم و کرم فرمائے! آسانی وکرم والا معاملہ فرمائے، جب کبھی کوئی مصیبت آئے تو اس پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور صابرین کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 29